Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 20 جنوری 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News ! Best Urdu Website in World

"گناہ ٹیکس"

ویب ڈیسک هفته 15 دسمبر 2018

پاکستان میں پہلے ’گناہ سے بچنے کے لیے پُھونک پُھونک کر قدم رکھنا پڑتا تھا‘، مگر اب تو پُھونکنا ہی گناہ بن گیا ہے‘۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وزیرِ صحت نے عندیہ دیا کہ حکومت اب سگریٹ اور سافٹ ڈرنکس پر اضافی ٹیکس لگائے گی جس کا نام ‘سِن یعنی گناہ ٹیکس’ ہوگا۔ سوشل میڈیا پر تو اس کا ردعمل لازمی تھا ہی، لیکن مقامی کیفیز اور بازاروں میں بھی لگتا ہے کہ یہ معاملہ خاصا گرم ہے۔ اسلام آباد ہی کی ایک جامعہ میں ایک طالب علم نے کہا کہ ’’ سگریٹ نوشی گناہ ہی ہے تو اس پر مکمل پابندی لگا دیں، یہ کیا کہ گناہ ہے مگر ٹیکس دے کر کر لیں یہ گناہ‘‘۔
کچھ نوجوانوں نے سگریٹ کو ’’تھوڑا سا گناہ‘‘ مان بھی لیا مگر سافٹ ڈرنکس پی کر بھی گناہگار؟ یہ بات اُن کے لیے سمجھ سے بالاتر ہے! سگریٹ میں تو ’’تھوڑا سا گناہ‘‘ ہے ہی، مگر کیا سافٹ ڈرنکس پی کر بھی بندہ گناہ گار ہو جاتا ہے؟
یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ’’ سِن ٹیکس‘‘ کی یہ اصطلاح پی ٹی آئی نے نہیں بنائی، بلکہ یہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اصطلاح ہے جو شراب سمیت مضرِ صحت مصنوعات، پورنوگرافی اور سٹے بازی کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اس قسم کے ٹیکسز امریکہ اور برطانیہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں رائج ہیں، یہاں تک کہ عالمی ادارہ صحت نے فلپائن میں 2012ء میں سگریٹ پر نافذ کیے گئے ’’سِن ٹیکس‘‘ کو انتہائی کامیاب قرار دیا کیونکہ اِس ٹیکس کی مد میں حاصل ہونے والی رقم سے غریب شہریوں کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملی۔ جبکہ عرب ممالک میں یو اے ای اور سعودی عرب میں بھی مختلف مصنوعات پر سِن ٹیکس نافذ ہے۔
پاکستان کے وزیرِ صحت کے مطابق انڈیا میں بھی پان اور گٹکے پر ’’گناہ ٹیکس‘‘ لگایا جاتا ہے۔ تاہم دنیا بھر میں اس ٹیکس کے نام پر بحث بھی کی جاتی ہے، جیسا کہ ایک شہری نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’کیا سگریٹ نوشی اور کولڈ ڈرنک پینا ہی گناہ ہے؟ گناہ تو بہت سے ہیں اور بہت بڑے ہیں، ان کو بھی ڈیکلیئر کر دیں‘‘۔
اسی طرح ملیحہ ہاشمی نے ٹوئٹر پر لکھاکہ’’اگر سگریٹ نوشی کرنے والوں پر ’سِن ٹیکس‘ لگایا جا رہا ہے تو کیا ہم جیسے تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کو کوئی ’ثواب الاؤنس‘ ملے گا۔‘‘
پاکستان میں کئی شہریوں کا خیال ہے کہ ہمارے معاشرے میں جہاں مذہب کا رنگ لگنے اور گناہ اور ثواب کی لکیر لگا دینے کے بعد ہر معاملہ جس تیزی کے ساتھ انتہا پسندی کی جانب جاتا ہے، ایسے میں اس قسم کے نام دے دینا ’’حماقت‘‘ ہے۔ ایک نوجوان اسامہ نے کہا کہ ’’سگریٹ سے زیادہ ریاست کی پالیسیاں لوگوں کو نقصان پہنچا دیتی ہیں‘‘۔
مقامی یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے کہا کہ سافٹ ڈرنکس اور سگریٹ پر ٹیکس بے شک لگائیں مگر اسے ‘گناہ’ کا نام دینا غلط اور ناقابلِ قبول ہے۔
ایک اور خاتون کہتی ہیں کہ وہ تو تعلیم یافتہ ہیں اور انہیں مذہب میں گناہ و ثواب اور حلال و حرام سے متعلق مکمل آگاہی ہے، لیکن ’غیر تعلیم یافتہ طبقہ اس قسم کے ناموں سے ضرور متاثر ہو سکتا ہے۔‘
واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان دنیا کے ان پندرہ ممالک میں سے ایک ہے جہاں تمباکو نوشی سے منسلک بیماریاں سب سے زیادہ پائی جاتی ہیں۔
