Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 16 فروری 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

باہر بھیجے گئے 11 ارب ڈالرز کا سراغ مل گیا

قومی نیوز جمعرات 20 دسمبر 2018
باہر بھیجے گئے 11 ارب ڈالرز کا سراغ مل گیا

اسلام آباد۔۔۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ میں ملوث حکومتی ارکان کابھی احتساب ہوگا‘ بیرون ملک بھیجے گئے غیرقانونی 11 ارب ڈالرز کا سراغ لگالیا جبکہ بیرون ملک سے غیرقانونی رقوم کی واپسی بھی شروع ہوچکی ہے۔ گزشتہ روز نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں شہزاد اکبر نے کہا کہ دبئی میں جائیدادیں چھپانے والوں کے گرد گھیرا تنگ ہوچکا ہے‘ کس کی دبئی میں کتنی جائیداد ہے؟ معلومات کے تبادلے کا معاہدہ جنوری میں ہوجائے گا۔ برطانیہ میں چھپے بھگوڑوں کی واپسی کے لئے بھی معاہدہ جلد ہوگا‘ ملزموں کی حوالگی کے معاہدے سے لوٹی دولت کی واپسی ممکن ہوگی۔ 11 ارب ڈالر کے اثاثے صرف 26ممالک میں ہیں‘ بیرون ملک سے لائی گئی رقم ابھی کروڑوں میں ہے۔ منی لانڈرنگ کا پیسہ عوام کی فلاح پر خرچ ہوگا۔ شہزاد اکبر نے مزید کہا کہ آصف زرداری کی دبئی میں صرف ایک پراپرٹی ڈیکلیئر ہے‘ مین ہٹن کی جائیداد آصف زرداری کے نام پر ہے‘ جائیداد 2007ء سے آصف زرداری کے نام ہے‘ پراپرٹی کی پارکنگ لاٹ بھی آصف زرداری کے نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری مین ہٹن پراپرٹی کے براہ راست مالک ہیں‘ آصف زرداری نے مین ہٹن جائیداد گوشوروں میں ظاہر نہیں کی۔ دریں اثناء سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی جے آئی ٹی کی رپورٹ میں اومنی گروپ کے انور مجید اور اے جی مجید کو مرکزی ملزم قرار دے دیا گیا‘ سندھ کی اہم شخصیت نے اربوں روپے جاری کروائے‘ حسین لوائی سمیت 30 بینکرز کے نام بھی شامل ہیں۔ منی لانڈرنگ اسکینڈل میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی ہے جس میں اومنی گروپ کے انور مجید اور عبدالغنی مجید کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے‘ کے مطابق رپورٹ میں سابق صدر آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کا نام بھی شامل ہے۔ جبکہ سندھ حکومت کے 2 درجن افسروں کے نام بھی فہرست کا حصہ ہیں‘ حسین لوائی سمیت 30 بینکرز کے نام بھی منی لانڈرنگ رپورٹ میں موجود ہین اور جعلی اکائونٹس میں رقم جمع کرانے والے 20 ٹھیکیداروں کا بھی رپورٹ میں ذکر ہے۔

(386 بار دیکھا گیا)

تبصرے