Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 13 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

آپریشن دکھاوا، تجاوزات پھر سے قائم

قومی نیوز پیر 17 دسمبر 2018
آپریشن دکھاوا، تجاوزات پھر سے قائم

کراچی۔۔۔۔ کراچی میں سرکلر ریلوے کی اراضی واگزار کرانے کے خلاف کارروائی محض دکھاوا ثابت ہوئی ‘ غریب آباد اور اس سے ملحقہ علاقوںمیں کئے گئے تجاوزات کے خلاف ادھوے آپریشن میں وقفہ آتے ہی کیبن اورپتھارے لگنا شروع ہوگئے‘ سندھ حکومت اور ریلوے حکام 5 سال قبل اپنے ہی کرائے گئے سروے پر عمل درآمدسے قاصر ہیں‘ کراچی میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر تجاوزات کے خلاف شروع کئے گئے، آپریشن میں سرکلر ریلوے کی اراضی پر بھی کارروائی شروع کی گئی ‘ تاہم جس مشکوک انداز میں تجاوزات ہٹانے کا عمل شروع ہوا وہ آپریشن 2 روز بعد ہی دکھاوا ثابت ہوگیا‘ سروے کے مطابق کراچی سرکلر ریلوے منصوبے کے لیے اس وقت 360 ایکڑ اراضی کی ضرورت ہے‘ جبکہ 67 ایکڑ زمین پر لینڈ مافیا قابض ہے ‘ بلدیہ، سائٹ ‘ منگھوپیر روڈ حبیب بینک سے اورنگی نالے تک 2 ایکڑ اراضی پر تجاوزات کے ساتھ ساتھ کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، اسی طرح ناظم آباد ‘ مجاہد کالونی اور لیاقت آباد سے گیلانی ریلوے آپریشن تک سواتیس ایکڑ اراضی زمین پر قبضہ کرکے غیر قانونی تجاوزات قائم کی گئی ہیں‘ جبکہ اردو یونیورسٹی سے کراچی یونیورسٹی تک ریلوے کی سوا 4 ایکڑ اراضی پر اس وقت لینڈ مافیا قابض ہیں‘ عدالتی حکم کے بعد کراچی میں ہر بار کی طرح اس بار بھی غریب آبادمیں قائم پرانی فرنیچر مارکیٹ سے اس آپریشن کا آغاز ہوا‘ کچھ مقامات پر ریلوے ٹریک کی جگہ کو بحال کرنے کی کوشش کی گئی‘ ریلوے حکام کاکہنا ہے کہ کراچی میں ریلوے کی اراضی کو وا گزار کرانے کی اصل ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر ہے او ر جب تک ٹریک کے اطراف 100 فٹ تک اراضی واگزار نہیں ہوتی اس پر کام کا آغاز نہیں ہوسکے گا۔

(316 بار دیکھا گیا)

تبصرے