Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 13 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ہوشیار بلی

ارسلان اقبال بدھ 26 دسمبر 2018
ہوشیار بلی

ایک چڑا درخت پر گھونسلا بنا کر مزے سے رہتا تھاایک دن وہ دانا پانی کے چکر میں اچھی فصل والے کھیت میں پہنچ گیاوہاں کھانے پینے کی موج سے بڑا ہی خوش ہوا اس خوشی میں رات کو وہ گھر آنا بھی بھول گیا اور اس دن مزے میں وہی گزرنے لگے ادھر شام کو ایک خرگوش اس درخت کے پاس آیا جہاں چڑے کا گھونسلا تھا درخت ذرا بھی اونچا نہیں تھا اس لیے خرگوش نے اس گھونسلے میں جھانک کر دیکھا تو پتہ چلا کہ یہ گھونسلا خالی پڑا ہے۔ گھونسلا اچھا خاصا بڑا تھا اتنا کہ وہ اس میں خرگوش آرام سے رہ سکتا تھا۔
اسے یہ بنا بنایا گھونسلا پسند آ گیا اور اس نے یہیں رہنے کا فیصلہ کر لیا کچھ دنوں بعد وہ چڑا کھا کھا کر موٹا تازہ بن کر اپنے گھونسلے کی یاد آنے پر واپس لوٹا اس نے دیکھا کہ گھونسلے میں خرگوش آرام سے بیٹھا ہوا ہے اسے بڑا غصہ آیا اس نے خرگوش سے کہاچور کہیں کا میں نہیں تھا تو میرے گھر میں گھس گئے ہو؟ چلو نکلو میرے گھر سے ذرا بھی شرم نہیں آئی میرے گھر میں رہتے ہوئے؟” خرگوش امن سے جواب دینے لگا کہاں کا تمہارا گھر؟ کون سا تمہارا گھر؟ یہ تو میرا گھر ہے پاگل ہو گئے ہو تم ارے! کنواںتالاب یا درخت ایک بار چھوڑ کر کوئی جاتا ہے تو اپنا حق بھی گوا دیتا ہے یہاں تو جب تک ہم ہیںوہ اپنا گھر ہے بعد میں تو اس میں کوئی بھی رہ سکتا ہے۔ اب یہ گھر میرا ہے بیکار میں مجھے تنگ مت کرو یہ بات سن کر چڑا کہنے لگا ایسے بحث کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا کسی ثالث کے پاس چلتے ہیںوہ جس کے حق میں فیصلہ سنائے گا اسے گھر مل جائے گا اس درخت کے پاس سے ایک دریا بہتا تھا وہاں پر ایک بڑی سی بلی بیٹھی تھی ویسے تو یہ بلی ان دونوں کی پیدائشی دشمن ہے لیکن وہاں اور کوئی بھی نہیں تھا اس لئے ان د ونوں نے اس کے پاس جانا اور اس سے انصاف لینا ہی مناسب سمجھااحتیاط برتتے ہوئے بلی کے پاس جا کر انھوں نے اپنے مسائل بتائے۔ انہوں نے کہاہم نے اپنی الجھن تو بتا دی اب اس کا حل کیا ہے؟ اس کا جواب آپ سے سننا چاہتے ہیں۔
جو بھی صحیح ہوگا اسے وہ گھونسلا مل جائے گا اور جو جھوٹا ہوگا اسے آپ کھا لیںارے ارے یہ تم کیسی باتیں کر رہے ہو تشدد جیسا گناہ نہیں اس دنیا میں دوسروں کو مارنے والا خود جہنم میں جاتا ہے میں تمہیں انصاف دینے میں تو مدد کروں گی لیکن جھوٹے کو کھانے کی بات ہے تو وہ مجھ سے نہیں ہو پائے گا۔میں ایک بات آپ لوگوں کو کانوں میں کہنا چاہتی ہوں ذرا میرے قریب آئو تو خرگوش اور چڑا خوش ہو گئے کہ اب فیصلہ ہو کر رہے گا اور اس کے بالکل قریب گئے پھر کیا؟ قریب آئے خرگوش کو پنجے میں پکڑ کر منہ سے چڑے کو نوچ لیا دونوں کا کام تمام کر دیا اپنے دشمن کو پہچانتے ہوئے بھی اس پر یقین کرنے سے خرگوش اور چڑے کو اپنی جانیں گنوانی پڑیں سچ ہے دشمن سے سنبھل کر اور ہو سکے تو چار ہاتھ دور ہی رہنے میں بھلائی ہوتی ہے۔

(473 بار دیکھا گیا)

تبصرے