Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 17 جون 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

پھر بہو جل گئی....

عارف اقبال جمعه 21 دسمبر 2018
پھر بہو جل گئی....

لیاری گلستان کالونی کی رہائشی نبیلہ ماں اور 6 بہن بھائیوں کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزر رہی تھی۔ نبیلہ کے والد رفیق جمال 7 سال قبل انتقال کرگئے تھے جس کے بعد اس کے گھر میں غریبی نے ڈیرہ ڈال لیے تھے لیکن نبیلہ کی والدہ نگینہ بی بی ایک باہمت خاتون ہیں جس نے اپنے بچوں کی پرورش کا بیڑا اُٹھایا اور گھروں میں کام کاج کرکے اپنے بچوں کے لئے حلال رزق کا انتظام کیا‘ نبیلہ کا بڑا بھائی کاشف جمال والد کی وفات کے وقت کچھ چھوٹا تھا لیکن پھر جیسے ہی اس نے لڑکپن سے جوانی میں قدم رکھا چھوٹے بہن بھائی کی ذمہ داری اُٹھانے کے لئے محنت مزدوری شروع کردی‘ چھوٹے بہن بھائیوں کی پرورش کے سلسلے میں اس نے دیگر مزدوروں کے ساتھ رنگ کا کام کرنے لگا‘ کاشف کے کام کرنے سے نگینہ بی بی کی بھی کچھ ہمت بندھی اور کاشف بھی جو کچھ کما کر لاتا سب کے سب اپنی ماں کے ہاتھ میں رکھ دیتا۔ نگینہ بی بی بھی پوری تندہی سے اپنا کام کررہی تھی‘ اب نگینہ بی بی اور کاشف جمال کے کام کرنے سے ان کے پاس اتنے پیسے آجاتے تھے جس سے ان لوگوں کی مہینہ بھر دو وقت کی روٹی پوری ہوجاتی تھی لیکن اس کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر بھی نگینہ کے گھر میں ایک طرح کا سکون تھا کیونکہ ان بچوں نے کبھی اپنی حیثیت سے زیادہ پانے کی خواہش نہیں کی اور وقت پر ان کو جو کچھ مل جاتا‘ اسی میں صبر شکر کرلیا کرتے اور ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے۔ دن یونہی گزر رہے تھے‘ صبح نگینہ بی بی اور بیٹا کاشف جمال گھر سے اپنے اپنے کام کے لئے نکل جاتے‘ اسی دوران نبیلہ کی ذمہ داری ہوتی تھی کہ وہ گھر پر رہ کر اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی دیکھ بھال اور کھانے پکانے کا انتظام کرے‘ والدہ اور بھائی کی طرح نبیلہ بھی اپنی ذمہ داری کو بہ احسن و خوبی نباہ رہی تھی۔ نبیلہ کا بھی معمول تھا کہ وہ صبح سویرے نیند سے بیدار ہوتی اور گھر والوں کے لئے ناشتے کا انتظام کرتی‘ اس دوران اس کی والدہ نگینہ بی بی اور بھائی کاشف بھی جاگ جاتے اور ناشتے وغیرہ سے فارغ ہوکر اپنے اپنے کام پر نکل جاتے‘ اب نبیلہ کی ذمہ داری ہوتی تھی کہ وہ گھر میں موجود دیگر بہن بھائیوں کے ناشتے اور کھانے کا انتظام کرے۔ نبیلہ ان تمام کام سے دوپہر تک فارغ ہوتی جس کے بعد وہ کچھ دیر آرام کرتی اور پھر رات کے کھانے کا انتظام شروع کردیتی‘ اس کی کوشش ہوتی تھی کہ والدہ اور بھائی کے آنے سے قبل وہ رات کے کھانے کے انتظام سے فارغ ہوجائے اور پھر شام کو جب اس کی والدہ اور بھائی گھر آجاتے تو پھر رات کا کھانا سب گھر والے ساتھ مل کر کھاتے اور یہ ہی وقت ہوتا تھا جس میں گھر کے تمام لوگ ایک ساتھ ملاکھانا کھاتے تھے اور ایک دوسرے سے حال احوال لیتے تھے کیونکہ صبح سے لے کر شام تک تو گھر کے بڑے زندگی کی گاڑی کھینچنے پر مجبور ہوتے تھے‘ دن یونہی گزر رہے تھے جو سالوں میں بیت گئے اور نبیلہ بھی اب کافی سمجھ دار ہوگئی تھی۔ دوسری مائوں کی طرح نگینہ کو بھی اب بیٹی کے گھر بسانے کی فکر لاحق ہوگئی تھی‘ وہ اکثر رات کو سونے کے لئے جب بستر پر لیٹتی تو اسے بس اب ایک ہی خیال آتا کہ کسی طرح وہ بیٹی کو بیاہ دے لیکن پھر نگینہ یہ بھی سوچتی کہ بیٹی کا بیاہ وہ کس طرح کرے کیونکہ بیٹے کاشف کی کمائی اتنی ہوتی تھی کہ وہ گھر کا کرایہ اور یوٹیلٹی بل ادا کرسکے اور اس کی آمدنی سے وہ اپنا اور بچوں کو روکھی سوکھی کھلا سکے لیکن پھر اس کے ذہن میں خیال آتا کہ اسے اسی اخراجات سے تھوڑا تھوڑا بچا کر اتنا کچھ کرلے کہ وہ بیٹی کو باعزت طریقے سے رخصت کرسکے۔ دن بھر کی تھکی ہاری نگینہ خیالوں میں کھوئی ہوتی اور اُسے پتہ بھی نہیں چلتا کہ وہ کب نیند کی آغوش میں چلی جاتی۔ اسی خیال کے بعد نگینہ نے اب اپنی ضرورتوں میں سے کچھ پس انداز کرنا شروع کردیا اور اپنے ملنے جلنے والوں سے بیٹی کے رشتے کے بارے میں بات کرنا شروع کردی تھی۔ اب اس کی صرف ایک ہی خواہش تھی کہ اسے اپنی بیٹی کے لئے کوئی اچھا رشتہ مل جائے جس کے ساتھ بیٹی کو رخصت کردے تاکہ وہ اپنے گھر میں تمام آسائشوں کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزار سکے۔ کہتے ہیں جب گھروں میں بیٹیاں جوان ہوجائیں تو والدین کو سوتے جاگتے بس ان کے ہاتھ پیلے کرنے کی فکر کھائے جاتی ہے اور نگینہ کو بھی اب بس اپنی بیٹی کی ہی فکر تھی‘ اسی دوران نگینہ کو ایک خوش خبری ملیر کینٹ راشدی گوٹھ بلاک A کا رہائشی ہے ملی کہ نبیلہ کے رشتے کے چچا لعل جمال اپنے لڑکے فیصل جمال کے لئے نبیلہ کا ہاتھ مانگنے اس کے گھر آرہے ہیں‘ یہ خبر سن کر نگینہ خوشی سے سرشار ہورہی تھی کیونکہ اب اس کی بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنے کی خواہش پوری ہورہی تھی اور پھر مقررہ دن چچا لعل جمال اور ان کی طرف سے دیگر خواتین نگینہ کے گھر آئے اور اپنے لڑکے فیصل جمال کے لئے نبیلہ کا ہاتھ مانگا۔ نگینہ تو اس کام کے لئے پہلے سے ہی تیار بیٹھی تھی لیکن پھر نگینہ نے رسم دنیا نبھاتے ہوئے ان لوگوں سے اپنے لوگوں سے مشورہ کرنے اور سوچنے کا کچھ وقت مانگا جس کے بعد چچا لعل جمال اور دیگر مہمان نگینہ کے گھر سے رخصت ہوگئے۔ نگینہ نے بھی مہمانوں کے جانے کے بعد بیٹی کے رشتے کے حوالے سے اپنے لوگوں سے مشورہ شروع کردیا اور پھر کچھ دنوں کے بعد یہ طے پایا کہ ایک مقررہ تاریخ کو سادہ سی تقریب میں نبیلہ اور فیصل جمال کی بات پکی کردی جائے اور یہ پیغام بھی لعل جمال کے یہاں بھجوادیا گیااور پھر مقررہ تاریخ کو ایک سادہ سی تقریب میں ان دونوں کی بات پکی کردی گئی اور شادی کی تاریخ 3 مہینے کے بعد کی رکھی گئی۔
