Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 19 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

بے بی سے شہید بی بی تک

مختار احمد جمعرات 27 دسمبر 2018
بے بی سے شہید بی بی تک

ذوالفقار علی بھٹو کی کرشما تی سیاست کا کون ایسا ہے جو کہ قائل نہیں انہوں نے حقیقت میں پاکستانی سیاست کو ایک نیا رخ ،ایک نیا ولولہ دیا جس کے پیش نظر عالمی دنیا ان کیخلاف ہو گئی اور با لا آخر ان ہی کی سازشوں کے بلبوتے پر ایک فو جی جنرل ضیاء الحق نے ایک نا کر دہ گناہ کے الزام میں پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا اور ان کے خاندان سمیت پیپلز پارٹی کے کارکنان پر مظالم کے پہاڑ صرف اس لئے توڑے گئے کہ ان کا مقصد پیپلز پارٹی کی عوامی سیاست کو زندہ در گوہ کر نا تھا مگر شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا پیپلز پارٹی کو در گوہ کر نے کا سوچنے والے خود زندہ در گوہ ہو گئے اور پاکستانی سیاست سے ان کا نا م ونشان مٹ گیا مگر وہ بھٹو جسے تختہ دار پر لٹکا یا جا چکا تھا آج بھی اپنی فکر و فلسفے کی صورت میں زندہ ہے اور پیپلز پارٹی اسی بھٹو کے نام پر متعدد بار ملکی اقتدار حاصل کر چکی ہے اور اسے زندہ رکھنے والوں میں صرف شہید ذوالفقار علی بھٹو ہی نہیں بلکہ ان کی شریک حیات بیگم نصرت بھٹو اور صاحبزادی بے نظیر بھٹو جن کی شہا دت کو 11سال گزر چکے ہیں کا ہا تھ بھی شامل ہیں اور کیو نکہ ان کی تر بیت ذوالفقار علی بھٹو جیسے زیرک سیاستداں کے ہا تھوں ہو ئی لہذا ان کے اندر شہید بھٹو کی تمام تر خوبیاں بدرجہ اتم موجود تھیں وہ بے نظیر بھٹو 21جون1953کو کراچی میں پیداہو ئیں اس وقت ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو لندن میں تھے جب وہ واپس لوٹے اور گھر میں داخل ہو ئے تو سامنے سرخ سفید پھول جیسی بچی کو دیکھ کر اسے بے ساختہ چومنے لگے گلابی رنگت کی وجہ سے وہ بچی کو پنکی پنکی کہہ رہے تھے اور اس کے بعد نا صرف شہید بھٹو بلکہ ان کے خاندان نے کبھی اس بچی کو بے بی اور کبھی بے نظیر کے نام سے نوازہ اور اس کے بعد بھٹو خاندان میں میر مرتضی ،صنم ،شاہنواز جونیئر کی شکل میں 3 مزید خوشیاںحاصل ہوئیں مگر ذوالفقار علی بھٹو جتنا پیار بے نظیر سے کر تے تھے اتنا انہیں کو ئی دوسرابچہ پیا را نہ تھا ذوالفقار علی بھٹو بچوں کے ساتھ بچیوں کی تعلیم کے بھی زبر دست حا می تھے انہوں نے بے نظیر کو اچھے انگیریزی اسکولوں سے تعلیم دلوا ئی بے نظیرنے پرائمری تعلیم لیڈی جیتگر نرسری جو کہ کینٹ اسٹیشن کے نزدیک ہے اور کانووینٹ جیسز اینڈ میری کراچی سے حاصل کی راولپنڈی اور مری کے کانونٹ اسکولوں میں بھی زیر تعلیم رہیں 15 برس کی عمر میں انہوں نے او لیول کر لیا تھا تب بھٹو نے خاندانی اور مقامی روا یت سے بغاوت کر تے ہو ئے اپنی ہونہار بیٹی کو بیرون ملک تعلیم حاصل کر نے کے لئے بھیجنے کا جرات مندانہ فیصلہ کیا یوں اے لیول کراچی گرا مر اسکول سے کر نے کے بعد بے نظیر بھٹو اعلی تعلیم کے لئے بیرون ملک روا نہ ہو گئیں وہ 1969 سے1973تک ریڈ کلف کا لج ،ہارورڈ یو نیورسٹی میں پڑھتی رہیں اور یہاں سے گریجویشن کے بعد انہوں نے انگلستان کی معروف جامعہ آکسفورڈ میں داخلہ لے لیا 1973 سے1977کے دوران وہ لیڈی مارگریٹ ہال آکسفورڈ میں سیاسیات ،اقتصادیات