Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 27 مارچ 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کراچی سے اسلام آباد کا سفر دبئی سے مہنگا کیوں ؟

ویب ڈیسک پیر 24 دسمبر 2018
کراچی سے اسلام آباد کا سفر دبئی سے مہنگا کیوں ؟

پاکستان میں ان دنوں اگر آپ کراچی سے لاہور یا اسلام آباد سفر کریں تو اتنے ہی پیسوں میں یا معمولی سی رقم زیادہ دے کر پیرس، بارسلونا، کوالالمپور، دبئی، خلیجی ممالک یا بنکاک وغیرہ کا سفر باآسانی کر سکتے ہیں بلکہ کچھ مقامات پر تو رقم سیر سپاٹے اور شاپنگ کے لیے بھی بچائی جا سکتی ہے۔ایسا کیوں ہے کہ اس وقت دو گھنٹے کی پرواز کا کرایہ اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی سفر سے بھی مہنگا ہے۔گذشتہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر اس بارے میں بات کی جا رہی ہے اور لوگ یہ دعوے بھی کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ انھیں اسلام آباد سے کراچی کے لیے دو طرفہ کرایہ 40 سے 65 ہزار روپے تک بتایا گیا ہے۔اس ہوش ربا کرائے کے بارے میں پوسٹس کا تقابل لوگ بیرونِ ملک سفر کے لیے غیرملکی فضائی کمپنیوں کو ادا کیے جانے والے ٹکٹس سے کرتے دکھائی دیتے ہیں اور جہاں کوئی اتنے کرائے میں لندن جانے کی بات کر رہا ہے تو کسی کو مشرقِ بعید میں گزاری گئی اپنی چھٹیاں یاد آ رہی ہیں۔سوال یہ ہے کہ یہ ٹکٹ مہنگے کیوں ہیں؟ٹکٹ کی اس قیمت میں کیا کچھ شامل ہے؟
اور یہ قیمت کیسے طے کی جاتی یا کون طے کرتا ہے؟اور کیا اس پر نگرانی یا نظرِثانی کا کوئی نظام موجود ہے یا نہیں؟پاکستانی فضائی کمپنیاں ملک کے اندر سول ایوی ایشن کو ادائیگیاں امریکی ڈالر کے مطابق کرنے پر مجبور ہیں۔ان سوالوں کا جواب دینے سے پہلے چند ضروری باتیں جاننا ضروری ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ کہ چونکہ پی آئی اے حکومت پاکستان کے دی جانے والی امداد پر چلتی ہے اس لیے اس پر چارجز کے لیے اتنا دباؤ نہیں جتنا باقی ایئرلائنز پر ہوتا ہے۔ پی آئی اے اب بھی سول ایوی ایشن اور کئی دوسرے اداروں کے کروڑوں کے واجبات کی نادہندہ ہے۔٭ دوسری بات یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کی ڈومیسٹک یا اندرونِ ملک مارکیٹ میں رسد اور طلب کا توازن بگڑا ہوا ہے یعنی مسافر زیادہ اور پروازوں کی کمی ہے۔ جس کی بنیادی وجہ شاہین ایئر جیسی بڑی ایئرلائن کا منظر سے غائب ہونا ہے۔شاہین ایئر عمومی طور پر ان دونوں روٹس پر چار پروازیں چلاتی تھی جس کے حساب سے اگر دیکھیں تو روزانہ کی بنیاد پر 688 نشستیں کم ہیں اور ماہانہ 20640 کے قریب نشستیں کم ہیں۔ اب اس کمی کو پورا کرنے کے باقی تینوں ایئرلائنز نے پروازیں بڑھائی تو ہیں مگر اس کمی کو مکمل طور پر پورا کرنا ممکن نہیں تو مانگ میں اضافے اور رسد میں کمی کی بنیادی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہونا ایک وجہ ہے۔٭ تیسری بات یہ سمجھنی ضروری ہے کہ ایئرلائنز کا بکنگ کا نظام اس طرح بنا ہوا ہے کہ جوں جوں پرواز کا دن قریب آتا ہے ٹکٹ مہنگا ہوتا جاتا ہے۔ اور اگر آپ آج یا کل کی ٹکٹ خریدیں گے تو اس کی قیمت 60 ہزار سے زیادہ ہو گی مگر چند دن بعد یعنی 24 یا 25 دسمبر کو ٹکٹ خریدتے ہیں تو اس کی قیمت 40 ہزار کے لگ بھگ ہو گی۔ اور اگر آپ جنوری میں ٹکٹ خریدتے ہیں تو اس کی قیمت 26 سے 30 ہزار کے درمیان ہو گی۔ٹکٹوں کے مہنگے ہونے کی کئی وجوہات ہیں۔ جن میں سب سے پہلی وجہ موسمِ سرما کی چھٹیاں ہیں جس میں لوگ اپنے پیاروں سے ملنے کے لیے سفر کرتے ہیں۔ اس وجہ سے مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہے جسے پورا کرنے کے لیے کافی پروازیں نہیں چل رہیں۔
