Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 27 مارچ 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

جھلملاتا دبئی

ویب ڈیسک پیر 24 دسمبر 2018
جھلملاتا دبئی

دبئی جسے سیاحوں کی جنت بھی کہا جاتا ہے تیزی سے دنیا بھر کی نظروں کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ یہاں کا بہترین موسم، فلک بوس عمارتیں اور جدید ٹیکنالوجی دنیا بھر کے لاکھوں سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کا باعث بنتی ہیں۔دبئی جسے سیاحوں کی جنت بھی کہا جاتا ہے تیزی سے دنیا بھر کی نظروں کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ یہاں کا بہترین موسم، فلک بوس عمارتیں اور جدید ٹیکنالوجی دنیا بھر کے لاکھوں سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ دبئی دنیا بھر میں اپنے پرتعیش ہوٹلوں اور جدید طرز کے دنیا کے بڑے منصوبوں کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ 1960ء￿ میں دبئی ایک صحرا تھا جہاں صرف چند عمارتیں تھیں اور آج ایسی ایسی حیران کن اور جدید تعمیراتی عمارتوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے جس کا کبھی صرف تصور کیا جا سکتا تھا۔ یہاں دبئی کے بارے میں چند ایسی ہی ناقابل یقین خصوصیات کا ذکر کیا جا رہا ہے۔دبئی میں مال ودولت کی نمائش بالکل عام بات ہے۔ لوگ اکثر اپنے پرائیویٹ جہاز یا سپورٹس کار کی تصاویر انسٹاگرام پر شیئر کرتے نظر آتے ہیں۔ آج کے دور میں جنگلی جانوروں چیتا، شیر کو پالتو جانوروں کی طرح رکھنا سماجی برتری کی علامت سجھا جاتا ہے۔ شیر اور چیتوں کی تصاویر اور ویڈیوز کی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر نمائش ان کا پسندیدہ عمل ہے۔ بہت سارے افراد کی چیتے یا دوسرے جنگلی جانوروں کے ساتھ اپنی کار میں تصاویر کھینچ کر پوسٹ کرنا یہاں بالکل عام سی بات ہے۔شہر میں شیخ محمد بن راشد المختوم کی جانب سے سخت قوانین کا اطلاق کیا گیا ہے۔ قانون اتنا سخت ہے کہ کسی کی معمولی سی غلطی بھی قابل معافی نہیں ہے۔ کسی بھی جرم میں پکڑے جانے والے شخص کو زندگی بھر کی قید یا ملک بدری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ شیخ کو اس بات پر فخر ہے کہ شہر میں سخت قانون کے باعث جرم کی شرح صفر فیصد ہے۔ دبئی پولیس کے پاس دنیا کی مہنگی ترین کاریں جیسے فراری، لیمبورگنی اور ایسٹن مارٹن ہیں۔ ہر ایک پولیس کار کی مالیت امریکہ میں کالج کی تعلیم حاصل کرنے والے ایک طالبعلم کے کل اخراجات کے برابر ہے۔اس شہر میں عالیشان عمارتوں کی تعمیر پر مامور زیادہ تر افراد کا تعلق پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش جیسے ممالک سے ہے۔ صرف 17 فیصد افراد مقامی رہائشی ہیں۔ غیرملکی کارکنان انتہائی سخت حالات میں کام کرتے ہیں جبکہ مقامی رہائشی پرتعیش زندگی کا لطف اٹھاتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں مزدوری کے لیے آنے والے تمام افراد کے پاسپورٹ اس وقت تک کے لیے ضبط کر لیے جاتے ہیں جب تک کہ وہ طے کردہ کام تکمیل تک نہ پہنچا لیں۔ انسانی حقوق کی متعدد تنظیمیں غیرملکی کارکنوں کے ساتھ ہونے والے اس سلوک پر احتجاج بھی کرتی ہیں اور اس نظام کی بدلنے کی تگ ودو کر رہی ہیں۔یہاں کوئی بھی شخص جو کریڈٹ کارڈ کی ساری رقم استعمال کر لے اور رقم لوٹانے میں ناکام رہے پر مقدمہ چلایا جاتا ہے۔ قرض خواہ کو جیل کی سزا کے علاوہ مستقل طور پر ملک بدر بھی کیا جا سکتا ہے جبکہ یہاں کے مقامی باشندے پرتعیش زندگی گزارتے نظر آتے ہیں کیونکہ مقامی رہائشیوں کے لیے کرائے، طبی سہولیات، اور تعلیم بالکل مفت مہیا کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ انہیں ٹیکس فری اچھی تنخواہوں پر نوکریاں فراہم کی جاتی ہے۔ غیرملکی یہاں پر کسی بھی مقدمے کا سامنا کرنے سے گھبراتے ہیں اور ایسی صورت میں اپنی قیمتی کاریں چھوڑ کر اپنے ملک کو روانہ ہو جاتے ہیں۔ دبئی ایئرپورٹ پارکنگ عام طور پر ایسی قیمتی گاڑیوں سے بھرا رہتا ہے جسے ان کے مالک اپنے ملک لوٹتے وقت یہیں چھوڑ جاتے ہیں۔دبئی میں 2 سے 14 سال کے بچوں کو وزن کم کرنے کی طرف راغب کرنے کے لیے ایک مقابلہ منعقد کیا جاتا ہے جسے “سونے کے برابر آپ کا وزن” کہا جاتا ہے۔ حکومت نے یہ اقدام صحت مند زندگی بارے شعور اجاگر کرنے کے لیے اٹھایا ہے۔ اس بارے میں کوئی خاص پیمانہ نہیں ہے کہ کتنا وزن کم کیا جائے لیکن ڈاکٹرز ایک ماہ میں 4 سے 8 پاؤنڈ وزن کم کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ وزن کم کرنے کی طرف راغب کرنے کے لیے حکومت 2 پاؤنڈ وزن کم کرنے پر ایک گرام خالص سونا بھی دیتی ہے۔یہ شہر اپنے آپ میں ہونے والی تیزترین تبدیلیوں کی وجہ سے بھی اپنی الگ شناخت رکھتا ہے۔ پوری دنیا میں استعمال ہونے والی کرینوں میں سے 20 فیصد کرینیں صرف دبئی میں کام کر رہی ہیں۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق ترقی کسی بھی ملک کے لیے ضروری ہے لیکن اس قدر تیزی سے ہوتی ترقی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ اس سے پیش نظر دبئی میٹرو سسٹم جو 2009 میں پایہ تکمیل کو پہنچا کے 42 سٹیشن ہیں۔ یہ سارا منصوبہ 18 ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کر لیا گیا۔ دنیا کا سب سے بڑا تفریحی پارک بھی دبئی میں تعمیر کیا جا رہا ہے جسے “دبئی لینڈ” کا نام دیا گیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق “دبئی لینڈ” کی تعمیر کے لیے 94 ملین کیوبک میٹر ریت استعمال کی جائے گی۔

(157 بار دیکھا گیا)

تبصرے