اور فلسفے کی طالبہ رہیں آکسفورڈ سے ہی انہوں نے بین الا اقوامی قانون اور ڈپلو میسی کی ڈگری لی یہ امر قابل ذکر ہے کہ آکسفورڈ اسٹوڈنٹس یو نین کی صدر منتخب ہو نے والی وہ پہلی ایشیائی لڑکی تھیں یوں شروع سے ہی انہوں نے کامیابیوں کے جھنڈے گاڑنے کا آغاز کر دیا تھا بھٹو نے اپنی اس بیٹی کی تربیت و تعلیم میں کو ئی کسر نہ چھوڑی وہ انہیں اپنے افکار کی صحیح وارث سمجھتے تھے وہ شملہ معاہدے کا موقع ہو یا چین میں چو این لا ئی سے ملاقات بھٹو ہمیشہ بے نظیر کواپنے ساتھ رکھتے تھے اور ان کی عملی تر بیت کر تے تھے اس تر بیت کا ہی نتیجہ تھا کہ جب نو عمر بے نظیر عالمی شخصیات سے گفت شنید کرتیں تو بڑے بڑے رہنما ان کی ذہا نت کی داد دئے بغیر نہیں رہ سکتے ملک پر ضیاء الحق کے مارشل لاء کے سیاہ بادل چھا ئے تو ذالفقار علی بھٹو کو ایک قتل میں اعانت کے الزام میں قید کر دیا گیا اس موقع پر بے نظیر نے کم عمری کے با وجود بڑے عزم و ہمت سے حا لات کا مقابلہ کیا بھٹو صاحب نے انہیں آنے والے حا لات اور خطرات سے نبر آزماہو نے کے لئے پوری طرح تیار کر دیا تھا 3 اپریل1979کو جب بے نظیر بھٹو کی اپنے والد سے آخری ملا قات ہو ئی تو بھٹو نے بیٹی کو حق کامشن جاری رکھنے کی نصیحت کی باپ کی اس نصیحت کو بے نظیر بھٹو شہید نے اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا اور تا دم آخر اس راستے پر گامزن رہیں ۔بھٹو کی پھانسی کے بعد بے نظیر بھٹو جنہیں کارکنان بی بی کے نام سے بلاتے تھے نے نا صرف اپنی پارٹی کی عمدگی سے باگ دوڑ سنبھا لی بلکہ انہوں نے بے پناہ ہمت،بہادری اور جہد مسلسل کی نئی مثا لیں رقم کر تے ہو ئے پیپلز پارٹی کوایک بار پھر ملک کی سب سے مضبوط جماعت بنا دیا اپنی بے پناہ قائدانہ صلاحیتوں کی بنا پر انہوں نے پارٹی کے کارکنوں کا مورال پست نہ ہو نے دیا سچ تو یہ ہے کہ وہ پاکستان کے پسے ہو ئے عوام کے لئے امید کی کرن بن کر ابھری تھیں پھر آسمان نے دیکھا کہ جب اپریل 1986میں جلا وطنی کے بعد واپس پاکستان آئیں تو عوام ان ان کا جو والہا نہ استقبال کیا اس سے آمریت کے درو دیوار لرز اٹھے اور حبیب جا لب جیسے انقلا بی شاعر جو کہ حقیقت پسندانہ شاعری کر تے تھے بھی ان کی جرات بہادری کو دیکھ کر یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ” ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے ۔۔۔پھیلے ہیں ہمت کے اجالے ایک نہتی لڑکی سے” ـاور اس نڈر بہا در لڑکی نے ـ2سال بعد 1988میں نا صرف انتخاب جیتا بلکہ سب سے کم عمری میں وزیر اعظم پاکستان بننے کا شرف حاصل کیااور پھر وہ دوسری مر تبہ 1993 میں وزیر اعظم بنیں تا ہم ان کی حکو متوں کو ہربار مشکلات کا سامنا کر نا پڑا اور دونوں مر تبہ ان کی حکومتیں بد عنوانی اور کرپشن کے الزامات کے تحت بر طرف کر دی گئیں ۔