Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 18 جنوری 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News ! Best Urdu Website in World

سرفراز احمد کی کپتانی کیلئے چیلنج

کلیم عثمانی پیر 24 دسمبر 2018
سرفراز احمد کی کپتانی کیلئے چیلنج

نیوزی لینڈ کے ہاتھوں ہوم سیریز میں شکست کے چند دن بعد پاکستانی ٹیم ایک اور مشکل مشن کی تکمیل کے لئے جنوبی افریقہ میں موجود ہے۔جنوبی افریقہ کے دورہ کے لئے جوہانسبرگ میں موجود قومی کھلاڑی فٹنس مسائل سے چھٹکارا نہ پاسکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اوپننگ بلے باز فخر زمان، فاسٹ باؤلر محمد عباس اور اسپنر شاداب خان تاحال فٹنس مسائل سے دوچار ہیں۔ذرائع کے مطابق فخر زمان گھٹنے، محمد عباس کندھے اور شاداب گروئن انجری سے مکمل طور پر چھٹکارا نہیں پاسکے۔ دورہ جنوبی افریقہ کے دوران پاکستان کو پروٹیز کے خلاف 3 ٹیسٹ، 5 ون ڈے اور 3 ٹی ٹوئنٹی میچز پر مشتمل سیریز کھیلنا ہے۔جنوبی افریقا کے خلاف قومی اسکواڈ کپتان سرفراز احمد، امام الحق، فخر زمان، اظہر علی، حارث سہیل، اسد شفیق، شان مسعود، بابر اعظم، محمد رضوان، شاداب خان، محمد عباس، حسن علی، محمد عامر، شاہین شاہ آفریدی اور فہیم اشرف پر مشتمل ہے۔پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے کھلاڑیوں کو مشورہ دیا ہے کہ جنوبی افریقہ کے مشکل دورے میں شکست سے خوف زدہ نہ ہوں اور باؤنسی پچوں پر وہی کامیاب ہوگا جو دلیری سے اپنا نیچرل کھیل کھیلے گا۔کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ میں نے کھلاڑیوں کو یہی بتایا ہے کہ دلیر بن کر اپنا نیچرل گیم کھیلیں، ٹیم میں اکثریت نوجوان کھلاڑیوں کی ہے، چار پانچ کھلاڑیوں کے علاوہ اکثر کھلاڑی پہلی بار جنوبی افریقہ کا دورہ کررہے ہیں، اس لئے ان پر دباؤ کم ہوگا۔سرفراز احمد نے کہا کہ مجھے اس ٹیسٹ ٹیم سے جیت کے لئے بڑی امید ہے، موجودہ ٹیم میں اظہر علی اور اسد شفیق ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، دونوں کی کارکردگی سے ٹیم کو فائدہ ہوگا، دونوں جنوبی افریقہ کی پچوں کو اچھی طریقے سے جانتے ہیں اگر دونوں نے کارکردگی دکھائی تو پاکستان کو جیت سے روکنا مشکل ہوگا۔کپتان کا کہنا تھا کہ کھلاڑی نیوزی لینڈ کی شکست کو فراموش کردیں اور نئی سیریز میں نئے عزم سے حصہ لیں اگر پاکستان نے اپنی صلاحیت کے مطابق کارکردگی دکھائی تو ہم سیریز جیت سکتے ہیں۔
اسرفراز احمد ٹی ٹؤنٹی کے بہترین کپتان ہیں۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی قیادت جب انہوں نے سنبھالی تو بجا طور پہ ٹی ٹؤنٹی میں آفریدی کے بعد انہیں قومی ٹیم کی قیادت سونپنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ فیصلہ بالکل درست تھا۔ رینکنگ بھی اس کی دلیل ہے۔جب ون ڈے ٹیم اظہر علی سے سنبھل نہیں پا رہی تھی تو ون ڈے ٹیم کی باگ ڈور بھی سرفراز کو تھمانے کا فیصلہ ہوا۔ یہ فیصلہ بھی گزشتہ دو سال میں اپنی درستگی کا ثبوت دے چکا ہے کہ ون ڈے ٹیم کی کارکردگی گزشتہ پانچ سال سے خاصی بہتر رہی ہے۔مگر ون ڈے کے ساتھ ہی ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی بھی اظہر علی سے لے کر سرفراز کو دے دی گئی۔ مینیجمنٹ کا خیال تھا کہ ہر فارمیٹ میں یکساں کپتان کی موجودگی سے ڈریسنگ روم کا ڈسپلن برقرار رہے گا اور دھڑے بندی نہیں ہو گی۔یہ موقف اصولی طور پہ بالکل درست تھا کہ تینوں فارمیٹ میں ایک ہی کپتان کی موجودگی سے ڈریسنگ روم میں غیر نصابی سرگرمیوں کی بیخ کنی ہو گی مگر یہ فیصلہ کرتے وقت نہ تو کسی نے یہ سوچا نہ ہی پوچھا کہ اگر بلاوجہ اظہر علی کو ٹیسٹ کی کپتانی سے ہٹانا ہی ہے تو پچھلے پانچ سال سے مصباح کا نائب کپتان ان کو کیوں رکھا گیا تھا؟سو یہ سرفراز ہی نہیں، کرکٹ کی مروجہ دانش کے لیے بھی یہ بہت بڑا سوال تھا کہ آیا اچھا ٹی ٹؤنٹی کپتان ٹیسٹ ٹیم کے لیے بھی اچھا لیڈر ثابت ہو سکتا ہے؟قیادت ملنے کے بعد اب تک سرفراز احمد نے پانچ ٹیسٹ سیریز کھیلی ہیں۔ ان میں سے وہ صرف دو جیتنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ان میں سے بھی ایک سیریز آئرلینڈ کے خلاف صرف ایک میچ پہ مشتمل تھی۔ دیگر تین سیریز دو دو میچز پہ محیط تھیں۔بطور کپتان نیوزی لینڈ کے خلاف حالیہ سیریز سرفراز کے لیے پہلی تین میچز پہ مشتمل سیریز تھی اور اسی میں ہزیمت کا وہ باب رقم ہوا کہ کیویز 49 سالہ ریکارڈ توڑنے میں کامیاب ٹھہرے اور پاکستان اپنے ہی قلعے یو اے ای میں ایک اور سیریز ہار گیا جہاں مصباح کی قیادت میں وہ سات سال تک ناقابلِ شکست رہا تھا۔چوتھے دن کے کھیل میں نیوزی لینڈ چودہ رنز کے خسارے میں تھا جب راس ٹیلر بھی آوٹ ہو گئے۔ ایک اینڈ تو ولیمسن سنبھالے ہوئے تھے مگر جب دوسرے اینڈ پہ نیا بلے باز آیا تب سرفراز یہی سمجھ بیٹھے کہ بس گھنٹے ڈیڑھ کی مار ہے، کیوی اننگز اپنے پاؤں پہ کلہاڑی مار چکی ہوگی اور ایک معمولی سا ہدف ان کے بلے بازوں کے سامنے ہو گا جسے ہنستے کھیلتے عبور کر کے وہ سیریز اپنے نام کر لیں گے۔لیکن تھکاوٹ کہیے کہ وفورِ جذبات، جو اہم ترین مواقع پہ سرفراز معمولی معمولی غلطیاں کرتے گئے اور دھیرے دھیرے ان غلطیوں کا ایسا پہاڑ بن گیا کہ جب دوسرا نیا گیند دستیاب ہوا تب صرف اسی خوف سے نہ لیا گیا کہ کہیں رنز کی برسات نہ شروع ہو جائے۔اس کے برعکس جہاں ضروری تھا کہ پرانے گیند سے ہی اسپنرز سے اٹیک کیا جائے، وہاں انہوں نے فوراً نیا گیند لے کر سیمرز کو تھما دیا۔یہ تو طے تھا کہ بڑی برتری کے بغیر ولیمسن ڈکلئیر کرنے کا خطرہ مول نہیں لیں گے۔ یہ بھی واضح تھا کہ میچ کو فیصلہ کن بنانے کے لئے کیویز آخری صبح تیز رن ریٹ سے کھیلنا پسند کریں گے۔ سرفراز اگر پرانے گیند سے ہی کھیل جاری رکھتے تو اکیاسی رنز بنتے بنتے دوپہر ہو جاتی مگر نیا گیند ملتے ہی کیویز کا تو وہ قصہ ہوا کہ اندھا کیا مانگے، دو آنکھیں۔