Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 18  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ایم کیوایم پر قبضہ ہے اسکے باوجود عوام ایم کیوایم کو ووٹ ڈال رہے ہیں۔

ویب ڈیسک منگل 25 دسمبر 2018
ایم کیوایم پر قبضہ ہے اسکے باوجود عوام ایم کیوایم کو ووٹ ڈال رہے ہیں۔

حیدرآباد۔۔۔۔متحدہ قومی موومنٹ پاکستان تنظیم بحالی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ میری 40 سال کی جدوجہد کو کوئی ختم نہیں کرسکتا، میرے دل میں ایم کیوایم ہے اور لوگوں کے دل میں میری محبت ہے۔ مائنس ون کو لوگوں نے قبول کرلیا، مائنس 2کو کارکن قبول نہیں کریں گے ، ایم کیوایم پر قبضہ ہے اسکے باوجود عوام ایم کیوایم کو ووٹ ڈال رہے ہیں۔ وہ لطیف آباد میںمرحوم پروفیسر ادریس خان کے گھر تعزیت کے بعد میڈیااور حیدرآباد چیمبر آف کامرس میں تاجروں سے گفتگو کررہے تھے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاکہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کے بارے میں لوٹ کھسوٹ اور کرپشن کے چرچے عام ہیں ، اسی نعرے پر سوار ہوکر تحریک انصاف پاکستان میں آئی اور وہ اپنی جماعت کو تھرڈ آپشن قرار دے رہے تھے ، ہمیں اندیشہ ہے کہ پی ٹی آئی بھی جب اپنی مدت پوری کرکے جائے گی تو اسے بھی اسی طرح کے الزامات کا سامنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ احتساب اور انصاف کا عمل صاف اور شفاف ہونا چاہئے، یہ خوشی کی بات نہیں ہے کہ سابق وزیراعظم کو سزا ہو ،یہ ملک کے امیج کےلئے اچھا نہیں ہورہا، ہر ایک کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ نیب 8 سال سے خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا آخر دو سالوں میں نیب فعال ہوا جو 10 سال سے حکومت کررہے تھے ، جنہوں نے خصوصی عدالتیں بنائیں لیکن نیب قوانین میں ترمیم نہیں کی ، انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے دور میں کرپشن ہوئی ، کسی نہ کسی کو تو احتساب کرنا ہوتا ، جس طرح عمران خان یوٹرن لے رہے ہیں اور سمجھوتے کررہے ہیں ہمیں ڈر ہے کہ آپ کے ساتھ بھی یہی سب کچھ ہوگا ، انہوں نے کہاکہ ایک احتساب کا عمل حکومت اور نیب کا ادارہ کررہا ہے دوسرا احتساب کا عمل ایم کیوایم کے اندر چل رہا ہے ، ایم کیوایم میں انٹراپارٹی الیکشن ہونا چاہئےں اور وہ لوگ جنہوں نے اثاثے بنائے ہیں ان کو کارکنوں کی عدالت کے سامنے پیش ہونا چاہئے۔ ملک میں نہ صرف کرپشن کا خاتمہ ہونا چاہئے بلکہ کرپٹ سیاسی کلچر کا بھی خاتمہ ہونا چاہئے، جب تک سیاسی جماعتیں اپنے اندر احتساب کا عمل قائم نہیں کریں گی اور اپنے لوگوں پر چیک اینڈ بیلنس نہیں رکھیں گی اس وقت تک کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کو 1986ءکی نظریاتی ایم کیوایم بنانا چاہتے ہی ، دو بڑی جماعتوں کی صورتحال آپ کے سامنے ہے ، ایک تیسری جماعت آئی تو اس نے دعویٰ کیا کہ وہ تھرڈ آپشن ہے لیکن وہ بھی ناکام ہوئی، انہوں نے کہاکہ رابطہ کمیٹی کے اراکین جو پارٹی کے وڈیرے ،جاگیردار اور قبضہ گیر ہیں ، 1986ءسے لے کر اب تک عامر خان ، کنورنوید جمیل یا میں نے جو کچھ بنایا ہے اس کا حساب کارکنوں کو دینا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ نواز شریف کو ایک اور سزا ہوگئی ، سپریم کورٹ نے ان کو نااہل قرار دیدیا کہ وہ اپنی پارٹی سربراہی بھی نہیں کرسکتے اس کے باوجود کوئی فیصلہ ان کی مرضی کے بغیر نہیں ہوتا، اگر میری بنیادی رُکنیت بھی ختم کردی گئی تو مجھے ووٹ دینے اور نعرہ لگانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔علاوہ ازیں ڈاکٹر فاروق ستار نے حیدرآباد چیمبر آف کامرس کی دعوت پر عہدیداروں سے ملاقات کی جہاں چیمبر کے آفس میں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور سندھ کی روایتی ٹوپی واجرک کا تحفہ پیش کیا گیا تاجروں سے مختصر گفتگو میں انہوں نے کہا کہ جس طرح ایم کیو ایم کو 1986 کی ایم کیو ایم بنانے کا ازم کیا ہے میری خواہش ہے کہ اسی طرح حیدرآباد کو 1977 کا حیدرآباد بنانے کے لیے تاجر برداری اپنا کردار ادا کرے۔

(266 بار دیکھا گیا)

تبصرے