Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 18  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

قاتل گولیا ں برساتے رہے، گارڈ کی گن نہ چلی

ویب ڈیسک جمعرات 27 دسمبر 2018
قاتل گولیا ں برساتے رہے، گارڈ کی گن نہ چلی

کراچی ۔۔۔۔ علی رضا عابدی کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں پولیس نے ان کے گارڈ کو حراست میں لے لیا ہے۔ واقعے کے عینی شاہد سیکورٹی گارڈ قدیر نے انکشاف کیا ہے کہ جس وقت علی رضا عابدی پر فائرنگ ہوئی وہ گھر کا دروازہ کھول رہے تھے، فائرنگ کی آواز آنے پر جوابی فائرکی کوشش کی، مگر گن نہیں چلی۔

 

تفصیلات کے مطابق پولیس کو دیئے گئے اپنے ویڈیو بیان میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک مہینہ قبل ہی علی رضا عابدی کے بنگلے میں ملازمت اختیار کی تھی جبکہ اس کی ڈیوٹی کے اوقات کار شام سات سے صبح 7 بجے کے درمیان تھے۔

 

سیکورٹی گارڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ واقعے کے وقت معمول کی ڈیوٹی پر تھے، جب علی رضا عابدی کی گاڑی دروازے پر رکی اور وہ دروازہ کھولنے کے لیے اٹھے تو اس وقت ان کے بائیں ہاتھ میں گن موجود تھی جبکہ دائیں ہاتھ سے انہوں نے دروازہ کھولا تھا۔ان کا کہنا تھاکہ ’دروازے کا ایک حصہ ہی کھولا تھا کہ فائرنگ کی آواز آئی، میں نے دروازے کو چھوڑ کر گن لوڈ کرنے کی کوشش کی تاہم گن ایک بار لوڈ نہ ہوئی تو دوبارہ کوشش کی لیکن لوڈ نہ ہوئی، جیسے ہی میں باہر نکلا تو کوئی نظر نہیں آیا۔

 

صاحب کی گردن سے خون بہہ رہا تھا۔علی رضا عابدی کے گھر پر تعینات دونوں گارڈز کا تعلق مارشل سیکورٹی سے ہے۔علی رضا عابدی کے اہل خانہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایس ایس پی سائوتھ پیر محمد شاہ نے کہا ہے کہ واقعہ کی ذاتی تنازع، سیاسی اور مذہبی سمیت ہر پہلو سے تحقیقات کررہے ہیں، علاقے میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں میں 2 تین مقامات پر ملزمان کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ کرنے والے 2 ملزم تھے،

 

گارڈ کے دروازہ کھولنے کے بعد فائرنگ ہوئی، گارڈ فوری جوابی کارروائی کے بجائے گھر کے اندر چلا گیا اور اندر جاکر علی رضا عابدی کے والد سے ملزمان پر جوابی فائرنگ کے لیے ہتھیار مانگا۔ایس ایس پی سائوتھ نے بتایا کہ گارڈ قدیر کو تعینات ہوئے ڈیڑھ سے 2 ماہ ہوئے ہیں اور اس کا تعلق ڈیرہ غازی خان سے ہے، وہ غیر تربیت یافتہ تھا اور عین موقع پر بوکھلا گیا، اس کی ٹریننگ ہونی چاہیے تھی، علی رضا عابدی کے اہل خانہ نے کسی خطرے اور خدشے کا ذکر نہیں کیا۔

(219 بار دیکھا گیا)

تبصرے