بے نظیر بھٹو کو اقتدار کے دوران اور اقتدار سے علیحدگی پر بھی لاتعداد مسائل کا سامنا کر نا پڑا تا ہم انہوں نے قو می ہی نہیں بین الا اقوامی سطح کی لیڈر ہو نے کا ثبوت دیا اور ہمہ وقت جدو جہد میں مصروف رہے کارزار سیاست میں ان کے والد کو سزائے موت سنا ئی گئی جبکہ ان کے ایک بھا ئی شاہ نواز بھٹو فرا نس میں پراسرار طور پر جا ں بحق ہو گئے ان کے دوسرے بھا ئی میر مر تضی بھٹو ان کے اپنے دور حکمرا نی میں کراچی میں قتل کر دئے گئے ان صدمات کی وجہ سے ان کی والدہ نصرت بھٹو اپنی یا داشت تک کھو بیٹھی تھیں بے نظیر کے شوہر جیل میں تھے اور خود انہیں بچوں سمیت جلا وطنی کی زندگی گزارنا پڑی اس دوران بھی انہوں نے امید کا دامن ہا تھ سے نہ جا نے دیا دبئی وانگلینڈ کے در میان وہ مسلسل سفر کر کے اپنی پارٹی کو ٹو ٹنے سے بچا نے میں مصروف رہیں رات خواہ کتنی طویل ہی کیوں نہ ہو گزر جا تی ہے پیپلز پارٹی اور بے نظیر بھٹو کے لئے جبر کی سیاہ رات اس وقت گزر گئی جب محتر مہ بینظیر 18 اکتو بر 2007 کو وطن واپس آئیں طویل جلا وطنی کے بعد جب انہوں نے کراچی ایئر پورٹ پر قدم رکھا تو فر ط جذبات سے ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے انہو ں نے وطن کی مٹی پر سجدہ کیا اور پھر ان کا قافلہ جو کہ لاکھوں لوگوں پر مشتمل تھا اپنی منزل مزار قائد کی طرف بڑھنے لگا مگر کارساز روڈ پر اچا نک ان کے فلوٹ کے نزدیک 2دھما کے ہو ئے اور 160سے زائد کارکنان شہید جبکہ سینکڑوں زخمی اور معذور ہو گئے مگر بے نظیر بھٹو اس حملے میں معجزانہ طور پر بچ گئیں اور اس خطر ناک حملے کے باجود انہوں نے اپنے کارکنوں سے ناطہ نہ توڑا اور دوسرے روز ہی اس سانحے میں زخمی ہو نے والے کارکنوں سے ملاقات کے لئے ہسپتال اور شہید ہو نے والے کارکنوں کے گھروں پر جا نا شروع کر دیا اس دوران انہوں نے اپنی انتخا بی مہم بھی پورے ہمت و حوصلے کے ساتھ جا ری رکھی اور اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر جب وہ 27 دسمبر 2007 کو اسی لیا قت باغ جہاں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیا قت علی خان کو قتل کیا جا چکا ہے میں ایک انتخا بی جلسے سے خطاب کے بعد واپس جا رہی تھیں تو انہیں گو لیوں کا نشا نہ بنا کر شہید کر دیا گیا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز ہوا اور تفتیش شروع ہو گئی گواہوں کی طلبی اور بیا نات گرفتاریاں ملزمان کی پیشی اور فرد جرم بھی عائد کی گئی اسی عرصے میں اقتدار کی ایوانوں میں تبدیلی آئی اداروں اور انتظا می امور کے کر تا دھر تا بدلے گئے اب طا قت اور اختیار کسی اور کے ہا تھوں میں تھا مقامی تفتیشی اداروں کے بعد سکارٹ لینڈ یا رڈ اور پھر اقوام متحدہ کی ٹیم نے بھی بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کی کھوج میں جا ئے حادثے کا رخ کیا لیکن یہ سب بے نتیجہ ثا بت ہوا سانحے کی ابتدائی چند گھنٹوں بعد میڈیکل کا لج کے ماہرین پر مشتمل ٹیم نے روالپنڈی جنرل ہسپتال میں بے نظیر بھٹو کا طبی معائنہ کیا اور بتا یا کہ موت کی وجہ سر پر لگنے والی گو لی ہے مگر اگلے ہی روز یہ کہا گیا کہ بے نظیر بھٹو کا سر کسی سخت چیز سے ٹکرا یا جس سے موت واقع ہو ئی 4 جنوری 2008 کواسکارٹ لینڈ یارڈ کی ایک ٹیم نے تحقیقات کے بعد کہا کہ بے نظیر بھٹو کی موت کی وجہ براہ راست گو لی یا جلسہ گا ہ میں ہو نے والا دھما کا نہیں بلکہ حملے کے فوری بعد ان کا سر کسی چیز سے ٹکرا یا تھا جسے پیپلز پارٹی نے مسترد کر دیا اور اس طرح تفتیش ،تحقیق کے نام پر با وجود پیپلز پارٹی کے اقتدار میں ہو نے کے 11سال گزار دئے گئے مگر اب تک ان کے اصل قاتلوں کے بارے میں پتا نہیں چلا یا جا سکا ہے جو کہ ایک لمحہ فکر یہ ہے ۔

 

 

(513 بار دیکھا گیا)

تبصرے