Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 20 جنوری 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News ! Best Urdu Website in World

کرپشن کا خاتمہ ، امید سے یقین تک کا سفر

ویب ڈیسک جمعرات 20 دسمبر 2018
کرپشن کا خاتمہ ، امید سے یقین تک کا سفر

پاکستان کو درپیش مسائل سے تو آپ سب واقف ہی ہیں لیکن دیگر اہم مسئلوں کی طرح ایک اہم مسئلہ کرپشن بھی ہے یا یوں کہیں کہ دہشتگردی کے بعد دوسرا بڑا اور اہم ترین مسئلہ کرپشن ہے۔ کرپشن ایک ایسا مرض ہے جس کا علاج ممکن ہے مگر پاکستان میں اسے لاعلاج سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے کا ہر دوسرا شخص اس بیماری میں مبتلا ہے۔ سیاسی رہنما کرپشن کے خلاف تقریریں تو کرتے ہیں لیکن کرپشن کی وجوہات پر بات نہیں کرتے اور نا ہی اس کے خاتمے کے لئے کردار ادا کرتے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت میں کرپٹ لوگ موجود ہیں اور اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اکثر کچھ حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کرپشن کے ذمہ دار صرف اور صرف سیاستدان ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ چند سیاسی رہنماؤں نے کرپشن کے ریکارڈ قائم کررکھے ہیں مگر صرف سیاستدانوں پر ملبہ ڈال کر ہم اس مرض سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے۔
اب تو ہر شعبے اور ادارے میں کرپشن اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ہر صحافی کرپٹ نہیں مگر اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ صحافی بھی کرپٹ ہوتے ہیں، جو اپنے ذاتی مفادات کے لئے کرپٹ سیاسی رہنماؤں کو سپورٹ کرتے ہیں، ان کی طرف داری کرتے ہیں اور کچھ اینکرپرسن تو یوں گفتگو کرتے ہیں جیسے وہ کسی سیاسی جماعت کے ترجمان ہوں اس کے پیچھے بھی ان کے مفادات ہوتے ہیں۔ ہم وزیروں مشیروں کو تو کرپٹ کہتے ہی ہیں مگر کرپشن کی جڑ بیوروکریسی ہے۔ ہر سرکاری ملازم کرپٹ نہیں مگر اکثریت کرپٹ ملازمین کی ہے۔ کسی بھی ادارے میں چلے جائیں خواہ وہ صوبائی حکومت کے ماتحت ہو یا وفاقی حکومت کے آپ اپنے جائز کام کے لئے اس وقت تک بھٹکتے رہیں گے جب تک آپ کسی سے جوڑ توڑ نا کرلیں۔ بڑے افسران کی بات تو اپنی جگہ اگر کسی نائب قاصد یا چپڑاسی سے بھی واسطہ پڑ جائے تو جب تک چائے پانی کے نام پر رشوت نہیں لے گا آپ کے معمولی مسئلے کو بھی کھینچتا رہے گا۔ یہ بھی سچ ہے کہ لوگ برتھ/ڈیتھ سرٹیفیکیٹ، نکاح نامہ وغیرہ بنوانے کے لئے بھی رشوت نا دیں تو یونین کونسل آفس میں بیٹھے ملازمین آپ کا جائز کام کرنے میں ٹال مٹول کرتے ہیں۔ بات پولیس کی ہو تو ان کے قصے تو مشہور ہیں اور بچہ بچہ ان کے کارناموں سے واقف ہے اور بچے اس لئے بھی واقف ہیں کہ کم عمر بچے جب گاڑیاں چلاتے ہوئے کرپٹ پولیس والوں کے ہاتھ آجائیں تو پھر چائے پانی کے بغیر نہیں چھوڑتے۔ صرف سرکاری ہی نہیں نجی اداروں میں بھی کرپشن کے بغیر کام کروانا ممکن نہیں رہا۔
پاکستان میں آج کل کرپشن کی کہا نی، پاکستانی میڈیا اور ہر خاص و عام کی زبان پر بڑی زوروں سے جاری ہے۔ یہ ریت رہی ہے کہ کچھ ملکوں میں لوگ اقتدار میں آکراپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے ملک کے خزانے لوٹ لیتے ہیں۔ ملک کے اداروں پر اثر انداز ہو کر اپنے کرپشن کو سامنے بھی نہیں آنے دیتے۔ تحریک انصاف کو اقتدار میں آئے ہوئے اتنے دن نہیں ہوئے جتنے مسائل اور مشکلات اْس کے سامنے آکھڑی ہوئی ہیں۔ ہر روز کوئی مسئلہ، ہر روز کوئی مصیبت، ہر روز کوئی پریشانی۔ اگرچہ ان میں سے زیادہ مشکلات اور پریشانیاں معمولی نوعیت کی ہیں، لیکن بے تدبیری بلکہ بدتدبیری کے باعث یہ سنگین ہورہی ہیں۔ حکومت کی سنگین اور خوفناک نوعیت کی مشکلات بھی کچھ کم نہیں ہیں، لیکن وہ چھوٹی چھوٹی مشکلات ہی سے نکل نہیں پارہی۔ چھوٹی چھوٹی مشکلات زیادہ تر اس کی اپنی پیدا کردہ ہیں، اور ان کو حل کرنے میں جس جلد بازی، بے عقلی اور ناتجربہ کاری کا مظاہرہ ہوا ہے اس نے حکومتی مشکلات کو کم کرنے کے بجائے زیادہ کردیا ہے۔ بہرحال مشکلات بڑی ہوں یا چھوٹی، ان کا حل اب حکومت کی ذمے داری ہے۔ اب نہ تو حکومت پچھلی حکومتوں پر ذمے داری ڈال کر بری الذمہ ہوسکتی ہے، اور نہ نعرے لگا کر اور چکنی چپڑی تقریریں کرکے عوام کو بہلا سکتی ہے۔ اْسے کچھ کرنا ہوگا، بلکہ سب کچھ اسے ہی کرنا ہوگا۔ حکومت اور حکمران جماعت کے اندرونی حلقے ان مشکلات کا اعتراف کرتے ہیں اور یہ بھی مانتے ہیں کہ بہت سی مشکلات سے بآسانی بچا جاسکتا تھا لیکن اقتدار کے زعم اور مینڈیٹ کے نشے میں وہی کچھ کیا گیا جو سابقہ حکومتیں کرتی رہی ہیں۔ پارٹی اور حکومت کے سنجیدہ طبقے صرف اس امید پر بہتری کے خواہاں ہیں کہ وزیراعظم چونکہ خود نیک نیت ہیں، حالات کی بہتری کے لیے اْن میں بڑا جذبہ موجود ہے اس لیے حالات آخرکار بہتر ہوجائیں گے۔ اْن کا ماننا ہے کہ اگر اوپر دیانت دار اور ذمے داری کا احساس رکھنے والا موجود ہو تو نیچے سب کچھ ٹھیک ہوجاتا ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ جب وزیراعظم خود کاروبار نہ کرے، کمیشن اور کک بیکس نہ لے، اپنے اور اپنے خاندان کے لیے غیر ضروری سہولتیں نہ لے، تو نیچے کا عملہ یہ سب کچھ کس طرح کرسکتا ہے! بظاہر اس موقف میں خاصی جان نظر آتی ہے اور خود وزیراعظم عمران خان بار بار یہی کچھ کہتے رہے ہیں۔ انہوں نے اس معاملے میں مختلف شخصیات اور ممالک کی مثالیں بھی ایسی ہی دی ہیں جن سے ان کے اس موقف کی تائید ہوتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اوپر کے ایک شخص کے صحیح ہونے سے پورا ملک صحیح ہوسکتا ہے؟ اور کیا کرپشن، کام چوری اور ہیرا پھیری میں گھٹنوں تک دھنسا ہوا پورا نظام محض ایک اچھے شخص کے آجانے سے یکدم درست ہوسکتا ہے؟ یہ لوگ یہ بات بھول رہے ہیں کہ پاکستان میں عمران خان پہلے دیانت دار حکمران نہیں ہیں، ان سے پہلے بھی دیانت داری کے حوالے سے مثال کا درجہ رکھنے والے حکمران رہے ہیں، لیکن ہم ہر روز کرپشن اور خرابی کی دلدل میں دھنستے چلے گئے ہیں۔ قائداعظم سے زیادہ دیانت دار شخص اس صدی میں کون ہے؟ نہ صرف دیانت داری میں وہ اپنی مثال آپ تھے بلکہ مسلمانانِِ برصغیر اور باشندگانِ پاکستان کے مقبول ترین اور غیر متنازع لیڈر تھے۔ یہی نہیں وہ انتہائی معاملہ فہم، بااصول اور ڈٹ جانے والے شخص بھی تھے۔ ان کی ٹیم بھی اعلیٰ درجے کی تھی اور قائد کا ویژن بھی دوررس اور عالمگیریت پر مبنی تھا۔ لیکن کیا اْس دور میں کرپشن، ہیراپھیری اور بے ضابطگیاں موجود نہیں تھیں؟ حالانکہ پاکستان کے عوام نے آگ اور خون کا دریا عبور کرکے یہ ملک حاصل کیا تھا، اْس وقت جذبہ بھی تازہ تھا، لیکن کیا اْسی دور میں بڑے پیمانے پر جعلی کلیموں کا سلسلہ شروع نہیں ہوا، جو ایک عرصے تک جاری رہا۔ اور بہت سے لوگ پاکستان میں منظم جرائم کی پہلی باقاعدہ شکل اسی بوگس کلیم بازی کو قرار دیتے ہیں۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم نواب زادہ لیاقت علی خان اس قدر بااصول تھے کہ اْن کے بچے سرکاری گاڑی پر اسکول نہیں جاسکتے تھے۔ اْن کی جدی پشتی جائداد بلکہ جاگیر بھارت کے چار اضلاع میں پھیلی ہوئی تھی، انہوں نے نہ صرف کوئی کلیم داخل نہیں کیا بلکہ جب شہادت پائی تو اْن کے جسم پر پھٹی ہوئی بنیان اور بینک میں 34 روپے تھے۔ لیکن ان کے دور میں نہ صرف لوگوں نے لاکھوں کی جائدادیں بنائیں بلکہ افسر اور اہلکار بھی دونوں ہاتھوں سے ملک کو لوٹتے رہے۔ اسکندر مرزا ملک کے ایسے صدر تھے جب انہیں ہٹایا گیا تو انہوں نے باقی زندگی انگلستان میں ایک ہوٹل میں منیجر کی نوکری کرکے گزاری، حالانکہ وہ بنگال کے نوابوں میں شامل تھے، لیکن ان کے دور میں کرپشن کی کئی نئی اقسام ایجاد ہوگئیں۔

(109 بار دیکھا گیا)

تبصرے