دن جیسے پر لگاکر اُڑنے لگے اور پھر مئی 2018ء کا دن بھی آگیا‘ جب ملیر کینٹ راشدی گوٹھ کا رہائشی فیصل جمال دولہا بن کر آیا اور لیاری گلستان کالونی کی نبیلہ کو بیاہ کر لے گیا۔ شادی کے بعد نبیلہ جب بھی اپنے میکے آتی خوب چہکتی اور ماں سے اپنے شوہر اور دیگر گھر والوں کے بارے میں باتیں کرتی۔ نبیلہ کو اس طرح چہکتا دیکھ کر نگینہ بھی خوشی سے نہال ہوجاتی اور شکر ادا کرتی کہ اس کی بیٹی اپنے گھر میں آباد ہوگئی ہے جو ہر ماں باپ کی پہلی خواہش ہوتی ہے۔ دن یونہی گزرتے رہے اور نبیلہ کی شادی کو 2 ماہ گزر گئے‘ ایک دن نبیلہ اپنے میکے آئی تو ماں نے دیکھا کہ نبیلہ اس طرح خوشی کا اظہار نہیں کررہی ہے جس کا اظہار وہ پہلے کیا کرتی تھی لہٰذا نگینہ نے نبیلہ کی خاطر مدارت کے بعد جب تھوڑی سی فراغت ہوئی تو آخر اس کی دل کی بات زبان پر آگئی اور آخر ماں نے اپنی بیٹی سے اس اداسی کی وجہ پوچھ ہی لی جس پر پہلے تو نبیلہ نے ماں کو ٹالنے کی کوشش کی کہ کوئی ایسی بات نہیں لیکن پھر ماں کے اصرار پر نبیلہ نے اُداسی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اب میرے سسرال والے میرے یہاں آنے سے روکتے ہیں اور بات بات پر سسر لعل جمال اور شوہر فیصل جمال غصہ کرتے ہیں اور بات بات پر غصہ کرتے ہیں جس کی وجہ سے میں ذہنی طور پر مفلوج ہوتی جارہی ہوں اور اب تو روز روز کی لڑائی کی وجہ سے میرا دل کرتا ہے کہ میں یہاں سے نہیں جائوں۔ نبیلہ کی یہ بات سن کر پہلے تو نگینہ خاموش ہوگئی لیکن پھر شوہر بیوی کی معمولی تکرار کو عام سی بات سمجھ کر دنیا کی تمام مائوں کی طرح اپنی بیٹی کو سمجھایا کہ ایسا نہیں کہتے کیونکہ اب شوہر کا گھر ہی تمہارا اصل گھر ہے اور گھر میں جب 4 افراد رہتے ہیں تو چھوٹی‘ موٹی لڑائیاں ہو ہی جاتی ہیں لیکن نبیلہ یہ ماننے کو تیار نہیں تھی جس پر اس کی ماں نے اُسے مزید سمجھایا اور دوسرے دن اپنے داماد کو بلاکر نبیلہ کو اس کے ساتھ اس کے گھر بھیج دیا‘ پھر کچھ دن سکون سے گزرے لیکن پھر کچھ ہفتوں کے بعد نبیلہ پھر اپنی ماں کے گھر آگئی۔ پوچھنے پر اُس نے پھر وہی باتیں بتائیں کہ سسر اور شوہر اس سے بات بات پر جھگڑنے لگتے ہیں جس میں اب پہلے سے بھی زیادہ تیزی آگئی ہے اور اب تو بات گالم گلوچ اور مار پیٹ پر آگئی ہے جس پر نگینہ نے یہ بات اپنے خاندان کے بڑوں کو بتائی جس پر بڑوں نے دونوں گھر کے لوگوں کو سمجھایا کہ ایک دوسرے کو برداشت کرو جس کے بعد نبیلہ کو اس کے گھر بھیج دیا گیا۔ اب نبیلہ کی شادی کو 8 مہینے گزر چکے تھے اور اس دوران وہ حاملہ بھی ہوگئی تھی کہ 20 نومبر 2018ء کو نگینہ کو بذریعہ فون اطلاع ملی کہ نبیلہ گھر میں کھانا پکانے کے دوران جھلس گئی ہے اور ہم لوگ نبیلہ کو سول اسپتال لے کر آرہے ہیں لہٰذا آپ لوگ بھی اسپتال پہنچو‘ اس اطلاع پر نگینہ حواس باختہ ہوگئی اور فوری اپنے بیٹے کاشف جمال کے ساتھ سول اسپتال کے برنس وارڈ پہنچی جہاں جھلسی نبیلہ بے ہوشی کی حالت میں پڑی تھی۔ نگینہ چونکہ ماں تھی‘ اس لئے وہ نبیلہ کو اس حالت میں دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی کیونکہ اس کا خیال تھا کہ پچھلے کئی مہینوں سے جس طرح اس کے سسرال والے نبیلہ کے ساتھ ظلم کررہے تھے‘ اس سے قوی امید ہے کہ کھانا پکانے کے دوران نبیلہ جھلسی نہیں بلکہ اسے آگ لگائی گئی ہے لیکن نبیلہ کی اس وقت کی حالت دیکھ کر نگینہ اس سے کچھ پوچھ نہیں سکتی تھی کیونکہ نبیلہ اس وقت شدید بے ہوشی کی حالت میں تھی اور ڈاکٹرز اس کی زندگی بچانے کی تگ ودو میں لگے ہوئے تھے۔
نبیلہ برنس وارڈ میں تقریباً 15 دن زندگی اور موت کی کشمکش میں رہی بالآخر زندگی کی بازی ہار گئی اور دوران علاج موت کو گلے لگالیا۔ اس دوران نبیلہ کی طبیعت کبھی کچھ بہتر ہوتی اور وہ پوری طرح ہوش میں آجاتی لیکن تکلیف کی شدت اس سے برداشت نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ دوبارہ بے ہوش ہوجاتی تھی‘ اس دوران اسپتال میں ملیر کینٹ پولیس بھی آئی اور نبیلہ نے پولیس افسر کو بیان بھی دیا کہ وہ کھانا بناتے ہوئے آگ لگنے سے جھلس گئی جس کے کچھ دنوں کے بعد نبیلہ دوران علاج دم توڑ گئی‘ متوفیہ کی موت نے نگینہ کو بُری طرح دلبرداشتہ کردیا تھا۔ نگینہ کا اب بھی خیال تھا کہ نبیلہ کھانا بناتے ہوئے جھلسی نہیں بلکہ اُس کو آگ لگائی گئی ہے جس کے اس کے پاس کچھ ثبوت بھی تھے جس کا اظہار نگینہ نے اسپتال میں آئی پولیس سے بھی کیا۔ تاہم نبیلہ کی موت کے بعد پولیس نے قانونی کارروائی کرنے کے بعد متوفیہ کی نعش ورثاء کے حوالے کردی تاہم تدفین کے بعد متوفیہ کی والدہ نگینہ نے پولیس کے سامنے اپنے خدشات کا اظہار کیا جس پر ملیر کینٹ پولیس نے متوفیہ نبیلہ کی والدہ نگینہ کا بیان لیا جس میں نگینہ نے بتایا کہ میں لیاری گلستان کالونی شمع چوک کے قریب کرائے کے گھر میں اپنے بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہوں اور میرے شوہر رفیق جمال کا عرصہ 7 سال قبل انتقال ہوگیا۔ میرے 5 بیٹے اور 2 بیٹیاں ہیں‘ میں نے اپنی بیٹی نبیلہ کی شادی مئی 2018ء میں فیصل جمال سے کرائی تھی جو کہ ملیر کینٹ راشدی گوٹھ بلاک A میں رہائش پذیر ہے اور میری بیٹی نبیلہ شادی کے 2‘ 3ماہ بعد ہی سسرال سے ناراض ہوکر واپس گھر آگئی تو میں نے اس سے اس طرح آنے کی وجہ پوچھی جس پر میری بیٹی نے مجھے بتایا کہ میرا سسر لعل جمال اور میرا شوہر جو مجھ سے لڑتے جھگڑتے ہیں اور غلط قسم کی باتیں اور گالم گلوچ کرتے ہیں‘ ان لوگوں نے میرا جینا حرام کردیاہے‘ مورخہ 20 نومبر 2018 کی شام تقریباً 8/7 بجے بذریعہ فون میرے ماموں ولی خان کو میری بہن کے دیور فاروق جمال نے اطلاع دی کہ نبیلہ کھانا بناتے ہوئے جل گئی ہے‘ جوکہ سول اسپتال میں ہے ‘ اطلاع پر میں اور میرا بھائی ولی خان سول اسپتال پہنچے تو میر ی بہن جو کہ بیہوش تھی اور بری طر ح سے جھلسی ہوئی تھی‘ پھر اسپتال میں پولیس افسر کے آنے پر میری بیٹی نے بیان دیا کہ میں کھانا بناتے ہوئے جلی تھی‘ دوران علاج ومعالجہ میں نے اپنی بیٹی سے پوچھا کہ جو حقیقت ہے وہ مجھے بتائوآپ کسی کے پریشر یا دبائو میں نہیں آئو جس پر میری بیٹی نے مجھے بتایا کہ میرے سسر اور شوہر نے مجھے ڈرایا دھمکایا ہے کہ اگر ہمارے خلاف بیان دیاتو اچھا نہیں ہوگااور اسپتال میں میرے بہنوئی مختار نے میری بیٹی کا ویڈیو بیان ریکارڈ کیا‘ جوکہ ہمارے پاس ثبوت ہے ‘ مورخہ 5 دسمبر 2018 ء کی صبح تقریباً 10 بجے میری بیٹی نبیلہ اسپتال میں دوران علاج انتقال کرگئی تھی‘ میںاپنی بیٹی کی تدفین کے بعد اب تھانے آئی ہوںاور میرا دعویٰ ہے کہ فیصل جمال اور اس کے والد لعل جمال نے میری بیٹی کو آگ لگائی ہے جوکہ بعد میں علاج ومعالجے کے دوران اسپتال میں فوت ہوگئی‘ان کے خلاف کارروائی چاہتی ہوں‘ متوفیہ نبیلہ کی والدہ نگینہ کے اس بیان کے بعد ملیر کینٹ پولیس نے واقعہ کا مقدمہ الزام نمبر197/2018 درج کرکے تفتیش کا آغاز کرتے ہوئے متوفیہ نبیلہ کے شوہر فیصل جمال اور سسر لعل جمال کو حراست میں لے کر تفتیش کا آغاز کیا‘ اس ضمن میں ملیر کینٹ پولیس نے بتایا کہ ملیر کینٹ کے علاقے راشدی گوٹھ کچی آبادی میں 20 نومبر کو گھر میں جھلس کر زخمی ہونے والی 22 سالہ نبیلہ زوجہ فیصل جمال کو تشویشناک حالت میں برنس وارڈ لے جایا گیاتھا‘ جہاں 5 دسمبر کو اس نے دوران علاج دم توڑ دیا‘ ایس ایس پی عرفان بہادر کے مطابق متوفیہ کی ماں کا کہنا ہے کہ اس کی بیٹی کو شوہر فیصل جمال اور سسر لعل جمال نے گھریلو جھگڑے کے دوران آگ لگا کر مارا ہے‘ ان کا مزید کہنا ہے کہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق متوفیہ 7 مہینے کی حاملہ بھی تھی۔
