Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 22 جولائی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

امریکہ نے واقعی چاند پر قدم رکھا؟

ویب ڈیسک اتوار 23 دسمبر 2018
امریکہ نے واقعی چاند پر قدم رکھا؟

10 بجنے سے چند منٹ قبل 20 جولائی 1969ء کو پوری دنیا کے پروگرامز ایک تاریخی خبر دینے کے لئے رک گئے۔ امریکی اسکرینز پر چلنے والی اس پٹی نے سب کو اپنے سحر میں گھیرلیا’ لکھا یہ تھا ”چاند سے براہ راست۔” جب اسکرین پر فوٹیج بنی تو چاند کی سطح پر خلا نورد حرکت کرتے نظر آئے جن میں سے ایک نے اپنی جیب سے امریکی جھنڈا نکالا اور اُسے چاند کی مٹی میں گاڑنے لگا۔ چند قدم پیچھے ہٹتے ہوئے خلا نورد نے جھنڈے کی جانب دیکھا اور اسے سیلوٹ کیا۔ فروری 1966ء روسی سپیس شپ لونر 9 نے چاند پر اپنا قدم رکھنے کا دعویٰ کیا۔ اس مشن سے چند بنیادی سوالات کے جوابات طے۔ تاریخ دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ 60 کی درمیانی دہائی میں امریکہ اور روس دونوں نے اکھٹے چاند پر جانے کی کوششیں شروع کیں۔
2018ء میں ناسا نے اپنے چاند پر قدم کی 50 ویں سالگرہ منائی۔ چاند پر قدم رکھنے والی شخصیت نیل آرمسڑانگ کے بارے میں کون نہیں آگاہ۔ نیل آرمسٹرانگ نے یہ کہتے ہوئے چاند پر قدم رکھا ”یہ آدمی کے لئے تو ایک چھوٹا سا قدم ہے لیکن یہ کل انسانیت کے لئے ایک بڑی چھلانگ ہے۔” جہاں امریکہ مسلسل اس دعوے پر اٹکا ہوا ہے کہ اس نے چاند پر قدم گاڑ لئے ہیں’ وہیں روس اس بات سے اتفاق نہیں کرتا اور روس ہی کیا اکثر لوگ ہی اس بات سے انکاری ہیں کہ چاند پر قدم نہیں رکھا گیا۔ لوگ اس بات پر کیوں نہیں آتے کہ چاند پر قدم رکھا جاچکا ہے’ آئیے جانتے ہیں۔
جب کبھی ہم گوگل پر نیل آرمسٹرانگ کا نام لکھ کر یا چاند پر پہلا قدم لکھ کر تلاش کرتے ہیں ایک تصویر سرفہرست نظر آتی ہے جس میں ایک خلا باز چاند کی سطح پر کھڑا ہے اور اس کے پاس امریکہ کا جھنڈا لہراتا ہوا نظر آتا ہے۔ نقاد کہتے ہیں کہ جیسا کہ ہم سب اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ چاند پر ہوا نہیں ہے تو پھر کیسے یہ جھنڈا ہوا سے لہرا رہا ہے؟ نقاد کہتے ہیں فلم میں جس جگہ نیل آرمسٹرانگ کو کھڑا کیا گیا یہ زمین پر ہی سیٹ بناکر کیا گیا ہے جبکہ اس بارے میں امریکیوں کا موقف ہے کہ جب چاند کی سطح پر جھنڈے کو گاڑا گیا تو وہ ڈولتا رہا اس لئے جھنڈا لہراتا ہوا نظر آرہا ہے۔ بلاشبہ جب چاند پر قدم رکھنے کی بات کی گئی تو بہت سے امریکیوں نے خود اس بات کو غلط کہا اور جیسے جیسے وقت گزرتا جارہا ہے۔ 2004ء میں 18 سے 24 سال کی عمر تک کے نوجوانوں میں سے 28 فیصد نے اپنے شک و شبہات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چاند پر امریکہ نے قدم ہی نہیں رکھا’ یہ سب ڈرامہ تھا۔ اپولو 17 خلا نورد ہیرسن سچمست کہتے ہیں اگر لوگ یہ فیصلہ کرلیں کہ انہوں نے یہ بات ماننی ہی نہیں تو جتنی مرضی ان کو وضاحت دے دیں وہ مانیں گے ہی نہیں۔ اگر میڈیا کو دیکھا جائے تو اس نے ہمیشہ ہی ایسے معاملات کو ہوا دی ہے جس طرح روسی میڈیا پر یہ کہانی بیان کی گئی ”ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کچھ لوگ چاند پر گئے’ انہوں نے وہاں سے کچھ پتھر لئے’ چاند پر اپنی بگھی چلائی اور پھر وہ وہاں سے لوٹ آئے۔”
