Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 22 جولائی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

ویب ڈیسک جمعرات 27 دسمبر 2018
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

پاکستانی سیاست میں بے نظیر بھٹو کادلیرانہ کردار اورناقابل فراموش کارنامے لوگوں کے دلوں اور تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔ پاکستان کوایٹمی طاقت بنانے والے عظیم سیاسی لیڈر ذوالفقارعلی بھٹو(شہید)کی بے مثال بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو جن کو عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم ہونے کا اعزاز حاصل ہے ، کو27 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں شاندار جلسہ عام کے بعد جلسہ گاہ کے باہر گولیاں مار کر شہید کردیا لیکن ان کا نام کروڑوں دلوں میں آج بھی زندہ ہے۔
پاکستانی سیاست میں بے نظیر بھٹو کے کردار اور کارنامے ان کے نام کولوگوں کے دلوں اور تایخ کے صفحات میں ہمیشہ محفوظ رکھیں گے۔ پاکستانی سیاست دانوں اور خاص طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت کو محترمہ کے طرز سیاست اور اندازحکمرانی کا بغور مطالعہ کرکے ان کی خوبیوں کو اپنا کر عوام کے دلوں میں جگہ بنانے کی کوشش کرنی چاہیے کہ بقول شاعر: جودلوں کو فتح کرلے وہی فاتحہ زمانہ۔۔۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی تربیت پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹوکے زیرسایہ ہوئی۔بھٹو صاحب اپنے دور حکومت میں جب کسی بیرونی ملک کے سرکاری دورے پر جاتے تو اکثربے نظیر بھٹو کو اپنے ہمراہ لے کر جاتے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کی اولاد میں بے نظیر بھٹو کو ملکی اوربین الاقوامی سیاست سے بہت زیادہ دلچسپی ہے اس حوالے سے شملہ معاہدے کے لیئے وہ بھارت جاتے ہوئے بے نظیربھٹو کو خاص طور پر اپنے ساتھ لے کر گئے جہاں انہوں نے بے نظیربھٹو کی موجودگی میں اندرا گاندھی سے کامیاب مذاکرات کئے جسے ملکی اور غیرملکی ذرائع ابلاغ نے بہت زیادہ اہمیت دی یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کئی بار بے نظیر بھٹو کو اپنا سیاسی جانشین بھی قرار دیااور آگے جاکر ان کا یہ اندازہ سوفیصد صحیح ثابت ہوا اور بے مثال باپ کی بے نظیر بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاکستانی سیاست میں ایک محب وطن اور بہادر سیاسی رہنما کے طور پر وہ کردار ادا کر دکھایا جوبڑے بڑے قدآور سیاسی لیڈرادا نہ کرسکے۔ یوں توبے نظیر بھٹو نے 1976ء میں اپنے والد ذوالفقارعلی بھٹو کی پولیٹیکل ایڈوائزر کے طور پرکام شروع کرکے پاکستان میں اپنی عملی سیاست کا آغاز کیا لیکن ان کی سیاسی اہلیت کا امتحان جولائی1977ء میں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دور میں شروع ہوا جس میں بے نظیر بھٹو نے بڑی بہادری کے ساتھ ہر طرح کے مشکل حالات کامقابلہ کرتے ہوئے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے ذریعے نمایاں کامیابی حاصل کرکے سب کو حیرت زدہ کردیا۔ بے نظیر بھٹو کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے ایک عورت ہونے کے باوجود ایک مسلم معاشرے میں زبردست سیاسی جدوجہد کے ذریعے ایوان اقتدار تک پہنچ کردنیا بھر سے اپنی سیاسی اور قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایااور 1988 میں منعقد ہونے والے عام انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے پاکستان کی وزیراعظم منتخب ہوکر عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم ہونے کا منفردترین اعزاز حاصل کیا،بے نظیربھٹو اپنی عوامی سیاست اور خداداد قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے پاکستان میں 2 مرتبہ وزارت عظمیٰ کے اعلیٰ ترین عہدے پرفائز ہوئیں جو ان کے مقبول ترین عوامی رہنما ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
بے نظیربھٹو کو اعلیٰ سیاسی سوجھ بوجھ،قائدانہ صلاحیت اورولولہ انگیز شخصیت کی بدولت پاکستان اور بیرونی دنیا میں ایک متحرک اورباعمل بہادر سیاسی رہنما کے طور پرزبردست شہرت حاصل ہوئی لیکن ملک دشمن، مفاد پرست سیاست دانوں،سازشی عناصر اور سامراجی طاقتوں کو بے نظیر بھٹو کی یہ زبردست عوامی مقبولیت ایک آنکھ نہ بھائی کیونکہ بیرونی طاقتوں کو تو ایسے بکاؤ سیاست دان چاہیئے ہوتے ہیں جو ان کے مفادات کے حصول کے لیئے ان کے اشاروں پرناچ سکیں اور چونکہ بے نظیر بھٹو میں منافقت اور مفاد پرستی نہ تھی چنانچہ اپنی پالیسی کے تحت پاکستان دشمن بیرونی طاقتوں نے پاکستان میں موجود مقامی مفادپرست غیرحقیقی سیاسی قوتوں کوطاقتور بنانے کے لیئے انہیں مختلف ترغیبات کے ذریعے خرید کر ایک جگہ جمع کیااور اقتدار کی منزل تک پہنچایا تاکہ بے نظیر بھٹو کی ولولہ انگیز قیادت میں جوزبردست عوامی طاقت جمع ہورہی ہے اسے اقتدار تک پہنچنے سے روکا جائے لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو نے جوولولہ انگیز سیاسی زندگی گزاری اور جس شان اور بہادری سے انہوں نے سامراجی قوتوں،فوجی آمروں اور ان کے زرخریدچمچوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں للکارااور اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کرپاکستانی عوام کے حقوق کی خاطرجس مہارت کے ساتھ صاحب اقتدار اور بادشاہ گر قوتوں کو ہر میدان میں چت کرکے اپنی غیرمعمولی سیاسی صلاحیتوں کا لوہا منوایاوہ ہمارے ملک کی سیاسی تاریخ کا وہ سنہرا باب ہے جس پر پوری پاکستانی قوم کو فخر کرنا چاہیئے۔
ذوالفقار علی بھٹو نے اپنا جو مشن ادھورا چھوڑا تھا، بابا کی پنکی نے اس کو پورا کرنے کی ذمہ داری اٹھاتے ہوئے بڑی جرا¿ت اور بے خونی سے تحریک شروع کی اور اپنے باپ کی سیاسی جانشین اورصحیح معنوں میں سیاسی لیڈر ثابت ہوئیں۔ انہوں نے بڑی ہوشیاری اور دانشمندی سے اپنے سیاسی پتے کھیلے۔ انہوں نے جلاوطنی کی حکمت عملی اختیار کی جبکہ ضیاء حکومت نے بیرون ملک ان کا اور ان کے بھائیوں کا تعاقب جاری رکھا اور آخر کار ایک عالمی طاقت کے اثر و رسوخ کے باعث شاہ نواز بھٹو کا قتل ہوا، جنرل ضیاء پرعزم اور جوشیلے شاہ نواز بھٹو سے خوفزدہ تھا۔ میں نے بعد میں وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی ہدایت پر کینز میں اس قتل کی تحقیقات کیں اور جب میں وزیراعظم ہائوس میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور بیگم صاحبہ کو اپنی تحقیقات کلے بارے میں بتا رہا تھا تو وہ دل کو چھونے والے بڑے غمناک اور اداس لمحے تھے جس نے سب کو دل گرفتہ کر دیا۔ میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ایک بہن اور بیگم صاحبہ کے بطور ایک ماں کے تاثرات اور محسوسات بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ بھائی کا یہ قتل اپنے عظیم باپ کی پھانسی کے بعد ملک میں جمہوریت کی بحالی اور استحکام کی قیمت تھی جو ان کو ادا کرنا پڑی۔ بھٹو کے مخالفین نے پراسرار انداز میں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ان کے بڑے بھائی کو قتل کرکے نیا صدمہ پہنچایا اور جس کے راز سے تاحال پردہ نہیں اٹھ سکا۔ میں الگ سے کبھی شاہ نواز اور مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے بارے میں تفصیل سے لکھوں گا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے زندگی بھر مشکلات اور مصائب کا مقابلہ کیا، کراچی ایئرپورٹ پر پولیس نے ان کی والدہ پر تشدد کیا جس کے نتیجے میں ان کی یادداشت جاتی رہی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے تمام تر مشکلات کے باوجود والدہ کی موت تک ان کی دیکھ بھال اور نگہداشت کی۔
محترمہ بے نظیر بھٹو نے ہمیشہ جرأت و بہادری کا مظاہرہ کیا۔ ڈکٹیٹر کے دبائو کے آگے کبھی ہار نہیں مانی۔ تمام تر نامساعد حالات کے باوجود ان کا عروج جاری رہا۔ ہر نیا دن ان کیلئے مقبولیت و ترقی کی نئی نوید لایا اور پھر ساری دنیا نے اس عروج اور مقبولیت کا نظارہ کیا جب محترمہ لاہور آئیں تو لاکھوں لوگوں کا مجمع ان کے استقبال کیلئے لاہور ایئرپورٹ امڈآیا تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری جلاوطنی کے زمانے میں ان کے 17ارکان اسمبلی ان کا ساتھ چھوڑ کر ڈکٹیٹر کی حکومت کے ساتھ مل گئے۔یہ لوگ ایک دن قبل محترمہ کے ساتھ ظہرانے میں شریک ان کو اپنی وفاداریوں کا یقین دلا رہے تھے۔ میں نے ان کو اس دن خاصا اداس پایا۔ وہ ایک عظیم لیڈر تھیں، مجھے یاد ہے جب ہم مسٹر تاکسن شیناواٹرا کی دعوت پر جو تب تھائی لینڈ کے وزیراعظم تھے‘ بنکاک میں تھے محترمہ کی تقریر آخری دن ہونا تھی، تو کانفرنس میں شریک متعدد سربراہان مملکت نے محض ان کی تقریر سننے کی خاطر اپنی اپنی فلائٹیں موخر کردیں اور محترمہ نے اس دن جمہوریت کے موضوع پر جو تقریر کی، وہ فی الواقع لاجواب اور کانفرنس کا حاصل تھی۔ان کی سوچ تھی کہ ملک کی بڑی سیاسی پارٹیوں کو ملک میں جمہوریت کے استحکام کیلئے سرپھٹول کے بجائے باہم مل کر کام کرنا چاہئے اسکے نتیجے میں آخر کار 2006ء میں پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے درمیان میثاق جمہوریت طے پایا جس پر لندن میں میری رہائش گاہ پر محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نوازشریف کے دستخط ہوئے۔
وفاق کی علامت ،چاروں صوبوں کی زنجیر ،بے نظیربھٹو کی زندگی اور موت دونوں قابل رشک ہیں کیونکہ ان جیسی متحرک اور فعال زندگی اوردلیرانہ شہادت بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے اور ایسے ہی لوگ تاریخ کے صفحات اور لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ ہم سب سے پہلے مسلمان اور پھر پاکستانی ہیں اور یہی ہماری شناخت ہے لیکن افسوس کہ آج کا دور مفاد پرستی،لسانیت،اور قومیت کا پرچار کرنے والے سیاست دانوں کا دور ہے جس میں حب الوطنی ایک جرم بن چکی ہے اور چمچہ گیری کو سب سے بڑی خوبی اور کامیابی حاصل کرنے کاآسان راستہ سمجھا جاتا ہے۔