Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 17 جون 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

پلمبر قاتل نکلا تاوان لے کر نعش دے دی

ارشد انصاری جمعه 28 دسمبر 2018
پلمبر قاتل نکلا تاوان لے کر نعش دے دی

اغو اء بر ائے تا وان کی وار داتیں ڈاکو کیا کر تے تھے اور سر مایہ دا رو ں سمیت ملکی و علا قے کی امیر ترین شخصیا ت میں سے کسی بھی امیر کبیر شخص کی ا ولا د کو اغواء کر کے ا غوا ء کا رو ں کی جا نب سے تا وان کی ر قم کی ادائیگی پر مغوی کے ور ثاء و ر شتے دا رو ںکو مجبو رکیا جا تا تھا اور یو ں ا غواء کا ر اپنی وا ر دا تو ں کے عیو ض لاکھو ں اور کر و ڑو ں کی ر قم اینٹھ لیا کر تے تھے اور متاثرہ خا ند ان کو کنگال کی سی صو ر ت اختیا ر کر نا پڑ ھتی تھی لیکن موبائل و دیگر الیکٹر و نکس ٹیکنا لو جی کے تحت اب ا غوا ء کارو ں کا سر ا غ پو لیس و سیکیو ر ٹی ادا رو ں کی جانب سے لگا یا جا رہاہے اور کسی حد تک سیکورٹی اداروں و پو لیس اہلکا رو ںکو کا میا بی بھی حاصل ہو رہی ہے گز شتہ د نو ں حیدر آ باد میں پیش آ یا ایسا ہی ایک واقعہ حیدرآ باد کے علا قے رحمان ٹا ئون کے رہا ئشی نو جو ان ا حسن قاضی کو اس کے دو ست پلمبر نعیم نے مہنگے موبائل کی خر ید اری اور اپنی خو اہش کو تکمیل پہنچا نے کے لیے اغوا ء کیا اور قتل بھی کر دیا ر حمان ٹا ئو ں کے رہائشی و محکمہ صحت سے وابستہ ڈاکٹر جمیل قا ضی کے نو جو ان بیٹے ا حسن قا ضی جوکے بی کام کے سال ائول، کے طالب علم ا حسن قا ضی 16د سمبر بر و ز ا توار کو نما ز عصر کی ادائیگی کے لیے گھر سے نکلا تھا اور پر ا سرار طور پر لا پتہ ہو گیا تھا جس کی ا طلا ع مقامی تھا نے پر درج کر ا دی گئی اور لا پتہ ہو نے والے ا حسن قا ضی کی تلاش کر نے میں اس کے دو ستو ں اورا حباب اور رشتے دا رو ںکی جانب سے تلا شی کے فرائض انجام دیتے رہے‘ پھر اہل خا نہ کو محسوس ہو گیا کہ ان کے لخت جگر کو ا غو ا ء ہی کیا گیا ہے بہرحا ل اہل خا نہ کو ایک موبائل کا ل مو صول ہو ئی جو کہ احسن کا مو با ئل فون تھا ا غواء کا ر نے 3 لا کھ روپے تا و ان طلب کیا اہل خانہ اپنے لخت جگر کو بچا نے اور ا سکی جان کو محفو ظ کر نے کے لیے ا غوا ء کا ر کی کا ل پر تا وان کی ر قم دینے پر راضی ہو گئے اور پو لیس کی جا نب سے بھی ا غوا ء کی اطلا ع مو صول ہونے پر پو لیس کی ٹیم حر کت میں آگئی یوں پھر طے پا یا کہ آ د ھی ر قم پو لیس ادا کر ے گی اور آ د ھی ر قم تا و ان کی ڈ یڑ ھ لا کھ کی ر قم ا غو اء کا ر کو دینے کے لیے اہل خانہ نے انتظا م کرہی لیا او راغو اء کا ر کی بتائی گئی جگہ پر ر قم ر کھ دی گئی‘ جس کے بعد ملز م نے مغوی کو مکی شاہ رو ڈ پر چھو ڑنے کی یقین د ہانی کروائی اورمو بائل فون بھی بند کر دیا جب ا غو اء کا ر کی جا نب سے احسن قا ضی کو اس کے ور ثاء کے حو الے نہیں کیا گیا تو پھر ،ذرا ئع کے مطا بق معلوم ہوا ہے کہ احسن قا ضی کے وا لد ڈا کٹر جمیل قا ضی لا ڑ کا نہ میں تعینا ت تھے انہو ںنے لا ڑ کا نہ کے کمشنر سے با ت کی اور اپنے بیٹے کے پر ا سرار لا پتہ ہونے اور اسکے بعد اغواء کا ر کی ا غوا ء بر ائے تا وان کی ر قم کی ادائیگی اور دیگر تفصیلات سے آ گا ہ کیا پھر کیا تھا کمشنر لا ڑ کا نہ ڈویژن نے حیدر آباد