Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 23 جولائی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

تعلیم کے نام پر لوٹ مار

ویب ڈیسک پیر 17 دسمبر 2018
تعلیم کے نام پر لوٹ مار

تعلیم کا حصول ہرپاکستانی کا حق ہے ۔ غریب ہویا امیر سب کے بچوں کیلئے یکساں تعلیم ضروری ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیم کو بھی کاروبار بنادیا گیا ۔ اعلیٰ اور معیاری تعلیم اب غریبوں کیلئے صرف ایک خواب ہی رہ گئی ہے ۔ شہرمیں موجود بڑے بڑے اسکولز کی فیسیں ایک عام آدمی کی ماہانہ تنخواہ سے بھی زیادہ ہیں اس لئے وہ اپنے بچوں کو ان اسکولوں میں داخل کرانے کا تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ عالم یہ ہے کہ ایک نجی اسکول کے تین ڈائریکٹرز کی فی کس تنخواہ پچاسی لاکھ روپے ہے ۔ مختلف اسکول کھل کر لوٹ مار کررہے تھے اور ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں تھا ۔ اب سپریم کورٹ نے اس کا سختی سے نوٹس لیا ہے اور ان اسکولوں کے سروں پر تلوار لٹکا دی ہے ۔ والدین نے ان اقدامات کو انتہائی خوش آئند قرار دیا ہے ۔ سپریم کورٹ نے پاکستان کے بائیس پرائیوٹ اسکولوں کو گزشتہ سات سال کا آڈٹ کرانے کا حکم دیا ہے ۔اسی طرح پانچ ہزار سے زائد ماہانہ فیس وصول کرنیوالے اسکولوں کو فیس میں بیس فیصد کمی کرنے کا حکم دیا ہے ۔ گرمی کی چھٹیوں کی دوماہ کی فیس واپس کرنے یا اسے آئندہ فیسوں میں ایڈجسٹ کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے ۔۔ واضح رہے کہ بڑے بڑے اسکول ماہانہ انیس ہزار سے چالیس ہزار روپے تک فیس وصول کررہے ہیں ۔ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ایف آئی اے نے بائیس نجی اسکولوں کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہیں ۔ اس سلسلے میں پانچ ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں جنھوںنے متعدد اسکولوں کا ریکارڈ قبضے میں لے لیا ہے اور اسٹیٹ بینک کو ان اسکولوں کے اکاونٹس منجمد کرنے کیلئے خط بھی لکھ دئیے گئے ہیں ۔ ایک ماہرتعلیم کہتے ہیں ان اسکولوں میں طالبعلموں کو باور کرایا جاتا ہے کہ وہ تمام طلبہ اور لوگوں سے برتر ہیں ۔ ابتدائی تعلیم کے دوران ہی ان طالب علموں میں یہ احساس پروان چڑھنے لگتا ہے کہ وہ عام لوگوں سے برتر ہیں ۔۔یہ احساس دلانے کیلئے باقاعدہ ان کی ذہن سازی کی جاتی ہے، ماہرین تعلیم کا عرصہ دراز سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ ملک میں یکساں نصاب تعلیم رائج کیا جائے اور حکومت تعلیم کو سرکاری ترجیحات میں شامل کرے ۔ ان بڑے پرائیوٹ اسکولوں کی کمائی کا یہ عالم ہے کہ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ایک اسکول کے نمائندے نے بتایا تھا کہ ان کے اسکول کے تین ڈائریکٹروں کی تنخواہ فی کس پچاسی لاکھ روپے ہے جبکہ اس کے علاوہ دیگرمراعات اس کے علاوہ ہیں جبکہ ایک شخص جو اس اسکول کا سی ای او ہے اس کی تنخواہ اس سے بھی زیادہ ہے ۔ سماعت کے دوران آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں بھی نجی اسکولوں کی جانب سے5 لوگوں کو تنخواہوں کی مد میں 512 ملین ادائیگی کا انکشاف بھی ہوا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے نجی سکول کی ڈائریکٹر خاتون سے سوال کیا کہ کیا آپ 85 لاکھ روپے تنخواہ لے رہی ہیں؟ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ خدا کا خوف کریں بندہ روزانہ نوٹ پھاڑنا شروع کرے،تو بھی ایک ماہ میں 85 لاکھ نوٹ نہیں پھاڑ سکتا۔ کیا ان لوگوں نے یورینیم کی کان لگا رکھی ہے،خسارہ ظاہر کرنے کے لیے کاغذوں میں اتنی تنخواہیں دکھائی جاتی ہیں۔ عدالت نے تمام بڑے نجی اسکولز کو بنیادی فیس میں 20 فیصد کمی کرنے کا حکم دے دیا جب کہ سالانہ صرف 5 فیصد اضافے کا اختیار ہوگا۔آٹھ فیصد تک اضافے کے لیے ریگولیٹری اتھارٹی کی اجازت لازم قراردے دی گئی،عدالت نے حکم دیا کہ تمام سکولز گرمیوں کی چھٹیوں کی آدھی فیس واپس یا دو ماہ میں ایڈجسٹ کریں۔ عدالت نے فیس کے معاملے پر بچوں کو نکالنے یا کسی بھی حالت میں سکول بند کرنے پر پابندی لگا دی۔ایف بی آر کو 21 بڑے سکولز کے ٹیکس ریکارڈ کی مکمل چھان بین اورایف آئی اے کو فوری طور پر نجی سکولوں کے اکائونٹس تحویل میں لینے کا بھی حکم دے دیا۔
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ تعمیر و ترقی اور تربیت میں تعلیم بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ پھر چاہے تعمیر فرد کی ہو یا ملت کی، ترقی اپنی مقصود ہو یا ملک کی اور تربیت خاندان کی کرنی ہو یا معاشرے کی، تعلیم ہی وہ بنیادی عنصر ہے جو انسان کو شعور کے زیور سے آراستہ کرتا ہے۔ تعلیم تربیت اور اخلاق کے عملی مظاہرے کی طرف پہلے قدم کی حیثیت رکھتی ہے جو یہ طے کرتا ہے کہ متعلقہ فرد یا قوم کا آنے والا کل کیسا ہو گا۔ آج دنیا میں ترقی یافتہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں حکمرانی کے منصب پر فائز کسی بھی ملک کی ترقی اور کامیابی کا سرسری جائزہ لینے پر ہی یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اس ساری چمک دمک اور شان کے پیچھے بنیادی طور پر تعلیم کا نظام ہی کھڑا ہے۔ جو ایسے شہری تیار کرتا ہے جو حقیقی معنوں میں فرض شناس اور اخلاق کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں۔ صحیح تعلیم جہاں انسان کو انسانیت سیکھاتی ہے وہیں حب الوطنی کا لازوال درس بھی دیتی ہے۔ قانون کی افادیت کا پرچار کر کے اس کے احترام پر مجبور کر دیتی ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ حقیقی معنوں میں تعلیم ہو، تعلیم کے نام پر دکان نہ چلائی جا رہی ہو۔تعلیم جہاں ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے وہیں ہر شہری کا بنیادی حق بھی ہوتی ہے اور اسی لیے مہذب قومیں تعلیم کو کبھی بھی کاروبار اور تجارت کا ذریعہ نہیں بناتیں، ماسوائے ان کے جن کو اپنے کل سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ بدقسمتی سے ہماری ملکی تاریخ تعلیم کے معاملے میں کچھ خاص نہیں رہی اور نہ ہی آج تک کسی نے اس پر توجہ دینے کی زحمت گوارہ کی ہے۔ سب سے پہلے ہم نے اپنی تعلیم کو دینی اور دنیوی کہہ کر تقسیم کی بنیاد رکھی اور پھر تو گویا تعلیم کی مختلف انواع کا بازار ہی سج گیا۔ جس میں ہر کسی نے اپنی “دکان” کھولنی شروع کر دی۔ عصری تعلیم نے بھی گروہوں اور طبقوں کی شکل اختیار کرلی اور بنیادی طور پر دو ایسے نظام سامنے آئے جن کی “پیداوار” مجموعی طور پر نہ تو ایک دوسرے کو برداشت کرتی ہے اور نہ ہی ایک دوسرے کی جگہ لے سکتی ہے۔ ایک دوسرے کو ’’آزاد خیالی‘‘ کا طعنہ دیتا ہے تو دوسرا پہلے کو بنیاد پرست اور منافرت کا پیامبر گردانتا ۔ دوسری طرف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سرکاری اور غیر سرکاری ادارے مل کر بھی کوئی ایسا نظام وضع نہیں کر سکے جو ایک مسلمان کو اس قابل بنا دے کہ وہ کم از کم اپنے دینی فرائض ہی ٹھیک سے ادا کر سکے۔سرکاری سکولوں اساتذہ نے جب عملا تعلیم اور تربیت کو شجرِ ممنوعہ قرار دے کر تنخواہوں پر نظر رکھ لی تو “بیوپاری” میدان میں اترے اور تعلیم کا ایسا کاروبار شروع کیا جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ جو تعلیم تربیت کی طرف پہلا قدم تھی وہ اتنی منافع بخش تجارت بنی کہ جس میں صرف آمدن ہی آمدن تھی اور نقصان کا ذرا سا بھی اندیشہ نہ تھا۔ دنیا جہان کے مہذب معاشروں میں تعلیم اور صحت کے اداروں کو غیر منافع بخش ادارہ کے طور پر لیا جاتا ہے اور چونکہ دونوں براہِ راست معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں اس وجہ سے ان کے لیئے رجالِ کار بھی خاص طور پر تیار کیئے جاتے ہیں جو مجموعی طور پر بلامبالغہ انسانی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہوتے ہیں۔ لیکن ہم نے نہ صرف یہ کہ ان دونوں اداروں کو منافع کی فلک شگاف بلندیوں تک پہنچا دیا بلکہ افراد بھی وہ استعمال کرنے شروع کر دیئے جو کسی بھی طرح اس کام کے اہل نہیں تھے۔پہلے انگریزی اور اردو میڈیم کا نعرہ لگا اور پھر کسی نے آکسفورڈ اور کیمبرج کے نام پر ’’دکان‘‘ کھولی تو کسی نے امریکن اور برطانوی نظام کا ڈھول پیٹنا شروع کر دیا۔ کسی نے امیروں کو نشانہ بنایا تو کسی نے متوسط طبقے کو تاڑ لیا۔ اسی دوران کچھ اور بیوپاری اٹھے اور جب ان کو اپنی دال گلتی نظر نہ آئی تو انہوں نے ’’دینی ماحول میں عصری تعلیم‘‘ کا نعرہ لگا کر ایک نیا بازار سجا لیا اور اسلام کا تڑکا لگا کر وہی بیچنے لگے جو دوسرے لیے بیٹھے تھے۔آج عملی طور پر سرکاری اسکول غربت کی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ اکثر طبقوں کے لیئے گالی کی حیثیت رکھتا ہے تو پرایئویٹ سکول فیشن کی طرح ہماری رگوں میں اتر چکا ہے۔ غریب سے غریب انسان بھی یہ کوشش کرتا ہے کہ اس کے بچے کسی پرایئویٹ اسکول میں پڑھیں پھر چاہے فیس کے لیے خود کو ہی کیوں نہ بیچنا پڑے۔ اور اس کی بنیادی وجہ ہماری ’’ناک‘‘ کے ساتھ ساتھ وہ احساسِ کمتری بھی ہے جو ہماری رگوں میں بیٹھ چکا ہے۔ غیر شعوری طور ہم یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ ترقی کے لیے پرائیویٹ سکول کے ساتھ ساتھ انگریزی بھی اتنی ہی ضروری ہے پھر چاہے مادری زبان سے ہاتھ ہی کیوں نہ دھونا پڑیں۔ یہی وہ احساس کمتری ہے جس کے تحت والدین ’’امی ابو‘‘ کے بجائے ’’ممی پاپا‘‘ کہلوانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ بچے کو شکریہ کے بجائے ’’تھینک یو‘‘ سکھاتے ہیں اور اللہ حافظ کے بجائے ’’بائے بائے اور ٹاٹا‘‘ کہلوانے میں فخر محسوس کیا جاتا ہے۔ سکولوں نے تجارت کو مضبوظ کرنے کے لیے ایسا جال بن رکھا ہے کہ جو معصوم ابھی ٹھیک سے بول بھی نہیں پاتا اس کو سکول میں داخل کروانا پڑتا ہے۔ جو عمر لاڈ اٹھوانے کی ہوتی ہے اس میں بستہ اٹھوا دیا جاتا ہے۔ جس پھول نے ابھی ٹھیک سے رشتوں کو نہیں پہچانا ہوتا اس کو آدھا دن پابندی کے ساتھ اجنبیوں کے بیچ گزارنا پڑتا ہے۔ جو نونہال ابھی کھیل کا مطلب بھی نہیں جانتا اسے ’’ہوم ورک‘‘ کے نام پر غیر محسوس اذیت دینی شروع کر دی جاتی ہے۔ اور سکول میں حالت یہ ہوتی ہے کہ جو بچہ ابھی اپنی مادری زبان بھی ٹھیک سے نہیں بول پاتا اس کو ’’ٹوئنکل ٹوئنکل‘‘ اور ’’ماما ماما یس بے بی‘‘ رٹوانا شروع کر دیا جاتا ہے۔ ذہنی غلامی کی انتہا یہ ہے کہ جو معصوم ذہن ابھی اپنی اصلی زبان کا ذخیرہ الفاظ بنا رہا ہے سکول میں اس سے جو گفتگو کی جاتی ہے اس کا زیادہ تر حصہ انگریزی الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے۔ اور جب بچہ طوطے کی طرح چند جملے رٹ لیتا ہے تو والدین بھی گویا پھولے نہیں سماتے قطع نظر اس سے کہ غیر شعوری طور پر بچے کے ذہن میں کیا ٹوٹ پھوٹ ہو چکی ہے۔آج کے نونہالوں سے اگر دن کا نام پوچھا جائے تو انگریزی میں بتاتے ہیں، گنتی گنوائی جائے تو انگریزی میں گنتے ہیں اور اگر اردو کا مطالبہ کیا جائے تو اٹک جاتے ہیں۔ غیر تربیت یافتہ اساتذہ تعلیم کے نام پر معصوم پھولوں کو، شعور ملنے سے پہلے ہی، ذہنی طور پر ایک مکمل اجنبی معاشرے کا غلام بنا دیتے ہیں۔ اور اس پر بس نہیں بلکہ اکثر سکول تو تقریبا ہر سال یونیفارم بدل دیتے ہیں اور نئے یونیفارم کے لیے کسی مخصوص دکان کا پتہ مہیا کر دیا جاتا ہے۔ سٹیشنری کے نام پر مخصوص دکانوں سے پیکٹ بنوائے جاتے ہیں اور سلیبس کے نام پر ایک الگ دکان سجائی جاتی ہے۔ تربیت کے نام پر اساتذہ کے ساتھ ساتھ والدین بھی معصوم پھولوں کو اپنی قومی اور مادری زبان اور ان کی محبت سے محروم کر دیتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آج دنیا میں جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک میں ان کی ترقی اور عروج ان کی اپنی زبان اور اسی زبان میں تعلیم کی مرہونِ منت ہے۔ دنیا میں کوئی ایک بھی قوم ایسی نہیں جس نے کسی اجنبی زبان کی بنیاد پر ترقی کی ہو۔ جن ملکوں میں جانے کے لیے آج ہم ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں ان میں ایک بھی ایسا نہیں جو تعلیم کے نام پر اپنی نسل کو کسی اجنبی زبان اور معاشرے کا غلام بنا رہا ہو۔ افسوس کہ جسمانی آزادی حاصل کرنے بعد بھی ذہنی طور پر ہم ابھی تک غلام ہی ہیں۔ یہ غلامی ہمارے لاشعور میں بیٹھ چکی ہے اور ہم بڑے اطمینان سے نہ صرف یہ کہ اس کو ہضم کر رہے ہیں بلکہ تعلیم کے نام پر بڑی ’’ایمانداری‘‘ سے آنے والی نسلوں کو بھی منتقل کر رہے ہیں۔ جو قوم بھی تعلیم اور تربیت کو تجارت بنا لیتی ہے وہ کبھی بھی دنیا میں کوئی قابلِ ذکر مقام حاصل نہیں کر پاتی۔ تعلیم جو ایک مقدس فریضہ تھی، ہم نے اس کو اپنے ذاتی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنا لیا اور امید یہ رکھتے ہیں کہ اس کا نتیجہ محبِ وطن اور ایماندار نسل کی صورت میں نکلے گا۔ اب تو شاید دیوانے بھی ایسے خواب نہ دیکھتے ہوں۔ تعلیم جب تک تعلیم رہے مفید ہوتی ہے اور جب کاروبار بن جائے تو یہی تعلیم کسی بھی معاشرے کے لیے زہر بن جاتی ہے۔ اور افسوس کہ ہمارا وطن اس زہر کی منڈی کا روپ اختیار کر چکا ہے۔گزشتہ پچیس تیس سالوں سے ہماری شہری اور قصباتی زندگی میں کاروباری ہوس نے ایسے تعلیمی اداروں کو راستہ دکھایا ہے جنہیں عرف عام میں انگلش میڈیم اسکول کہا جاتا ہے۔ ان کی بے شمار اقسام ہیں۔ دنیا میں کسی بھی ملک کے نظام تعلیم کے ساتھ اتنا بھونڈا مذاق نہیں کیا گیا جس قدر بے رحمانہ طریقے سے چند سو روپے ماہانہ پر انگلش میڈیم تعلیم دینے والوں سے لے کر کئی ہزار روپے ماہانہ پر تعلیمی ادارے قائم کر کے کیا گیا۔ ایک چھوٹے سے قصبے میں لوگوں کے بچوں کو جدید انگریزی تعلیم کا لالچ دینے کے لیے کیا کیا ڈھنگ اختیار کیے جاتے ہیں۔ سب سے پہلے ایک عمارت خواہ گھر ہو کوئی گودام ہو یا تین چار دکانوں کا مجموعہ اسے خریدا یا کرائے پر حاصل کیا جاتا ہے۔ اس میں رنگ برنگی کرسیوں، دیواروں پر چیختے چلاتے رنگ کے پلستر، ان پر مغرب سے متاثر کارٹون کے کرداروں کی تصویریں اور اگر ممکن ہو تو چند عالمی حقائق اور مناظر کی پینٹنگز لگا کر اس قابل کیا جاتا ہے کہ اس کے تنگ و تاریک کمروں یہاں تک کہ راہداریوں اور برامدوں میں کلاسوں کا اہتمام کیا جا سکے۔ انتہائی مشکل سا انگریزی نام منتخب کیا جاتا ہے۔ ایسا نام کہ جو ان دیہات نما قصبے کے رہنے والوں کو اچنبھا سا لگے۔
آپ ان لوگوں کی کاروباری صلاحیت کی داد ناموں کو دیکھ کر ہی دے دیں گے۔ لٹل اسکالرز، لٹل اینجلز، رائزنگ اسٹار، بیسٹ ریڈرز، ان تمام کے ا?گے انگلش میڈیم اسکول لکھ کر اس عظیم ادارے کا افتتاح ہوتا ہے۔ پورے قصبے میں یا قریبی شہر سے ایسی بچیاں ڈھونڈی جاتی ہیں جنہوں نے اسی طرح کے اداروں سے واجبی تعلیم جیسے میٹرک یا ایف اے وغیرہ کیا ہوتا ہے۔ انہیں معمولی تنخواہ پر ملازم رکھا جاتا ہے۔ ان میں اکثر کی تنخواہ پاکستان میں ایک عام مزدور کی تنخواہ سے بھی کم ہوتی ہے۔ خواتین یا لڑکیوں کے انتخاب کی کئی وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ اس کی وجہ سے اسکول ان فرسودہ اور دقیانوسی اردو میڈیم تعلیمی اداروں سے مختلف نظر آتا ہے جہاں استاد، جنہیں عرف عام میں ’’ماسٹر‘‘ کہا جاتا ہے، پڑھاتے ہیں۔ ان اسکولوں میں پڑھانے کے لیے سلیبس نام کی کسی چڑیا کا کوئی وجود نہیں۔ اِدھر اْدھر کے اسکولوں میں اور جہاں کہیں جو نرسری پرائمری اور پھر میٹرک کی انگلش میڈیم کتابیں میسر آتی ہیں انہیں اسکول کا نصاب بنا دیا جاتا ہے۔ اکثر ایسی کتابوں کو مالکان خود خریدتے ہیں اور انہیں بچوں کے والدین کو مہنگی قیمت پر فروخت کر کے منافع کمایا جاتا ہے۔
اسکولوں کے نظام تعلیم کو اس دیہی قصباتی ماحول سے الگ تھلگ دکھانے کے لیے عجیب و غریب بھونڈے طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ آپ ان کی کلاسوں میں جائیں، ایک بیچاری معمولی تعلیم یافتہ استاذ فوراً بچوں سے کہے گی: ’’بچو! گڈ مارننگ بولو!‘‘ اور پوری کلاس لہک لہک کر ’’گڈ مارننگ‘‘ کہے گی۔ بعض اوقات ایسی مضحکہ خیز صورت حال بھی پیش آتی ہے کہ دن کے ایک بجے بھی یہ بچے اسی رٹے رٹائے گڈ مارننگ کو ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد بچوں کو وہ نرسری نظمیں یاد کروائی جاتی ہیں جنہیں بڑے بڑے انگلش میڈیم اسکولوں میں سکھایا جاتا ہے۔ ان نظموں کو نہ وہاں کے بچے سمجھ پاتے ہیں اور نہ ہی ان کے والدین۔ آپ لوگوں نے ایک نظم ’’ٹوئینکل ٹوئینکل لٹل اسٹار‘‘ عموماً بچوں کی زبانی سنی ہوگی۔
