Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 20 مارچ 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ڈاکو ماسی پکڑی گئی

ارشد انصاری جمعه 14 دسمبر 2018
ڈاکو ماسی پکڑی گئی

غر بت اور کم اجر ت ملنے پر اب خواتین ملاز مہ بھی چوری و لو ٹ مارکی وا ر داتو ںمیںملو ث د کھا ئی دیتی ہیں جس کی بڑی و جہ گھر و ںمیں محنت مشقت کرتے ہوئے اپنی ڈیو ٹیو ں کو خو اتین ملا ز مہ انجام دیتی آ رہی ہیں لیکن جب وہ اپنے گھر کے ا خراجات کو پو رانہیں کرپا تی ہیں تو مجبو راً ہو سکتاہے وہ لو ٹ ما ر اور چوری جیسے نا پسند ید ہ الز اما ت میں گر فتار ہو کر پکڑی جا تی ہیں و گر نہ خو اتین میں عز ت وآ بر و کا عنصر اور حسا سیت کئی گنا ہ مر دو ںکے مقابلے میں ز یا دہ ہوتی ہے جب ایک خا تون ملا ز مہ اپنے بچوں کو گھر چھو ڑ کر یا اپنے والد یا پھر غر یب نا چار اور شد ید بیما ر اپنے شو ہر سمیت دیگر اہل خا نہ کی کفالت کے لیے کسی اجنبی گھرمیں کئی گھنٹے میط رہنے کا سو دا صر ف چند رو پو ں میں طے کر لیتی ہے اور ملازمہ شاید سو چتی ہے کہ وہ بھی جن گھر و ں میںمحنت مز دو ری کر تی ہے اسے اتنی اجر ت مل جا ئے کہ وہ ما ہا نہ اپنے ا ہل خا نہ کی کفا لت بآسانی کر سکے ‘لیکن مشا ہدے میں یہ بات جب سامنے آ تی ہے کہ ایک صاحب ز مین صا حب مکان اور مال دار گھر انہ اپنے ملا ز مین با لخصوص جوکہ گھر و ں میں کام کر نے وا لی ملا ز مہ کی ا جر ت ما ہا نہ اتنی اد ا نہیں کی جا تی کہ وہ صر ف ان کے ایک ہفتے کے بر گر سینڈ وچز یا شیمپو اور تو اور پیٹرول کے اخراجات کے بر ابر ہی ہو جو کہ ملا ز مہ کو اداکی جا تی ہے تو پھر اس طر ح کے حا لا ت ہی نہیں ہو سکے کہ کسی بھی گھر میں کام کرنے والی ملا ز مہ اسی گھر سے جہا ں سے اس کے ا ہل خا نہ کی کفا لت ہو رہی ہو اور وہ اس گھر سے چوری و لو ٹ مار کی وار دا تو ں میںشامل ہو جا ئے نہیں ہو سکتاہے کہ گھر و ں میں کام کر نے والی ملا زمہ خو اتین پر باآ سانی چوری و لو ٹ ما رکے الزامات لگا ئے جانے کے کئی وا قعا ت سا منے آتے ہیں اور ر پو رٹ بھی ہو ئے ہیں۔ بہرحال چو ری و لو ٹ مار چاہے کو ئی کر ے اچھا اور نیک عمل نہیں ہے اورنہ ہی کسی مذ ہب نے چوری کو جائز قر ار دیا ہے رواں ما ہ میں 3 د سمبر کو حید ر آبا کے علا قے کھو کھر محلہ میں گھر و ں میں کام کرنے والی ملا زمہ کو چوری کرنے کے الزام میںا ہل خا نہ سٹی تھانے کی پو لیس کے حوالے کر دیا‘ شہر بھرمیںاور سوشل میڈ یا پر یہ خبر وائر ل ہونے پر حید رآباد میں چوری کے الز ام میں گرفتار ہونے والی خا تون ملا