Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 27 مارچ 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

سرد موسم میں سیاسی گرما گرمی

ویب ڈیسک جمعرات 20 دسمبر 2018
سرد موسم میں سیاسی گرما گرمی

موسم جوں جوں سرد ہوتا جارہا ہے‘ سیاسی موسم پر بھی اس کے اثرات نمایاں ہورہے ہیں۔ سیاسی گرما گرمی بھی بڑھ رہی ہے‘ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کی سیاسی قیادت یک طرفہ احتساب کی بات کررہی ہے۔ ایک دوسرے کے مخالف آپس میں ملنے کے اشارے دے رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کے ایوان میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور آصف زرداری کے درمیان ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنمائوں نے متحدہ اپوزیشن کے واک آئوٹ کے دوران پارٹیوں کے متعدد اہم لیڈر اپوزیشن لابی میں چلے گئے جہاں طویل گفتگو ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات اتفاقیہ نہیں تھی بلکہ اس کا طریقہ کار پہلے طے کیا جاچکا تھا۔ ملاقات میں حکومت گرانے کے حوالے سے آصف زرداری نے مسلم لیگ (ن) کے صدر سے مدد طلب کی۔ آصف زرداری نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن حکومت گرانا چاہے تو ہم تیار ہیں۔ ملاقات میں حکومت کے اتحادی بلوچستان نیشنل پارٹی کے اختر مینگل‘ ایم کیو ایم اور فاٹا کے حکومت سے ناراض 2 ارکان سے متعلق بات کی گئی کہ حکومت نے چند ماہ میں ہی اتحادیوں کو ناراض کردیا ہے‘ اس لئے ناراض حکومتی اتحادیوں سے بات کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ آصف زرداری نے کہا کہ ان کی گرفتاری کی جوباتیں ہورہی ہیں اس پر وہ خائف نہیں۔ پیپلز پارٹی نے اس حوالے سے اپنی حکمت عملی تیار کر رکھی ہے اس لئے اپوزیشن فیصلہ کرے پیپلز پارٹی تیار ہے۔
آصف علی زرداری موسم سرما میں سیاسی گرما گرمی پیدا کرنے کی جستجو میں نظر آ رہے ہیں۔ ان کی حالیہ گرج برس سندھ کے شہر حیدر آباد میں منعقد ہونے والے ایک جلسے سے خطاب کے دوران اس وقت سامنے آئی جب انھوں نے کسی نام یا منصب کے ذکر کے بغیر کہا کہ جن کی مدت ملازت تین سال ہے وہ قوم کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ طاقت صرف پارلیمان کے پاس ہے۔ آپ کا اس سے کیا تعلق ہے؟ آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔‘ آصف زرداری کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالتوں میں 90 لاکھ مقدمات زیرِ التوا ہیں پہلے انھیں نمٹائیں۔ اس خطاب کے علاوہ انھوں نے صحافیوں سے گزشتہ چند دنوں کے دوران ہونے والی گفتگو میں یہ بھی کہا کہ انھیں وسط مدتی انتخابات کے اشارے مل رہے ہیں۔
تجزیہ نگار اور سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کے خلاف مقدمات پختہ ہو رہے ہیں اور اب بات منی لانڈرنگ تک محدود نہیں ہے۔ جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم نے سنہ 2008 سے لیکر 2018 تک سندھ حکومت کا تمام ریکارڈ طلب کیا ہے جو کہ بقول وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو دے دیا گیا ہے۔ مظہر عباس کے مطابق ’تحقیقات بہت باریک بینی سے ہو رہی ہیں اور آصف علی زرداری کو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ انھیں دباؤ میں لانے کے لیے ایسا کیا جا رہا ہے ورنہ وہ موجودہ سیاسی صورت حال میں وسط مدتی انتخابات اور حکومت جانے کی بات کیوں کریں گے؟۔‘ سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ آصف زرداری اور ان کے خاندان کا گھیراؤ تنگ ہو رہا ہے۔ وہ اس کی شکایت بھی کر رہے ہیں۔ مجموعی صورت حال یہ ہے کہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی دونوں کی قیادت کا کہنا ہے کہ انھیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اسی لیے آصف زرداری سخت زباں استعمال کر رہے ہیں جیسی نواز شریف نے اقتدار چھوڑنے کے بعد کی تھی اور بعد میں وہ خاموش ہو گئے۔