ان کو چند مخصوص اشارے سکھائے جاتے ہیں کہ ’’ٹوئینکل‘‘ کہتے ہوئے کیسے انگلیوں کو کھولنا اور بند کرنا ہے۔ اسٹار یا اسکائی کہتے اوپر ہاتھ کرنا ہے وغیرہ وغیرہ آپ ان بچوں کو کھڑے کر کے پوچھیں کہ ٹوئینکل کا کیا مطلب؟ اسکائی کے کیا معنے؟ یا اسٹار اور ڈائمنڈ کیا چیز ہیں؟ تو انہیں بالکل اس کا ادراک تک نہ ہوگا، لیکن ان بچوں کو یہ سب رٹایا جا رہا ہوتا ہے تا کہ معلوم ہو کہ یہ اسکول گجومتہ جھڈو کھڈ کوچہ یا میر علی کے قصبوں میں نہیں، بلکہ برمنگھم اور گلاسگو کے نواح میں کھلا ہوا ہے۔ اس بدترین اور بھونڈے طریقے سے یہ ہزاروں چھوٹے چھوٹے اسکول بچوں کو نام نہاد انگلش میڈیم تعلیم دے رہے ہوتے ہیں۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ان قصبوں کے والدین غریب ہوتے ہیں، اپنا پیٹ کاٹ کر ان بچوں کی فیسیں ادا کرتے ہیں اور یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ان کا بچہ بھی ویسی ہی تعلیم حاصل کر رہا ہے جیسی لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں چالیس پچاس ہزار روپے ماہانہ دے کر اشرافیہ کے بچے حاصل کرتے ہیں۔
یہ اشرافیہ کے بچے کیسی تعلیم حاصل کرتے ہیں؟ اس کا حال بھی قابل رحم ہے۔ دنیا میں او لیول، اے لیول یا کیمبرج کا تعلیمی نظام دیگر نظام ہائے تعلیم کے مقابلے میں ایک کمتر نظام سمجھا جاتا ہے۔ اس کی ترجیح یعنی رینکنگ جرمنی اور دیگر ممالک کے نظاموں سے بہت کم ہے، لیکن ہم نے اس کو اختیار کیا ہے۔ اس ہم سے مراد یہ ملک یا اسی کی حکومت نہیں، بلکہ ان کاروباری تعلیمی اداروں کے مالکان ہیں جنہوں نے اس سے وابستہ ہوکر اپنے کاروبار کو چار چاند لگائے۔ پورے ملک کے طول و عرض میں لوگوں کی جیبیں کاٹ کر تعلیمی ادارے بنائے اور ان میں سہانے خواب دکھا کر بچوں کو داخل کروایا گیا۔ ہزاروں روپے ماہانہ فیس دے کر یہ بچے او لیول اور اے لیول کر کے جب پیشہ وارانہ تعلیم کے میدان کے لیے میڈیکل کالجوں یا انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے نکلے تو جب ان کے سرٹیفکیٹوں کو میٹرک اور ایف ایس سی کے برابر تولا گیا تو وزن کرنے والی مشین یعنی بورڈ کمیٹی نے کم قرار دے دیا۔ او لیول میں 80 فیصد نمبر لینے والا یہاں 60 فیصد پر آگیا۔ اب ایک اور کاروباری طبقہ وجود میں آ گیا۔
یہ تھا پرائیویٹ میڈیکل کالج انجینئرنگ کالج اور یونیورسٹیاں۔ ہر بڑے چھوٹے شہر میں ان طلبہ کے لیے یہ تعلیمی ادارے کھولے جانے لگے۔ یہ صرف اور صرف وہ مضامین پڑھاتے تھے جن کی مارکیٹ میں زیادہ سے زیادہ کھپت ہو۔ دوسری جانب کچھ طلبہ ایسے بھی تھے جن کے والدین سرمایہ خرچ کر سکتے تھے، قرض لے سکتے تھے، گھر یا گاڑی بیچ سکتے تھے انہیں جب معلوم ہوا کہ او لیول اور اے لیول کرنے کے بعد ان کے بچے کا اس پاکستان کے تعلیمی اداروں میں کوئی مستقبل نہیں یا ان کا بچہ یہاں کے ماحول اور یہاں کے اداروں پر عدم اعتماد کر چکا ہے تو انہوں نے اپنے بچوں کو انگلستان، یورپ اور امریکا کی یونیورسٹیوں میں بصد مشکل اور بہت سا بوجھ اٹھا کر بھیجنا شروع کر دیا۔

(358 بار دیکھا گیا)

تبصرے