جبکہ متوفیہ کی والدہ نگینہ نے نمائندہ قومی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 7 سال قبل میرے شوہر کا انتقال ہوگیاتھااورگھر میں ایک جوان لڑکا کاشف جمال ہے جور نگ کا کام کرتا ہے اور وہ جو کچھ لے کر آتا ہے‘ اس سے ہمارا گزارا مشکل سے ہوتا ہے اور گھر بھی ہمارا کرائے کا ہے‘ خرچہ پورا نہ ہونے کی وجہ سے میں بھی گھروں میں کام کرتی ہوں‘جس سے ہمارا گزارا وقات مشکل سے ہی ہوتا ہے‘ میں بڑی خوش تھی کہ میری 2 میں سے ایک بیٹی اپنے گھر کی ہوگئی‘ جبکہ میرے 5بیٹوں میں ایک ہی کچھ کمانے کے قابل ہے‘ باقی ابھی سب چھوٹے ہیں‘ متوفیہ 7 بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھی اور 8 ماہ قبل ہم نے اس کی شادی اپنے شوہر کے چچازاد بھائی کے بیٹے سے کروائی تھی‘ شادی میں ہم سب ہی خوش تھے کہ ہماری بیٹی اپنے گھر کی ہوگئی اوراب وہ خوش وخرم زندگی اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ گزارے گی‘ اس دوران میں وقتاً فوقتاً فون پر اپنی بیٹی سے بات کرکے اس کا حال احوال پوچھ لیا کرتی تھی اور کبھی کبھار میری بیٹی نبیلہ ہمارے گھر آجایا کرتی تھی ‘ دن یونہی گزررہے تھے کہ شادی کو 2 مہینے گزرچکے تھے‘ ایک دن اچانک نبیلہ ہمارے گھر آگئی‘ میں اسے دیکھ کر خوش ہوگئی اور اس کی خاطر داری کے انتظامات کرنے لگی‘ اس دوران میں اس سے ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگی‘لیکن باتوں کے میں نے محسوس کیاکہ نبیلہ میری باتوں کوخاص توجہ سے نہیں سن رہی ہے اور باتوں کا جواب بھی صرف ہوں اور ہاں میں دے رہی ہے‘ میںباتوں کو جاری رکھتے ہوئے اس سے اس کے شوہر اور دیگر گھروالوں سے متعلق کئی سوالات کئے ‘ جس کا اس نے صرف جزوی سا جواب دیا‘ شروع میں تو میں یہ سمجھی کہ شاید نبیلہ کی طبیعت خراب ہے اور اس کا بات کرنے کو دل نہیں چاہ رہا ہوگا‘ جس کی وجہ سے میں نے نبیلہ سے کہا کہ تم دور سے آئی ہو‘ تھک گئی ہوگی‘ لہٰذا تم اندر کمرے میں جاکر آرام کرلو‘ جس پر نبیلہ کچھ کہے بغیر آرام کی غرض سے اندر کمرے میں چلی گئی او رمیں اس کے لیے کھانا وغیرہ کا انتظام کرنے لگی ‘ جب کھانا پکانے سے فارغ ہوئی تو میںکمرے میں گئی ‘ جہاں میرے خیال میں نبیلہ سورہی ہوگی‘ لیکن جب میں کمرے کے اندر گئی تونبیلہ کو میں نے جاگتے ہوئے پایا‘ جس کو دیکھ کر مجھے کچھ حیرت ہوئی ‘ لیکن میں نے اپنی حیرت کو اپنے ذہن سے جھٹک دیااورمیں نے نبیلہ کو کھانا کھانے کے لیے کہا‘ اس دوران اس کے تمام چھوٹے بہن بھائی بھی گھر آگئے اور اپنی بہن کو دیکھ کر خوش ہوئے ‘ جس کے بعد گھر میں جیسے ایک ہنگامہ برپا ہوگیا‘ ا س کے سارے بہن بھائی خوش تھے کہ اتنے دنوں بعد بہن گھر آئی ہے ۔ وقتی طورپر میں نے نبیلہ کے چہرے پر بھی خوشی دیکھی ‘ لیکن یہ خوشی کی لہر جیسے آئی تھی ‘ویسے ہی گزرگئی‘ جس کے بعد نبیلہ کے چہرے پر پھر اداسی نے اپنا ڈیرہ جمالیا‘ نبیلہ کے چہرے کے تاثرات میں بہت دیر سے نوٹ کررہی تھی‘ لیکن پھر میں نے سب لوگوںکوکھاناکھانے کا کہا‘ جس پر سب لوگ کھانے کے دوران آکر بیٹھ گئے‘ نبیلہ بھی بادل نخواستہ ہمارے ساتھ کھانے میں شریک ہوگئی اور پھر تھوڑا بہت کھانا کھا کر وہ اٹھ گئی جب سب لوگ کھانا کھا چکے تومیںنے برتن سمیٹااور کچن کا کام ختم کرکے میں نبیلہ کے پاس آکر بیٹھ گئی‘ شروع میں اس سے اس کی اداسی کی وجہ پوچھی ‘ جس پر اس کا چہرہ اتر گیااور وہ روہانسی سی ہوگئی‘ جس کو دیکھ کر میں بھی کچھ روہانسی سی ہوگئی‘ لیکن پھر جب ہم دونوں جذبات کے سمندرسے نکلے تو میں نے پھر اس سے سوال کیا کہ آج تمہاری اداسی کی وجہ کیاہے‘ جس پر اس نے بتایا کہ شوہر فیصل اور سسر مجھ سے اب چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑے ہیںاور ان کا کہنا ہوتاہے کہ تمہیں ہر ہفتے اپنے میکے جانے کی کیا پڑی ہوئی ہے ‘ اب تم نہ ہی اپنے میکے جائو گی اور نہ ہی ان سے کوئی تعلق رکھو گی‘ میرے احتجاج کرنے پر یہ لوگ مجھ کو برا بھلا کہتے ہیںاور گالم گلوچ کرتے ہیں‘ جس پر میں بھی سوچ میں پڑ گئی‘ لیکن پھر اس کو سمجھایا کہ تمہار ے شوہر کا گھر ہی تمہارا گھر ہے اور تمہیں اگر میر ے پاس آنا ہوتو بڑے تحمل سے اپنے شوہر سے بات کرو‘ وہ تمہیں ضرور لے کرآئے گا‘ جس کے بعد میں نبیلہ کو سمجھا بجھا کر واپس سسرا ل بھیج دیا‘ لیکن اب یہ تقریباً ہر مہینے کا ایک سلسلہ بن گیاکہ میری بیٹی وقتا ً فوقتا ً ناراض ہوکر گھرآ جاتی لیکن میں اسے سمجھا بجھا کر اسے واپس گھر بھیج دیتی ۔
اب نبیلہ امید سے بھی تھی اور اس کی شادی کو بھی تقریباً 8 مہینے گزر گئے تھے‘ اس وقت وہ سات مہینے کی حاملہ بھی تھی‘ مورخہ 20 نومبر 2018 ء کو ہمیں فون پر اطلاع ملی کہ نبیلہ کھانا بنانے کے دوران جھلس گئی ہے‘ اس اطلاع پر ہم لوگ فوری سول اسپتال پہنچے ‘ جہاں نبیلہ شدید جھلس ہوئی حالت میں بیہوش پڑی تھی‘ تاہم علاج ومعالجے کے دوران ہوش میں آنے پر متوفیہ نے پہلے تو ہمیں بتایا کہ وہ کھانا بنانے کے دوران جھلسی ہے ‘ لیکن جب ہم نے اس سے اکیلے میں بات کی تو اس نے بتایا کہ اس کو اس کے سسر اور شوہر نے آگ لگائی ہے اور انہوںنے دھمکی دی ہے کہ اگر یہ بات تم نے کسی کو بتائی تو تم لوگوں کے ساتھ بہت برا ہوگااور متوفیہ کے اس بیان کو ہم نے ویڈیو ریکارڈ بھی بنالیاہے‘ جو ہمارے پاس ملزمان کے خلاف ثبوت ہے ‘ جبکہ گرفتار ملزمان فیصل جمال اور لعل جمال نے نمائندہ قومی اخبار کو بتایا کہ جب نبیلہ کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا تو اس وقت ہم لوگ گھر میں موجود ہی نہیں تھے اور ہمیں شک وشبہ کی بناء پر پولیس نے گرفتار کیا ہے‘ مرنے والی میری بھتیجی اور بہو تھی‘ میں اسے جان سے مارنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ‘ واقعے والے روز گھر پر متوفیہ کی ساس بہو اورنواسی موجود تھی اور گھر میں ایسے سنگین قدم اٹھانے کی جرأت کوئی کس طرح کرسکتا ہے‘ ہم تو بیان دینے تھانے آئے تھے کہ مقتولہ کی ماں کی نشاندہی پر پولیس نے ہمیں گرفتار کیا ہے‘ جبکہ متوفیہ کے بھائی کاشف جمال نے نمائندہ قومی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کوئی ملزم کبھی نہیں کہے گا کہ اس نے یہ جرم کیا ہے ‘ بالکل اسی طرح گرفتار ملزمان بھی اپنے آپ کو بچانے کے لیے یہ بیان دے رہے ہیں کہ متوفیہ کو آگ انہوںنے لگایا ‘بلکہ نبیلہ کھانابناتے ہوئے جھلس گئی ہے‘ کاشف کے مطابق 2 سال قبل ملزم لعل جمال کے بھائی کے گھر میں بہو کو آگ لگانے کا واقعہ ہواتھا‘ جس میں ان لوگوں نے بہو کے گھر والوں کو 30 ہزار روپے قصاص دے کر اپنی جان چھڑائی تھی ‘لیکن ہم لوگ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے ‘ ہماری اعلیٰ عدلیہ سے اپیل ہے کہ وہ ملزما ن کو کٹہرے میں لا کر ہمیں انصاف فراہم کریں‘ جبکہ کینٹ تھانے کے ڈیوٹی افسر گلبہار نے قومی اخبار کو بتایا کہ مقتولہ کی ماں کی نشاندہی پر پولیس نے ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے ‘ ملزمان نے اعتراف جرم نہیں کیا‘ بلکہ ان کا کہنا ہے کہ ان کے والد واقعہ والے دن شدید علیل تھے اور وہ اس وقت اسپتال میں موجود تھے اور انہیں بذریعہ فون اس واقعہ کی اطلاع ملی تھی‘ پولیس نے ملزمان کے بیانات قلمبند کرلئے ہیں اورپولیس ملزمان کا موبائل ڈیٹا اور سی ڈی آر ریکارڈ نکلوائے گی جس سے معلوم ہوسکے گا کہ واقعہ کے وقت ملزمان کی موبائل لوکیشن کہاں کی تھی‘ جس سے حقیقت واضح ہوجائے گی‘ جبکہ متوفیہ کے قریبی عزیز عبدالرحمن کے مطابق ہمارے پشتون جرگے نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ چونکہ متوفیہ نبیلہ کے سسرالی اور ا س کے گھر والے آپس میں قریبی رشتہ دار ہیںتو ان لوگوں کا آپس میں راضی نامہ کروادیاگیاہے ‘ جبکہ ملیر کینٹ تھانے کے انچارج تفتیشی افسر اسد اللہ انصاری نے نمائندہ قومی اخبار سے گفتگوکرتے ہوئے بتایا کہ متوفیہ کا پوسٹ مارٹم رپورٹ ابھی پولیس کو موصول نہیں ہوئی ہے‘ رپورٹ آنے کے بعد یہ تفتیش مکمل کی جائے گی‘ تاہم ملزم اور مدعی کے کچھ قریبی عزیزوں ن ے پولیس سے رابطہ کیا جس میں انہوںنے بتایا کہ ان دونوں خاندانوں کا راضی نامہ کروادیاگیاہے‘ لہٰذا آپ ملزمان کو رہا کردیں‘ جس پر پولیس نے انہیں بتایا کہ آپ لوگ معزز عدالت سے رابطہ کرلیں‘ جبکہ پولیس اپنی رپورٹ معزز عدالت میں پیش کرے گی اور معزز عدالت جو بھی فیصلہ کرے اس پر پولیس من وعن عمل کرے گی‘ تاکہ انصاف فراہم کیاجاسکے۔

(242 بار دیکھا گیا)

تبصرے