Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 18 جنوری 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News ! Best Urdu Website in World

ڈونلڈ ٹرمپ : ستاروں کے رسیا کے ستارے گردش میں

خواجہ نوید هفته 15 دسمبر 2018
ڈونلڈ ٹرمپ : ستاروں کے رسیا کے ستارے گردش میں

14 جون 1946 کو جنم لینے والے ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے موجودہ اور 45 ویں صدر ہیں لیکن جمعہ 20 جنوری ،2017 کو انہوں نے عہدہ صدارت کا حلف لینے کے بعد انہوں نے یو ٹرن بھی یوں لیے ہیں کہ منصب صدارت کے وقار کی دھجیاں اڑادی ہیں ۔چڑچڑے، غصیلے مزاج کے حامل ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالتے ہی انہیںووٹ نہ ڈالنے والی امریکہ کی کل آباد ی کے لگ بھگ 50 فیصد افراد نے الٹی گنتی شروع کردی تھی۔ شخصیت، کام، ازدواجی زندگی کے علاوہ موجودہ اہلیہ کے ساتھ تعلقات بھی خبروں میں رہے۔ منصب صدارت پر فائز شخص کے فحش اداکاراو¿ں سے تعلقات کی خبریں بھی شائع ہوئیں اور میڈیا میں یہ اندازے چھپتے رہے کہ صدر اور خاتون اول کے تعلقات میں روز اول جیسی گرمجوشی نہیں ۔لیکن میڈیا اندازوں کے برعکس امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کے میزبان سین ہینٹی کو کرسمس کےحوالے سے دیے گئے انٹرویو میں میلانیا ٹرمپ نے نہ صرف ٹرمپ سے خوشگوار تعلقات کا دعوی کیا بلک یہ تک کہہ گئیں کہ ان کی اور ٹرمپ کی کیمسٹری بہت ملتی ہے۔لیکن انہوں نے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا کہ ٹرمپ دوسری مدت کے لئے صدارتی انتخابات لڑنے کے بارے میں کیا ارادہ رکھتے ہیں ۔ میلانیا صحافیوں، اداکاروں، جگت بازوں ،ناقدین سے ناراض نظر آئیں اور کہا کہ لکھنے پر نہیں بلکہ اس بات پر اعتراض ہے کہ غلط تاریخ لکھی جا رہی ہے۔خانگی امور میں کلیئر نس حاصل کرنے والے رنگیلے مزاج صدر کی اصل پریشانی ان کے سر پر لٹکتی مواخذے کی تلوار ہے کیوں کہ ان کے وکیل کو ان کا غلط کاموں میں دفاع کرنے پر سز ا ہوگئی ہے اور یہ بات خلاف عقل نظر آتی ہے کہ جس نے یہ کام کئے وہ کھلا پھرتا رہے۔ان کے وکیل مائیک کوہن کو تین سال کے لئے پابند سلاسل کیا گیا ہے جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی بڑھک ہے کہ انہوں نے امریکہ کو عظیم بنانے کے لئے عظیم کام کئے ہیں اس لئے کوئی انہیں مواخذے کا سزاوار نہیں ٹھہرائے گا۔ٹرمپ میں یہ بڑی خامی ہے کہ وہ بات نہیں کرتے لٹھ مارتے ہیں، کوئی بڑھک ان سے سنی جاسکتی ہے یا پھر وہ میاں مٹھو بن جاتے ہیں۔ان کے ٹویٹس پاکستان سمیت جہاں بھر میں آگ لگا چکے ہیں۔اور جواب میں ہر بار پاکستان سمیت ہر مخاطب کی جانب سے انہیں منہ کی کھانے کو ملتی ہے۔خود امریکہ میں بار بار ان کا مذاق بنتا ہے۔ لوگ ان کے لطیفے بناتے ہیں۔سیاسی رقیب تو کبھی موقع نہیں چھوڑتے لیکن اداکار،صحافی،نقاد اور دانشور سمیت عام امریکی بھی ان کا ہر پلیٹ فارم پر ٹھٹھا اڑاتے نظر آتے ہیں ۔آج کل لفظ احمق کی گوگل پر تصویری تلاش کے نتیجے میں موصوف کا چاند چہرہ نمودار ہونے پر ان کا خوب مذاق بنا ہوا ہے۔یقین نہیں آتا کہ یہ وہ ٹرمپ ہے جس نے پیننسلوانیا یونیورسٹی سے معاشیات میں ڈگری لی۔ریئل اسٹیٹ کا خاندانی کاروبار سنبھالا ۔1971 میں جب اس کاروبار کی کمان ان کے سپرد کردی گئی۔تو انہوں نے اس کاروبار کو نیا نام اور نئی بلندی دی،کئی شہروں تک وسیع کیا ، بلند کثیر منزلہ عمارات کھڑی کیں، ہوٹلز، کیسینو قائم کئے اور پھر کنزیومر پراڈکٹس میں بھی کاروبار کو پھیلایا۔تاہم عہدہ صدارت پر فائز ہونے کے بعد وہ یہ تمام کاروباری معاملات خاندان کے دیگر افراد کے سپرد کرچکے ہیں۔تین شادیوں کے نتیجے میں ان کے پانچ بچے،9 پوتے،پوتیاں،نواسے،نواسیاں ہیں۔1977 میں انہوں نے چیک ماڈل ایوانا زیلنیکووا سے شادی رچائی ۔جس سے ڈونلڈ جونیئر ،ایوانکا اور ایرک ہیں ۔جن کی پیدائش 1977 ، 1981اور 1984 میں ہوئی ۔ ایک امریکی اداکارہ مارلا میپلزسے گاڑھی چھننے لگی جس پر 1992 میں تنازع جوڑے کی طلا ق پر منتج ہوا۔مارلا میپلزسے 1993 میں ٹفنی کی پیدائش ہوئی ،جس کے بعد ٹرمپ اور مارلا میپلز رشتہ اردواج میں بندھ گئے ۔یہ شادی 1999 تک چل سکی ۔2005 میں ٹرمپ نے میلانیا سے شادی کی جن سے ایک بیٹا بیرن ہے ۔میلانیا اب خاتون اول ہیں ۔منصب صدارت کے بعد ٹرمپ کا کاروبار دونوں بڑے بیٹوں نے سنبھال لیا ہے اور بڑی بیٹی ایوانکا اپنے شوہر کے جیرڈ کشنر کے ساتھ سیاسی امور میں ٹرمپ کا ساتھ بٹارہی ہیں ۔امریکی میڈیا کے مطابق کشنر کے امریکی صدر کے نئے چیف آف اسٹاف بننے کی راہ ہموار کی جارہی ہے ۔اس وقت یہ منصب موجودہ چیف آف اسٹاف جان کیلے ہیں اور 8دسمبر کو ٹرمپ ان کی دسمبر کے آخر تک عہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کرچکے ہیں ۔ٹرمپ کا دعوی ہے کہ ان کے دور میں امریکی معیشت تیزی سے بحال ہوئی ہے اور انہیں تاریخ امریکہ کے کامیاب ترین صدور میں شمار کرے گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی سیاسی ساکھ اور مقبولیت پر سوال ہیں جب کہ وسط مدتی انتخابات میں ان کی جماعت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

(103 بار دیکھا گیا)

تبصرے