پاکستان میں تقریباً 32 فیصد مرد، چھ فیصد خواتین تمباکو نوشی کرتی ہیں۔ ایس ڈی پی آئی نامی غیر سرکاری تنظیم کے 2018ء کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ہر سال ایک لاکھ 25 ہزار سے زیادہ شہریوں کی تمباکو نوشی سے منسلک بیماریوں سے اموات ہو رہی ہیں۔
ایک طالب علم نعمان نے کہا کہ ’’یہ (حکومت) ایک طرف اسلام درمیان میں لا رہی ہے اور دوسری طرف سیاست بھی کر رہی ہے۔ ٹیکس لگانے سے تمباکو نوشی پر فرق نہیں پڑے گا، تمباکو نوشی کم کرنے کا طریقہ آگاہی پیدا کرنا ہے‘‘۔
لیکن ایک دکاندار نے تو صاف کہہ دیا،’’میڈم بکتا وہی ہے جو خراب ہو، باقی کولڈ ڈرنک اور سگریٹ حلال ہیں‘‘۔
سِن ٹیکس ایک معاشی اصطلاح ہے۔ یہ وہ سیلز ٹیکس ہے، جو اْن مصنوعات پر عائد کیا جاتا ہے، جو معاشرے اور افراد کے لیے کسی نہ کسی طور پر نقصان دہ ہوتی ہیں۔ان اشیاء میں سگریٹ، تمباکو مصنوعات، الکوحل، منشیات، سافٹ ڈرنکس، فاسٹ فوڈز، کافی اور دیگر چیزیں شامل ہیں۔ فلپائن سگریٹ پر ‘‘گناہ ٹیکس’’ لگانے والا دنیا کا پہلاملک ہے۔ جبکہ گزشتہ برس جون میں سعودی عرب نے اس ٹیکس کا اعلان کیا۔ جبکہ سعودی عرب کے چار ماہ بعد متحدہ عرب امارات میں بھی گناہ ٹیکس لاگو کیا گیا۔
سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف زکوۃ اینڈ ٹیکس (GAZT) کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق ایکسائز ٹیکس جسے عموما گناہ ٹیکس کے نام سے جانا جاتا ہے، ایسی مضر صحت اشیا پر عائد کیا گیا جو خرابی صحت کا باعث ہوں اور صحت کے بجٹ میں اضافے کا باعث بنے۔ عرب میڈیا کے مطابق ان اشیا (سگریٹ، سافٹ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس) کو مضر صحت قرار دیا گیا جو کہ انسانی زندگی کے لیے ناگزیر نہیں اور یہ تعیش کے زمرے میں آتی ہیں انسانی ضرورت کے خانے میں نہیں۔
فلپائن میں بھی تمباکو مصنوعات پر گناہ ٹیکس عائد ہے۔ 2017ء میں عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ فلپائن میں عائد گناہ ٹیکس تمباکو مصنوعات کیخلاف اقدامات کے حوالے سے مؤثر ترین اقدامات میں سے ایک ہے جس سے نہ صرف حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوا بلکہ تمباکو نوشی کرنے والے افراد کی تعداد بھی کم ہوئی۔
وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اسد حفیظ کا کہنا ہے کہ مختلف بیوریج اور تمباکو کی مضنوعات پر دنیا کے 45 ممالک میں اضافی ٹیکس نافذ ہے، یہ اصطلاح نئی نہیں ہے، یہ ان اشیاء پر جو انسانی صحت کے لئے منافع بخش نہ ہوں گناہ ٹیکس لگتا ہے۔ تھائی لینڈ بھی ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے یہ ٹیکس لگایا جبکہ امریکا میں سگریٹ کے ایک پیکٹ ہر ڈیڑھ ڈالر اضافی چارج کیا جاتا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق موجود معلومات اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ پہلی بار گناہ ٹیکس کا نفاذ برطانیہ میں ہوا جب 1643 ء میں الکوحل پر گناہ ٹیکس عائد کیا گیا۔ جبکہ امریکا میں اس حوالے سے ایک لمبی تاریخ ملتی ہے، امریکا میں کئی بار شراب، تمباکو کی مصنوعات اور کمار بازی(جواء ) پر گناہ ٹیکسز نافذ کیے گئے تاہم اس کا آغاز 1971ء میں ہوا۔ مریئم ویبسٹر ڈکشنری کے مطابق گناہ ٹیکس کا سب سے پہلے نفاذ 1957ء میں ہوا۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق اس بات کے شواہد بہت کم ہیں کہ اس طرح کے ٹیکسز کے نفاذ سے کسی سماجی برائی پر قابو پایا گیا ہو تاہم اس میں کمی کے امکان موجود ہیں۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے حکام کا کہناہے کہ ٹیکسز کے نفاذ سے انسانی صحت اور رویہ پر اثر انداز ہونا ایک پیچیدہ عمل ہے۔
