Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 17  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

قائد اعظم کی جا ئے پیدائش۔۔۔۔۔۔ وزیر مینشن یا جھرک

مختار احمد پیر 24 دسمبر 2018
قائد اعظم کی جا ئے پیدائش۔۔۔۔۔۔ وزیر مینشن یا جھرک

سر زمین کرا چی کو اس بات کا فخر حا صل ہے کہ اس کی کوکھ سے کئی قد آ ور خوا تین اور مر دوں نے جنم لیا ان خوا تین و حضرات نے نا صرف بر صغیر بلکہ بین الا اقوا می سطح پر شہرت پا ئی اور دنیا بھر میں اپنی قا ئدا نہ صلا حیتوں کا لو ہا منوا یا بر صغیر کا موجودہ بدلہ ہوا نقشہ بھی انہیں رہنما ﺅں کی کا وشوں کے مر ہون منت ہے مگر ان شخصیا ت میں سب سے نما یاں نام با نی پاکستان حضرت قا ئد اعظم محمد علی جناح کا ہے جنہوں نے با ب السلام سندھ کے مشہور شہر کرا چی کے علا قے کھا را در میںواقع عما رت وزیر مینشن میں آنکھ کھو لی اور نا صرف اپنے فہم و فرا ست ،عزم ،ہمت ،سیاسی بصیرت کی صلا حیتوں کا لو ہا منوا یا بلکہ اپنے بے مثال قا ئدا نہ صلا حیتوں کے بل بوطے پر مسلما نوں کی بقا ءو سلا متی کی خا طر ایک آزاد وطن حاصل کیا جسے آج ہم سب انتہا ئی فخر کے ساتھ پاکستان کہتے ہیں ۔شیکسپیئر کہتا ہے کہ کچھ لوگ پیدا ہی عظیم ہو تے ہےں مگر کچھ اپنے جدو جہد اور کا ر نا موں کی بدو لت عظمت حاصل کر تے ہےں بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح جوکہ کھارادر کے علاقے میں واقع وزیر مینشن میں 25دسمبر 1876کو ایک کاروباری شخصیت جناح پو نجا کے گھر میں پیدا ہو نے والے قا ئد اعظم محمد علی جناح عظمت ،قابلیت نیک نا می کی سا ری خو بیاں پیدا ئشی طور پر موجود تھیں انہیںاس وقت دیکھنے والوں نے اس بات کا دعوی کیا تھا کہ یہ شخص آ گے چل کر نام رو شن کرے گا مگر اس عظیم مر تبت شخص نے صرف اپنی پیدا ئشی خو بیوں کی بنیاد پر شہرت نہیں پا ئی بلکہ اس نے دن رات سخت جدو جہد کے بعد بھا رت کے اندر مسلما نوں کی زبوں حا لی دیکھتے ہو ئے تمام مسلما نوں کو پہلے ایک پلیٹ فا رم پر جمع کیا اور پھر اس نے ان سب کی جدو جہد کے بل بوطے پر بر ٹش انڈ یا میں حکمرا نی کر نے والے انگریزوں کو نا صرف بر صغیر چھوڑ نے پر مجبور کر دیا بلکہ 14 اگست 1947 کو ان کی انتھک کو ششوں سے پاکستان دنیا کے نقشے پر نمو دار ہوا اور اس نے رفتہ رفتہ اپنے آپ کو دنیا کی ترقی یا فتہ ملکوں کی صف میں شا مل کر لیا اور آج دنیا بھر میں پاکستان کو ایک روشن ستا رے کے طور پر جا نا اور ما نا جا تا ہے

