Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 27 مارچ 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

سپر ماڈل صدف کنول نے مچادی ہلچل

عاصم رحمانی هفته 22 دسمبر 2018
سپر ماڈل صدف کنول نے مچادی ہلچل

پاکستانی ماڈل و اداکارہ صدف کنول کہتی ہیں کہ ’آپ کے ساتھ جب می ٹو ہو، تب بول دو، بعد میں آپ کو یاد آرہا ہے می ٹو، تو میرے خیال سے جب ہو تب ہی بولو‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر میرے ساتھ می ٹو کبھی ہوا تو میں بولوں گی نا، اور میں سوشل میڈیا پر نہیں بولوں گی، میں آپ سب کو بتاؤں گی‘۔ اداکارہ نے مزید کہا کہ بڑی اسکرین پرکام کرنے کی خواہش بڑی دیرینہ تھی اور اس خواہش کوپوری کرنے کے لیے ماڈلنگ کے دوران ہی آفرزکا سلسلہ جاری تھا لیکن میں نے پہلے مرحلے میں اپنا فوکس صرف ماڈلنگ پررکھا اوربڑی محنت کے ساتھ ایک منفرد پہچان بنائی۔صدف کنول نے کہا کہ اس وقت ہمارے ہاں اچھی اورمعیاری فلمیں بنائی جارہی ہیں اورلوگ اپنی فیملیز کودوبارہ سے سینماگھروں میں لارہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ فلم کی کہانی، میوزک، لوکیشنز اور نئے چہروں کے علاوہ سینما گھروں میں جدت بھی ہے۔ سینما گھروں کا ماحول انتہائی تبدیل ہوچکا ہے اوراب یہاں فیملیز آنا پسند کرتی ہیں۔اس دوران بہت سی سینئرماڈلز کے ساتھ کام کا موقع ملا اوران سے بھی بہت کچھ سیکھا۔ اسی تجربے کی بدولت مجھے فلم ’’بالو ماہی‘‘ میں ایک اہم کردارملا اورپھرجب شوٹنگز کا آغاز ہوا توہم نے ملک کے مختلف حصوں میں جاکر اپنا کام عکسبندکروایا۔ ماڈل نے کہا کہ فلم کی کاسٹ میں میرے مدمقابل اداکارعثمان خالد بٹ تھے، جن کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ بہت شانداررہا۔ مجھ سمیت فلم کی کاسٹ میں شامل تمام لوگوں نے بہترین کام کیااوراس کا رسپانس سینماگھروں میں فیملیز کی آمد کی شکل میں دکھائی دے رہا ہے۔ صدف نے کہا کہ آج کل ہر کوئی ہر چیز کے بارے میں رائے رکھتا ہے جو کہ ہرگز بْری بات نہیں لیکن یہ خیال کرنا ضروری ہے کہ رائے کا اظہار صرف بحث کرنے کی غرض سے نہ ہو۔میرے آئٹم سانگ کو لے کر سوشل میڈیا پر کئی چرچے ہوئے لیکن مجھے ان سے کوئی مطلب نہیں، اگر دوبارہ آئٹم سانگ آفر ہوا تو ایک بار پھر کروں گی کیونکہ ڈانس بھی ایک فن ہے اور لوگ اسے پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چند دن پہلے فیشن ویک ختم ہوا، اس کی وجہ سے انتہائی مصروف تھی اور اب برانڈز کی فیشن شوٹ شروع ہوجائیں گی، پاکستانی فیشن انڈسٹری وہ واحد صنعت ہے جس نے بے حد تیزی سے ترقی کی منزل پار کی ہے اور ایسی ترقی میں فلم انڈسٹری کے لیے بھی دیکھ سکتی ہوں، ہمارے پاس زبردست ٹیلنٹ موجود ہے جوکہ پاکستان فلم انڈسٹری کو اس کا روشن مستقبل دے سکتے ہیں لیکن ایسا جب ہی ممکن ہے جب ہمارے فلمساز تقلید کرنے کے بجائے اصل کہانیاں سامنے لائیں۔

(101 بار دیکھا گیا)

تبصرے