ان نو اوورز میں 81 رنز بن گئے اور ڈکلئیریشن کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ پاکستان کے پاس میچ بچانے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ لنچ آتے تک یہ طے ہو چکا تھا کہ ڈرا بھی پاکستان کے لئے غنیمت سے کم نہیں۔مگر اس کے باوجود سرفراز کی جارحیت کا کیا کہیے کہ سر پہ منڈلاتے شکست کے خوف سے آنکھیں موندے کریز سے نکل نکل کر چوکے مارنے کی کوششیں کرتے رہے۔چوتھی اننگز میں ابوظہبی کی وکٹ پہ ڈیڑھ سو کا ہدف بھی پہاڑ سا ہوتا ہے۔ اور جب یہ پہاڑ ابل کر لاوا بننے کو تھا، تب سرفراز کے پاس پھر ایک موقع تھا کہ ایک یادگار دفاعی اننگز کھیل کر کیویز کو فتح سے محروم رکھتے۔مگر ایک بار پھر یہ ثابت ہو گیا کہ کوئی اچھا ٹی ٹؤنٹی کپتان کبھی بھی اچھا ٹیسٹ کپتان نہیں ہو سکتا۔ابوظہبی کا تیسرا ٹیسٹ 123 رنز اور نیوزی لینڈ کیخلاف تین ٹیسٹ پر مشتمل سیریز 1-2 سے ہارنے والے قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے واضح کیا کہ بہت ہو چکا، ہمیں اب نتائج کے بارے میں سنجیدگی کے ساتھ سوچنا ہوگا۔ نیوزی لینڈ کیخلاف متحدہ عرب امارات میں ٹیسٹ سیریز ہارنا افسوسناک تھا، ابوظہبی میں ہم دونوں ٹیسٹ جیت کی پوزیشن میں آکر ہارے ہیں، اسے اتنی آسانی سے مان لینا مشکل ہوگا۔ان کے مطابق لڑکے محنت نہیں کرتے اور کوچز بتاتے نہیں، یہ سب کہنا فضول ہوگا، حقیقت یہ ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ سب اپنی ذمہ داری کو ادا کرنا سمجھیں۔ لمبی اننگز کھیلنے والے کھلاڑی ہمیں ٹیسٹ کرکٹ میں چاہیئیں، اوپنرز کو نئی گیند کے ساتھ وقت گزارنے کی وکٹ پر عادت ڈالنا ہوگی۔ اگر ہم یو اے ای میں نہیں جیت سکتے تو جنوبی افریقا میں فتح کے بارے میں سوچنا حیران کن ہی ہوگا، ہارنا کسی کو اچھا نہیں لگتا اور بطور کپتان میں بھی خوش نہیں ہوں، میں سمجھتا ہوں، اچھا کھیلنا لیکن ہار جانا، اس بات کی وضاحت آپ کیلئے مشکل ہو جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فی الحال ٹیسٹ کرکٹ کی قیادت چھوڑنے کے بارے میں کچھ نہیں سوچ رہا، اگر حالات یہی رہے تو پھر سوچنا پڑے گا، خاص طور پر دورہ جنوبی افریقا اس معاملے میں اہم بھی ہو سکتا ہے، وہاں ہمیں صرف مثبت سوچ کے ساتھ کھیلنا ہوگا۔ جنوبی افریقا کا دورہ ایک مشکل اور کٹھن دورہ ہے، جسے آپ بالکل آسان نہیں کہہ سکتے، جنوبی افریقا کے دورے کے بعد کم ازکم چھ ماہ کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں اگر نتائج مثبت نہ ہوئے تو جنوبی افریقا کے دورے کے بعد ٹیسٹ کی کپتانی کو لے کر ضرور سوچ بیچار کروں گا۔ دبائو میں ہمت ہارنے کی عادت پر سرفراز احمد کی تشویش بھی بڑھ گئی۔