گارڈیئن کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور میکسیکو میں شوگر کے مرض میں اضافہ اور سافٹ ڈرنکس پر ٹیکسز کے نفاذ کا تعلق جوڑا گیا تو یہ بات سامنے آئی میکسیکو میں سافٹ ڈرنکس پر ٹیکس لگانے سے پہلے سال اس کی فروخت میں 5 اعشاریہ 5 فیصد کمی آئی جبکہ دوسرے یہ کمی 9 اعشاریہ 7 فیصد تھی جو قدرے بہتر تھی۔
عربین بزنس ڈاٹ کام کے مطابق سعودی حکام نے ملک بھر میں 10 جون 2018ء سے سگریٹ سمیت تمباکو سے بنی تمام اشیا اور انرجی ڈرنکس پر سو فیصد اور سافٹ ڈرنکس پر 50 فیصد ٹیکس عائد کر دیا، جس کے بعد ان اشیا کی قیمتوں میں یک دم اضافہ ہوگیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں تمباکو مصنوعات کی تشہیر پر پابندی ہے جبکہ ہر سال بجٹ میں سگریٹس پر ٹیکس بھی عائد کیا جاتا ہے اور اس کے علاوہ سگریٹ کے پیکٹس پر تمباکو کے استعمال سے انتہائی دردناک زندگی گزارنے والے افراد کی تصاویر بھی شائع کی جاتی ہیں تاکہ سگریٹ نوشوں کو اصل خطرے سے آگاہ کر کے ان کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
تھائی لینڈ میں حکومت کی طرف سے گزشتہ ماہ منظور کردہ ایک نئی محصولاتی سکیم کے تحت ’گناہ ٹیکس‘ نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس نئے ٹیکس کے نفاذ کے بعد ملک میں شراب اور سگریٹ کی قیمتیں چالیس فیصد تک زیادہ ہو گئی ہیں۔
تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق قانونی طور پر یہ نیا ٹیکس نافذ ہوگیا اور اس دوران مختلف شہروں میں چند خاص قسم کی مصنوعات کی قلت بھی دیکھی گئی۔ بظاہر یہ قلت اس حکومتی وارننگ کا براہ راست نتیجہ ہے، جس میں تاجروں اور دکانداروں کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ ذخیرہ اندوزی نہ کریں۔
ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ اس نئے ٹیکس کے نافذ ہو جانے کے بعد کل ہفتے کے دن سے ملک میں تمباکو مصنوعات کی قیمتوں میں 40 فیصد تک اور الکوحل کی قیمتوں میں 20 فیصد تک کا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ الکوحل والے مشروبات کی قیمتوں میں اضافے کا انحصار اس بات پر ہے کہ ان میں الکوحل کی شرح کتنی ہے۔
بنکاک حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نیا ٹیکس، جسے عرف عام میں ’گناہ ٹیکس‘ کا نام دیا گیا، اس لیے متعارف کرایا گیا کہ عوام کو اس طرف راغب کیا جاسکے کہ وہ بہت تیز کے بجائے ہلکی قسم کے الکوحل والے مشروبات زیادہ استعمال کریں‘ نائٹ کلبوں میں داخلے پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔
مطلب یہ کہ اس نئے قانون کے تحت بیئر اور وائن کی قیمتوں میں اضافہ وہسکی اور ووڈکا کی قیمتوں میں اضافے کے مقابلے میں کم رکھا گیا ہے، تاکہ لوگ زیادہ تیز شراب کم پئیں۔ اس کے برعکس ناقدین کا الزام ہے کہ اس ’گناہ ٹیکس‘ کے نفاذ کے بعد اب لوگ غیر قانونی طور پر تیار کی گئی تیز شراب زیادہ پئیں گے۔
اس بارے میں تھائی لینڈ کے محکمہ ایکسائز کے ڈائریکٹر جنرل سومچائی پونساوات نے کہا، ’’ہم امید کرتے ہیں کہ نئے ٹیکس کی وجہ سے قیمتوں میں اس اضافے کا سارا بوجھ پیداواری اور تجارتی شعبے صرف صارفین پر ہی نہیں ڈال دیں گے۔‘‘
تھائی کابینہ نے اگست میں جس نئے ٹیکس نظام کی منظوری دے تھی، اس میں سگریٹوں اور شراب پر اضافی ٹیکس لگا دینے کے علاوہ لگژری کاروں، پرفیومز اور نائٹ کلبوں میں داخلے تک پر ٹیکس لگا دیا گیا تھا۔ اسی لیے اس نئے ٹیکس کو مقامی میڈیا اور عوام نے ’گناہ ٹیکس‘ کا نام دے دیا تھا۔

(98 بار دیکھا گیا)

تبصرے