Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 20 جنوری 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News ! Best Urdu Website in World

گیس کا خوفناک بحران

ویب ڈیسک جمعرات 13 دسمبر 2018
گیس کا خوفناک بحران

سندھ میں غیر معینہ مدت کے لئے سی این جی اسٹیشن بند ہونے کے باعث شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہوگئی جبکہ اسکول وین بھی غائب ہونے سے ہزاروں طلباء تعلیمی اداروں میں نہیں پہنچ سکے‘ مختلف علاقوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ کے باعث گھریلو صارفین کو بھی شدید مشکلات کا سامنا‘ سینکڑوں کارخانے بند ہونے سے ہزاورں افراد بے روزگار ہوگئے‘ سی این جی کی بندش کے باعث شہری نظام زندگی درہم برہم ہوگیا‘ شہر میں بجلی اور پانی کے بحران کا خدشہ بھی ہوگیا۔ ٹنڈو جام اور گمبٹ گیس فیلڈ میں فنی خرابی کے باعث گیس کا شدید بحران ہوگیا ہے۔ شہر میں 90 فیصد پبلک ٹرانسپورٹ بند ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق ٹرانسپورٹ بھی غیر معینہ مدت کے لئے بند ہوگئی‘ عوام متبادل ٹرانسپورٹ کا انتظام کرلیں۔ جبکہ رکشے اور ٹیکسی والے مسافروں سے منہ مانگے کرائے وصول کررہے ہیں۔گیس کی قلت کے باعث کے الیکٹرک کے بجلی گھر بھی بند ہونے سے شہر میں بجلی کا شدید بحران کا خدشہ ہوگیا ہے۔ بجلی بند ہونے سے واٹر بورڈ کے پمپنگ اسٹیشن بند ہوجائیں گے جس سے شہر کا پانی بھی بند ہوجائے گا۔ کیپٹو پاور پلانٹ بند ہونے سے شہر کے بڑے ایکسپورٹ کے کارخانے بند ہوگئے ہیں جس سے ہزاروں مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں‘ ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہوگئے ہیں۔ کراچی چیمبر آف کامرس انڈسٹری نے بھی گیس بندش کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ 2 روز پہلے وزیراعظم نے کراچی میں ملاقات میں یقین دہانی کروائی تھی۔ ایس ایس جی سی صنعتوں اور کیپٹو پاور پلانٹس کی بجلی منقطع نہیں کرے گی۔ وزیراعظم کی یقین دہانی کے باوجود ایس ایس جی سی نے 3 ماہ کے لئے گیس بندش کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ ترجمان ایس ایس جی سی کے مطابق مختلف گیس فیلڈز کی فنی خرابی کی وجہ سے ایس ایس جی سی کو مطلوبہ گیس کی مقدار میسر نہیں ہورہی ہے‘ اس کے ساتھ کوئٹہ اور اندرون سندھ میں سردی بڑھنے کے سبب گیس پریشر میں غیرمتوقع کمی ہوگئی ہے جس کے سبب گھریلو صارفین کو گیس کی سپلائی جاری رکھنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ جبکہ مشیر اطلاعات سندھ مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ وفاق کی جانب سے گیس کی بندش سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے سے ملنے والے قدرتی وسائل صوبے کا حق ہیں‘ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت عوام کو بنیادی سہولیاتیں دینے میں ناکام رہی ہے۔