لیکن ہر کوئی یہ نہیں سمجھتا کہ واقعی یہ ایسا ہوا تھا۔ نیشنل اسٹیڈیم ایراینڈ اسپیس میوزیم کے سربراہ روجر لیوینس کہتے ہیں کہ چاند پر قدم رکھنا محض ایک جھوٹ اور فراڈ کے علاوہ کچھ نہیں ہے’ بہت سے لوگ آج بھی اس بات پر متفق نہیں کہ چاند پر قدم رکھا گیا’ 1999 ء میں ہونے والے گیلپ سروے کے مطابق صرف 4 فیصد امریکیوں کو یہ خدشہ تھا کہ چاند پر قدم نہیں رکھا گیا’ لیکن 21 ویں صدی میں ہونے والی ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی اور خاص کر انٹرنیٹ کی مدد سے لوگوں کی رائے کافی حد تک بدل چکی ہے اور اب اس بات کو کہ چاند پر قدم واقعی نہیں رکھا گیا’ ماننے والوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوگیاہے ‘ رائے شماری کے مطابق 6 سے 20 فیصد کے قریب امریکی 25 فیصد برطانوی اور 28 فیصد روسی لوگوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ چاند پر قدم ایک ڈھونگ سے زیادہ کچھ نہیں ہے’ امریکیوں کے خلاف سازش میں پیش پیش انکا اپنا ہی ایک چینک فاکس نیوزتھا’ جس نے 2001 ء میں ڈاکیومینٹری کی طرز پر ایک فلم بنائی’ جس کا عنوان سازشی تھیوری’ کیا تم نے واقعی چاند پر قدم رکھا ؟” خود کے چینل کا ہی اٹھ کر بولنا ایک سوالیہ نشان سے کم نہیں تھاکہ ناسا نے روس سے جیتنے کی خاطر چاند پر جانے کا بھونڈا ڈرامہ رچایا’ روسی میڈیا کے مطابق ناسا کی جانب سے دکھائی گئی فلم میں واضح شواہد ہیںکہ یہ سب زمین پر فلمایا گیاجیسا کہ چاند کے آسمان پر کوئی تارا نہیں تھااور امریکی جھنڈا سطح پر لہراتے ہوئے فلم کو بناتے ہوئے یہ بھلا دیاگیا اور پھر سب سے بڑی بات کہ خلانوردا بلین بیلٹ سے کیسے بچ گئے؟ کیونکہ چاند پر پہنچنے سے قبل وہاں سے گزرنا ناگزیر ہے’ کسی بھی ہنگامے سے بچنے کی خاطر حالیہ برسوں میں چاند کی لی گئی تصاویر منظر عام پر آئیں’ جس پر اوپولومیں شریکین کے سائے دکھائی دے رہے ہیں’ جن میں چاند کی سطح پر جھنڈا گڑا ہوا معلوم ہوتاہے’ کانسپرنسی تھیوری کے مطابق یہ تصاویر سب جھوٹی تھیں’ دی نیویارک ٹائمز میں چھپنے والی ایک خبر کے مطابق ”ایک عرصہ تک انکاری ہونے اور حقیقت کو جھٹلانے کے بعد بالآخر روس نے تسلیم کرلیا ہے کہ امریکہ نے چاند پر واقعی قدم رکھا’ ماسکو سے واپس آنے والے کچھ انجینئرز نے بتایا کہ وہ 1988 ء میں چاند پرجانے کے لیے بالکل تیار تھے اور یہ امریکہ کے قدم رکھنے سے ایک سال پہلے کا واقعہ تھا’ لیکن لگاتار ناکامی کے بعد 1970 ء میں انہوںنے اپنا یہ پروگرام ہی مسترد کردیا’ مسلم یسلیو کیلڈیش جو کہ سوویت اکیڈمی آف سائنسز کے صدر ہیں کہتے ہیں کہ سوویت کے پاس کوئی بھی چیز ایسی نہیں تھی جو کہ امریکی سیٹلائٹ سے میچ کر سکے’ امریکی اپولو پروگرام کے ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر روبوٹ کہتے ہیں کہ ”میں اس بات سے توبخوبی آگاہ ہوں کہ واقعی امریکہ نے سیٹ اپ ایسا بنایا تو ہوا تھا’ جو چاند پر لے جانے میں ان کی مدد کرسکے’ لیکن پھربھی ایسے شواہد نہیں ملے کہ امریکہ واقعی ہی چاند پر پہنچ گیا۔” ماہرین کہتے ہیں کہ سپر پاور ز کا اس طرح چاند جیسے مسئلے پر لڑنا کسی بے وقوفی سے کم نہیں’ اگریہ پیسے غریب ممالک پر لگائے جائیں تو یہ بلا شبہ یہ ایک بہترین تحفہ ہوگا’ جس سے انٹر نیشنل کمیونیکیشن میں بہتری آسکتی ہے۔

(235 بار دیکھا گیا)

تبصرے