Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 20 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

جے آئی ٹی کی تہلکہ خیز رپورٹ ، زرداری اور فریال کا بچنا نا ممکن

قومی نیوز منگل 18 دسمبر 2018
جے آئی ٹی کی تہلکہ خیز رپورٹ ، زرداری اور فریال کا بچنا نا ممکن

کراچی …. قرائن یہ بتا رہے اور باخبر ذرائع اس کی تصدیق کر رہے ہیں کہ 2019ء آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے لئے اچھا نہیں ہوگا، آصف زرداری کو بھی اس کا اندازہ ہوگیا ہے۔اس لئے پچھلے دو دنوں میں انہو ں نے حیدر آباد اور ٹنڈو الہ یار میں دو جلسوں سے خطاب کیا،وہ ریاستی اداروں پر آوازیں کس رہے ہیں۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آصف زرداری بھانپ گئے ہیں کہ جے آئی ٹی ملبہ ان پر گرے گا،جے آئی ٹی منی لانڈرنگ میں 32افراد کے خلاف تحقیقات کر رہی ہے۔زرداری اور فریال تالپور ان میں شامل ہیں۔اومنی گروپ کے انور مجید،ان کے بیٹے اے جی مجید گرفتار ہیں۔زیر حراست اومنی گروپ کے چیف فنانشل افسر اسلم مسعود نے جدہ میں پاکستانی حکام کو ویڈیو پیغام میں چشم کشا انکشافات کئے ہیں۔وہ اومنی گروپ کے اشاروں پر چلنے والے درجنوں جعلی اکائونٹس کا کچا چٹھہ کھول چکے ہیں۔یہ انتہائی سنسنی خیز انکشافات ہیں جے آئی ٹی نے ٹھوس شواہد حاصل کر لئے ہیں اور اپنی اس رپورٹ میں بتایا ہے کہ سندھ میں رشوت ستانی سے موصول رقوم مربوط سکیم کے ذریعے کیسے بے نامی اکائونٹس میں پہنچتی تھیں اور وہاں سے اومنی گروپ کے کاروبار اور دوسرے اثاثوں میں سرایت کر جاتی تھیں، اے جی مجید یہ رقوم ہنڈی اور حوالے کے ذریعے دبئی منتقل کرتا رہا ہے جس سے لندن، کینیڈا،فرانس اور دبئی وغیرہ میں باقاعدہ اثاثے بنائے گئے ہیں، جے آئی ٹی نے ان اثاثوں کی تفصیلات بھی حاصل کر لی ہیں۔کیش کے تھیلوں کا روزانہ اندازہ چار سے پانچ کروڑ روپے ہوتا تھا،اس سے منسلک ایک شخص کو گرفتار بھی کیا گیا ہے ، یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سیاسی سرپرستی میں بینکوں سے مشکوک اکائونٹس پر 80ارب روپے کے قرضے حاصل کئے گئے۔ان قرضوں پر سود کی ادائیگی رشوت سے حاصل کردہ رقوم سے کی گئی ،اومنی گروپ کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے سیاسی دبائو پر بینکوں نے قرضے ری شیڈول کئے۔یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اومنی گروپ بلاول ہائوس کراچی ،اسلام آباد،نوڈیرو اور نواب شاہ کے لئے ایک کروڑ 30لاکھ ماہانہ اخراجات کی ادائیگی کرتا تھا۔بچوں کی سالگرہ کے کیک بھی انہی اکائونٹس سے خریدے جاتے تھے۔ماڈل ایان علی کا بھی دلچسپ کردار سامنے آیا ہے ،تحقیقات کے مطابق جعلی بینک اکائونٹس میں ایک زرداری گروپ کا بھی ہے ، اسی سے ایان علی کو ادائیگی کی گئی تھی، پچھلے ماہ ایان علی نے ایک ٹویٹ میں ویڈیو بھی شیئر کی تھی جس میں ایان علی نے بتایا تھا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر سابق صدر کے پرسنل اسسٹنٹ مشتاق احمد اور رحمان ملک کے بھائی کو بھی میرے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے ، ایان علی نے سوال اٹھایا تھا کہ ان دونوں افراد کو میرے ساتھ کیوں گرفتار نہیں کیا گیا۔ایان علی کا کہنا تھا در اصل یہ کسی اور کا کام تھا جو وہ کیا کرتی تھی۔اس معاملے میں مشتاق احمد بڑا اہم کردار ہے اور اس کی تلاش جاری ہے۔خیال ہے وہ ملک سے فرار ہوچکا ہے ، آصف زرداری جب 2008ء میں صدر بنے تھے تو مشتاق احمد نے ایوان صدر میں نوکری حاصل کی تھی وہ گریڈ 12 میں سٹینوگرافر کی حیثیت سے داخل ہوا ، پھر اسے گریڈ 16 میں ترقی دے دی گئی، اس کے بعد وہ آصف زرداری کے ساتھ منسلک رہا۔جے آئی ٹی کی رپورٹ 24دسمبر کو سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی اور اس کے بعد کے مراحل بہت اہم ہوں گے۔آصف زرداری اور فریال تالپور جمعہ تک عبوری ضمانت پر ہیں۔بینکنگ کورٹ سے ان کی عبوری ضمانت میں تین تین بار توسیع ہوچکی ہے اور اگر اس بار بینکنگ کورٹ نے ضمانت میں توسیع نہ کی تو یہ بات خارج از امکان نہیں کہ گرفتار ہو ں گے۔

(382 بار دیکھا گیا)

تبصرے