ز مہ کے اس عمل پر بحث کئی ہوٹلوں اور کئی حلقو ں میں سنا ئی دی گئی کہ حا لات نہ جانے کیا کچھ غر یب آ د می کو کر نے پر مجبو ر کر دیتا ہے‘حید رآباد کے سٹی تھانے کی حد ود کھو کھر محلہ کے رہائشی محمد آصف نا می شخص نے سٹی تھانے پر طلا ع دیتے ہوئے ر پو رٹ درج کر ائی کہ اسکے گھر میں کام کر نے والی ملا زمہ ناز یہ ولد اللہ رکھا کے گھر سے ہز ارو ںکی نقد ی و دیگر سامان چوری کیاہے جس پر سٹی تھانے کی پو لیس نے محمد آصف کی فر یا د پر مذ کورہ خا تون ملا زمہ نا زیہ ولد اللہ رکھا کو گر فتار کرکے اسکے قبضے سے ہز ارو ں کی نقدی و دیگر سا مان کی بر آمد گی کا پو لیس نے دعویٰ کیا ہے اور گر فتار ی کی گئی ملا ز مہ نازیہ ولد اللہ ر کھاکے خلاف مد عی آصف کی فر یا د اور رنگے ہا تھو ں گر فتار کر اکے ایف آئی آ ر درج کرکے مز ید تفتیش کی گئی اور پھر کیا تھا سٹی تھانے کی پولیس نے بتایاکہ ملا زمہ نا ز یہ ولد اللہ رکھا حالی روڈ تھا نے کی ر ہا ئشی ہے‘ ملا زمہ سے تفتیش کی گئی تو نا ز یہ نے پو لیس کو بتایاکہ وہ کا فی عر صے سے گھر و ں میں کام کر تی آ رہی ہے ا ور چوری سمیت لو ٹ ما رکی وارداتو ں میںملوث ہے اور عجلت میں گرفتار کی گئی ملازمہ نا زیہ ولد اللہ ر کھاکے خلا ف تشہیر کر تے ہوئے اور سوشل میڈیا پر وائر ل کر تے ہوئے حیدرآباد پولیس کی جانب سے ملا زمہ ملز مہ نا زیہ پر فو رٹ حسین آباد سمیت دیگر تھا نو ں کی حد ود میں لو ٹ مارکی وا رداتو ں میں ملو ث بتائی گئی ہے‘ پو لیس کے مطابق ملزمہ کے دیگر ساتھیو ں کی بھی تلا ش جا ری ہے۔ جو کہ ملز مہ کے ہمرا ہ کئی لو ٹ ما ر کی وار داتو ں میں اس کا سا تھ دیتے آرہے ہیں ملز مہ نا زیہ ولد اللہ رکھا کو سٹی تھانے کی پولیس نے سول جج و جو ڈیشنل مجسٹریٹ کی عدا لت نمبر با رہ کے سامنے پیش کیا جہاں معز ز عدالت کے جج نے ملز مہ کو جو ڈ یشنل ریمانڈ پر وو من جیل حید ر آباد بھیج د یا دیکھنا یہ ہے کہ اس طر ح کے وا قعا ت کی روک تھا م کے لیے حکو مت گھر وں میں کام کر نیو الے ملا زمین با لخصوص خو اتین و بچے جنہیں کم اجر ت پر نو کر ی پر رکھا جانے کا نو ٹس لیتی ہے اور انکے حقو ق کی بحا لی کس طر ح اور کب تک ممکن ہو سکتی ہے اور ان کی زند گیو ں میں کوئی تبدیلی آ سکے گی یا پھر غر یب کا بچہ غر یب ہی غر بت کے با عث چو ری و لو ٹ ما ر کی وا ر داتو ںمیں ملو ث ہی ہو تا رہے گا یا پھر حقیقی معنو ںمیں ان افر اد کا بالخصوص گھر یلو ں ملا زمہ کے اہل خانہ کے اخر اجات کی بنیا د پر انہیں اجر تیں فراہم کی جا سکے گی۔

(237 بار دیکھا گیا)

تبصرے