Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 20 مارچ 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

"قا تل کرایہ "

عارف اقبال جمعه 14 دسمبر 2018

’’ابو مجھے بچالو‘ نہیں تو یہ لوگ مجھے جان سے مار دیں گے‘‘ یہ آواز سرجانی ٹائون کے رہائشی 20 سالہ محمد احسن کی تھی جو اپنے والد کو موبائل فون پر اپنے اوپر ہونے والے تشدد کے بارے میں بتارہا تھا۔ احسن کی اس بات پر گھر میں لیٹا محمد امان ہڑ بڑا کر اُٹھ بیٹھا اور موبائل فون کی گرفت مزید سخت کی کہ کہیں باتوں کے درمیان الفاظ چھلک کر زمین پر نہ گر جائیں۔ موبائل فون کی دوسری جانب اس کا بیٹا اور اس کے مستقبل کا سہارا محمد احسن تھا جو بڑی گھبراہٹ میں اس کو بتارہا تھا کہ آپ سلمان کے گھر جو کہ علاقے میں ہی ہے جائو اور اس کے گھر جاکر جنریٹر اُٹھالو اور اس کا کرایہ 6 ہزار روپے لے کر سندھی ہوٹل آجائو جس کے بعد احسن کا موبائل فون بند ہوگیا۔ سرجانی ٹائون سیکٹر سیون بی میں کرائے کے گھر میں اپنی فیملی کے ساتھ رہائش پذیر محمد امان اپنے بیٹے احسن کی باتیں سن کر مزید گھبرا سا گیا اور اسی گھبراہٹ میں وہ سلمان نامی شخص کے گھر پہنچا جہاں دروازہ کھٹکھٹانے پر ایک شخص باہر آیا جس کو امان نے صورت حال بتاتے ہوئے جنریٹر اور کرایہ دینے کا کہا جس پر اس شخص نے کہا کہ سلمان ابھی گھر پر موجود نہیں ‘ اس کے آنے کے بعد ہی جنریٹر اور کرایہ مل سکے گا۔ امان نے بہت کوشش کی کہ وہ اس شخص کو معاملے کی سنگینی کے بارے میں بتائے لیکن وہ شخص امان کی ایک بھی سننے کو تیار نہیں تھا‘ بس اس شخص کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے سلمان کو آنے دو‘ تو تمہیں جنریٹر اور کرایہ مل جائے گا۔ ایک طرف محمد امان کو اپنے جواں سال بیٹے کی فکر تھی جس کی کرب بھری آواز وہ فون پر سن چکا تھا تو دوسری جانب اس کو جنریٹر اور اس کا کرایہ 6 ہزار روپے وہ احسن کے بتائے ہوئے لوگوں سے نہیں لے سکا تھا۔ امان جس کو بیٹے کی بات سن کر معاملے کی سنگینی کا تو علم ہوچکا تھا لیکن معاملے کی تفصیل جاننے میں ابھی تک اُسے ناکامی ہوئی تھی اور وہ یہ سمجھنے سے بھی قاصر تھا کہ آخر بات کیا ہے کہ کچھ لوگ احسن کو اس طرح اغواء کرکے لے گئے اور بہیمانہ تشدد کے بعد اس سے فون کروارہے ہیں کہ جنریٹر اور پیسے لے آئو تو اس کی جان بخشی ہوگی‘ وہ یہی کچھ سوچتا ہوا گھر کی طرف آرہا تھا۔ محمد امان ایک پھل فروش ہے اور وہ سرجانی ٹائون کے علاقے سیکٹر 7/B میں کرائے کے ایک گھر میں اپنی فیملی کے ساتھ رہائش پذیر‘ مہنگائی کے اس دور میں پھل کا کاروبار کرکے گھر چلانا بہت مشکل تھا جس کو دیکھتے ہوئے امان کا بڑا بیٹا محمد احسن بھی اپنے والد کا ہاتھ بٹانے کے لئے محلے میں ہی ایک سائونڈ سسٹم کی دکان پر کام کرنے لگا۔سائونڈ سسٹم کا مالک اویس نامی شخص تھا جو محفلوں میں سائونڈ سسٹم لگایا کرتا تھا اور اُسے بھی ایک مددگار کی ضرورت تھی جسے احسن نے پورا کردیا۔احسن اب اویس کے پاس مستقل طور پر کام کرنے لگا تھا جس سے اس کی تھوڑی بہت آمدنی ہوجاتی تھی۔ امان نے بھی احسن کو یہ سوچ کر کام کرنے سے منع نہیں کیا کہ گھر کے قریب ہی کام ہے اور اُس کے کام کرنے سے گھر میں کچھ آمدنی آ ہی جاتی تھی جس سے ان کے گزر اوقات میں کچھ فرق پڑگیا تھا لیکن پھر احسن نے اویس کے پاس سے کام چھوڑ دیا اور کسی دوسرے کام میں لگ گیا تھا اور اپنے کام سے فارغ ہوکر وہ شام کے وقت اویس کی دکان میں بیٹھتا اور سائونڈ سسٹم کی بکنگ پر چلا جایا کرتا تھا جس سے اس کی کچھ آمدنی ہوجاتی تھی ‘ ابھی امان یہ سوچتا ہوا گھر کی جانب ہی آرہا تھا کہ اس کے موبائل فون کی گھنٹی پھر بج اُٹھی‘ یس کرنے پر امان کو دوسری جانب ایک بار پھر احسن کی گھبرائی ہوئی آواز آئی جس کو سن کر امان بھی گھبرا سا گیا‘ فون یس کرنے پر احسن کا پہلا سوال تھا کہ جنریٹر مل گیا‘ کرائے کے 6 ہزار روپے مل گئے جس پر امان نے اُس کے سوال کو نظرانداز کرتے ہوئے اُلٹا احسن سے سوال کیا کہ مجھے تم تفصیل تو بتائو کہ آخر معاملہ کیا ہے اور وہ کون لوگ ہیں جو تم پر تشدد کررہے ہیں جس پر احسن نے امان کو مختصراً بتایا کہ 10 روز قبل میں نے اویس کے کہنے پر سندھی ہوٹل میں واقع دکان سے جنریٹر کرائے پر لیا تھا اور وہ جنریٹر اور سائونڈ سسٹم اویس کی موجودگی میں سرجانی ٹائون کے علاقے میں ہی سلمان نامی شخص کے گھر لگایا تھا لیکن پروگرام ختم ہونے کے بعد اویس نے اپنا سائونڈ سسٹم تو اُٹھالیا لیکن سلمان نے جنریٹر مزید کچھ دنوں کے لئے روک لیا‘ اس دوران میں متعدد بار جنریٹر کی واپسی کے لئے سلمان کے گھر گیا لیکن وہ اور اس کے گھر والے بہانہ کرکے جنریٹر واپس نہیں کررہے تھے کہ آج شام کو جنریٹر کا مالک عدنان اپنے 2 لوگوں عدنان اور زین کے ساتھ اویس کی دکان پر آیا اور مجھے زبردستی گاڑی میں بٹھا کر سندھی ہوٹل اپنی دکان پر لے آیا اور مجھ پر تشدد کرنے لگے‘ میں ان سے لاکھ بار منتیں کیں کہ مجھے جانے دو‘ میں جائوں گا ہی تو جنریٹر اور کرائے کے 6 ہزار روپے لے کر آئوں گا لیکن یہ لوگ میری کسی بات کو سننے کے لئے تیار ہی نہیں اور اب بڑی مشکلوں سے ان لوگوں نے فون پر میری بات کروارہے ہیں‘ آپ یہ بتائو کہ سلمان کے یہاں سے جنریٹر لے کر آرہے ہو کہ نہیں اگر جنریٹر نہیں لائو گے تو یہ لوگ مجھ پر تشدد کریں گے‘ اب امان سوچ میں پڑگیا کہ میں مشکل میں گرفتار اپنے بیٹے سے کیسے کہوں کہ میں سلمان کے گھر گیا تھا لیکن اس کے باپ نے سلمان کے آنے تک جنریٹر اور پیسے دینے سے انکار کردیا ہے اور سلمان کا بھی کچھ پتہ نہیں کہ وہ کس وقت گھر آتا ہے۔ امان ابھی یہ سب باتیں سوچ ہی رہا تھا کہ احسن کا فون بند ہوگیالیکن احسن کے منہ سے اویس کا نام سن کر امان فوری طور پر اویس کی دکان پہنچا اور اویس سے مل کر تمام صورت حال بتائی اور اس سے منتیں کرنے لگا کہ تم ان لوگوں سے بات کرلو‘ پھر اس دوران امان نے اسی نمبر پر دوبارہ کال ملائی جس نمبر سے احسن نے ابھی کال کی تھی تاکہ کال ملنے پر وہ اویس کی ان لوگوں سے بات کرواکے احسن کی جان بخشی کروائے۔ فون ملنے پر دوسری جانب احسن ہی تھا جس نے اپنے والد کی آواز سن کر کہا کہ آپ جنریٹر اور 6 ہزار روپے لے کر سندھی ہوٹل پہنچو‘ میں ان لوگوں سے 2 دن کی مہلت مانگ رہا ہوں لیکن یہ لوگ مہلت دینے کی بجائے مجھ پر تشدد کررہے ہیں۔ یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ اگر اویس بول دے تو ہم تمہیں 2 کی بجائے 4 دنوں کا وقت دے دیں گے لیکن اویس کہہ رہا ہے کہ میں تمہاری آدھے دن کی بھی ضمانت نہیں دے سکتا اور پھرموبائل فون بند ہوگیا‘ یہ سن کر امان وقت ضائع کئے بغیر اپنے بھتیجے کے ساتھ عوامی کالونی کے علاقے سندھی ہوٹل چلا گیا ت اکہ وہ ان لوگوں سے جنہوں نے احسن کو قید کر رکھا تھا‘ بات کرکے احسن کو بازیاب کرواسکے۔ امان اس وقت سندھی ہوٹل تو پہنچ گیا لیکن وہ جلد بازی اور گھبراہٹ میں احسن سے دکان کا نام پوچھنا تو بھول ہی گیا کہ انہیں جس جگہ پہنچنا ہے۔ یہ خیال آتے ہی امان نے جلدی سے اپنے پاس سے موبائل فون نکالا اور اس نمبر پر دوبارہ کال کرنے لگا جس سے احسن انہیں بار بار کالیں کررہا تھا لیکن جب امان نے اس نمبر پر فون کیا تو اس نمبر سے جواب آنا شروع ہوا کہ آپ کے مطلوبہ نمبر سے جواب موصول نہیں ہورہا ہے۔ یہ سن کر پہلے تو امان سمجھا کہ یہاں نیٹ ورک کا کوئی مسئلہ ہے لیکن بار بار فون ملانے پر بھی جب یہ ہی جواب آنا شروع ہوئے تو وہ گھبرا سا گیا۔ یہ دیکھتے ہوئے اس کے ساتھ آئے امان کے بھتیجے سلمان نے اس نمبر پر کال کرنا شروع کی لیکن اس کے پاس بھی وہی جواب آنا شروع ہوگئے جس کے بعد وہ لوگ دیوانہ وار اس دکان کو ڈھونڈنے لگے جہاں احسن کو قید رکھ کر تشدد کا نشانہ بنارہے تھے لیکن اُن کی یہ تمام محنت رائیگاں جارہی تھی کیونکہ باوجود کوشش کے وہ لوگ اس دکان کو ڈھونڈنے میں اب تک ناکام تھے اور نہ ہی اس دوران احسن کی طرف سے دوبارہ کوئی کال آئی۔ آخر تھک ہار کر امان اپنے بھتیجے کے ساتھ گھر واپس آگیا کہ اگر اس دوران احسن کی کوئی کال آئی تو وہ احسن سے سب پہلے اس دکان کا نام پوچھیں گے جہاں اُسے قید رکھا گیا تھا۔ امان کے لئے اب ایک ایک لمحہ گزارنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا تھا‘ اس وقت امان نے موبائل فون کو اپنے ہاتھ میں سختی سے پکڑا ہوا تھا اور اس کی نظر اس آس پر بار بار اپنے موبائل فون کی جانب اُٹھ رہی تھی کہ کسی وقت بھی احسن کی کال آسکتی تھی لیکن وقت گزرتا جارہا تھا اور دوبارہ احسن کی کال ابھی تک نہیں آئی تھی۔دوسری جانب جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب بلال کالونی پولیس کو ون فائیو کے ذریعے اطلاع ملی کہ بلال کالونی تھانے کی حدود سندھی ہوٹل سیکٹر 5/E میں واقع ٹائم آٹوز دکان نمبر 785 جہاں جنریٹر کی خریدو فروخت یا کرائے پر دیا جاتا ہے‘ اس دکان میں نوجوان کی پھندا لگی نعش موجود ہے۔ اطلاع ملنے پر بلال کالونی پولیس فوری کارروائی کرتے ہوئے جائے وقوعہ پر پہنچی اور پھندا لگی نعش کو تحویل میں لے کر قانونی کارروائی کے لئے عباسی اسپتال منتقل کیا۔ایس ایچ او بلال کالونی افضل کے مطابق متوفی یا مقتول کی شناخت احسن ولد امان کے نام سے کی گئی جس کی عمر تقریباً 20 برس تھی۔ متوفی سرجانی ٹائون سیکٹر سیون بی کا رہائشی اور سائونڈ سسٹم کا کام کرتا تھا اور ابتدائی تفتیش کے مطابق جس دکان سے نوجوان کی نعش ملی‘ متوفی اُسی دکان سے سائونڈ سسٹم چلانے کے لئے جنریٹر کرائے پر لایا کرتا تھا۔ ایس ایچ او نے مزید بتایا کہ چند روز قبل احسن نے یہاں سے کسی کو جنریٹر کرائی پر دلوایا تھا جس کا کرایہ اور جنریٹر واپس نہیں ہوا تھاجس کی وجہ سے دکاندار عدنان نے جمعہ کی دوپہر احسن کو بلایا اور اپنی دکان میں بٹھالیا۔ احسن نے اپنے والد کو موبائل فون سے کال کرکے بتایا کہ اُسے عدنان نے اپنی دکان میں بٹھایا ہوا ہے اور رقم کا بندوبست کیا جائے۔ ایس ایچ او نے مزید بتایا کہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب نعش کی اطلاع پر جب پولیس موقع پر پہنچی تو نعش دکان کے اندر چھت سے لٹکی ہوئی تھی۔ پولیس نے دکان کے مالک عدنان اور اس کے ساتھی کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کردیا ہے۔ ابتدائی طور پر ملزمان نے بیان دیا ہے کہ وہ رات کا کھانا کھانے باہر گئے تھے اور واپس آئے تو احسن نے خودکشی کرلی تھی‘ نعش دیکھ کر انہوں نے پولیس کو فون کیا۔ ایس ایچ او بلال کالونی افضل نے مزید بتایا کہ یہ واقعہ رات 12 بج کر 10 منٹ پر ون فائیو کے ذریعے پولیس کو اطلاع ملی‘ جبکہ گرفتار ملزم عدنان نامی شخص نے ابتدائی تفتیش میں بتایا کہ احسن نامی لڑکے نے خودکشی کی ہے‘ جب پولیس موقع پر پہنچی تو جائے وقوعہ پر 20سالہ نوجوان کی نعش دکان کی گرل سے لٹکی ہوئی تھی۔ نعش کو تحویل میں لینے کے بعد جب پولیس نے واقعہ کی مزید تفتیش کی تو پتہ چلا کہ ملزمان تقریباً 4 بجے مقتول کو سرجانی ٹائون سیکٹر سیون سی سی لے کر آئے تھے۔ ایس ایچ او نے مزید بتایا کہ اغواء کے بعدیہ لوگ متوفی کے گھر والوں کو دھمکی دے رہے تھے کہ جلد از جلد ہمارا جنریٹر دے دو۔ ایس ایچ او فضل نے مزید بتایا کہ ہمارا تجربہ ہے کہ خودکشی کرنے والا اگر خود کو لٹکائے تو دیکھتے ہی پتہ چلتا ہے جبکہ اطلاع دینے پر مقتول کے والد امان نے بتایا کہ ملزمان نے نوجوان کو تشدد سے مارا ہے اور پھر گلے میں پھندا ڈال کر اُسے گرل کے ساتھ لٹکادیا جبکہ ملزمان نے بتایا کہ ہم لوگ متوفی کو دکان میں بٹھا کر باہر سے تالا ڈال کر کھانا کھانے چلے گئے تھے۔ ایس ایچ او کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے متوفی پر تشدد کیا اور پھر دکان میں تالا ڈال کر چلے گئے۔ پولیس نے 2 ملزمان عدنان ولد رحمت اور عدنان ولد امجد کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ ان کا تیسرا ساتھی زین جائے وقوعہ سے فرار ہوگیا‘ پولیس کے مطابق عدنان کرائے پر جنریٹر دیتا تھااو رمقتول نے ان سے کرائے پر جنریٹر لیاتھا‘ تاہم پولیس نے متوفی کی نعش پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردی ہے اورپوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی صورتحال واضح ہوسکے گی‘ متوفی احسن کے والد امان نے نمائندہ قومی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ احسن کی تلاش کے بعدہم لوگ تھک ہارکر جب گھرپہنچے تو تقریباً ایک گھنٹے بعد ہی میرے موبائل فون پر بلال کالونی پولیس کی کال آئی ‘ جنہوںنے ہمیں عباسی اسپتال پہنچنے کا کہا‘ جس پر ہم فوری طورپر عباسی اسپتال پہنچے‘ جہاں پر ہمیں اسپتال کے مردہ خانے بھیج