کے کمشنر عبا س بلو چ سے با ت کی اور وا قعہ کی تفصیلات کے اور پولیس کی ابتر کارکردگی کے حو الے سے بھی آ گاہ کیا اور یو ں پو لیس کے اعلیٰ حکام سے کمشنر حیدر آباد کی با ت چیت کے بعد پولیس ایسی حر کت میں آئی کہ ا غوا ء کا رکو بھی گر فتار کر لیا اور مقتول احسن قا ضی کی نعش بھی بر آ مد کر لی‘ اب رہ گئی تھی‘ پولیس کی کا ر کر د گی ر پو رٹ یعنی پر یس کا نفر نس کر نے کی میڈیا تشہیر او ریو ں لگتا ہے کہ عجلت میں ایس ایس پی حیدر آباد سر فراز نو ا ز شیخ نے پر یس کانفر نس کر دی اور پریس کانفر نس کے دو ران ملز م کا چہر ہ ڈ ھا نپ کر میڈ یا کے نما ئند و ں کے سامنے پیش کیا ایس ایس پی حیدر آباد کا کہنا تھا کہ مقتو ل کو تا وان کے لیے ا غوا ء کیا گیا سر فرا زنواز شیخ کا مز ید کہنا تھاکہ مقتو ل احسن قا ضی کے مو با ئل نمبر سے اہل خا نہ کو کال مو صول ہو ئی تھی اور اغوا ء کا ر ملز م کی جا نب سے 3 لا کھ روپے تا وان طلب کیا گیا تھا،ا غو اء کا ر کی بتا ئی جگہ پر اسے رقم کی ادائیگی کر نے کے لیے رقم ر کھ دی گئی‘ لیکن ا غوا ء کا ر نے مو با ئل فون بند کر دیا تھا پولیس نے تفتیش شر وع کی اور دو ران تفتیش نعیم کوشبہ پر گرفتار کیا گیا جو مغوی کا جا ننے وا لا اور ان کے گھر بجلی اورپلمبر کا کام بھی کر تا تھا‘ ملز م نے احسن قا ضی کے قتل کا اعتراف کر لیا اور اس کی نشاند ہی پر گھر کے زیرتعمیر ر قم میں سے ایک لا کھ27ہز ا ر روپے بر آمد کرلیے با قی رقم کے حو الے سے پو لیس کا کہنا تھا کہ ملزم نے با قی ر قم خر چ کر چکا ہے ملز م کے خلا ف اغواء قتل اور د ہشت گر دی کے د فعا ت کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے گر فتار ملزم نعیم راجپو ت نے میڈیا کو بتایاکہ وہ مو بائل فون خر یدنا چا ہتا تھا‘ اسے مزدو ری میں کم اجر ت ملتی ہے‘ زا ئد پیسے کما نے کے لیے میں اس کے ا غواء کا منصو بہ بنا یا احسن کو گھر لے جا کے با ند ھنے کی کو شش کی تو اس نے چیخ و پکا ر شر وع کر دی تو سرپر ڈنڈ ے ما ر نے سے ا حسن کی حا لت غیر ہو گئی اور خون بہنے لگا خو ن کے بہنے سے ا حسن کی حا لت مز ید خر اب ہو نے لگی اس کے خو ف میں اضا فہ ہو ا‘جس کے سبب اس کا کہنا تھا کے ا حسن قا ضی کو ز خمی حا لت میں ہی پانی کے ٹینک میں پھینک دیا اورا حسن قا ضی کی مو ت وا قع ہو گئی اس کے قبرٹینک میں بنا نے کی کوشش کی تھی لیکن پکڑا گیا۔قومی ا خبا ر میڈ یا گر وپ کے نما ئند ے کی جانب سے پو چھے گئے سوا لات کے جو اب میں ملزم راجپو ت کا کہنا تھاکہ اسکے تا وان کی ر قم سے دو پانی کی مو ٹر یں دو مہنگے مو با ئل فو نزز اور دیگر سامان خر ید ا با قی رقم پو لیس نے برآ مد کر لی ہے ذ رائع نے ا حسن قا ضی کے قتل کے حو الے بتا یاکہ وا قع کے بعد ملزم اہل خانہ سے رابطے میں تھا اور انہیں قائل کر تا رہا کہ اگر کوئی تا و ان ما نگے تو دے دینا تاکہ احسن قا ضی کی جان بچائی جا سکے‘ جبکہ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھاکہ ا غو اء بر ائے تا وان کی ر قم کا مطالبہ کا ل پر کیا گیا تھا احسن کے بھا ئیو ںنے اپنے طورپر تا وان کی ر قم کا بندوبست کیا اور پو لیس کو بھی ا طلا ع دی جس پر سا د ہ لبا س اہلکا ر بھی مقتو ل کے بھا ئی کے ساتھ ر یلو ے اسٹیشن کے پلیٹ فا رم نمبر تین پر پہنچا نے کا ر قم کا مطالبہ کیا گیا تو پو لیس و ہا ں مو جو دتھی لیکن اسے یہ تک معلوم نہیں ہو سکا کے کو ن شخص اور کب یہ رقم لے گیا بعد ا ز ا ں پھر کال مو صول ہو ئی کے تمھارا بھا ئی مر ا د شاہ رو ڈ پر مو جو د ہے مقتول کے بھا ئی اور پولیس وہاں پہنچے‘ لیکن و ہا ں مغو ی اور کوئی مشکوک شخص بھی نہیں ملا ‘ذ را ئع کے مطا بق ملز م کو گرفتار کر نے کے لیے سی آئی اے پو لیس نے اپنی کا ر کر د گی د کھا ئی اور یوں ملز م نعیم راجپو ت کو گر فتار کرکے با قی رقم و دیگر سامان بر آ مد کر تے ہوئے،پا نی کے ٹینک سے احسن قاضی مقتول کی نعش بھی بر آمد کی ا حسن قا ضی کی نعش ملنے کی ا طلا ع پر ور ثا ء اور دیگر رشتے دا رو ںکی جانب سے ان کی حا لت کیفیت میں ا چا نک تبد یلی آئی اور مقتول کے اہل خا نہ ور ثاء و علا قہ مکینو ں میںغم کی فضاچھا گئی اور نعش بر آمد ہو نے اور مقتول کی نعش سا منے د کھا ئی دینے پر مقتول کے بھا ئیو ں و دیگر سوگواران شدت غم سے نڈ ھا ل ہو گئے اور رو نے چلانے کی آ وا زیں فضا میں بلند ہو تے دیکھ کر قر یبی علا قہ مکین جمع ہو گئے‘ بہرحا ل ملزم نعیم را جپو ت نے صر ف اپنی خو ا ہش کی تکمیل پہنچا نے کے لیے نہ صرف ایک نو جو ان کو قتل ہی نہیں کیا بلکہ اپنی آ خر ت بھی خر اب کر لی اب کال کو ٹر ی میںچکی پیسنا پڑ ے گی پولیس نے ضا بطے کی کا رروائی کے بعد نعش کو ورثا ء کے حوا لے کر دیا ہے حیدر آباد کے مقتول ا حسن قاضی ، اس کے ور ثاء و دیگر ر شتے دا رو ں اور علا قہ مکینو ں نے نعیم راجپو ت کو قتل کر نے جیسے گھنا ئو نے عز ائم کا پر دہ فا ش ہو نے پر مو ت کی سزا کا مطالبہ کیا ہے دیکھنایہ ہے کہ نعیم را جپو ت جو کہ ملز م ہے اسے کس طر ح کی سزا دیجا تی ہے اور اسکی سزا کو ایسی عبر تنا ک سزا کے طور پر سامنے آ نا چا ہیے کہ اغو ا ء بر ائے تا وان کی وا ر دا ت کا بھی سو چنے کے لیے بھی اس کی سانسیں اور دل اس کا ساتھ ہی نہ دیں اور وہ خو ف کے اس عالم میں ایک انسان کی جان لینے کے بجا ئے اپنی جان جانے کابھی سو چ لے کیو نکہ خون تو خون ہے اور خون رائیگاں نہیں جا تاہے اور بے گنا ہ انسان کا خو ن کر نا ایسا عمل قرا ر دیا گیاہے کہ جیسے ایک انسا ن کا قتل کعبہ کی حر مت سے ز یا دہ ہے ہمیں چاہئے ایک علم اور ایک انسان بن کر یہ فیصلہ کریں کے کسی کی جا ن تو کیا کسی کے حقو ق کے خلا ف با ت تو کیا اس عمل کو سو چنے سے بھی عملی طورپر نفی کے لیے اپنا کر دار ادا کریں گے‘ تاکہ ہم جس کسی کی جا ن کی حفا ظت کر نے کا سو چیں گے تو جو ہما ری جان کا ما لک ہے وہ بھی ہما ری جان کی حفا ظت کر تا ہے یہ ہی ہما را ایمان ہو نا چاہیے ہمیں چاہے کہ ہم نے اپنے علا قے اپنے شہر اور اپنے پڑ و سیو ں کا خیال بھی کر یں اور پڑ و سیو ں کی جان و مال کا تحفظ کر یں گے تو ہما ری اہل خا نہ کی جان و مال،اور اسی طر ح خو ا ہشا ت کا بھی خا تمہ ممکن ہو گا کیو نکہ خواہش ہی ہو تی ہے جو اسی کی تکمیل کے لیے غیر قانونی شر عی اور غیر انسا نی عمل یعنی قتل جیسی وا ردات کر انے پر مجبو ر کر ادیتی ہے اورپھر ملز مان اپنے اس عمل پرپشیمان ہی ہو سکتا ہے ملز م کا آ خر اس کا غیر انسانی عمل کر نے پر مو ت ہی اس کا مستقبل ہو تی ہے۔

(186 بار دیکھا گیا)

تبصرے