Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 20 مارچ 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

طالب علم…جان سے گیا

سید حسن رضاشاہ جعفری جمعه 14 دسمبر 2018
طالب علم…جان سے گیا

کراچی کے علاقے تھانہ شاہ لطیف ٹائون کی حدود میں واقع گلستان سوسائٹی میں ڈاکوئوںنے موبائل فون چھیننے کی واردات کے دوران مزاحمت پر16 سالہ محمد دانش ولدمحمد سلیم کو آتشیں اسلحہ سے فائرنگ کرکے قتل کردیااور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ تیسرے روز مقتول کے والد محمد سلیم کی مدعیت میں مقدمہ نمبر812/18 بجرم دفعہ 302/34 درج کرکے واقعے کی تفتیش شروع کردی۔ واقعے کے مطابق 29 نومبر بروز بد ھ حسب معمول رائو محمد دانش جوکہ 8 ویں کلاس کا طالب علم تھا اور اسکول سے آنے کے بعد قریب واقع موبائل مارکیٹ میں کام کیا کرتا تھا‘واقعے والے دن کام سے واپس گھر کی طرف آرہا تھا کہ اچانک 3 مسلح موٹر سائیکل سواروں نے اسے روک لیا اور موبائل چھیننے کی کوشش کرنے لگے ‘ جس پر اس نے مزاحمت کی تو ملزمان نے اسے ایک روز دار تھپڑ مارے ‘ لیکن مقتول نے انہیں موبائل دینے سے انکار کردیا‘ جس پر طیش میں آ کر ملزمان نے اسے گولی ماردی اور جائے وقوعہ سے فرار ہوگئے‘ گولی مقتول کی گردن پر لگی ‘ جس کی وجہ سے وہ زمین پر گر پڑا اور تڑپنے لگا‘ واقعہ جس جگہ رونما ہوا اس سے کچھ فاصلے پر نوید سرور کا مکان تھا‘ جس کی دکان پر مقتول کام کرتا تھا اسکول کے بعد روزانہ وہ نوید کے گھر پر آیا ‘ وہاں سے دونوں موبائل کی دکان پر چلے جاتے ‘ واپسی میں ساتھ گھر آتے اور مقتول وہاں سے پیدل اپنے گھر چلا جاتاتھاواقعے والے دن بھی ایسا ہی ہوا اسے معلوم نہیں تھا کہ آج راستے میںمو ت اس کی منتظر کھڑی ہے ۔ فائرنگ کے بعد علاقے میں موجود لوگ جائے وقوعہ پر جمع ہونا شروع ہوگئے اور مقتول کو فوری طورپر اہل محلہ نے طبی امداد کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت جناح اسپتال منتقل کردیا‘ لیکن خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے مقتول راستے میں ہی جان کی بازی ہار گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ شاہ لطیف پولیس میں جناح اسپتال پہنچ گئی‘ نعش کو پولیس کارروائی مکمل ہونے کے بعد مقتول نے والدکے حوالے کردیا۔ جسے انہوںنے آخری دیدار کے لیے اپنی رہائش گاہ واقع مرغی خانہ میں منتقل کردیا‘ نعش جیسے ہی مقتو ل کے گھر پہنچی توگھر میں کہرام مچ گیا۔ اہل محلہ کی بڑی تعداد مقتول کے گھر موجود تھی‘ اس موقع پر ہرآنکھ اشکبار دکھائی دے رہی تھی‘ جبکہ مقتول کی والدہ غم کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ مقتول کو غسل کفن کے بعد محلہ کی مسجد میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔ جس کے بعد گھر کے قریب واقع علاقائی قبرستان میں آہوںاور سسکیوںمیں سپردخاک کردیاگیا۔
واقعے کے دوسرے روز بعد جمعہ مقتول کے ایصال ثواب کے لیے مقتول کے گھر کے باہر فاتحہ خوانی کا اہتمام کیاگیا‘ جس میں دکانداروں اور اہل محلہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس واقعے پر مقتول کی والدہ نے قومی اخبار کو بتایاکہ مقتول 3 بہن بھائیوں میں سب سے بڑا اور لاڈلہ تھا۔ مقتول کی والدہ نے آبدیدہ ہوتے ہوئے بتایا کہ 3 سے 4 روز قبل ہی موبائل فون پیسے جمع کرکے خریدا تھا‘ ابھی تک اس میں سم بھی نہیں لگائی گئی تھی کہ مجھ سے کہہ رہا تھا کہ امی مجھے سم دلوا کر لے آئیں۔مجھے آج مارکیٹ جاکر سے سم دلوانی تھی‘ مجھے نہیں معلوم تھاکہ میرے گھر میں پلک جھپکتے میں یوں صف ماتم بچھ جائے گی‘ میری اعلیٰ حکام سے پر زور اپیل ہے کہ میرے معصوم بچے کے سفاک درندہ صفت قاتلوں کوجلد سے جلد گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزاد ی جائے اور مجھے انصاف فراہم کیا جائے۔ تھانہ شاہ لطیف ٹائون کے تفتیشی آفیسر حسین بخش سولنگی نے قومی اخبار کو بتایا کہ واقعے کا مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کردیا ہے ‘ ابتدائی طورپر اہل خانہ اور عینی شاہدین کے بیان قلمبند کرلئے ہیں۔ جبکہ ملزمان کی تلاش بھی شروع کردی ہے ۔ امید ہے کہ ملزمان جلد پولیس کی گرفت میں ہوں گے۔

(137 بار دیکھا گیا)

تبصرے