دیاگیا‘ مردہ خانے پہنچنے پر ہم نے دیکھا کہ وہاں چادر میں لپٹی احسن کی نعش پڑی تھی‘ یہ دیکھ کر ہم عرصے سے نڈھال ہوگئے‘ جبکہ متوفی کی والدہ پر شدت غم سے غشی طاری ہوگئی‘ تاہم قانونی کارروائی کے بعد پولیس نے احسن کی نعش ہمارے حوالے کی اور اب بعدازاں تدفین بلال کالونی تھانے میں واقعے کا مقدمہ درج کروانے آیا ہوں‘ جہاں متوفی احسن کے والد امان نے پولیس کو بتایا کہ میں سرجانی ٹائون سیکٹر 7/B کے علاقے میں اپنی فیملی کے ساتھ کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہوں اور پھل بیچنے کا کا م کرتا ہوں‘ واقعہ والی رات میں گھر پر ہی موجود تھا کہ تقریباً ساڑھے 8 بجے میرا بیٹا 20 سالہ محمد احسن کی کال آئی ۔ جس نے اس کو بتایا کہ عدنان ولد امجد ‘ عدنان ولد رحمت اور زین نامی شخص مجھے گھر کے قریب سے اٹھا کر لائے ہیںاور مارپیٹ کررہے ہیں‘ احسن نے مجھے پتہ بتاتے ہوئے کہا کہ میں سلمان کے گھر سے جنریٹر اٹھالوں اور 6 ہزار روپے لے کر سندھی ہوٹل آجائوں میں نے کافی تلاش کیا‘ لیکن ہمیں وہ جگہ نہیں ملی اور پھر رات زیادہ ہونے کی وجہ سے میں اپنے گھر چلا گیا‘ تقریباً ساڑھے 12 بجے رات مجھے عباسی اسپتال سے فون آیا کہ آپ اسپتال آجائو ‘ میں فوری طورپر عباسی اسپتال پہنچا ‘ جہاں میرے بیٹے 20 سالہ محمد احسن کی نعش رکھی ہوئی تھی‘وہاں سے ضروری کارروائی کے بعد کفن دفن کے لیے متوفی کی نعش ہمارے حوالے کی گئی‘ میں نعش کو سردخانے میں رکھوا کر بلال کالونی تھانے حاضر ہوا ہوںاور رپورٹ کرتا ہوںاور میرا دعویٰ ہے کہ عدنان ولد امجد ‘ عدنان ولد رحمت ‘ زین اور دیگر ملزمان نے میرے بیٹے احسن کو اپنی دکان ٹائم آٹوز بمقام نیو کراچی سندھی ہوٹل سیکٹر5/Fمیں نامعلوم رنجش کی بناء پر گلے میں رسی ڈال کر اور جس بے جا میں رکھ کر ہلاک کیا اب میں قانونی کارروائی چاہتاہوں‘ بلال کالونی پولیس نے متوفی احسن کے والد امان کے اس بیان کے بعد واقعہ کا مقدمہ الزام نمبر 2018/2018 درج کرکے گرفتارکے خلاف تفتیش کا باقاعدہ آغاز کردیا‘اس مقدمے کے تفتیشی افسر انسپکٹر محمد یونس نے نمائندہ قومی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تفتیش کے دوران ملزمان نے بتایا کہ متوفی احسن نے پھندا لگاکر خودکشی کی ہے‘ مزید یہ کہ متوفی احسن نے ہماری دکان سے 24 اکتوبر 2018 ء کرائے پر جنریٹر اور اس کا کرایہ واپس نہیں کیا تھا‘ جس پرہم لوگ متوفی کوباربار کال کررہے تھے کہ وہ ہمارے جنریٹر واپس کرے ‘ شروع میں تو اس جنریٹر اور کرایہ پہنچانے کا کہا کہ لیکن پھر اس نے ہماری کال اٹینڈ کرنا چھوڑ دیااو رہمارے کال کرنے پر وہ ہماری لائن کاٹ دیا کرتاتھا‘جس پر ہم لوگ اس کے علاقے میں گئے اور اسے گاڑی میں بٹھا کر اپنی دکان لے آئے یہاں سے ہم نے متعد د بار احسن کے گھر کال کروایا اور جنریٹر واپس کروانے کاکہا‘ لیکن رات ساڑھے 11 بجے تک نہ ہی تو جنریٹر اور اسکا کرایہ 6 ہزار ملا اور نہ ہی متوفی کے گھر سے کوئی آیا جس پرمتوفی کو دکان کے اندر چھوڑ کر ہم لوگ کھانا کھانے چلے گئے اور کھانا کھا کر جب واپسی پر دکان کھولی تو متوفی