Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 16 فروری 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

حکومت کیخلاف صف بندی، نواز، زرداری رابط

قومی نیوز بدھ 19 دسمبر 2018
حکومت کیخلاف صف بندی، نواز، زرداری رابط

اسلام آباد/ کراچی….. پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوگیا۔ نجی نیوز چینل کے مطابق آصف علی زرداری اور نواز شریف کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے اور دونوں رہنمائوں کے درمیان جنوری میں ملاقات متوقع ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر کے رابطے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں طرف سے اس قسم کا رابطہ نہیں ہوا‘ اگر رابطہ ہوتا تو اس میں چھپانے والی کوئی بات نہیں تھی۔ ادھر مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم اورنگزیب نے بھی رابطے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کرے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے اسلام آباد میں کچھ لوگوں کی ملاقات ہوئی ہے اور اس ملاقات میں سابق صدر آصف علی زرداری کی گرفتاری کے اوپر بات کی گئی کہ اگر وہ گرفتار ہوجاتے تو پھر مسلم لیگ (ن) کی پالیسی کیا ہوگی اور ملاقات میں یہ طے پایا کہ اگر نواز شریف اور آصف علی زرداری کی ملاقات ہو بھی جائے تو مسلم لیگ (ن) آصف علی زرداری کی گرفتاری کے بعد پیپلز پارٹی کے ساتھ جڑ کر نہیں بیٹھے گی‘ تاہم اگر آصف علی زرداری گرفتار نہیں ہوتے تو پھر پالیسی بدل سکتی ہے۔دریں اثناء پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عوام پر بھروسہ ہے ، حالات کے مطابق کسی بھی جماعت سے اتحاد کرسکتے ہیں۔  پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے کہا کہ آصف زرداری، شہباز شریف یا ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ عمران خان کی حکومت تو خود گر رہی ہے ،ہم تو چاہتے ہیں نظام چلے ، مڈ ٹرم الیکشن ہوتے ہیں تو یہ دوبارہ آنے کا بھی نہ سوچیں بلکہ یہ 2013ء والی 35 سیٹیں بھی نہیں لے پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نیب قانون میں ترمیم سمیت ہر اس چیز کے لئے تیار ہیں جس سے پاکستان بہتر ہوسکتا ہے، پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں عمران خان کی حکومت کو گرانے کی کیا ضرورت ہے،ان کے پاس آج بھی جو اکثریت ہے وہ اپنی نہیں ، بی این پی مینگل، ایم کیو ایم، دو تین جماعتیں ہیں جن کی اکثریت ہے ، ہم تو چاہتے ہیں یہ نظام چلے ، تحریک لبیک کو کھڑا کرنے سے انہیں 30 سے زائد نشستیں ملیں، جو اب ان سے ناراض ہے ، ہمارے کچھ اداروں نے 30 ،35 اچھے لوگ پکڑ کر د ئیے تھے وہ الیکٹ ایبلز بھی اب ناراض ہیں، کابینہ ایسی تنظیموں سے ملاقاتیں کر رہی ہے جو شک کے دائرے میں ہیں۔علاوہ ازیں پیپلزپارٹی کے رہنما ؤں مولا بخش چانڈیو، ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور پلوشہ خان نے بینظیر ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ احتساب کے نام پر انتقام کی سیاست کی جارہی ہے ، عوام پر بھروسہ ہے ، پی پی پی حالات کے مطابق کسی بھی پارٹی سے اتحاد کر سکتی ہے، اپوزیشن کے ہاتھ باندھنے کی کوشش کی جارہی ہے اور ایک پارٹی کو ہی کھیلنے کا موقع دیا جارہا ہے ، موجودہ کٹھ پتلی حکومت اداروں کو بدنام کررہی ہے-

(363 بار دیکھا گیا)

تبصرے