Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 22 جولائی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

نواز، زرداری کے مستقبل پر کالے بادل

ویب ڈیسک اتوار 23 دسمبر 2018
نواز، زرداری کے مستقبل پر کالے بادل

پاکستان میں حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کی قیادت تو ملک میں تحریکِ انصاف کی حکومت بننے کے بعد سے ہی مشکلات کا شکار رہی ہے لیکن اب اس فہرست میں ایوان میں اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت پیپلز پارٹی کی قیادت کا اضافہ بھی ہو گیا ہے۔
ملک کے تین دفعہ کے وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے تاحیات قائد نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ کے ریفرینسز کے فیصلے 24 دسمبر کو آنے والے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ایون فیلڈ فلیٹ ریفرنس میں نواز شریف کو پہلے ہی سزا ہو چکی ہے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے گزشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر آصف زرداری کے خلاف نیویارک میں مبینہ طور پر ایک اپارٹمنٹ کی ملکیت انتخابی گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے پر الیکشن کمیشن میں نااہلی کا ریفرینس جمع کروا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جعلی اکاؤنٹس کے معاملے پر بھی سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کی گئی جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی ہے اور اس میں بھی آصف زرداری کا نام ہونے کی خبریں پاکستانی ذرائع ابلاغ میں گرم ہیں۔
مسلم لیگ نواز ہو یا پیپلز پارٹی دونوں ہی جماعتیں ان اقدامات کو حکومت کی ‘انتقامی کارروائی’ قرار دیتی رہی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ آیا اس ‘مشکل’ وقت میں یہ دونوں کوئی متحدہ فرنٹ پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں یا نہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کی قیادت اسلام آباد میں ملی جس کے بعد اجلاس میں شرکت کرنے والے سینئر رہنما سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ ان کی جماعت کے خلاف کیے گئے اقدامات کوئی نئی بات نہیں اور اس صورتحال سے وہ گزشتہ دو سال سے گزر رہے ہیں۔ ‘ہماری جماعت کی قیادت کے خلاف لیے گئے اقدامات سے نپٹنے کے لیے ہم اندرورنی طور پر فیصلے کر رہے ہیں اور یہ کوئی نئی صورتحال نہیں آئی ہے ہمارے لیے۔ ہم ہر ممکنہ پلیٹ فارم پر اپنا نکتہ نظر سامنے لا رہے ہیں۔
ہماری قیادت نے پچھلے ہفتے بھی اسی بارے میں ملاقات کی تھی اور یہ اجلاس اسی کی کڑی ہے۔ انتخابات کے بعد سے ہماری جماعت کے کئی عہدے خالی ہیں جیسے شہباز شریف پہلے پنجاب کے صدر تھے اور اب وہ پوری جماعت کے صدر ہیں تو وہ والا عہدہ خالی ہے۔ اسی طرح ہمارا کوئی جنرل سیکریٹری نہیں ہے تو اس کے لیے ہماری قیادت کی آپس میں مشاورت کے لیے یہ اجلاس منعقد ہوا تھا۔
جب پرویز رشید سے حزب اختلاف کی دونوں جماعتوں کی قیادت کے سروں پر منڈلاتے خطرات کے حوالے سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ نواز مسلسل پی پی پی سے رابطے میں ہے اور دونوں جماعتیں مشترکہ اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ تحریک انصاف نے حکومت کی باگ ڈور ابھی سنبھالی ہے اور ہمارے خدشات کے باوجود ہم ان کی حکومت تسلیم کرتے ہیں۔ اب ان کے پاس چند ماہ ہیں اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے جس کے بعد ہم فیصلہ لیں گے کہ آگے کیسے بڑھنا ہے۔ اس وقت تک عوام کے سامنے میڈیا اور عدلیہ میں اپنی جنگ لڑتے رہیں گے۔’