کے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کرچکاتھا‘ جس کو دیکھتے ہی ہم نے سب سے پہلے اس واقعہ کی اطلاع 15 پولیس کو دی اور پھر تھوڑی دیر بعد ہی بلال کالونی پولیس آگئی‘ تفتیشی افسر انسپکٹر یونس نے مزید بتایا کہ نعش کی پوسٹ مارٹم رپورٹ ابھی آنا باقی ہے ‘ جس سے صورتحال واضح ہوجائے گی کہ احسن نے خودکشی کی ہے‘ یا اسے قتل کیاگیاہے ‘ جبکہ متوفی کے کزن سلمان نے بیان میں بتایا کہ میرے چچا محمد امان نے مجھے بتایا کہ محمد احسن نے عدنان ولد رحمت سے اس کی دکان ٹائم آٹوز سے جنریٹر کرائے پر لیاتھا‘ جو کہ مقررہ وقت پر واپس نہ کرنے پر عدنان ولد رحمت اور عدنان ولد امجد ‘ زین نے اپنی دکان پر احسن کو روکا ہواہے اور مارپیٹ کر رہے ہیں‘ احسن نے مجھ کو فون کرکے کہا ہے کہ جنریٹر کسی سلمان نامی شخص کے پاس ہے جو سرجانی کے ہی علاقے میں رہتا ہے ‘ لیکن اس وقت سلمان بھی سرجانی میں موجود نہیں ہے‘ جبکہ ان کی شرط ہے کہ جنریٹر اور6 ہزار روپے لے کر دکان پر آئو تو ہم احسن کو چھوڑ یں گے‘ جس کے بعد میں اور چچا محمد امان سندھی ہوٹل پر دکان کو تلاش کرتے رہے ‘ لیکن وہ ہمیں نہیں ملی‘ تقریباً ساڑھے 12 بجے رات کو عباسی اسپتال سے کسی پولیس افسر نے فون کیاکہ احسن کی طبیعت خراب ہے اب لوگ عباسی اسپتال پہنچیں میں اپنے چچا کے ساتھ عباسی اسپتال پہنچا تو معلوم ہوا کہ احسن فوت ہوگیاہے ‘ جس کی نعش مردہ خانے میں رکھی ہوئی ہے ‘ پولیس والوں نے اپنی ضروری کارروائی کی اور لکھا پڑھی کی ‘ جس پر میں نے اور چچا امان نے اپنے دستخط کئے بعد میں میرے چچا نے تھانہ بلال کالونی کے موبائل افسر سب انسپکٹر ذوالفقار علی قریشی جو کہ بمعہ موبائل سرکاری ملازمین کے بمقام KTC ڈیوسیکٹر 5Dنیوکراچی پر موجود تھے‘ جن کو چچانے بتایا کہ میں نے تھانہ بلال کالونی میں مقدمہ الزام نمبر 318/2018 برخلاف عدنا ن وغیر ہ کروائی ہے‘ جس کے نامزد ملزمان عقب KTC ڈیو سیکٹر 5D کسی گاڑی کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں‘ اس اطلاع پر میں ہمیں موبائل افسر اور پولیس پارٹی کے مقام بالا پر پہنچا‘ جہاں پولیس نے میرے چچا کی نشاندہی پر 2 اشخاص کو گھیرائوڈال کر پکڑا ‘ جنہوںنے دریافت کرنے پر اپنا نام عدنان ولد امجد اور عدنا ن ولد رحمت بتایا‘ جس کی جامہ تلاشی لی گئی‘ لیکن کوئی شے برآمد نہیں ہوئی‘ پولیس نے ملزمان کو گرفتار کیااور تفتیشی افسر نے میرا بیان لیا‘جبکہ تفتیشی افسر انسپکٹر پولیس نے مزید بتایا کہ دوران تفتیش نمبر خاص کو طلب کیااور مقدمہ کے عدم گرفتار ملزمان کے بارے میں معلوم کیا‘ جس نے بتایا کہ ملزم محمد زین ولد عبدالوحید سیکٹر 5E نیو کراچی کا رہائشی ہے ‘ پولیس نے ملزم کی گرفتاری کے لیے اس کے گھر پر متعدد بار چھاپے مارے ‘ مگر ملزم گرفتار ہوا اور پولیس کو یقین ہے کہ ملزم دانستہ روپوش ہے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کیمیکل ایگزامنر کروایاگیااور CDRریکارڈ بھی حاصل کیاگیا اور اب تک کی تفتیش حاصل بیان ‘ گواہان گرفتار ملزمان کی انٹرو گیشن اور پوسٹ مارٹم رپورٹ اور سی ڈی آر ریکارڈ سے ملزمان گرفتار شدہ اور مفرور ملزم کے خلاف عائد شدہ جرم بخوبی ثابت ہے ‘جبکہ مقتول کی والدہ نے نمائندہ قومی اخبار کو بتایا کہ احسن ایمبرائیڈری کاکام کرتا تھا‘ لیکن اس سے قبل وہ محلے میں اویس نامی شخص کے پاس سائونڈ سسٹم کا کام کیا کرتا تھا‘ آج کل ایمبرائیڈری کاکام تھوڑا کم تھا‘ جس کی وجہ سے وہ اپنا کچھ وقت اویس کی دکان پر بھی دیتا تھا‘ اویس کے پاس سائونڈ سسٹم لگانے کا کوئی کام آتا تو اویس اسے پہلے بتا دیتا تھا‘ جس کے بعد مقررہ تاریخ پر احسن سائونڈ لگا کر آجاتا تھا‘ جس سے احسن کی کچھ اضافی آمدن بھی ہوجاتی تھی‘ متوفی احسن کی والدہ نے مزید بتایا کہ احسن کے والد امان پھل بیچنے کا کام کرتے ہیں اور گھر بھی ہمارا کرائے کا ہے‘ جس کی وجہ سے اس مہنگائی کے دور میں گزرا وقات بہت مشکل سے ہوتاتھا‘ احسن چونکہ گھر کا بڑا تھا‘ جس کی وجہ سے حالات کو دیکھتے ہوئے احسن پہلے سائونڈ سسٹم اور پھر ایمبرائیڈری کاکام کرنے لگا ا ورگھر کے گزر اوقات میں اپنے والد کا ہاتھ بٹانے لگا احسن کے کام کرنے سے ہمارا گزر اوقات کی مشکلوں میں کچھ آسانیاں ہوگئیں اور اس کے چھوٹے بہن بھائی بھی اسکول جانے لگے کچھ سال قبل بھی ہم لوگ ایک گہرا صدمہ برداشت کرچکے ہیں‘ جب احسن سے بڑا بیٹا فیضان رضا ڈیوٹی سے واپس گھر آتے ہو ئے ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوگیا تھا۔جس کی کچھ دنوں بعد برسی آنے والی تھی‘ احسن نے پروگرام بنایاتھا کہ بھائی کی برسی پر وہ حلیم کا نیاز کروائے گااور اس کی تیاری کے لیے وہ گھر کی حالت کو بہتر بنانے کے لیے رنگ وروغن کرنے کا سوچا تھاکہ برسی والے روز عزیز واقارب آئیں تو انہیں گھر گندا سا نہ لگے ‘ لیکن اس کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ رنگ کرنے والے مزدور کو بلا سکے‘ احسن رنگ خرید کر لایا اور خود ہی گھر میں رنگ کرنے لگا تاکہ مزدور ی بچائی جاسکے ‘ 9 نومبر کے دن احسن نے رنگ کاکام کرنے کے لیے کام سے چھٹی کی اور گھر میں رنگ کرنے لگا کہ اس دوران احسن کے موبائل پر اویس سائونڈ والے کی کال آئی ‘ جس میں اس نے کہا کہ بریانی کھانی ہے تو جلدی سے دکان پر آجا‘ جس پر احسن نے اس سے کہا کہ تم بریانی کھالو ‘ میں اپنے گھر میں رنگ کررہا ہوں‘ لیکن اویس بضد تھا‘کہ تم جلدی سے دکان پر آجائو ‘ ہم سندھی ہوٹل بریانی کھانے چلتے ہیں‘ اویس کی ضد پر احسن بادل نخواستہ راضی ہوا اور رنگ کاکام چھوڑ کر وہ اویس کی دکان پر چلا گیا‘ احسن کے گھر سے تقریباً 4 بجے گیا ‘ لیکن دو تین گھنٹے گزرجانے پر جب احسن واپس نہیںآیا‘ جب مزید کچھ وقت گزر گیاتو میں نے اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کو اویس کی دکان میں بھیجا کہ وہ وہاں سے احسن کو بلا لائے اگر اسے آج کام ختم نہیں کرتا تھا تو کیا ضرورت تھی تو اس نے گھر میں اتنا کام کیوں پھیلایا‘لیکن تھوڑی دیر بعد چھوٹا بیٹا واپس آیا اور اس نے کہا کہ اویس سائونڈ والے کی دکان بند ہے ‘ جس پر مجھے تشویش ہوئی‘ لیکن پھر یہ سوچ کر خاموش ہوگیا کہ یہ لوگ بریانی کھانے گئے ہوں گے‘ جہاں سے اویس کسی اور کام سے نکل گیا ہوگا اورجاتے ہوئے وہ احسن کو بھی ساتھ لے گیا ہوگا‘ پھر تقریباً رات کے 