Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 21 جنوری 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News | Best Urdu Website in World

ہرموسم کی غذا دال

شگفتہ جمال بدھ 19 دسمبر 2018
ہرموسم کی غذا دال

ایک زمانہ تھا کہ دال صرف غریبوں کی غذا سمجھی جاتی تھی ایک زمانے میں پاکستان کے ایک وزیراعظم کے دور حکومت میںجب عوام نے گوشت کی مہنگائی کے خلاف احتجاج کیا تو ان کے مشیر نے مشورہ دیا کہ اگر گوشت مہنگا ہے تو آپ لوگ سبزیاں استعمال کریںمگر آج کے دور میں جب دال کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ دال توکجا غریب کیلیے دو روٹی خریدنا بھی آسان نہیں رہا تاہم دال ایسی غذا ہے جو ہر موسم میںاستعمال ہوتی ہے۔
دال اپنی افادیت کے لحاظ سے کسی طرح گوشت سے کم نہیں بلکہ گوشت کازیادہ استعمال مضر ہے ۔ جب کہ دال ایک بے ضرر اور نہایت مفید غذا ہے ۔ یہاں آپ کو یہ بتاتے چلیں کہ بعض قوموں کی مخصوص غذا ہی دالیں ہیں ۔ کئی قسم کی دالوں میں گیہوں سے چار گنا زیادہ اجزاء لحمیہ اوروٹامنز ہوتے ہیں چاول کے مقابلے میں دالوں میںنمکیات زیادہ ہوتے ہیں ان میں روغنی اجزاء کی مقدار بھی کم ہوتی ہے ۔
بعض لوگ دالوں کاچھلکا اتار کر پکاتے ہیں جس سے اس کے وٹامنز ضائع ہو جاتے ہیں۔ دالوں کی توانائی ان کے چھلکوں میںہوتی ہے جدید تحقیق کے مطابق بعض دالوں کو چھلکے سمیت تیز آنچ کے بجائے دھیمی آنچ پرپکانا چاہیے کیونکہ تیز آگ سے بہت سے مفید اجزاء جل جاتے ہیں ۔دالوں کے ساتھ سیاہ زیرہ‘ بڑی الائچی اورکالی مرچ ڈالنا مفید ہے ۔ سردیوں میں ادرک ڈال کر آپ دال کا ذائقہ مزید خوش ذائقہ بنا سکتی ہیں ۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ کون کون سی دالوں میںکیا خوبیاں ہیںیعنی جودال آپ کھا رہے ہیں ان کے طبی فوائد کیاکیا ہیں؟
مونگ کی دال
یہ زود ہضم ہے اورہلکی بھی اسی لئے ڈاکٹر عام طور پر مریضوں کو مونگ کی دال یا اس کی کھچڑی کھانے کی ہدایت کرتے ہیں ۔ اس میںوٹامنز اے اور سی کی وافر مقدار پائی جاتی ہے ۔ یہ دل کو تقویت دیتی ہے خون‘ گوشت اور طاقت بڑھاتی ہے تاہم بادی مزاج دالوں کے لیے مضر ہے ۔ اس میںگھی ‘ سیاہ مرچ اورسیاہ زیرہ ڈالنا مفید ہے ۔ بخار کی صورت میں اس میںگھی نہیں ڈالنا چاہیے ۔
موٹھ کی دال
یہ گرم اورخشک مگر ہلکی ہوتی ہے بلغم کو دور کرتی ہے جسم کے بڑھے ہوئے مواد کوخشک کرتی ہے اورطاقت بخشتی ہے ۔
ارہر کی دال
مزاج کے اعتبار سے گرم‘ خشک اور طاقت بخش ہے بلغم دور کرتی ہے دھنیا اور ہینگ ڈال کر استعمال کی جائے تو اس کی افادیت بڑھ جاتی ہے۔
چنے کی دال
گرم اورخشک مزاج ہے خون صاف کرتی ہے بھوک لگاتی ہے چنے کی دال رات کو دودھ میں بھگو کر صبح کچل کر دودھ میں شکر ملا کر پینے سے توانائی ملتی ہے ۔ کمزور معدے والوں کے لیے مضر ہے۔
ماش کی دال
گرم تر‘بے حد مقوی ‘ ثقیل اورقابض ہے موٹاپا‘کھانسی ا ور دمہ کے مریضوں کے لیے مضر ہے ۔ جگر‘ بدہضمی‘ اورقبض کے مریضوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے ۔ اسے زود ہضم بنانے کے لیے ہینگ‘ سونٹھ اورادرک ڈالنا مفید ہے۔
مسور کی دال
گرم اورخشک ہے چھلکا اتاردینے سے اس کی گرمی کم ہوجاتی ہے ۔ بلغم کو چھانٹتی ہے ۔ پھیپھڑے کے امراض میںاس کاپتلا شوربہ مفید ہے پرانی پیچش اوربلغمی بخار میں فائدہ بخش ہے ۔

(99 بار دیکھا گیا)

تبصرے