Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 20 جنوری 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News ! Best Urdu Website in World

یتیم بچی سنگاپور کی صدر کیسے بنی؟

ویب ڈیسک جمعرات 13 دسمبر 2018
یتیم بچی سنگاپور کی صدر کیسے بنی؟

دنیا کے 200 سے زائد ممالک اور آزاد خود مختار ریاستوں وجزائر میں اس وقت اگرچہ زیادہ ترمرد حضرات ہی ریاست وحکومت کے اعلیٰ ترین عہدوں پر براجمان ہیں‘ تاہم دنیا کے لگ بھگ 30 ممالک یا خود مختار ریاستیں وعلاقے ایسے ہیں‘ جہاں اعلیٰ ترین عہدوں یعنی صدر اور وزیراعظم کی نشست پر خواتین براجمان ہیں‘ حیران کن طورپر دنیا کے متعدد ممالک ایسے ہیں‘ جن کی کئی صدیوں پر محیط تاریخ میں آج تک کوئی بھی خاتون صدر یا وزیر اعظم کے عہدے تک نہیں پہنچ سکی‘ ایسے ممالک میں امریکا سمیت کئی ممالک بھی آجاتے ہیں‘ جوخود کو جمہوریت وسیاست کے چیمپیئن کہتے ہیں‘ اسی طرح کئی ممالک ایسے بھی ہیں‘ جہاں خواتین کو ریاست کے دیگر اعلیٰ عہدوں یعنی فوج یا انصاف کے اداروں کی سربراہی میں بھی نہیں دی گئی‘ اس سے زیادہ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ دنیا کے سب سے اہم خود مختار ‘ رول ماڈل اور بڑے ادارے اقوام متحد(یواین اے) کی سیکریٹری شپ بھی گزشتہ 7 دہائیوں سے کسی خاتون کو نہیں سونپی گئی‘ اس وقت یورپ ‘ایشیاء افریقہ سمیت دنیا کے دیگر خطوں کے بمشکل 30 ممالک یا ریاستوں کی سربراہی میں خواتین کے ہاتھوں میں ہے‘ پاکستان‘ بھارت اور بنگلہ دیش کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے ‘ جہاں حکومت کے اعلیٰ ترین عہدوں پر خواتین 3 سے 4 دہائیاں قبل ہی براجمان ہوچکی تھیں‘ آج ایسے ملک کا تذکرہ کریں گے‘ جس نے ترقی کی رفتار میں تمام ہم عصر ملکوں کو پیچھے چھوڑ کر دنیا میں ایک علیحدہ شناخت قائم کی‘ جسے ہم سنگاپور کے نام سے جانتے ہیں‘ اس وقت وہاں کی صدر حلیمہ یعقوب ہیں۔وہ سنگا پور جو کبھی جرائم پیشہ افراد کا گڑھ تھا‘ آج دنیا کا جدید ترین اور مال دار ترین ملک ہے ‘ یہ سب لی کیوان کی شخصی عزم وہمت کا ثمر ہے‘ جس نے سنگا پور کو کثیر النسلی قومیتو ں کی دیدہ زیب گلدستہ بنادیا ہے‘ کھانے کے اسٹال پر اپنے نازک ہاتھوں سے برتن دھوتی ‘ گاہکوں کوکھانا پیش کرتی 8سال کی بچی حلیمہ یعقوب کے بارے میں کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ ہوگاکہ ایک دن وہ سنگاپور کی صدر بن جائے گی‘ یہ ایک مسلم خاتون کی نہیں ‘ عزم وہمت کی کہانی ہے ‘ یہ جدید سنگاپور کی کہانی ہے‘ جو رات دن کی مسلسل انتھک ‘محنت عزم ‘ایمانداری اور جذبوں کی ولولہ انگیز داستان ہے‘ یہ ہماری قوم اور نظام کے لیے سبق ہے ‘ موروثیت ‘ شاہانہ جادو تمکنت اور تکبر سے لتھڑے ’’شاہی خاندان‘‘اس سچی کہانی سے راہ عمل پاسکتے ہیں‘ عظیم کون ہوتاہے اور کہلاتا کون ہے ؟ یہ میڈیا مارکیٹنگ کے بس کا روگ نہیں ‘ یہ ایمانداری اور دیانت کا ثمر ہے‘ جو قدرت اپنے بندوں کو عطا کرتی ہے ‘ کاش ہمارے ملک میں بھی ایسا ہونے لگے‘ حلیمہ یعقوب سنگاپور کی 52 سال کی تاریخ میں پہلی خاتون صدر بننے کا منفرد اعزاز حاصل کرچکی ہیں‘ انہوںنے گزشتہ برس عہدے کا حلف اٹھایا‘ لیکن ان کے ممتاز ہونے کی ا صل وجہ ان کا سنگا پورکا صدر ہونا نہیں‘ بلکہ ان کی ذاتی زندگی اور جہد مسلسل ہے ‘ ہم جیسوں کے لیے ان کی جدوجہد باعث مثال اور قابل ستائش تو ہے ہی لیکن اصل حیرت توسنگا وپر کے عوام اور نظام پر ہے کہ جس نے حلیمہ یعقوب کے پر خلوص جذبے ‘ غریبوںکے لیے جدوجہد اور ایمانداری کی قدر کی‘ غریب چوکیدار کی باصلاحیت اور پرعزم بیٹی کو قوم کی بیٹی کی عزت دے کر مسند اقتدار پر جلوہ افروز کردکھایا‘ مسلسل جدوجہد کے بعد اس عہدے تک پہنچنے والی حلیمہ یعقوب کے والد غریب چوکیدار تھے‘ حلیمہ یعقوب جب 8 سال کی عمر کو پہنچیں تو والد کا شفیق سایہ ان کے سر سے اٹھ گیا‘ ان کے لیے زندگی کا سلسلہ اور بقا کا کھیل نیا چیلنج بن گیا‘ حلیہ کی باہمت والدہ ماجدہ نے حالات کی چیرہ دستیوں کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی اور اپنے 5 بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے کھانے کا ایک اسٹال لگایا‘ 8 سالہ حلیمہ کسی مزدور کی طرح صبح سے رات تک اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتی رہتی ‘ گاہکوں کو کھانا پیش کرتی میز صاف کرتی اور برتن دھوتی ‘ ثانوی تعلیم کے مرحلے کے دوران حلیمہ یعقوب کو اس کے استاد نے اسکول سے مسلسل غیر حاضر رہنے پر اسکول سے نکال دینے کی دھمکی دی تھی‘ اس کے استاد کو اس چھوٹی سی منہنی نظر آنے والی بچی کے جذبوں کی بلندی کا علم نہیں تھااور نہ وہ جان لیتا کہ اسکول آنے کی وجہ اس کی والدہ کی محنت تھی‘ جو وہ کھانے کے اسٹال پر اپنے بچوں کے لیے کررہی تھی‘ معصوم حلیمہ یعقوب اپنے اسکول کا وقت بلکہ 24 گھنٹے میں زیادہ تر وقت کھانے کے اسٹال پر اپنی والدہ کا ہاتھ بٹانے میں صرف کرتی ‘ لیکن اس کے دل میں جذبہ کسی دہکتے لاوے کی طرح انگڑائیاں لے رہا تھا‘ اس کی سوچ میں حالات بدل دینے کی امنگ نے چنگاریاں بھر رکھی تھیں‘ محنت کرتی یہ بچی بتدریج حالات سے لڑتی ‘ بھڑتی تعلیم کے مدارج طے کرتی چلی گئی تھی‘ پھر اس کے حالات بدلے تو اس کی سوچ نے نئی سمت اشارہ کیا‘ اسے اپنے بچپن کی کہانی ہمت سے اور بچوں کی شکل میں اپنی ہی کہانی معلوم ہونے لگی ‘ اس نے ٹھان لیاکہ وہ اپنے ہم وطن اپنے جیسے بے سہاروں کا سہارا بنے گی‘ اپنے ملک کے نظام کو اور بہتر بنائے گی۔ حلیمہ یعقوب نے 2011 ء میں سنگا پور کی سیاست میں قدم رکھا۔ ان کی محنت ‘ جستجو‘ لگن ‘ایمانداری اور عزم نے ان کے لیے نئی منزلوں کے نشان واضح کئے‘ کئی راستے کھلتے چلے گئے‘پھر 2013 ء میں وہ سنگاپور اسمبلی کی پہلی خاتون اسپیکر منتخب ہوکر پوری دنیا میں ممتاز ہوئیں‘ سیاست میں آنے سے قبل وہ تقریباً 30 سال تک ٹریڈ یونین سے وابستہ رہیں‘ وہ کسی طاقتور سیاسی خاندان سے تعلق نہیں رکھتیں اور نہ ہی منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئیں۔ حلیمہ یعقوب کی کامیابی پر سنگاپور کے وزیر اعظم نے شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ کی کہانی سنگا پور کی کہانی ہے‘ہم بطور قوم کس طرح کامیابی کی اس منزل تک پہنچے ہیںاور ہم سنگاپور کو کس منزل سے ہمکنار کرنے کے خواہاں ہیں‘ آ پ نے مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا‘ ،آپ کی زندگی کے ابتدائی سال محرومی اور مشکلات سے دوچار رہے ‘ لیکن آپ نے تعلیم حاصل کی‘ سخت محنت کی اور ملازمت کرکے اپنی فیملی کو سپورٹ کیا‘ آپ کامیابی حاصل کرنے کے باوجود اپنے بچپن کی غربت نہیں بھولیں‘ سنگا پور میں اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ ہم اپنی زندگی کہاں سے شروع کرتے ہیں‘ اگرہم سخت محنت کریں تو کامیابی کے امکانات بہت روشن ہوتے ہیں‘ آپ کو عہدہ صدارت تک کس چیز نے پہنچایا ہے ‘ وہ عوام کے لیے آپ کی سخت محنت ‘ فرائض منصبی کا بھرپور احساس اور پبلک سروس کا شاندار ریکارڈ ہے ‘ غریب گھرانے کی یتیم بچی سنگاپور کی صدر منتخب ہوئی تو اس کے لہجے اوررویے میں رعونت یاتکبر پیدا نہیں ہوا۔ سنگا پور کی ترقی کس عروج پر فائز ہے ‘ قیام پاکستان کے 18 سال بعد اگست 1965 ء میں نیا سنگا پور بنا تھا‘ سنگاپور نوآبادیاتی دورکی ایک پسماندہ بندر گاہ ہوا کرتی تھی‘ 50 سال کے اندر اقتصادی ترقی اور معاشی خوشحالی کی دوڑ میں یہ ملک بڑے بڑے ممالک کو پیچھے چھوڑ کر آگے نکل گیا‘ برطانوی دور میں سنگا پور جاپانی طوائفوں کا مرکز ہوا کرتا تھا‘ سینکڑوں قحبہ خانے ہوا کرتے تھے‘ سنگاپور کے پاس کوئی معدنی ذخائر اور وسائل نہیں تھے۔ اس کے پاس خام مال بھی نہیں تھا‘ غربت کے باعث اس کے باشندے جھونپڑیوں میں رہائش پذیر تھے‘ سنگاپور کی قیادت نے آزادی کے بعد ملک وقوم کو ترقی کے لیے ایک کردیا‘ صرف 23 سال کے عرصے میں 1988 تک 62 فیصدشہریوں کو حکومت کے تعمیر کردہ فلیٹس میں منتقل کردیاگیا‘جہاں 50 سال پہلے لوگ جھونپڑیوں میں رہتے تھے‘ آج اسی سنگاپور میں 90 فیصد سے زائد عوام اپنے گھروں میں رہتے ہیں‘ 400 فی کس آمدنی والے سنگا پور میںآج فی کس آمدنی 50 ہزار ڈالر سے زائد ہے ‘ عالمی مالیاتی مراکز میں سنگاپور چوتھی پوزیشن پر ہے‘ آج اس ملک کی بندرگاہ دنیا کی پانچویں مصروف ترین بندر گاہ ہے ‘عالمی بینک 2016 ء کی رپورٹ میں سنگا پور دنیا کا تیسرا امیر ترین ملک بنا ‘ جس ملک کی آبادی زیادہ تران پڑھ لوگوں پر مشتمل تھی‘ ورلڈ اکنامک فورم 2016 ء کی رپورٹ کے مطابق معیاری تعلیم کی فہرست میں سنگار پور دنیا میں پہلے نمبر پر ہے ‘ عالمی سرمایہ کاری انڈیکس کے مطابق سنگاپور 127 ممالک کی فہرست میں ساتویں نمبر پر ہے‘ اس کی ترقی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ چوکیدار کی بیٹی بھی اس کی صدر بن سکتی ہے‘ اس ملک کی ترقی کی وجہ موروثی سیاست یا خاندانی سیاسی منظر نامہ نہیں۔

(107 بار دیکھا گیا)

تبصرے