اگر کسی کو سیاست دان بننے اور کہلانے کا شوق ہے تووہ ذوالفقارعلی بھٹو شہید اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید سے سیاست سیکھے جنہوں نے دنیا بھر میں اپنے مثالی کردار اور عمل سے پاکستانی سیاست دانوں کا اچھا اور قابل تقلیدامیج بنایایہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر بھٹو خاندان کا نام عموماً اور ذوالفقارعلی بھٹو اور بے نظیر بھٹوکا نام خصوصاً بہت عزت اور احترام سے لیا جاتا ہے اور سیاست و حکومت کے میدان میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے بعدان دونوں سیاست دانوں کو دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان سمجھا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ان دونوں عظیم سیاسی رہنماؤں کے کردار و عمل نے ان کو پاکستانی سیاست کا لازمی حصہ بنادیا ہے جس کے اثرات پاکستانی سیاست پر کل بھی تھے ،آج بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔
قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید کی چہیتی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو کوپہلے توپاکستان واپس آتے ہی کراچی میں خودکش بم دھماکے کے ذریعے مارنے کی کوشش کی گئی لیکن اس مضموم کوشش میں ناکامی کے بعد لیاقت باغ کے قریب ان کو بھی گولیاں مار کر شہید کردیاگیا۔ پاکستانی سیاست میں بھٹوخاندان اپنا لہوشامل کر کے پاکستانی قوم کو ہمیشہ اس بات کا احساس دلاتا رہا کہ عوام کی جائز ضرورتوں، امنگوں اور خواہشات کو پورا کرنے اور پاکستان کے استحکام اور سلامتی کے لیئے اپنی جان کی بازی لگانے والے محب وطن لوگ ابھی ختم نہیں ہوئے لیکن افسوس27 دسمبر کی شام بھٹوخاندان کے لہو سے روشن پاکستانی سیاست کا آخری چراغ بھی بجھادیا گیا اور پاکستان دشمن عناصربے نظیر بھٹو کو بھی ابدی نیند سلانے میں کامیاب ہوگئے اوربے نظیر بھٹو کو بھی اپنی حب الوطنی، بہادری اورعوامی مقبولیت کی قیمت آخر کار اپنے خون سے ہی چکانی پڑی۔
27 دسمبر 2007ء کی شام محترمہ بے نظیر بھٹو کو مارنے والوں نے یہ سوچا ہوگا کہ انہوں نے بے نظیر بھٹو کو قتل کرکے اپنے راستے کا سب سے بڑا کانٹا ہٹا دیا ہے لیکن ان نادانوں کو شاید اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ وہ بے نظیر بھٹو کو شہید کرکے اپنے راستے میں خود کانٹے بچھا رہے ہیں۔بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد کیا ہوا ؟کیالوگ بے نظیر بھٹو کو بھول گئے؟ہم سب نے دیکھا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا بلکہ بے نظیر بھٹو کو شہید کیئے جانے والے دن سے آج تک ملک بھر کے اخبارات اور میڈیا چینلز نے بے نظیر بھٹو اوربھٹوصاحب کے حوالے سے اتنا کچھ شائع کیا اور ٹی وی اسکرین پر دکھایا کہ جو لوگ بھٹوخاندان کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے تھے یا جنہیں ان دونوں رہنماؤں کے بارے میں بہت کم معلومات تھیں ان سب کو بھی بہت اچھی طرح پتہ چل گیا کہ ذوالفقارعلی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کا پاکستانی سیاست میں کیا کردار اور مقام ہے۔ بھٹو صاحب کو پھانسی پر لٹکاکر ختم کرنے والے خود ختم ہوگئے لیکن بھٹو کے نام کو پاکستانی سیاست سے ختم نہیں کرسکے اوربے نظیر بھٹو کو مارنے والوں نے بھی اپنے انجام پر غور نہیں کیا،بے نظیر بھٹوکو شہید کیئے جانے کے بعد پاکستانی عوام کو میڈیا کے ذریعے بے نظیر کے بارے میں جو معلومات فراہم کی گئیں ان کو جان کرپاکستان کا بچہ بچہ بے نظیر بھٹو کے گن گانے لگاحتیٰ کہ وہ لوگ اور سیاسی مخالفین جو بات بات پر بے نظیر بھٹو کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا کرتے تھے آج وہ بھی اپنی سوچ اور طرزعمل پر شرمندہ ہوکربے نظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرتے نظر آتے ہیں لیکن یہ سب کچھ اس وجہ سے ہواکہ بے نظیر بھٹو نے عوامی حقوق کے حصول کے لئے اپنی زندگی داؤ پر لگادی۔محترمہ بے نظیربھٹو نے بھٹو خاندان کی روایات کے عین مطابق ایک محب وطن سیاسی رہنماکے طور پربڑی ولولہ انگیز زندگی گزارنے کے بعدبڑی بہادری اوردلیری کے ساتھ اس ملک وقوم کی خاطرجام شہادت نوش کرکے جو تاریخ رقم کی ہے اسے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھا جائے گا،انہوں نے پاکستان کی فلاح وبہبود اور استحکام کے لیئے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر سیاسی جدوجہد میں فعال ترین کردار ادا کرکے پاکستانی عوام کے دلوں میں جو جگہ بنائی ہے اور جو بلند مقام حاصل کیا ہے وہ ان سے کوئی نہیں چھین سکتا،وقت اور تاریخ پاکستانی سیاست میں بے نظیر بھٹو کے کردار اور کارناموں کو ہمیشہ محفوظ رکھیں گے۔
ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمارے مفادپرست معاشرے میں بے نظیر بھٹو جیسی محب وطن لڑکی نے جنم لیا جس نے اپنی ساری زندگی عوامی حقوق کی سر بلندی اور پاسداری کے لئے وقف کردی لیکن افسوس27 دسمبر2007ء کی شام انہیں لیاقت باغ راول پنڈی میں عظیم الشان جلسہ عام کے بعدفائرنگ کرکے شہیدکردیااورپاکستانی قوم ایک عظیم مدبر اور محب وطن سیاسی رہنما سے محروم ہوگئی۔محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت سے پاکستانی قیادت میں جو خلا پیدا ہوا ہے اسے شاید ہی کبھی پورا کیا جاسکے لیکن ان سے محبت اور عقیدت کرنے والے ان کی ذات اور کردار کی خوبیوں کو اپنا کر اور ان کے سیاسی فلسفے کو اپنا رہنما بناکرملک وقوم کی خدمت ضرورکرسکتے ہیں۔
عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم،بے مثال باپ کی بے نظیر بیٹی محترمہ بے نظیربھٹو شہیدکی قابل رشک اور قابل تقلید سیاسی زندگی کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کے یوم شہادت کے موقع پر ان کی یادیں تازہ کرتے ہوئے ضرورت اس بات کی ہے کہ بے نظیر بھٹو کے انداز فکر،فلسفے اور طرز حکمرانی کے مطابق سیاسی مور کو انجام دے کر عوام میں پائی جانے والی بے چینی اور بڑھتی ہوئی نفرت کے اسباب کو دور کرنے کے لئے سنجیدہ کوششیں کی جائیں ورنہ وہ پیپلز پارٹی جسے کوئی فوجی آمر،سیاسی اتحاد اوربیرونی طاقت ختم نہیں کرسکی اسے زرداری گروپ کا غلط طرز سیاست لے ڈوبے گا لہذا اب بھی وقت ہے کہ پیپلز پارٹی کواس پارٹی کے بانی قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو شہید اوران کی قابل فخر بیٹی محترمہ بے نظیربھٹو شہید کے افکاراور نظریات کے مطابق چلا یا جائے اور ’’بھٹوازم ‘‘ کو اس کی اصل شکل میں پارٹی کی بنیادی دستاویز بناکر اس کے مطابق سیاست اور حکومت کی جائے ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلم لیگ کی طرح پیپلز پارٹی میں بھی ن ،ع ،ف ، ق ،م اورذ کے نام سے دھڑے بن جائیں اور پاکستان کی سب سے بڑی عوامی سیاسی جماعت پیپلزپارٹی مختلف ٹکڑوں میں تقسیم ہوکر عوام میں اپنی مقبولیت اور اہمیت کھو بیٹھے۔

(294 بار دیکھا گیا)

تبصرے