دوسری وجہ ڈالر کا 140 روپے تک جانا ہے جس کی وجہ سے ایئرلائنز کے اخراجات بڑھے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان میں سول ایوی ایشن کے چارجز، فیول چارجز سب ڈالر میں وصول کیے جاتے ہیں جن کی ادائیگی ایئرلائنز ڈالر کے عوض روپوں میں کرتی ہیں۔ تو چھ مہینے قبل اگر ایئرلائن اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایئربرج استعمال کرنے کے چارجز 300 ڈالر کے عوض ایئرلائن 36300 دیتی تھی جو اب بڑھ کے 41698 روپے بن چکے ہیں۔ اسی طرح طیاروں کی لیز یعنی کرائے کی ادائیگی بھی ڈالروں میں ہوتی ہے جس کے علاوہ سافٹ ویئرٹ پائلٹس کی تربیت اور سیمولیٹر پر تربیتکا خرچ بھی ڈالروں میں ہوتا ہے۔اسی طرح عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اگرچہ گر رہی ہیں لیکن پاکستان میں ان پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے بلکہ ایندھن فراہم کرنے والی کمپنیاں اپنی اجارہ داری کا فائدہ بھی اٹھاتی ہیں۔ایک فضائی کمپنی کے سینیئر اہلکار نے بتایا کہ جہاں شیل اور پاکستان سٹیٹ آئل دونوں کام کر رہے ہیں وہاں قیمتیں مناسب ہوتی ہیں مگر جہاں پی ایس او اکیلی ہے وہاں تیل کی قیمت زیادہ ہوتی ہے اور زیادہ سے مراد تین سے چار روپے تک فی لیٹر۔ اور ایک پرواز کے لیے ٹنوں کے حساب سے تیل خریدا جاتا ہے تو قیمت اس حساب سے بڑھ جاتی ہے۔ٹکٹ کی اس قیمت میں ایئر لائن کے چارجز شامل ہیں۔ جن میں اس کی جانب سے فراہم کردہ سروس اور کرایہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ کئی قسم کے ٹیکس شامل ہیں۔ایک اوسط ٹکٹ پر ایئرلائن 2000 روپے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی دیتی ہے۔پانچ سو روپے سول ایوی ایشن کو پارکنگ دیتی ہے۔100روپے سکیورٹی چارجز دیتی ہے۔
20 روپے ایئرپورٹ ٹیکس دیتی ہے۔اس سب کے دینے کے بعد ٹکٹ کی کْل قیمت پر ایئرلائن ایڈوانس ٹیکس اکٹھا کر کے حکومت کو ادا کرتی ہے۔ٹکٹ کی قیمت ایئرلائن طے کرتی ہے اور اسے طے کرنے میں ایئرلائن اپنی ادائیگیوں اور ٹیکسز کو مدِنظر رکھتی ہے۔ہر ٹکٹ یا سیٹ کے لیے ایک بیس یعنی بنیادی کرایہ ہوتا ہے جس کی بنیاد پر ایئرلائن یہ فیصلہ کرتی ہے اس سے کم وہ ٹکٹ فروخت نہیں کرے گی۔ جس کے بعد اس پر مختلف ٹیکسز لگ کر اس کی قیمت بڑھتی جاتی ہے۔اس بارے میں نگرانی کرنے کا ادارہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی ہے مگر چونکہ سی اے اے اس سارے معاملے میں خود فریق ہے تو وہ یا تو بیوپاری یا سروس پرووائیڈر کا کردار ادا کر سکتا ہے یا نگران کا مگر پاکستان میں دونوں معاملات گڈ مڈ ہو جاتے ہیں۔سول ایوی ایشن پر نگرانی کا کوئی موثر نظام موجود نہیں ہے۔ ایوی ایشن ڈویڑن کی الگ وزارت کا قیام عمل میں لایا گیا مگر یہ اتنا بڑا اور پیچیدہ شعبہ ہے کہ اس میں موثر طور پر تنظیمیں کام کرنے کے لیے وقت اور توانائی درکار ہے۔اسی طرح نیشنل ایوی ایشن پالیسی 2015 میں یہ بات بھی لکھی گئی تھی کہ ملک کے تین بڑے ہوائی اڈے کمپنیوں کے سپرد کیے جائیں جو انہیں چلائیں مگر اس معاملے پر سول ایوی ایشن کے ملازمین اور حکومت کے درمیان معاملات طے نہیں ہو پائے اور اشتہارات دینے اور دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں کے اظہارِ دلچسپی کے باوجود معاملہ ابھی تک جوں کا توں ہے۔

(191 بار دیکھا گیا)

تبصرے