Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 20 مارچ 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ہم کسی سے کم نہیں…!! 12 شہری پولیس گردی کا نشانہ بنے

ویب ڈیسک جمعه 28 دسمبر 2018
ہم کسی سے کم نہیں…!! 12 شہری پولیس گردی کا نشانہ بنے

سال 2018 ء میں 12 شہری پولیس گردی کا نشانہ بنے‘ سال کے پہلے ہفتے میں 5 افراد پولیس گردی کا نشانہ بنے‘ سہرا ب گوٹھ کے رہائشی پشتون نوجوان نقیب اللہ کے قتل کی بین الاقوامی شہرت اختیار کی‘ پولیس مقابلوں کے حوالے سے شہرت یافتہ ایس ایس پی رائو انوار اور اس کی ٹیم کے خلاف مقدمہ درج ہوااور رائو انوار کی گرفتاری بھی ہوئی‘ جبکہ 13جنوری کو رونما ہوئے تھے درخشاں میں اینٹی کارلفٹنگ سیل کے سابق ایس ایس پی مقدس حیدر کے دست راز پولیس کے 2اہلکاروں نے کار پر فائرنگ کرکے نوجوان انتظار کو قتل کیا تھا جبکہ دوسرا واقعہ شاہ لطیف ٹائون میں اس وقت کے ایس ایس پی ملیر کے مبینہ حکم پر پولیس اہلکاروں نے 4 پشتون نقیب اللہ ‘ نذر جان ‘صابر اور اسحاق کو کالعدم تنظیم کا دہشتگرد قرار دے کر مبینہ مقابلے میں گولیوں سے چھلنی کردیاگیا تھا، آئی جی سندھ اور انکی تشکیل دی جانے والی تحقیقاتی کمیٹی مذکورہ افراد کے قتل میں ایس پی رائو انوار اور اسکی شوٹر ٹیم کو گرفتار کرنے میں تاحال ناکام نظر آئی ، واضح رہے کہ مذکورہ دو واقعات آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ اور انکے ساتھ محکمہ داخلہ سندھ اور سندھ حکومت کے لئے پریشانی کا باعث بنا ، آئی جی سندھ اور حکومت سندھ کے درمیان جاری اختلافات کی وجوہات کی بناء پر انتظار اور نقیب اللہ قتل کیس تاحال کسی دھانے نہیں پہنچ پایا‘ مقتولین کے والدین اپنے پیاروں کے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتارکرنے کا مطالبہ ہی کرتے رہے لیکن انکی کوئی شنوائی نہیں ہوسکی ،26فروری کو کلر ی پولیس کے مبینہ تشدد سے ملزم اختر علی ہلاک ہوگیا‘ اس حوالے سے پولیس کا کہنا تھا کہ کلری پولیس ملزم اختر کو عدالت سے سینٹرل جیل لے کر آئی تھی‘ لیکن جیل عملے نے ملزم کی حالت دیکھ کر کلری پولیس نے کہا کہ وہ اسکو اسپتال لے کر جائے تاہم پولیس ملزم کو اسپتال لے کرجارہی تھی کے راستے میں دم توڑ گیا جس کے بعد پولیس نے موقف اپنایا کہ ملزم اختر علی نشے کا عادی تھا نشہ نہ ملنے سے اسکی موت واقع ہوئی‘عید الفطر کے پہلے دن 16جون کو مبینہ ٹائون کے علاقے میں پولیس کی مبینہ فائرنگ سے بی کام کا طالبعلم مصحف علی ہلاک ہوا جو 4 بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا‘ یکم اگست کو نیوکراچی میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان مقابلے میں فائرنگ کی زد میں آکر رکشہ ڈرائیور عبدالحسیب جاں بحق ہوگیا پولیس کے مطابق مقتول ریٹائرڈ آرمی اہلکار تھا اور رکشہ بھی چلاتا تھا ‘13اگست کو ڈیفنس میں پولیس اور ڈاکوئوں کے درمیان مبینہ پولیس مقابلے کے دوران فائرنگ کی زد میں آکر کار پر بیٹھی ہوئی معصوم 8سالہ ایمل شدید زخمی ہوگئی اور موقع پر ہی اپنے والدین کے ہاتھوں میں دم توڑ گئی‘25اگست کو گڈاپ سٹی میں پولیس اور منشیات فروشوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں نوجوان بلال عظیم ہلاک ہوگیا ‘جبکہ ایک شہری زخمی ہوا۔

(84 بار دیکھا گیا)

تبصرے