Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 23  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

آصف زرداری کی بڑکیں...بات تو سچ ہے مگر

صابرعلی پیر 17 دسمبر 2018
آصف زرداری کی بڑکیں...بات تو سچ ہے مگر

سابق صدر مملکت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ایک مرتبہ پھر بڑی بڑک ماری ہے کہ 3سال کی نوکری کرنیوالے قوم کے فیصلے نہیں کرسکتے آصف زرداری کی اس بڑک کے بعد لوگ انتظار کررہے ہیں کہ وہ اب دبئی یا بیرون ملک کب روانہ ہوتے ہیں یاعام لفظوں میں وہ اب غیر معینہ مدت کیلئے ملک سے کب فرار ہوں گے اس لیئے کہ اس سے قبل جنرل (ر) راحیل شریف کے زمانے میں بھی انہوں نے اسی طرح کی بڑک ماری تھی پھر انہیں فرار ہو کر دبئی میں طویل قیام کرنا پڑا تھا یہ ہی وجہ ہے کہ آصف علی زرداری کے اس تازہ بیان کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض چوہان نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ زرداری کو پہلے بھی اسی طرح کا بیان دینے کے بعد 3سال تک دبئی میں سیر و تفریح کرنا پڑی تھی فیاض چوہان کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری ایک تیر سے 3شکار کرنے کی کوششیں کررہے ہیں ان کا مقصد، عدلیہ اسٹیبلشمنٹ او رپی ٹی آئی حکومت کو بلیک میل کرنا ہے، پی ٹی آئی کے یہ ناتجربہ کار وزراء کچھ بھی کہیں لیکن آصف علی زرداری کی باتیں انتہائی اہم اور غور طلب ہیں غیر جانبداری کے ساتھ تجزیہ کیا جائے تو آصف علی زرداری کی باتیں صرف سیاسی بیان یا تقریر نہیں ہے کہ حکومتی وزراء اس کی مخالفت میں بیان جاری کرکے اپنی جان چھڑالیں ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ ان کی کہی ہوئی ان باتوں میں غلط بات کیا ہے اگر وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ 3سال کی نوکری کے تحت اگر کوئی اعلیٰ عہدے پر فائز ہوتا ہے تو اس کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ قوم کے فیصلے کرے قوم کے فیصلے کرنے کا حق صرف پارلیمنٹ کو ہے آصف زرداری کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم یا جمہوری حکومت تین سال آگے جاتے ہیں پھر آپ چھڑی اٹھاتے ہیں تو ملک 15 سال پیچھے چلا جاتا ہے زرداری نے یہ انکشاف بھی کیا کہ میں نے پہلے بھی کچھ لوگوں کو کہا تھا جب نواز شریف کو لایا جارہا تھا کہ خدا کا خوف کرو مت کرو یہ کام پہلے ان کولے کر آئے پھر ان سے لڑ پڑے انہوں نے کہا کہ روز روز پاکستان کے ساتھ مذاق کرنا چھوڑ دیں کافی مذاق ہوچکا ہے پی ٹی آئی حکومت کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ حکومت سے کوئی کام نہیں ہوتا سوائے مرغی انڈے کے ان لوگوں کو عقل اور سمجھ نہیں تو کیوں ان لوگوں کو لے کر آئے ہو، کس لیئے لائے ہو اس سے بہتر تھا کہ آپ الیکشن ہونے دیتے جو بھی پارٹی آتی آپس میں لڑ جھگڑ کر قومی سطح پر مل کر کام کر لیتے اور یہ ہی حل تھا، آصف زرداری کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسلام آباد میں گونگے ، بہرے اور اندھے لوگوں سے 100دنوں میں کچھ نہیں ہوا جبکہ ہم نے 100دنوں میں بہت کچھ کیا تھا، حیدرآباد کے جلسے سے خطاب میں ان باتوں کے بعد اگلے روز آصف علی زرداری نے یہ بھی کہا ہے کہ الیکشن جلد ہوں گے اور ہم اس حکومت کو الیکشن کے ذریعے گھر بھیجیں گے، آصف زرداری نے اس راز سے بھی پردہ اٹھایا ہے کہ لوگ مجھ سے 18ویں ترمیم ختم کرانے میں تعاون چاہتے ہیں اور اس حوالے سے میرے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہتا ہوں کہ اگر میں مان بھی گیا تو میری پارٹی اور 3 صوبے نہیں مانیں گے لیکن لوگ اس حوالے سے پھر دبائو ڈال رہے ہیں آصف زرداری کی ان ساری باتوں کا یہاں ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آصف زرداری جو کچھ کہہ رہے ہیں اگر وہ غلط نہیں ہے تو ان کی باتوں کو سنجیدہ کیوں نہیں لیا جاتا لیکن اگر وہ غلط کہہ رہے ہیں تو ان کا مناسب جواب کیوں نہیں دیا جاتا یہاں تک ان کی 3سال کی نوکری اورفیصلے کرنے والی بات ہے اس میں کیا غلط ہے کیا 3سال نوکری کرنے والے کو قوم کے فیصلے کرنا زیب دیتا ہے اگر ایسا ہے تو پھر عام انتخابات پر اربو ں روپے خرچ کرکے پارلیمنٹ بنانے کی کیا ضرورت ہے اگر فیصلے پارلیمنٹ کے بجائے پارلیمنٹ سے باہر کرنا ہے تو پھر اس جمہوریت کے ٹوپی ڈرامے کی کیا ضرورت ہے، پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض چوہان کا یہ کہنا ہے کہ آصف زرداری اپنے مذکورہ بیان سے ایک تیر سے 3شکار کرنے کی کوششیں کررہے ہیں ان کا مقصد عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کو بلیک میل کرنا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عدلیہ،اسٹیبلشمنٹ اور حکومت اتنی کمزور ہیں کہ وہ آصف زرداری کے اس معمولی بیان سے بلیک میل ہوسکتے ہیں اگر واقعتا ایسا ہے تو پھر مذکورہ تینوں اداروں میں یقینا کوئی خامی، کمزوری ہے جو وہ اس معمولی بیان سے بلیک میل ہوسکتے ہیں کہا جارہا ہے کہ آصف زرداری نے پہلے بھی ایسابیان دیا تھاتو ان کو دبئی فرار ہونا پڑا تھا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر سیاست دان اتنا کمزور کیوں ہے کہ وہ کسی کیخلاف بیان دے کر کھڑا نہ رہ سکے اور اسے فرار ہونا پڑے اور اگر وہ کسی ڈر و خوف سے فرار بھی ہوئے تھے تو پھر واپس کیوں آگئے
اور سیاست میں پہلے کی طرح بھر پور حصہ بھی لیتے رہے اور اب ایک بار پھر ایسا بیان دینے کی انہیں ہمت یا ضرور ت کیوں پڑی اس کا مطلب ہے کہ آصف علی زرداری نے پہلے بھی درست کہا تھا کہ تم 3 سال کیلئے آئے ہو ہمیں یعنی سیاست دانوں کو ہمیشہ رہنا ہے ، بات تو سچ ہے مگر ؟اس لیئے کہ یہ ملک عوام اور سیاست دانوں نے بنایا ہے اور ملک پر حکمرانی کا حق بھی عوام اور سیاست دانوں کا ہے سیاست دان عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر حکمرانی کا حق حاصل کرتے ہیں یہ ہی جمہوریت ہے یہ الگ بات ہے کہ ہمارے یہاں جمہوریت ایک گالی بن کر رہ گئی ہے اس لیئے کہ جمہوریت کے نام پر سیاست دانوں نے لوٹ ماراور کرپشن کرکے جمہوریت کو بدنام کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود اگر ریاست اس ملک کو جمہوریت کے ذریعے چلانا چاہتی ہے اور اس کیلئے باقاعدہ الیکشن کرائے جاتے ہیں الیکشن پر قوم کے اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں اس لیئے جمہوریت ہی واحدراستہ ہے ملک کو چلانے کا پھر غیر سیاسی اور غیر جمہوری قوتیں اپنا حق حکمرانی کیوں جتا تیں ہیں سیاست دانوں کو ان سے ڈر کر ملک سے فرار کیوں ہونا پڑتا ہے غیر سیاسی اور غیر جمہوری قوتیں اپنی مرضی کے سیاست دان کیوں تیار کرتی ہیں جیسے قائد اعظم اور لیاقت علی خان کے بعد مرضی کے سیاست دان لائے گئے ایوب خان نے کنونشن مسلم لیگ بنائی ضیاء الحق نے نواز شریف کو بنایا ، پرویز مشرف نے ق لیگ بنائی اور اب یہ الزام عمران خان پر بھی ہے آصف علی زرداری نے بھی یہ کہا ہے کہ عمران خان جیسے کم عقل نا سمجھ کو حکومت میں لانے کے بجائے الیکشن ہونے دیتے الیکشن میں جو بھی کامیاب ہوتے آپس میں لڑ جھگڑ کر قومی سطح پر حکومت بنا لیتے اور یہی حل تھا ایسا حل کیوں نکالا گیا کہ عمران خان یا پی ٹی آئی کے بارے میں یہ تاثر ختم ہونے کو نہیں آرہا ہے کہ انہیں زبردستی لایا گیا چلیں اگر زبردستی یا اپنی مرضی اورپسند سے انہیں لایا بھی گیا تو کم از کم یہ اپنی اہلیت سے لانے والوں کی عزت یا لاج تو رکھ لیتے یہ تو خود اپنے دعوے کے مطابق 100روزہ کارکردگی میں زیرو نظر آتے ہیں اور عام تاثر ہے کہ موجودہ حکمرانوں کی سمجھ نہیں آرہا ہے کہ وہ ملک کا نظام کیسے