سرفراز احمد نے کہا کہ میںکسی ایک کھلاڑی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرانا چاہتا بطور ٹیم ہم اچھا نہیں کھیلے، ابتدائی اور تیسرے ٹیسٹ میں پہلی اننگز میں اچھا اسکور کرتے تو ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے مشکلات پیش نہ آتیں، بیٹنگ یونٹ کے طور پر ہمیں دبائو کی صورتحال میں کھیلنے کیلیے ذہنی طور پر مضبوط ہونا پڑے گا۔انھوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 2،3 سال سے ٹاپ آرڈر کا مسئلہ چلا آ رہا ہے، دیگر بیٹسمین اگر رنز بنا بھی رہے ہیں تو کارکردگی میں تسلسل نہیں، رنز بنانا بیٹسمینوں کی ہی ذمہ داری ہے لیکن ضرورت پڑنے پر ٹیل اینڈرز کو بھی 50 یا 60 رنز کی مزاحمت کرنا چاہیے، اس کی بدولت ہم اپنی برتری بڑھا سکتے ہیں،کیویز کیخلاف ابوظبی میں کھیلے جانیوالے دونوں ٹیسٹ میچز میں ہم ایسا نہیں کرپائے۔سرفراز احمد نے کہا کہ ہوم کنڈیشنز میں سیریز ہارنا تکلیف دہ ہے، یہ بات درست ہے کہ یہاں نہیں جیتے تو جنوبی افریقہ میں کیسے کھیلیں گے، ہمیں بیٹنگ میں اپنے مسائل پر قابو پانا ہوگا، حریف کو 200پر آئوٹ کر کے خود 100 پر ڈھیر ہوگئے تو بالرز کیا کرسکتے ہیں۔بھاری بھرکم کوچنگ اسٹاف کے باوجود بیٹنگ میں مسائل برقرار رہنے کے سوال پر سرفراز احمد نے کہا کہ کوچز تو بتاتے ہیں،اب یہ بیٹسمینوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ اگر فارم اچھی ہے تو اس کو آگے لے کر چلیں، کیوی کپتان کین ولیمسن اس کی ایک مثال ہیں۔کپتان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ محمد عامر کی ردھم میں واپسی کا تعین سلیکٹر وجاہت اللہ واسطی نے کیا، سوال کیا گیا کہ آپ میر حمزہ کو لے جانا چاہتے تھے لیکن ہیڈکوچ مکی آرتھر کے اصرار پر محمد عامر کو منتخب کیا گیا۔جواب میں سرفراز احمد نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں، وجاہت اللہ واسطی نے ان کو ڈومیسٹک میچز میں بولنگ کرتے ہوئے دیکھا، سلیکٹر کا خیال تھا کہ پیسر اچھے ردھم میں آگئے ہیں۔کپتان سرفراز احمد نے کہاکہ اگر ٹیم میری غلطیوں کی وجہ سے ہار رہی ہے تو ٹیسٹ ٹیم کی قیادت چھوڑنے کے بارے میں سوچوں گا، جنوبی افریقہ کا دورہ مشکل اورمیرے لیے بطور کپتان بھی اہم ہے، اس کے بعد فوری طور پر ٹیسٹ سیریز نہیں ہے، دیکھوں گا کہ اگر ٹیم میری غلطیوں کی وجہ سے ہارہی ہے تو قیادت چھوڑنے کے بارے میں سوچ سکتا ہوں،اگر کوئی زیادہ بہتر انداز میں قیادت کرسکتا ہے تو ضرور کرے۔سابق کپتان شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ وہ پہلے تینوں فارمیٹس میں سرفرازاحمد کی کپتانی کی حامی تھے لیکن اب سرفراز احمد کو ٹیسٹ کرکٹ چھوڑ دینی چاہیے اور انہیں ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ پر فوکس کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آگے ورلڈ کپ آرہا ہے جس میں اچھی کرکٹ ہوگی، سرفراز احمد کو پہلے ہی اپنا مائنڈ بنا لینا چاہیے تھا۔ایشین بریڈ مین کے نام سے مشہور سابق ٹیسٹ کرکٹر ظہیر عباس کا کہنا تھا کہ سرفراز احمد سے کپتانی تو ہو رہی ہے لیکن وہ پرفارمنس نہیں دے پا رہے اس لیے سرفراز کو ایک فارمیٹ کی کپتانی خود ہی چھوڑ دینی چاہیے۔
