Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 27 مارچ 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

پاکستان کا دورہ جنوبی افریقہ

کلیم عثمانی پیر 17 دسمبر 2018
پاکستان کا دورہ جنوبی افریقہ

کارکردگی میں عدم تسلسل کیلئے مشہور پاکستان ٹیم نے یواے ای میں حالیہ معرکوں کے دوران بھی اتار چڑھاؤ دیکھے ۔آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں جیتنے کا موقع گنوایا،دوسرے میں حیران کن کم بیک کرتے ہوئے فتح کے ساتھ سیریز بھی اپنے نام کی،تیسرے میں پہلی اننگ میں برتری کے باوجود گرین شرٹس نے چارد ن میچ اپنے قابو میں رکھنے کے بعد بھی شکست کا سامنا کیا اور وجہ گرین شرٹس کی دغاباز بیٹنگ رہی، اس انداز میں ہمت ہار جانے پر کھلاڑی، کوچنگ اسٹاف، مینجمنٹ اور شائقین سب مایوسی کے اندھیروں میں ڈوب گئے،آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں بجھے بجھے نظر آنے والے یاسر شاہ کا ردھم میں آنا کیویز کے لیے تباہی کا پیغام ثابت ہوا، صرف 41 رنز کے عوض 8 بیٹسمینوں کو پویلین بھیجنے والے یاسر شاہ نے ریکارڈ بک کے صفحات الٹ پلٹ دیئے،یاسر شاہ نے دوسری باری میں 6 وکٹوں کے ساتھ میچ میں 14 شکار کرتے ہوئے عمران خان کا ایک ٹیسٹ میں زیادہ وکٹوں کا ریکارڈ برابر کردیا، حسن علی نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 3شکار کئے، آسٹریلیا کے خلاف 2ٹیسٹ میچز میں ہی 17وکٹیں حاصل کرنے والے محمد عباس اس بار کوئی تہلکہ مچانے میں کامیاب نہیں ہوئے، نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں فیلڈنگ کرتے ہوئے کندھے کی انجری کا شکار بھی ہوئے ۔اگر فٹنس مسائل ختم نہ ہوئے تو دورہ جنوبی افریقہ میں پاکستان اپنے اہم ہتھیار سے محروم رہے گا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں مجموعی طور پر پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ اوپننگ جوڑی کا رہا،مسلسل ناکام رہنے پر ڈراپ ہونے والے محمد حفیظ کی2سال بعد ٹیسٹ ٹیم میں واپسی ہوئی تھی، انہوں نے اننگز میں آسٹریلیا کے خلاف 126رنز بنائے تو محسوس ہوا کہ اپنے تجربے اور فارم کی بدولت کم ازکم یواے ای کی سازگار کنڈیشنز میں ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کریں گے لیکن ناکام رہے۔آسٹریلیا کے خلاف دوسری اننگز میں 17پر وکٹ گنوائی، دوسرے ٹیسٹ میں انہوں نے ایک اننگز میں 4، دوسری میں 6 رنز بنائے، نیوزی لینڈ کے خلاف ابوظہبی ٹیسٹ میں 20اور 10رنز اسکور کرسکے، کیویز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں ان کی اننگز 9تک محدود رہی،کیویز کے فالوآن ہونے کی وجہ سے دوسری باری کی ضرورت ہی نہیں پڑی، سینچری کے بعد 6اننگز میں انہوں نے صرف 66رنز بنائے ہیں۔ دوسری طرف امام الحق کی کارکردگی میں بھی تسلسل نہیں ہے، اوپنر نے کیریئر کا پہلا ٹیسٹ آئرلینڈ کے خلاف کھیلا، پہلی اننگز میں 7رنز بنائے۔دوسری میں 74پر ناٹ آؤٹ رہے، لارڈز اور لیڈز میں انگلینڈ کے خلاف دو ٹیسٹ میچز میں انہوں نے مجموعی طور پر 4اننگز میں 56رنز بنائے،گزشتہ ماہ آسٹریلیا کے ساتھ پہلے میچ میں انہوں نے 76اور 48کی اننگز کھیلیں،زخمی ہونے کی وجہ سے دوسرا ٹیسٹ فخرزمان کھیلے اور ڈیبیو میچ میں ہی دونوں اننگز میں مجموعی طور پر 160رنز بنائے، امام الحق واپس آئے تو نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں 6اور 27تک محدود رہے،دبئی میچ میں 9پر وکٹ گنوادی۔محمد حفیظ اور امام الحق کے درمیان سب سے بڑی اوپننگ شراکت آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں رہی جب دونوں نے 205رنز جوڑے،بعد ازاں زیادہ سے زیادہ 37 کا آغاز فراہم کرسکے،پاکستان کا اگلا اور مشکل ترین امتحان دورہ جنوبی افریقہ ہوگا، ابتدا میں ٹیسٹ سیریز کھیلی جائے گی۔گزشتہ دورہ جنوبی افریقہ میں ڈیل اسٹین کی بولنگ پر محمد حفیظ کی اچھل کود اور ناکامیوں سے دنیا واقف ہے،تیز اور باؤنسی وکٹوں پر مہمان ٹیم کی خبر لینے کے لیے کاگیسو ربادا بھی موجود ہوں گے، دورہ جنوبی افریقہ میں اوپننگ جوڑی سے اچھے آغاز کی توقعات وابستہ نہیں کی جاسکتیں۔