Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 19  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کسٹم میں 18 ارب روپےکے گھپلے

ویب ڈیسک هفته 22 دسمبر 2018
کسٹم میں 18 ارب روپےکے گھپلے

کراچی….محکمہ کسٹم میں 18 ارب روپے سے زائد کی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے ، سال 2017-18ء کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق کسٹم میں غیرقانونی استثنیٰ اور رعایتوں کی مد میں 4ارب 10کروڑ روپے ، ریونیو کے حصول میں رکاوٹ سے 5ارب32کروڑر وپے ، فیصلہ شدہ ریونیو کی ریکوری میں ناکامی سے 4ا رب روپے ، ٹیکسوں اور ڈیوٹی کی وصولی نہ ہونے سے دو ارب61کروڑ روپے ،درآمدی اشیاء کی اصل قیمتوں سے کم قیمت پر ڈیوٹی اور ٹیکس وصولی سے ریونیو میں ایک ارب98کروڑ روپے ، گاڑیوں کی مرمت اور غیرضروری ا خراجات میں بے ضابطگیوں سے 9کروڑ روپے کا قومی خزانے کو نقصان ہوا ، آڈیٹر جنرل آفس کے مطابق یہ آڈٹ مالی سال 2016-17ء کا ہے جس کو سال 2017-18ء میں جاری کیا گیا ، آڈٹ پورٹ کے مطابق محکمہ کسٹم نے پابندی شدہ اشیاء کی درآمد کی کلیئرنس دینے سے درآمدی پالیسی آرڈر کی خلاف ورزی کی ،رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ بے قاعدگیوں کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ، ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں استثنیٰ قانون میں دی گئی اجازت کے مطابق ہو اوراس کی خلاف ورزی نہ کی جائے ،محکمہ کسٹم کے فیلڈ دفاتر ضبط شدہ اشیاء کی فوری سپرد گی کے لیے اقدامات کریں اور کسٹم عدالتوں میں موجود کیسوں کے جلد فیصلے کیے جائیں ، حکومتی محاصل کی مکمل ریکوری کو یقینی بنایا جائے ، غیر ضروری اخراجات سے بچنے کے لیے ہدایات جاری کی جائیں اور درآمدی پابندی والی اشیاء کی درآمد کی اجازت دینے والے ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لانے کی بھی سفارش کی گئی ہے ، آڈٹ پیرا کے مطابق مالی سال 2016-17میں ایف بی آر کے کسٹم ریونیو اور اسٹیٹ بینک کے ریونیو کے اعداد وشمار میں بھی 29ارب 16کروڑ روپے کا فرق پایا گیا،اسٹیٹ بینک کے اعداد وشمار میں کسٹم کا جمع شدہ ریونیو 5کھرب 31ارب68کروڑ روپے تھا جبکہ ایف بی آر کے اعداد وشمار کے مطابق 5کھرب 2ارب52کروڑروپے کا ریونیو جمع کیا گیا ، آڈٹ رپورٹ کے مطابق بینکوں میں کسٹم کی وصولیوں ، ترسیلات کی عکاسی ہے اورایف بی آر کا رپورٹنگ میکنزم میں خرابی ہے اس سے صوبوں کو قابل تقسیم محاصل کی فراہمی میں بھی تاخیر ہوتی ہے ، ڈائر یکٹر ریسرچ اینڈ شماریات کے مطابق یہ اے جی پی آر کی ذمہ داری تھی کہ وہ بینکوں کو چیک کرے ، اے جی پی آر کے مطابق مقامی بینکوں کے ساتھ اعدادوشمار کی درستی اور مستند اور مطابقت کرنا ایف بی آر کی ذمہ داری تھی۔

(184 بار دیکھا گیا)

تبصرے