’آصف زرداری نے سنہ 2015 میں بھی ایسی باتیں کیں اور اس کے بعد وہ خود ساختہ جلاوطنی میں چلے گئے اور جب تک سابق آرمی چیف جنرل (ریٹائرڈ) راحیل شریف موجود رہے وہ واپس نہیں آئے۔ وہ اپنے خلاف کارروائی کو عمران خان کے علاوہ فوجی قیادت کو بھی مورد الزام ٹھرا رہے ہیں۔ اگر ڈیل ہونی ہوتی تو وہ اس قدر سخت زباں استعمال نہیں کرتے، یہ ڈیل والی نہیں بلکہ جیل جانے والی باتیں ہیں۔‘ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت پر امید ہے کہ صورت حال غیر معمولی نہیں۔ پارٹی کے سینیئر رہنما قمر زماں کائرہ کا کہنا ہے کہ آصف زرداری نے اداروں کو اپنی حدود کے اندر رہ کر کام کرنے کے لیے کہا ہے تو اس میں غلط کیا ہے۔
’اس بیان کا نہ تو جے آئی ٹی سے کوئی تعلق ہے نہ ہی ان پر دائر مقدمات سے۔ کیا ان بیانات سے انھیں (آصف زرداری) کو کوئی ریلیف مل جائے گا؟ ایسا تو نہیں ہو گا۔ ہم نے عدالتوں کا احترام کیا ہے اور فوج کو مضبوط کرنے کی بات کی ہے ہم اس کے سیاسی کردار کی مخالفت کرتے رہے ہیں جو پارٹی کا بنیادی اصول ہے۔‘ پاکستان تحریک انصاف اور اس کے اتحادی گزشتہ کچھ عرصے سے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ آصف زرداری کے خلاف بھی بڑی کارروائی ہونے جا رہی ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کا دعویٰ ہے کہ مارچ سے پہلے جھاڑو پھر جائے گی، خزانہ لوٹنے والے قومی غداری کے مرتکب ہیں پوری قوم عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما تاج حیدر، شیخ رشید کے موقف کو توہین آمیز قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’سیاسی کارکن کے لیے اس سے بڑی توہین کیا ہو گی کہ آپ اسے یہ کہہ کر ڈرائیں کہ آپ جیل چلے جائیں گے۔ یہ جیل کی دھمکی کس کو دے رہے ہیں جو 11 سال جیل میں گزار چکا ہے۔‘
آصف زرداری کا جہاں اسٹیبلشمینٹ کے ساتھ ٹکراؤ رہا وہاں انھوں نے تعلقات میں بہتری کی بھی کوشش کی ہے۔ ایوان صدر میں موجودگی کے وقت انھوں نے کہا تھا کہ یہاں سے میں ایمبولینس میں ہی نکلوں گا، بعد میں نواز شریف کی حکومت میں انھوں نے بیان دیا کہ ہمیں چھیڑا گیا تو ہم اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے جس کے بعد ان کا حالیہ بیان سامنے آیا ہے۔ سینئر تجزیہ نگار اور صحافی کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری کی پوری کوشش کی ہے کہ وہ عمران خان اور اسٹیبلشمینٹ کو خوش کریں، جو کچھ بلوچستان میں سیاسی انجینئرنگ ہوئی وہ اس کا پورا طرح حصہ تھے، اس کے علاوہ بلوچستان عوامی پارٹی کی تشکیل، سینیٹ میں انتخابات، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا چناؤ تاہم اس کے باوجود انھیں کوئی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی اسی لیے انھوں نے تنگ آمد و جنگ آمد رویہ اختیار کیا ہے۔ سینئر صحافی اور تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ موجودہ وقت تحریک انصاف اور اسٹیبلشمینٹ ایک ہی پیج پر نظر آتے ہیں اور ان میں مکمل طور پر ہم آہنگی نظر آ رہی ہے۔ ’اس وقت تک کوئی ایسا ایشو سامنے نہیں جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ شاید پی ٹی آئی یا وزیراعظم عمران خان کسی مسئلے پر خوش نہیں یا اسٹیبلشمینٹ ان سے ناراض ہے، اس طرح عدلیہ سے بھی انھیں کسی بڑے مسئلے کا سامنے نہیں ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں آصف زرداری نے شہباز شریف سے ملاقات کی، غیر تصدیق شدہ اطلاعات کے مطابق انھوں نے نواز شریف سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمرزماں کائرہ کا کہنا ہے کہ نواز شریف سے ملاقات کی خواہش کے اظہار سے وہ لاعلم ہیں تاہم شہباز شریف سے ملاقات اچھنبے کی بات نہیں۔ دونوں اپوزیشن جماعتیں ہیں اور بہت سارے معاملات پر ایڈجسمنٹ کرنی پڑتی ہے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا پڑتا ہے۔ ’پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز دونوں مختلف خیال اور طبقات کی جماعتیں ہیں بعض اوقات سیاسی مجبوریاں ایسا کر دیتی ہیں۔ سنہ 2008 میں ہم دونوں اکٹھے حکومت میں بھی آ گئے تھے۔ سیاست میں ممکنات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا لیکن اس پر ابھی تک کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔‘
سیاست کے ایوانوں ، کافی شاپس، روزمرہ کی بیٹھکیں یا پبلک ٹرانسپورٹ کا سفر ہو ان دنوں ملک کے کونے کونے میں مڈٹرم الیکشن کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ سیاسی و سماجی ، تجارتی و صنعتی اور ریاستی اداروں کے گلی کوچوں اور گھروں کی کھڑکیوں سے قبل از وقت مڈٹرم الیکشن پر بھرپور انداز سے بحث و مباحثہ جاری ہے۔ چند روز قبل وزیراعظم عمران خان نے اپنے اقتدار کے 100 روز مکمل ہونے کے بعد صحافیوں سے ملاقات کے دوران اس امکان کا اظہار کیا تھا کہ قبل از وقت انتخابات ہو سکتے ہیں۔ صحافیوں سے ملاقات کے اسی موقع پر وزیراعظم نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اپنی کابینہ میں شامل وزرا کی کارکردگی سے کچھ زیادہ مطمئن نہیں ہیں اور وہ اپنی کابینہ کے ہر رکن سے 100 فیصد کارکردگی کی توقع رکھتے ہیں۔ صحافیوں سے کی گئی اس ملاقات میں قبل از وقت الیکشن اور وفاقی کابینہ میں اکھاڑ پچھاڑ پر بات چیت کرنے کے کچھ روز بعد ہی وزیراعظم عمران خان نے یہ بیان بھی دیا تھا کہ جو وزیر پرفارم نہیں کرے گا اسے گھر بھیج دیا جائے گا۔ ملک کے چیف ایگزیکٹو کی جانب سے قبل از وقت انتخابات اور وفاقی کابینہ میں ردوبدل کی بات کو سیاسی و سماجی حلقوں میں انتہائی سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور ان افواہوں کو تقویت حاصل ہوئی ہے کہ ملک کے حالات مڈٹرم الیکشن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
ایک سیاسی حقیقت یہ بھی ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے قبل از وقت انتخابات یا مڈٹرم الیکشن سے متعلق کوئی بھی بیان سامنے نہیں آیا بلکہ ملک کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے قائدین نے پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ سے باہر حکومت کے لیے خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے بارہا کہا کہ حکومت آگے بڑھے ، قانون سازی کرے ، ملکی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے خارجہ پالیسیاں بنائے، تمام اپوزیشن جماعتیں ساتھ کھڑی ہوں گی مگر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے اب تک کیے جانے والے تمام اقدامات میں بے یقینی کا عنصر نمایاں رہا۔ وزیراعظم عمران خان کے غیر ملکی دورے ہوں یا پاکستان ہی میں رہ کر آئی ایف ایم کے وفد سے مذاکرات کے نتائج مخالفین کی جانب سے انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

(126 بار دیکھا گیا)

تبصرے