چیئرمین پی سی بی بننے کے بعد احسان مانی کراچی پہلی بار تشریف لائے، اس وقت احسان مانی پر باؤنسرز کی طرح سوالات کی بوچھاڑ ہوگئی، انھوں نے بھی ڈپلومیٹک انداز میں جواب دئیے،صاف لگ رہا تھا کہ مانی صاحب کے بعض’’دوستوں‘‘ اور ’’قریبی ساتھیوں‘‘ کی جانب سے بھی سوال کرائے گئے۔اس پریس کانفرنس میں چیئرمین سے کئی بار ورلڈکپ میں سرفراز احمد کی کپتانی کے بارے میں سوال ہوا اور انھوں نے ہر بار یہی کہا کہ ’’وہی کپتان ہیں‘‘ میڈیا نے یہ تنازع کھڑا کیا ہے، البتہ بعد میں جب ساتھی صحافیوں سے تبادلہ خیال ہوا تو سب کا یہی خیال تھا کہ گوکہ احسان مانی نے کہہ تو دیا مگر اسے واضح اعلان نہیں سمجھا جا سکتا،اس سے قبل بھی انھوں نے لاہور میں یہ کہا تھا کہ وہ کرکٹ کمیٹی سے تبادلہ خیال کے بعد کپتان کا فیصلہ کریں گے۔ نجانے کیوں چیئرمین اس حوالے سے کچھ کنفیوژن کا شکار لگتے ہیں، وہ سرفراز کو کپتان رکھنا بھی چاہتے ہیں مگر واضح اعلان بھی نہیں کر رہے، یہ بات سمجھ سے باہر ہے، ایک طرف بھارتی کوچ یہ اعلان کر رہے ہیں کہ اب میگا ایونٹ تک ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی اور دوسری طرف ہمیں کپتان کا ہی پتا نہیں ہے۔گزشتہ دنوں سیاسی شخصیت فردوس عاشق اعوان چیئرمین سے ملاقات کیلئے گئیں تو یہ افواہیں اڑا دی گئیں کہ انھوں نے شعیب ملک کو منصب قیادت پر بٹھانے کی سفارش کر دی ہے، اس سے پہلے جب سرفراز آؤٹ آف فارم تھے تب تو واقعی یہ تجویز زیرغور تھی کہ بعض میچز میں انھیں آرام دے کر شعیب کو کپتان بنا دیا جائے،لیکن شعیب قیادت سنبھالنے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور سرفراز کو مکمل سپورٹ کر رہے ہیں۔نوجوان کھلاڑیوں میں ہمیں ایسا کوئی نظر نہیں آتا جسے یہ ذمہ داری سونپی جائے تو بورڈ کیوں اسے مسئلہ بنا رہا ہے، کیا اسے ڈر ہے کہ جنوبی افریقہ کے مشکل ٹور میں کہیں ٹیم خدانخواستہ بدترین ناکامیوں کا شکار نہ ہو جائے اس لیے انتظار کیا جائے، یا واقعی سفارشیں آ رہی ہیں، اس سے پہلے 2011 میں تو اچھی طرح یاد ہے کہ دورئہ نیوزی لینڈ کے دوران رات کو انتخاب عالم نے فون کر کے بتایا تھا کہ شاہد آفریدی کپتان برقرار رہیں گے۔چیئرمین اعجاز بٹ نے کسی مسٹری فلم کے اختتام کی طرح اس بات کو چھپا کر رکھا تھا، وہ تو ایشیائی کنڈیشنز تھیں اس لیے ٹیم سیمی فائنل تک پہنچ گئی، پھر 2015میں مصباح الحق کی قیادت کے حوالے سے بھی بورڈ ڈانوا ڈول تھا، ٹیم کوارٹر فائنل تک ہی محدود رہی تھی، ماضی کی غلطیاں اب نہیں دہرانا چاہئیں، ٹھیک ہے مان لیتے ہیں ہم میڈیا والے باتیں پھیلا رہے ہیں تو پھر چیئرمین صاحب آپ صرف ایک پریس ریلیز جاری کر دیں کہ بورڈ نے سرفراز