یواے ای سے زیادہ دیگر ملکوں کی کنڈیشنز میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے فخرزمان نہ صرف کہ محدود اوورز کی کرکٹ بلکہ اس سے قبل ٹیسٹ سیریز میں بھی حریف باؤلرز کو ابتدا میں ہی دباؤ کا شکار کرنے کا مقصد پورا کرسکتے تھے لیکن ان کے انجری مسائل سامنے آگئے ،جنوبی افریقہ میں بہت کم ایسی مثالیں ہوں گی کہ پاکستان کی ٹاپ آرڈر نے پرفارم کیا ہو،اسی کی وجہ سے غیر معمولی دباؤ کا شکار ہونے والی مڈل آرڈر بھی ناکام رہتی ہے۔رواں سال کے آغاز میں دورہ نیوزی لینڈ میں انہی مشکلات کی وجہ سے چیمپئنز ٹرافی کے فاتح گرین شرٹس ایک بھی ون ڈے میچ نہیں جیت پائے تھے، پروٹیز کے خلاف پاکستان کو تینوں فارمیٹ کے میچز کھیلنا ہیں،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹیم میں غیر مستقل جگہ رکھنے والے کھلاڑی کو جنوبی افریقی اٹیک کے رحم وکرم پر چھوڑ دینا مناسب ہوگا، شاہین شاہ آفریدی کی موجودگی میں چلے ہوئے کارتوس کو دوبارہ آزمانے کی منطق سمجھ میں نہیں آتی، کیا سینئر پیسر کی ڈومیسٹک کرکٹ میں فارم اتنی بہتر نظر آئی کہ ان کو انٹرنیشنل چینلج کے لیے تیار سمجھا جائے، اگر ان کو سابق کارکردگی کی بنیاد پر لیا تو پھر نکالا کیوں تھا۔دورہ جنوبی افریقہ میں لیگ سپنر کے ٹرمپ کارڈ ثابت ہونے کا امکان زیادہ نہیں،سلیکٹرز کو سکواڈ تشکیل دیتے ہوئے کنڈیشنز کو پیش نظر رکھ کر بڑے سوچ سمجھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔
مسائل سے اگرچہ نمٹنا مشکل کام ہوتا ہے لیکن جب یہ مسائل ان گنت ہوجائیں تو صورتحال خراب سے خراب ترین ہوجاتی ہے اور ایسی ہی صورتحال کا سامنا آج کل قومی ٹیم کو ٹیسٹ کرکٹ میں ہورہا ہے۔ خامیاں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ سمجھ نہیں آرہا کہ پہل کہاں سے کی جائے۔نیوزی لینڈ کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز میں شکست کے بعد یہ مسائل مزید گھمبیر ہوتے نظر آرہے ہیں۔ صورتحال کس قدر خراب ہے اس کا اندازہ یوں لگائیے کہ اس طرز کی کرکٹ میں نیوزی لینڈ نے 49 سالہ طویل انتظار کے بعد پاکستان کو ہوم گراؤنڈ میں شکست سے دوچار کیا صرف یہی نہیں بلکہ مصباح الحق اور یونس خان کے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان کو متحدہ عرب امارات میں دوسری مرتبہ ٹیسٹ سیریز میں شکست کی ہزیمت اْٹھانی پڑی۔ اس سے پہلے گزشتہ سال سری لنکا نے تو قومی ٹیم کو 2 میچوں کی سیریز میں کلین سوئپ کردیا تھا۔پاکستان کو ٹیسٹ کرکٹ میں جن بڑے مسائل کا سامنا ہے، ان میں میری رائے کے مطابق اعتماد کی کمی، سست رفتار بیٹنگ اور سینئر کھلاڑیوں کی کارکردگی میں تسلسل کا فقدان سرِفہرست ہیں۔بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ کرکٹ پر بھی ایک روزہ کرکٹ کے اثرات منتقل ہو رہے ہیں۔ اکثر و بیشتر ٹیموں نے اس فارمیٹ میں بھی تیز رفتار بیٹنگ شروع کردی ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی رینکنگ میں پہلی پوزیشن پر قابض بھارت نے گزشتہ 10 برسوں میں 84 ٹیسٹ میچوں میں 3.29 کی اوسط سے رنز بنائے۔ اسی طرح آسٹریلیا نے اس عرصے میں 86 ٹیسٹ میچوں میں 3.21 فی اوور کی اوسط سے رنز بنائے، لیکن اگر پاکستان کی بات کی جائے تو قومی ٹیم اس حوالے سے بہت پیچھے ہے اور اس نے اس عرصے میں 74 ٹیسٹ میچوں میں صرف 2.91 فی اوور کی اوسط سے رنز بنائے ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے ممالک میں رنز بنانے کی رفتار کا جائزہ لیں تو پاکستان کی ٹیم اپنی سست رفتار بیٹنگ کی وجہ سے اس فہرست میں 10ویں نمبر پر ہے۔پاکستانی ٹیم میں سب سے بڑی خامی متبادل حکمتِ عملی کا نا ہونا بھی ہے۔ ٹیم کی یکطرفہ حکمتِ عملی یہ ہے کہ اسے ٹیسٹ میچ میں پہلے بیٹنگ کرنے کا موقع مل جائے۔ متحدہ عرب امارات میں تو ہم خاص طور پر اس حکمت عملی پر انحصار کرتے ہیں اور اگر ایسا نہیں ہوپاتا تو باؤلرز جتنی بھی اچھی کارکردگی پیش کریں لیکن بیٹسمین اپنی غیر ذمہ دارانہ بیٹنگ سے اکثر و بیشتر ان کی ساری محنت ضائع کردیتے ہیں۔ایسا ہی کچھ نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے گئے رواں سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران ہوا۔

(183 بار دیکھا گیا)

تبصرے