دوسری جانب پی پی پی کی رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ نے کہا کہ ان کی پارٹی کو حکومت کی جانب سے ‘سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ہماری جماعت کے خلاف جو مقدمات بنائے گئے ہیں وہی پی ٹی آئی کے اپنے رہنماؤں پر لاگو ہوتے ہیں لیکن ان کے خلاف نہ جے آئی ٹی بنتی ہے اور نہ ہی نیب کوئی ایکشن لیتی ہے۔ یہ صرف ہمیں سیاسی طور پر نشانہ بنا رہے ہیں۔ نفیسہ شاہ نے مزید کہا کہ پی پی پی مصالحتی سیاست کرتی ہے اور ان کا کسی بھی قومی ادارے سے لڑنے کا یہ انہیں نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن پی ٹی آئی ان اداروں کے کندھوں پر رکھ کر بندوق چلا رہی ہے۔ حکومت نے اداروں کو خود متنازع بنایا ہے اور انہیں مفلوج کر دیا ہے۔’ مسلم لیگ نواز سے رابطہ رکھنے پر نفیسہ شاہ نے کہا کہ پارلیمان کی حد تک دونوں جماعتیں مکمل طور متحد ہیں اور آپس کے اختلافات کے باوجود وہ مشترکہ اپوزیشن کا کردار نبھا رہی ہیں۔ اپوزیشن میں آنے کے بعد ہم نے مشترکہ طور پر فیصلے لیے ہیں اور اسی سلسلے کو جاری رکھیں گے۔آصف زرداری کے خلاف ریفرنس اور جے آئی ٹی رپورٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت اس رپورٹ کا جائزہ لے گی۔
ابھی تو ہمیں اس کے مندرجات دیکھنے ہوں گے اور پھر ٹرائل کورٹ کا عمل بھی ہونا ہے تو ابھی کچھ وقت ہے اور یہ سب سپریم کورٹ پر منحصر ہے۔
سیاسی تجزیہ نگار اور صحافی سہیل وڑائچ سے جب بی بی سی نے اس بدلتی ہوئی صورتحال پر سوال کیا تو انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتیں چاہیں گی کہ وہ فوراً سڑک پر آ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں لیکن ان کے لیے ابھی یہ ممکن نہیں ہوگا۔ سہیل وڑائچ کے مطابق حکومت نے متعدد بار ان دونوں رہنماؤں کو ملک کے خراب حالات کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور یہ واضح ہے کہ وہ ان دونوں کو جیل بھیجنا چاہتی ہے اور یہ کوئی معجزہ ہی ہوگا کہ یہ دونوں بچ جائیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ بالفرض کے نواز شریف اور آصف زرداری دونوں کو جیل ہو جاتی ہے اور پھر بھی ملک کے حالات بہتر نہیں ہوتے، تو شاید کچھ عرصے تک اتنا ردعمل سامنے نہ آئے لیکن اس کے بعد عوامی ہمدردیاں کھل کر سامنے آئیں گی اور حکومت کو مشکلات کا سامنا ہوگا۔
پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کی میثاق جمہوریت سے شروع ہونے والی محبت پچھلے 12سالوں میں اْتار چڑھائو کا شکار رہی’ لندن میں 2006 ء میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کی محبت جس کا آغاز میاں نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے درمیان لندن میں میثاق جمہوریت سے ہوا تھا۔ لندن میں میثاق جمہوریت کے بعد بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت بننے کے کچھ عرصے تک تو یہ محبت چلی لیکن پھر کئی ایسے واقعات ہوئے جس سے مسلم لیگ نواز کی جانب سے اس معاہدے کی پاسداری نہیں کی گئی۔پہلے تو جب یوسف رضا گیلانی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تو میاں نواز شریف بھی پہنچ گئے۔