8 بجے ہمارے موبائل فون پر احسن کی کال آئی کہ شام کو کچھ لوگ اٹھا کر لے آئے ہیں اور بلال کالونی میں واقع دکان میں بند کرکے اسے تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں‘ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ بلال کالونی میں جنریٹر کی دکان ہے اور کچھ روز پہلے ہی علاقے میں بجلی بہت زیادہ جا رہی تھی‘ تو سائونڈ چلانے کے لیے وہ اویس کے کہنے پر ان لوگوں کی دکان سے کرائے پر جنریٹر لے کر اور سلمان نامی شخص کے گھر گیا ‘ لیکن اس نے جنریٹر واپس نہیں کیا‘ احسن نے سوچا کہ جنریٹر لگے رہنے سے اس کا کوئی نقصان نہیں ‘ بلکہ اس کے کرائے میں اضافہ ہوگا اس دوران اسے جنریٹر والے اغواء کرکے لے آئے اور اپنی دکان میں بند کرکے اسے تشدد کانشانہ بنار ہے ہیں‘ احسن نے فون پر کہہ دیاتھا کہ تم لوگ فوری سلمان کے گھر جائو اور وہاں سے جنریٹر اور کرائے کے 6 ہزار روپے لے کر بلال کالونی جنریٹر کی دکان پر آئونہیں تو یہ لوگ مجھ پر مزید تشدد کریں گے‘ احسن کی والدہ کے مطابق احسن کی کال آ نے کے بعد مقتول کے والد جو کہ اس وقت گھر پر ہی تھے فوراً گھر سے نکلے اور سلمان کے گھر گئے جوکہ علاقے میں ہی تھا‘ لیکن دروازہ کھٹکھٹانے پر سلمان کے والد گھر سے باہر آئے اور بتایا کہ سلمان گھر پر نہیں ہے‘ جس پر احسن کے والد نے ان سے کہا کہ آپ ہمیں جنریٹر دے دیں‘ کیونکہ جس کا جنریٹر ہے ‘وہ لوگ جنریٹر واپس نہ ملنے کی وجہ سے میرے بیٹے احسن کو یرغمال بنالیاہے اوراس پر بہیمانہ تشدد کررہے ہیں‘ لہٰذا اب جنریٹر اور اس کا کرایہ 6 ہزار روپے دے دیں ‘تاکہ میں اپنے بیٹے کو ان لوگوں کے چنگل سے آزاد کروا سکیں ‘ یہ سب سننے کے بعد بھی اس شخص کی ایک ہی بات تھی کہ سلمان گھر آجائے تو وہی جنریٹر اور کرایہ دے گا‘ اس پر متوفی کے والد نے ان کے ہاتھ پائوں بھی جوڑے لیکن ا س پتھر دل شخص پر کوئی اثر نہیں ہوا اور سلمان گھر کب واپس آئے گا‘ اس کا بھی انہیں نہیں پتہ تھا‘ اس کے بعد والد اویس کے پاس گیا اور اس کو تمام صو رتحال بتائی اور یہ بھی بتایا کہ احسن کہہ رہا ہے‘ کہ اگر اویس بھائی کہہ دیں تو وہ لو گ اسے رہا کر دیں گے‘ لیکن اویس نے احسن کی ضمانت لینے سے صاف انکار کردیا‘ متوفی احسن کی والدہ نے پولیس پر الزام لگایا کہ پولیس نے احسن کو مارنے والے کو تو گرفتار کرلیا‘ لیکن جو اس واقعہ کا ذریعہ بنا‘ پولیس اسے کچھ نہیں کہہ رہی ہے‘ یا ان لوگوں سے پولیس نے توڑ جوڑ کرلیاہے‘ کیونکہ اویس سائونڈ والے نے ہی احسن کو بریانی کھلانے کے بہانے گھر سے بلایا اور اسے ان قاتلوں کے حوالے کیااور سلمان جوکہ جنریٹر اور کرایہ دبائے بیٹھا تھا اور اس کی ہی وجہ سے نوبت یہاں تک پہنچا کر میرا جواں سال کا بیٹا جان سے گیا جبکہ و اقعہ کے بعد میں پولیس نے سلمان کے گھر سے جنریٹر برآمد کیا‘ ان لوگوں کا پولیس نے ابھی تک کچھ نہیں کیا‘ متوفی احسن کے لواحقین نے معزز عدالت سے پرزور اپیل کی ہے کہ عدالت گرفتار و مفرور ملزمان سمیت اویس اور سلمان جو اس واقعہ کے موجب بنے انہیں بھی قانون کے کٹہرے میں لائے اور ہمیں انصاف فراہم کرے۔

(228 بار دیکھا گیا)

تبصرے