چلائیں خصوصاً ان بڑے اور بلند بانگ دعووئوں کی موجودگی میں جو عام انتخابات سے قبل کیئے گئے تھے پہلے 100 روز میں گیس ، بجلی اور پیٹرول کی قیمتیں بڑھائیں گئیں اور روپے کی قدر گھٹاتے چلے گئے یہاں تک کہ حکومت کے 100روز مکمل ہونے کے اگلے روز روپے کی قدر میں 11روپے کی کمی اور ڈالر کے نرخ میں 11روپے کا اضافہ ہوا سردیوں کا موسم شروع ہونے سے قبل ہی گیس کے نرخ بڑھا دیئے گئے اور اب سردیاں شروع ہوتے ہی گیس کا بحران پیدا ہوگیا کہا جاتا ہے کہ گیس کا بحران جان بوجھ کر پیدا کیا گیا اور پھر ایک ہفتہ تک سندھ کے لوگوں کو گیس سے محروم رکھنے کے بعد خود ہی بحران حل کر دیا گیا سوئی سدرن گیس کا ادارہ وفاق کے کنٹرول میں ہے اور اس ادارے نے صرف سندھ میں ایک ہفتے کیلئے گیس بند کردی ، سی این جی اسٹیشن کو گیس کی فراہمی روکنے کے ساتھ ساتھ عام گھر یلو صارفین کو بھی گیس کی فراہمی بند کردی گئی اس پر بڑا شو ر اٹھا پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت وفاق کے خلاف احتجاج کیلئے میدان میں آگئی اور یہ کہا کہ گیس سندھ میں پیدا ہوتی ہے 70فیصد گیس جس صوبے میں پیدا ہوتی ہے وہاں گیس کی فراہمی بند کر دی گئی جبکہ پنجاب اور کے پی کے میں گیس کی فراہمی جاری رہی بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی وفاقی حکومت نے اپنے زیر اثر دونوں صوبوں پنجاب اور کے پی کے کو گیس کی فراہمی جاری رکھ کر سندھ میں صرف اس لیئے گیس کی فراہمی بند کی کہ یہاں پی ٹی آئی کی حکومت نہیں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے کیا یہ تحریک انصاف کی حکومت کا انصاف ہے اس پر سندھ حکومت احتجاج نہ کرے تو کیا کرے وفاقی وزیر پیٹرولیم غلام سرور نے پہلے یہ بیان دیا کہ گیس کا بحران پیدا کیا گیا ہے پھر کراچی آکر بیان بدل لیا یوٹرن لیا کہ بحران پیدا نہیں کیا گیا خود پیدا ہوا ہے، اس طرح سندھ کے لوگ سردیوں کے موسم میں گیس سے محرومی کا عذاب بھگت رہے ہیں سی این جی اسٹیشن مالکان کے دبائو پر حکومت نے گیس کا بحران صرف سی این جی اسٹیشن مالکان کو گیس کی فراہمی کیلئے حل کیا ہے جبکہ عام گھریلو صارفین اب بھی گیس سے محروم ہیں لوگ گھروں میں کھانا پکانے میں دشواریوں سمیت سردیوں کے موسم میں ٹھنڈے پانی سے نہانے پر مجبور ہیں کیا یہ ہی نیا پاکستا ن ہے اگر ایسا ہی ہے تو پھر سابق وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین میں کیا برائی تھی نواز شریف دور کے وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی میں کیا خرابی تھی، نئے پاکستان کے نئے وزیر پیٹرولیم سابقہ وزراء سے بھی گئے گزرے نکلے یہ ہی نہیں خود وزیر اعظم عمران خان سمیت ان کی کابینہ کے تمام ارکان کے بارے میں بھی یہ ہی تاثر گہرا ہوتا جارہا ہے کہ ان سے اچھے تو پرانے والے تھے ان میں کیا خرابی تھی اور ان میں ایسے کون سے سر خاب کے پر لگے ہوئے ہیں عوام کو اپنے روز مرہ کے مسائل کا حل چاہیئے انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہے کہ حکومت کس کی ہے وزیر اعظم اور وزیر کون ہیں عوام کو اپنے مسائل کا حل چاہیئے ، پی ٹی آئی کی حکومت صرف کرپشن کا ڈھول بجا کر اور عوام کے لوٹے ہوئے پیسے واپس لانے کا نعرہ لگا کر آخر کب تک حکمرانی کرے گی عوام کے مسائل کا حل یا عوام کو ریلیف نہیں ملے گا تو ایسی حکمرانی اور کرپشن یا احتساب کاڈھول بجانے سے عوام کو کچھ لینا دینا نہیں
پی ٹی آئی کے وزراء آصف زرداری کیخلاف اور پیپلز پارٹی کے وزراء پی ٹی آئی کیخلاف صرف بیانات دے کر کب تک عوام کو بیوقوف بناتے رہیں گے پی ٹی آئی حکومت پہلی حکومت ہے جس کے پہلے 100روز بعد ہی قبل از وقت الیکشن اور حکومت کو گھر بھیجنے یا حکومت کے خاتمہ پر قومی حکومت بنانے کی باتیں شروع ہوچکی ہیں۔

(438 بار دیکھا گیا)

تبصرے