اس کے بعد میمو گیٹ ہوا تو نواز لیگ پیش پیش رہی۔ یعنی نواز لیگ نے میثاق جمہوریت کے برخلاف کوئی موقع نہیں چھوڑا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کو کمزور کیا جائے۔مسلم لیگ نواز کے مقابلے میں پاکستان پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ کو اس وقت مشکل سے باہر نکالا جب 2014ء میں پاکستان تحریک انصاف کا دھرنا جاری تھا۔ میاں نواز شریف یہ معاملہ پارلیمنٹ لے کر گئے اور پیپلز پارٹی نے حکومت کی حمایت کی اور دباؤ سے باہر نکالا۔ تاہم تحریک لبیک کی جانب سے اسلام آباد دھرنے میں پیپلز پارٹی حکومت کی حمایت کے لیے نہیں آئی اور صاف ظاہر ہوا کہ اب پیپلز پارٹی کا نواز لیگ کے ساتھ محبت کا سفر ختم ہو گیا ہے۔
کیوں کہ نواز شریف نے حسب عادت اکیلے ہی چلنے کی پالیسی اپنائی اور یہ ان کی عادت ہے۔ نواز لیگ کے اصل حلیف سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹ ہی تھی لیکن انہوں نے اکیلے ہی چلنے کا فیصلہ کیا۔ اور اسی وجہ سے پارلیمان میں دوسری بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی کھل کر مخالفت کرنی شروع کر دی۔ اس کے بعد وفاق سے تو میاں نواز شریف کی فراغت ہو گئی۔اس کے بعد گزشتہ روز سے سابق صدر آصف علی زرداری اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے درمیان پارلیمنٹ میں گرم جوشی اور ٹیلی فونک رابطوں کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔ اور دونوں پارٹیوں کے لیڈران کی جانب سے اس حوالے سے بیانات آنا بھی شروع ہو گئے ہیں’یعنی ان باتوں کا لب لباب یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا محبت کا سفر شروع ہونے والا ہے۔
اس ساری صورتحال کا شاخسانہ دنیا جانتی ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان قربت کیوں بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے معاون چئیرمین آصف زرداری نے ایک بار پھر حکومت’ اسٹبلشمنٹ اور عدلیہ کے بارے میں تیکھا لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے حکومت کی تبدیلی اور مڈٹرم انتخابات کی بات کی ہے۔ ان کے بیانات کے مطابق غیر منتخب اداروں کو عوام کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ یہ استحقاق صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے جہاں عوام کے منتخب نمائندے ہی قانون سازی اور اہم فیصلے کرسکتے ہیں۔ جولائی میں ہونے والے انتخابات سے پہلے آصف زرداری نے نواز شریف سے سیاسی دشمنی نبھانے کے لئے جمہوریت کے موجودہ انتظام کی راہ ہموار کی تھی لیکن یہ ‘جمہوری انتظام ‘ زرداری اور پیپلز پارٹی کے بغیر آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ منی لانڈرنگ کے معاملہ میں آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کے خلاف گھیرا تنگ ہورہا ہے۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے علاوہ تحریک انصاف کے متعدد لیڈر نواز شریف کے بعد آصف زرداری اور ان کے حامیوں کو بھی جیل میں ڈالنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔ لیکن عمران خان کی حکومت نے سیاسی لیڈروں کو ان کی بدعنوانی پر سزا دلوانے کا بار بار اعلان کرنے کے باوجود ابھی تک براہ راست کسی سیاسی لیڈر کے خلاف کارروائی نہیں کی ہے۔ بلکہ نواز شریف کے علاوہ آصف زرادری اور ان کے قریبی معاونین جن معاملات میں عدالتوں کے رحم و کرم پر ہیں، وہ موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آنے سے پہلے ہی دائر کئے جاچکے تھے۔ یا وہ دہائیوں پرانے مقدمات ہیں جن پر ملک کے سست رو اور ناقص عدالتی نظام کو صرف اس وقت تیزی دکھانے کا موقع ملتا ہے جب نظام کی حفاظت کے لئے بعض سیاست دانوں کی زبان بندی کا مقصد پیش نظر ہو۔ یہ ہتھکنڈا نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے خلاف کسی حد تک کامیاب دکھائی دیتا ہے۔ انتخاب سے پہلے عدالتوں اور اسٹیبلشمنٹ کو للکار کر ماضی میں سبک دوش کئے جانے والے وزرائے اعظموں کی بے بسی کا حساب مانگنے والے نواز شریف اب خود ایک بے بس اور مجبور کی طرح نیب کے مقدمات بھگت رہے ہیں۔ متعدد مقدمات میں جیل کی سزا ان کا فوری مقدر بھی دکھائی دیتی ہے۔ آصف زرداری کی صورت حال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ ان کے خلاف منی لانڈرنگ کے پیچیدہ مقدمہ میں ایف آئی اے کے علاوہ سپریم کورٹ کی قائم کردہ جے آئی ٹی بھی جلد اپنی رپورٹ پیش کرنے والی ہے۔ فی الوقت زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور ضمانت پر ہیں لیکن کسی بھی رپورٹ میں اگر اب تک سامنے آنے والے الزامات کی جزوی تصدیق بھی ہوگئی تو ان دونوں کی آزادی کے دن محدود ہو سکتے ہیں۔ آصف زرداری کو جیل کی سزا کاٹنے کے معاملہ میں بہادر اور حوصلہ مند سمجھا جاتا ہے اور وہ خود بھی بارہا یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ جیل جانے سے نہیں ڈرتے۔ تاہم ساٹھ برس سے زیادہ عمر اور ایک ایسے حکومتی انتظام میں جہاں بدعنوانی کے بارے میں واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے بلا تخصیص عہدہ و حیثیت سزا دینے کا اعلان کیا جا رہا ہے ۔آصف زرداری تمام تر حوصلہ و جرأت کے باوجود شاید جیل جانا پسند نہیں کریں گے۔ کرپشن کے الزامات میں ملنے والی سزاؤں کو خواہ جتنا بھی سیاسی انتقام قرار دینے کی کوشش کی جائے لیکن ملک میں بدعنوانی اور سیاسی لیڈروں کی جاہ و ہوس کے بارے میں ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ عام طور سے ان سزاؤں کو الزامات کی تصدیق ہی سمجھا جائے گا۔
دوسری جانب جیل سے رہائی کے بعد اگرچہ نواز شریف اپنی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کے سوگ میں تھے لیکن اس سانحہ کو4 ماہ گزرنے کے باوجود انہوں نے براہ راست سیاسی گفتگو سے پرہیز کیا ہے۔ اس دوران وہ باقاعدگی سے اسلام آباد میں اپنے خلاف نیب عدالتوں میں چلنے والے مقدمات کی پیروی کرتے رہے ہیں لیکن میڈیا کے استفسار پر بھی صرف یہ کہنے پر اکتفا کرتے رہے ہیں کہ وہ سیاسی بات کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں یا یہ کہ اگر انہوں نے کوئی بات کی تو بھی میڈیا اسے شائع یا نشر کرنے کے قابل نہیں ہو گا۔ نواز شریف کی خاموشی کے علاوہ ان کی صاحبزادی مریم نواز بھی خاموش ہیں اور پراسرار طور پر ان کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھی خاموش ہے۔ حالانکہ ان سے جیل سے رہائی کے بعد ملک میں سیاسی تحریک کی قیادت کرنے کی امید کی جارہی تھی اور بادی النظر میں اس وقت ملک میں سیاسی طور سے حکومت کے لیے مشکلات پیدا کی جارہی ہیں۔ اپوزیشن کو اگرچہ قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں بھاری نمائندگی حاصل ہے لیکن سیاسی امور میں اپوزیشن کی موجودگی محسوس نہیں کی جاسکتی۔ اس حوالے سے پیپلز پارٹی بھی اس حوالے کوئی مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے لیکن اسے ایک تو سندھ میں حکومت حاصل ہے، دوسرے وہ اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی بھی نہیں ہے۔ اس کے باوجود اس کے لیڈروں کی طرف سے اسمبلی کے اندر اور باہر تیکھا لب و لہجہ اختیار کرنے کے آثار ملتے ہیں۔ لیکن نواز شریف کے علاوہ مسلم لیگ (ن) بھی سیاسی مایوسی کی اس تاریکی کو مزید گہرا کرنے کا سبب بنی ہے۔ نواز شریف کی سیاسی خاموشی کے بارے میں ملک کا میڈیا اور تجزیہ نگار بھی مباحث کرکے اور اندازے قائم کرنے کے بعد خاموش ہو چکے ہیں۔ لیکن نواز شریف ابھی تک اپنی خاموشی کا کوئی مناسب جواب دینے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ نہ انہوں نے اعلان کیاہے کہ وہ اب سیاست سے دست بردار ہونے کا اعلان کرتے ہیں اور ان سے کسی قسم کی تحریک یا کردار ادا کرنے کی امید نہ کی جائے۔ اور نہ ہی وہ متبادل قومی لیڈر کے طور پر اپنی پارٹی کو متحرک کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
لہٰذاجب اپوزیشن کے اپنی کرپشن کے بچائو کے تمام حربے ناکام ہو گئے ہیں تو اب ”محبت” کی آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں’ پیپلز پارٹی کے قائدین کا لب و لہجہ سخت ہو چکا ہے۔ حالانکہ کرپشن کے خلاف اقدامات ملکی مفاد میں ہیں جن کا نمٹانا اس ملک کے لیے ناگزیر ہے۔ لیکن اس کے برعکس اپوزیشن کی یہ کوشش بھی ناکام ہی ہو جائے گی کیوں کہ وزیراعظم عمران خان کرپشن کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کا مصمم ارادہ کر چکے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کے درمیان رابطوں کی تردید کر دی۔ پیپلزپارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر کا وضاحتی بیان میں کہنا تھا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے درمیان کوئی ٹیلیفونک بات چیت نہیں ہوئی۔ ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب نے بھی نواز شریف اور آصف زرداری کے درمیان رابطوں سے متعلق خبر کو غلط قرار دیتے ہوئے میڈیا سے درخواست کی کہ قیاس آرائی پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی پارلیمنٹ میں صحافیوں نے سابق صدر آصف زرداری سے نواز شریف سے ملاقات کے امکان کا سوال کیا تھا جس پر انہوں نے کہا تھا کہ” آپ کہہ دیں”کرا دیں’جو آپ کا حکم ہو۔ تجزیہ کارحسن نثار نے کہاہے کہ مسلم لیگ ن اورپیپلز پارٹی مستقبل میں حنوط شدہ حالت میں رہیں گی ، یہ سیاسی پارٹیاں نہیں گینگز ہیں جو اب دھول اڑارہے ہیں۔ حسن نثار نے کہا کہ نیب کو تحریک انصاف نے نہیں بنایااورنہ ہی نیب حکومت کے کنٹرول میں ہے، یہ ساری باتیں اپوزیشن کو بھی پتہ ہیں ، مسئلہ یہ ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی جو سیاسی پارٹیاں نہیں بلکہ گینگز ہیں ‘ اس کو اپنا سیاسی مستقبل تاریک نظر آرہاہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اب پیپلزپارٹی نہیں رہی ہے ، ان جماعتوں کاسیاسی مستقبل کوئی نہیں ہے ‘ اب یہ دھول اڑا رہے ہیں۔یہ مستقبل میں حنوط شدہ حالت میں رہیں گی جیسے پرندوں کو حنوط کرکے محفوظ کرلیا جاتا ہے ، اسی طرح یہ پارٹیاں بھی محفوظ رہیں گی۔

(224 بار دیکھا گیا)

تبصرے