Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 17 جون 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

لاڈلے بیٹے نے باپ ذبح کردیا

سید بلال علی شاہ جمعه 21 دسمبر 2018
لاڈلے بیٹے نے باپ ذبح کردیا

یوں تو جرائم کی دنیاں میں گزرتے ہوئے ہر ایک دن کے ساتھ وارداتوں میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے‘ لیکن کبھی شہر میں جرائم کے کچھ ایسے واقعات بھی رو نماء ہوجاتے ہیں‘جنہیں سن کر ہی انسانی دل لرز اٹھتا ہے‘ایسے ہی ایک واقعے کی داستان ہم آپکو بتانے جا رہے ہیں‘ جس کے تصور سے ہی انسان کا دل کانپ جاتا ہے۔ ویسے تو جرائم کی دنیا میں قتل کرنا عام سی بات ہے کسی کو جائیداد کے تنازعے پر تو کسی کو دشمنی پر اور کہیں رشتوں کے تنازعوں پر ہی موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ لیکن آج جس قتل کی بات ہم کرنے جارہے ہیں اس کا تعلق ایسی کسی بھی چیز سے نہیں اور یہ قتل کرنے والا کوئی ٹارگٹ کلر نہیں بلکہ یہ اپنے بزرگ باپ کا بننے والا سہارا تھا جو سہارا تو نہ بن سکا‘ لیکن اپنے بوڑھے باپ کے لئے موت کا فرشتہ ضرور بن گیا‘رضویہ تھانے کی حدود جہانگیر آباد میں ایک شام بوڑھے باپ جلیل کے گھر پر قہر بن کر ٹوٹ پڑی‘جہاں باپ نے اپنے جواں سالہ بگڑے ہوئے بیٹے کو سدھارنے کے لئے ڈانٹننا ڈپٹنا شروع کیا تو اسی دوران اس کے بیٹے بلال نے اس سے زبان چلائی اور بدتمیزی شروع کردی‘اسی دوران دونوں کے درمیان تلخ کلامی بھی شروع ہوگئی ۔جب گھر میں باپ بیٹے کی لڑائی سے شور شرابا شروع ہوا تو گھر میں موجود دیگر افراد بھی آگئے اور اس معاملے میں بول پڑے‘ابھی تلخ کلامی جاری ہی تھی کہ بات بڑھتے بڑھتے جھگڑے کی نوبت تک جا پہنچی اور جہانگیر آباد کا یہ گھر میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگااور اس بوڑھے باپ پر درندہ صفت بیٹے نے ہاتھ اٹھا دیا اور یہ معاملہ صرف ہاتھ اٹھانے پر ہی نہیں ہوا بلکہ اس سے آگے کی داستان سن کر دل ہی لرز جائیگا‘جھگڑا چل رہا تھا ابھی تک گھر کے کسی بھی فرد کے ذہن و گمان میں بھی اس بات کا اندازہ نہ تھا کہ بات کس حد تک بڑھ جائیگی اور اس کا ازالہ انہیں کسی کی جان سے ادا کرنا پڑے گا‘جھگڑا جاری تھا کہ اچانک اس بد بخت بیٹے بلال نے گھر کے باورچی خانے کا رخ کیا اور اور کچھ دیر سوچنے کے بعد باورچی خانے سے چھری اٹھا کر کمرے میں لے آیا۔ گھر والوں اور بوڑھے باپ نے بلال کے ہاتھ میں چھری دیکھ کر اسے للکارا اور یہی سمجھا کہ وہ غصے میں ڈرانے کے لئے چھری اٹھا کر لے کر آیا ہے۔ لیکن جب وہ چھری کے ساتھ اپنے باپ پر حملہ کرنے کے لئے لپکا تو اسے گھر کے دیگر افراد نے پکڑ کر ہاتھ میں چھری لینے کی کو شش کی‘ تاہم وہ گھر والوں سے مزاحمت کرتا ہواپنے باپ کے پاس پہنچا اور اس نے بنا کچھ بولے اور سوچے اپنے باپ پر چھری کے پے در پے وار کرکے شدید زخمی کر دیا‘ گھر میں یہ مناظر دیکھ کر تمام گھر والوں کے حواس ہی اڑ گئے اور اتنے میں ملزم بیٹا بلال موقع سے فرار ہو گیا۔ اہل خانہ نے زخمی حالت میں تڑپتے ہوئے باپ کو اسپتال منتقل کیا۔لیکن یہ بوڑھا اور زخمی باپ گھر میں ہی دم توڑ گیا تھا ۔جس کا علم کسی کو نہ تھا‘باپ کی موت پر گھر میں کہرام مچ گیا‘جبکہ پولیس بھی اطلاع ملنے پر موقع پر پہنچی تو گھر والوں نے اس درندہ صف بیٹے کو بچانے کے لئے اپنا بیان بدل دیا اور پولیس کو بتایا کہ ان کے بیٹے کا ذہنی توازن درست نہیں ہے‘رضویہ تھانے کے ایس آئی او اعجاز میمن نے نمائندہ قومی اخبار کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم بلال نے گھریلو جھگڑے کے دوران اپنے باپ کو قتل کیا ہے ملزم کے والد جلیل کا اس کی ماں سے گھر میں آئے روز جھگڑا ہوتا رہتا تھا‘ واقعے کے روز بھی مقتول کا بیوی سے جھگڑا چل رہا تھا کہ بیچ میں ملزم بلال بولا اور اپنے والد سے بدتمیزی شروع کردی اور بات بڑھتے بڑھتے اس نوبت پر پہنچی کہ بدبخت بیٹے نے باپ کو ہی موت کے گھاٹ اتار دیا‘انہوں نے مزید بتایا کہ واقعے کے روز ملزم بلال کی ماں نے اپنے بیٹے کو بچانے کے لئے تو گھر سے فرار کرا دیا تھا۔ لیکن پولیس نے اس کی گرفتاری کے لئے حکمت عملی شروع کی اور واقعے کے دوسرے ہی روز ملزم کو پاپوشنگر کے علاقے سے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کرلیا۔ جس نے اپنے جرم کا اقرار کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا کوئی ذہنی توازن خراب نہیں‘ بلکہ اس کے گھر والوں نے اسے بچانے کے لئے یہ ڈرامہ رچایا تھا‘ملزم بلال گھر کے قریب ہی واقعہ ایک دکان پر ملازمت کرتا ہے ‘جبکہ مقتول جلیل کے2 بیٹے اور2بیٹیاں ہیں‘ایس آئی او نے مزید بتایا کہ ملزم بلال کے گھر کا ماحول ہی کچھ ایسا اور شک و شبہ والا ہے کہ اس قتل کی واردات میں گھر کی دیگر لوگوں نے بھی ملزم کی سرپرستی کی ہے‘ تاہم ملزم نے اب تک ایسی کسی بھی بات کا انکشاف نہیں کیا ہے۔ تاہم پولیس اپنی جانب سے واقعے کی تحقیقات بھی کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بوڑھے باپ کا سہارا بننے کے بجائے اپنے ہی باپ کا قتل کرنے والے ملزم بلال کو ایسی عبرت ناک سزاء ملنی چاہئے کہ دوبارہ کوئی بھی بیٹا اپنے ہی باپ کے ساتھ ایسی حرکت نہ کر سکے۔

(245 بار دیکھا گیا)

تبصرے