۔ 25 دسمبر قا ئد اعظم کی پیدا ئش کا دن ہے کھا رادر کے علا قے میں نیو نہم روڈ پر واقع ایک قدیم پتھروں کی عمارت جس کے نچلے حصے میں گو دام تھا جبکہ اوپری منزل کو بطور رہائش استعمال کیا جا تا تھا آج بھی پورے آب و تاب کے ساتھ موجود ہے یہ عمارت قائد اعظم محمد علی جناح کے والد نے نہیں بلکہ 1860 میں وزیر علی نا می شخص نے تعمیر کرائی تھی اس وقت بھی اس علاقے کو کاروباری علاقے کے طور پر جا نا اور ما نا جا تا تھا اور کیو نکہ یہ 1860میں فصیل شہر جو کہ نیو نہم روڈ تک موجود تھا ٹوٹنے کے بعد سب سے پہلے آباد ہوا تھا لہذا یہاں پتھروں سے بنی ایک 3منزلہ عما رت تعمیر کر وائی اوراتبدائی طور پر اسے خود اپنی رہائش کے لئے استعمال کر نے کے ساتھ ساتھ اس کے نچلے حصے کو بطور گو دام استعمال کر تا رہا اور جب بندر گاہ سے تجارت کا فروغ بڑھا اور لوگوں کی اکثر یت یہاں آکر آباد ہو نے لگی تو ان کے ساتھ قا ئد اعظم محمد علی جناح کے خاندان نے بھی گجرا ت سے کرا چی کی جا نب ہجرت کی اور کیو نکہ ان کے خاندان کے پاس شہر میں رہائش کے لئے اپنی کو ئی جگہ موجود نہیں تھی لہذا 1874میں ان کے وا لد نے وزیر مینشن نا می یہ عما رت کرا ئے پر حاصل کی اور رہا ئش اختیار کر لی اور بر صغیر کے مسلمانوں کے لئے خوش بختی کی علامت با نی پاکستان نے اسی عمارت کی اوپری منزل پر آنکھ کھو لیاور اسی عما رت کی آغوش میں رہتے ہو ئے ابتدا ئی تعلیم حا صل کرنا شروع کی اور ایک طو یل عرصے تک وہ اپنے خاندان کے ہمراہ اسی عما رت میں مقیم رہتے ہو ئے تعلیمی مدارج طے کر تے رہے ۔ وزیر مینشن کی پرشکوہ عمارت کی تعمیر کو لگ بھگ 158سال گزر چکے ہیں ماضی میں اس عما رت کو پتھر اور چو نے سے بنا یا گیا تھا مگر اس کے با وجود یہ عما رت انتہا ئی دیدہ زیب نظر آ تی تھی جس سے عما رت میں رہنے والوں کی شخصیت کا پتہ چلتا تھا یہ عما رت ایک طو یل عرصے تک قا ئد اعظم کے خاندان کے پاس رہی مگر پھر جب قا ئد اعظم اعلی تعلیم کے لئے لندن روا نہ ہو گئے تو ان کا خاندان کچھ عرصے بعد ہی کھارادر کے ہی علاقے میں ایک اور عمارت میںمنتقل ہو گیا جہاں مادر ملت محتر مہ فاطمہ جناح کی ولادت ہو ئی