احمد کو ورلڈکپ کیلئے کپتان برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔سارا تنازع ہی حل ہو جائے گا اور کسی کو باتیں بنانے کا موقع نہیں ملے گا، جب تک ایسا نہیں ہوتا افواہوں کا بازار گرم ہی رہے گا، بقول احسان مانی وہ کرکٹ کمیٹی سے پوچھ کر فیصلہ کریں گے اس کے سربراہ محسن حسن خان سے جب بات ہوئی تو انھوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ سرفراز کو کپتان برقرار رکھنے کی سفارش کریں گے،مصباح الحق نے بھی ایک حالیہ انٹرویو میں ایسی ہی باتیں کہیں۔چیف سلیکٹر انضمام الحق کو بھی سرفراز پر بھرپور اعتماد ہے وہ بھی ان کا ہی نام پیش کریں گے، مجھے تو صرف چیئرمین ہی ہچکچاہٹ کا شکار لگتے ہیں، یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ انگلش کنڈیشنز میں ہی سرفراز نے پاکستان کو چیمپئنز ٹرافی جتوائی، اب اگلے برس ورلڈکپ بھی وہیں ہونا ہے، جب کوچ اور دیگر سپورٹنگ اسٹاف کو میگا ایونٹ تک برقرار رکھنے کا واضح اعلان ہو چکا تو کپتان کے حوالے سے ایسا کیوں نہیں ہوتا۔مکی آرتھر ، اظہر محمود اور دیگر تمام ’’گرانٹس‘‘ کی بھی سرفراز سے اچھی ہم آہنگی اورٹیم کی پرفارمنس بھی بہتر ہے ایسے میں انتظار کس بات کا کر رہے ہیں۔سرفراز کو بھی جب پتا چلے گا کہ بورڈ نے انھیں ورلڈکپ تک قیادت سونپ دی ہے تو وہ کوچز کے ساتھ مل کر ابھی سے پلان تیار کر سکیں گے، دنیا کی دیگر تمام ٹیمیں ورلڈکپ پر نظریں جمائے بیٹھی ہیں ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔بدقسمتی سے نئے چیئرمین اب تک بہت ’’سلو بیٹنگ‘‘ کر رہے ہیں ، انھیں تھوڑی تیزی دکھانی چاہیے، اسی کے ساتھ نائب کا تقرر بھی بہت ضروری ہے، آسٹریلیا تو دو نائب کپتان تک بنا چکا ہمیں ایک بھی نہیں ملتا، ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی تینوں طرز میں سرفراز کا کوئی نائب ہونا چاہیے۔ٹیسٹ میں اسد شفیق اگر یہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں تو باقاعدہ طور پر اعلان کریں، مختصر طرز میں کسی نوجوان کو عہدہ سونپ کر گروم کریں، شعیب ملک خود کہہ چکے کہ وہ ورلڈکپ کے بعد ون ڈے کرکٹ چھوڑ دیں گے، حفیظ بھی بڑھتی عمر کے سبب زیادہ عرصے کھیلتے دکھائی نہیں دیتے، ایسے میں کسی ینگسٹر کا تقرر ہی ٹھیک رہے گا۔بدقسمتی سے ابھی چیئرمین ’’لیگل نوٹس‘‘، ساتھیوں کی بیان بازی،و دیگر معاملات سے نمٹنے میں ہی لگے ہیں، جب انھیں اس سے تھوڑی فرصت ملے تو کچھ ٹیم کا
بھی سوچیں گے، مگر یاد رکھیں کہ کسی بھی سربراہ کو صرف اس وقت ٹیم کی کارکردگی سے ہی یاد رکھا جاتا ہے، شہریارخان دوسری اننگز میں دباؤ کا شکار رہے مگر ہم نے چیمپئنز ٹرافی انہی کے دور میں جیتی، اب مانی صاحب کے پاس موقع ہے، ایسے اقدامات کریں کہ اگلے سال ورلڈکپ بھی ہمارے پاس آئے، اگر ایسا ہوگیا تو انھیں مدتوں یاد رکھا جائے گا۔

(106 بار دیکھا گیا)

تبصرے