اس طرح یہ عما رت طو یل عرصے تک خا لی رہی اور جب قائد اعظم محمد علی جناح مسلمانوں کے لئے ایک آزاد وطن حاصل کر نے میں کامیاب ہو گئے اور گورنر جنرل کے طور پر حلف اٹھا لیا تو اس کے بعد انہوں نے اپنے آخری ایام تک گو رنر ہاﺅس میں ہی رہائش رکھی اور یہاں تک کے جب بیماری کے آخری ایام میں زیارت سے کراچی آنے پر ایمبولنس کی خرا بی کے سبب آگرہ تاج کے علاقے کے قریب انتقا ل کر گئے تو ان کی میت بھی گو رنر ہاﺅس سے ہی اٹھا ئی گئی قائد اعظم جو کہ نا صرف بر صغیر بلکہ عالمی دنیا میں ایک ہمہ گیر شخصیت کی شہرت حاصل کر چکے تھے لہذا 1953 میں آثار قدیمہ نے پو ری تحقیق کے بعدوزیر مینشن کی عمارت کو قا ئد اعظم کی جا ئے پیدا ئش قرار دیتے ہو ئے وزیر علی نا می شخص جو اس کا ما لک تھا کو اس عما رت کے بد لے ایک اور وسیع و عریض عما رت بو لٹن مارکیٹ میں دے دی اور اس عما رت کو قائد کی جا ئے پیدا ئش کے طور پر محفوظ کر لیا گیا اوراس عمارت کی تزین وآرائش کا کام پاکستان ورکس ڈیپارٹمنٹ کو سونپ دیا جنہوں نے جلد ہی اس کی تزین وآرائش مکمل کر لی جس کے بعد قا ئد اعظم محمد علی جناح ،ان کی اہلیہ کے زیر استعمال فر نیچر و دیگر سازو سا مان سے کچھ اس طرح سجا دیا گیا کہ اسے دیکھنے کے لئے آ نے والے کچھ لمحوں کے لئے نا صرف گم ہو جا تے ہیں بلکہ یہ محسوس کر تے ہےں کہ ابھی چند ہی لمحوں پہلے قا ئد اعظم محمد علی جناح اور ان کی اہلیہ با ہر نکل کر گئے ہوں ۔ یہ عما رت جو کہ 3 منزلوں پر مشتمل ہے کے نچلے حصے کو لا ئبریری بنایا گیااورکتب بینی اور اخبار بینی کر نے والے لوگ اس لائبریری سے بھر پور فائد اٹھا تے ہیں مگر اب اسے زیارت میں قائد اعظمکے زیر استعمال زیارت ریزیڈینسی پر ہو نے والی دہشت گر دی کے بعد مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے مگراس لائبریری میںقائد اعظم کے زیر استعمال قا نون کی کتا بیں ،کتا بچے اور ان کے مقدمات کے دستاویزات اب بھی شوکیسوں میں نظر آتی ہیں جبکہ دوسرے فلور پر صرف ایک کمرہ ہے جہاں قا ئد اعظم کے زیر استعمال سا مان ،کچھ خطوط،گلاس ،نوٹ بک ، ریڈیو،تمبا کو پینے کے پا ئپ اور قا ئد اعظم کے زیر استعمال ایک آنکھ میں لگا یا جا نے والا چشمہ موجود ہیں جبکہ ان کی دوسری اہلیہ رتی جناح کے زیر استعمال فر نیچر و دیگر سا مان کے علا وہ قر آ ن کر یم بھی موجود ہے جسے دیکھنے والے محکمہ ثقا فت سیا حت و نوادرات جنہوں نے انہیں انتہا ئی نفا ست سے نا صرف سجا بلکہ محفوظ کر رکھا ہے کو داد دئے بغیر نہیں رہتے ۔قا ئد اعظم محمد علی جناح جوکہ بچپن سے ہی نفیس شخصیت کے ما لک کے طور پر جا نے جا تے تھے اسی لئے انہوں نے لندن ،دہلی ،بمبئی ،بلو چستان اور کرا چی میں جہاں بھی رہا ئش اختیار کی وہ تمام عما رتیں نا صرف انتہا ئی دیدہ زیب تھیں بلکہ ان کے اعلی ذوق کا ثبوت تھیں گو کہ اب ان میں سے بیشتر عمارتیں تو ان کے خاندان کے پاس موجود نہیں مگر کرا چی میں فا طمہ جناح روڈ کے علا قے میں واقع قا ئد اعظم ہا ﺅس اور بلوچستان میں موجود زیا رت ریزیڈینسی جسے پہلے محکمہ آثار قدیمہ اور اب محکمہ ثقا فت سیا حت و نوادرات نے ان کے زیر استعمال سا مان سے کچھ اس طرح سجا رکھا ہے کہ دیکھنے والےجن میں نو جوانوں طلبہ و طا لبات کی بڑی تعداد نا صرف مہبوت رہ جا تی ہے بلکہ انہیں قا ئد کے حیا ت افکار سمجھنے میں بے انتہا مدد ملتی ہے لیکن جس طرح قائد اعظم کی یوم ولادت پر مورخین میں اختلا فات ہیں اور کسی مورخ کا کہنا یہ ہے کہ وہ 20اکتو بر 1876کو پیدا ہو ئے تو کسی کا کہنا یہ ہے کہ وہ 25دسمبر 1876کو پیدا ہو ئے اور قائد اعظم جنہوں نے ابتدا ئی کرسچن مشن اسکول اور سندھ مدر سة السلام میں حاصل کی وہاں بھی ان کی تاریخ پیدا ئش 20اکتو بر 1876درج ہے جس کی بنیاد پر مورخین میں تو اختلا فات موجود ہیں لیکن اس بارے میں قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی تاریخ پیدائش 25دسمبر درج کر وائی جس کے بعد ان اختلا فات کا خاتمہ ہو گیا مگر وزیر مینشن کے حوالے سے مورخین میں اب بھی اختلا فات بر قرار ہیں کچھ کا کہنا یہ ہے کہ قائد اعظم ٹھٹھہ کے قریب جھرک میں پیدا ہو ئے جبکہ کچھ کا کہنا یہ ہے کہ وہ وزیر مینشن میں ہی پیدا ہو ئے اس حوالے سے ایک معروف محقق نے تو اس بات کا بھی دعوی کیا ہے کہ 1876 میں یہ عمارت سرے سے موجود نہیں تھی اور اس کی جگہ صرف ایک پلاٹ قائم تھا لہذایہ کسی طور پر ان کی جا ئے پیدا ئش نہیں ہوسکتی لیکن اس حوالے سے مادر ملت محتر مہ فاطمہ جناح جوکہ اپنے بھا ئی کی وفات بھی کا فی عرصے بقید حیات رہیں نے اس بات کی کبھی تردید نہیں کی بلکہ ان کا کہنا یہی تھی کہ قائد اعظم 25دسمبر 1876کو کراچی میں وزیر مینشن کی اسی عمارت میں پیدا ہو ئے جس کے بعد مورخین کو یہ اختلافات ختم کر نے چاہئےں تا کہ نو جوان نسل کو صحیح تاریخ سے آگا ہ کیا جا سکے ۔

(415 بار دیکھا گیا)

تبصرے