ملک کی عوام دہشت گردی مہنگائی اورلوٹ مارجیسے واقعات سے پہلے ہی پریشان ہے‘ اتنے میں عوام کو ایک اور پریشانی کا سامناہے وہ ہے سی این جی کا مسئلہ جس نے عوام کو بہت مشکل صورت حال میں ڈال دیا ہے‘ آخر یہ سی این جی کا مسئلہ اتنا سنگین کیوں ہوتا جارہا ہے ملک میں سی این جی اسٹیشن ایک ہفتے میں دو یاتین دن کھلتے ہیں مثلاً سات دن میں دویا تین دن کھل پاتے ہیں‘ سی این جی اسٹیشن جس سے طلباء و طالبات کو اورلوگوں کوعام ٹرانسپورٹ میں کافی مشکلات ہوتی ہیں جس دن سی این جی بندہوتی ہے اس دن ایک بس میں مسافروں کی تین گناہ تعداد زیادہ ہوتی ہے اور کافی مسافروں کو بسوں کی چھت پے یا بس کے پیچھے لٹک کے سفر کرنا پڑتا ہے اور بس مالکان کی جانب سے کرایہ زیادہ لیا جاتا ہے ‘جس کا وہ یہ کہتے ہیں سی این جی بند ہے‘ پیٹرول پے گاڑی چل رہی ہے ‘مسافر حدسے زیادہ ہونے کی وجہ سے بسیں الٹنے کے بہت واقعات ہوچکے ہیں اور کافی مسافر بسوں سے لٹکے ہوئے گر بھی جاتے ہیں لیکن اس طرح کے واقعے کا کوئی زیاد ہ نوٹس نہیں لیا جاتا ہے۔
تصویر کا ایک رخ تو یہ ہے کہ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا کاروباری مرکز ، تجارتی واقتصادی حب اور معاشی شہ رگ ہے۔یہاں روزانہ اربوں کھربوں کی لین دین اور تجارتی سرگرمیاں ہوتیں ہیں۔دو کروڑسے زائد آبادی پر نفوس پذیرملک کا ایکنومیکل انجن قومی آمدنی کا 70 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے۔اس کے علاوہ ملک کی مجموعی پیداوار یعنی( GDP )میں بھی کراچی کی 25فیصد شراکت داری ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق ملک کے اقتصادی دارلحکومت سے روزانہ 16ارب روپے سے زائد کے لگ بھگ زرمبادلہ اور دیگر محصولات حاصل کیے جاتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ کراچی کے ساحل پر قائم ملک کی دو اہم بندرگاہوں کے ذریعے بھی سالانہ اربوں ڈالرز کی برآمدات کی جاتی ہے۔
بجلی اور گیس کی قلت کے باعث ملکی صنعت کا پہیہ جام ہوتا جا رہا ہے جبکہ بیروزگاری کی شرح میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔گیس کی قلت کے باعث ہی ٹرانسپورٹ کے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ حکومت کی ناقص حکمت عملی اور منصوبہ بندی کی کمی کے باعث زیادہ تر گاڑیاں سی این جی پر منتقل ہو چکی ہیں۔ اس سلسلے میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے بھی اہم کردار ادا کیا جس کے بعد لوگوں نے تیزی سے نجی گاڑیاں سی این جی پر منتقل کی جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی سی این جی کے اوپر ہی چل رہی ہے۔سی این جی کی بندش سے غریب مزدور پریشانی سے دوچار ہیں۔ فیکٹریوں میں روزانہ بڑی تعداد میں مزدور اور ملازمین دفاتر پہنچنے کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ کے محتاج ہوتے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ہفتے میں چار دن ٹرانسپورٹ کے حوالے سے شدید دشواریاں پیش آتی ہیں۔ تین دن تک سی این جی کی بندش جبکہ ہفتے کے روز شدید رش کی وجہ سے شہری سڑکوں پر خوار ہوتے ہیں۔ اس دوران ٹرانسپورٹرز حضرات بھی عوام کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے منہ مانگے کرائے وصول کرتے ہیں۔ ٹرانسپورٹرز سی این جی کی بندش یا رش کا بہانہ بنا کر دھڑلے سے دگنا اور بعض اوقات اس سے بھی زائد کرایہ لیتے ہیں۔ شدید مہنگائی اور بیروزگاری کے ساتھ ساتھ کرایہ میں اس غیر قانونی اضافے کے باعث لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔
ملک کے کونے کونے سے افراد یہاں ذریعہ معاش کی تلاش میں آتے ہیں۔یہ شہر اپنی جغرافیائی اہمیت اورمعاشی زرخیزی کے باعث ہر فرد کے لیے روز گار کے مواقع فراہم کرتا ہے۔منی پاکستان کہلانے والے یہ شہر بلند و بالا عمارات، بڑے بڑے کاروباری و تجارتی مراکز ، صنعتوں ، فیکٹریوں اور ملز سمیت دیگر انڈسٹریل زونز پر مشتمل ہے ، جس کے ذریعے ہزاروں شہری اپنے معاشی مفادات اور ضروریات زندگی کو پورا کر رہے ہیں۔ان تمام تر خوبیوں اور وسائل کے باوجود یہ بڑاشہر بے شمار مشکلات اورسنگین بحرانوں میں گھیرا ہوا ہے۔پانی کی کمی ، لوڈشیڈنگ ، امن وامان کی خراب و ابتر صورتحال اور ٹرانسپورٹ جیسے پیچیدہ اور گھمبیر ترین مسائل نے عوام کی زندگیوں کو اجیرن کر دیا ہے۔
تصویر کے دوسرے رخ پر روشنی ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ کراچی کے باسیوں کی اکثریت معیاری یا مثالی زندگی بسر نہیں کر ر ہے، یہاں کہ حالات کم و بیش پاکستان کے دیگر پسماندہ اور چھوٹے قصبوں سے مماثلت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی اور کشمور، ژوب اور سبی سمیت دیگر شہروں میں بسنے والے لوگوں تقریباً ایک جیسی زندگیاں گزار رہے ہیں۔ ملک کے دوسرے شہروں کی طرح اب کراچی میں بھی سی این جی نایاب ہو کر رہ گئی ہے۔ایسا نہیں کہ اس شہر میں پہلی مرتبہ سی این جی کی بند ش شروع ہوئی ، البتہ ماضی کی نسبت اب صورتحال تشویشنا ک حد تک خراب ہوچکی ہے۔گزشتہ دور حکومت میں سی این جی کی بندش اکثر طے شدہ اوقات کار کے مطابق ہوتی تھی۔ایک ہفتے کے دوران صرف دو سے تین روز سی این جی بند کی جاتی تھی اور وہ بھی ایک دن کے وقفے کے ساتھ۔ مگر اب ہفتے کے سات دنوں میں 24 ، 24 گھنٹوں کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی 48 گھنٹوں کے لیے بھی گیس کی فراہمی معطل کردی جاتی ہے ، جس کے باعث معمولات زندگی اور کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔ اب شہریوں کو اس قیمتی اور انمول چیز کے حصول کے لیے گھنٹوں قطاروں میں کھڑے رہنا پڑتا ہے۔ کبھی طویل انتظار معنی خیز ہوتاہے، صارف کو سی این جی میسر آجاتی اور کبھی نہیں۔معاملہ ثانی میں صارف کے پاس دوراستے ہوتے ایک تو یہ کہ وہ اپنی گاڑی کو سی این جی اسٹیشن پر چھوڑ کر گھر چلا جائے اور ایک دو دن تک سی این جی کھلنے کا انتظار کرے ، یا پھر دھکا لگا کر ایک دو میل کا سفر طے کر کے اپنے ساتھ گھر لے جائے۔ یہ کراچی ہے یہاں سالم انسان غائب ہوجاتا۔ پھر ایک گاڑی کی کیاحیثیت۔۔؟ یہاں کوئی ایک مسئلہ نہیں بلکہ مصائب ومشکلات کے انبار ہیں۔
اب گیس کا خوفناک بحران پیدا ہوگیا ہے۔ سی این جی کی بندش سے چلتا پھرتا اور دوڑتا ہوا شہر ساکت ہورہا ہے‘ لوگ ایک مقام سے دوسرے مقام تک جانے سے قاصر ہوجائیں گے جس سے یقیناً زندگی کا پہیہ منجمد ہوجائے گا۔ گیس کی بندش سے یقینی طور پر بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوگی اور اس کے ساتھ ساتھ پانی کا بحران بھی آئے گا۔ حکومت کو اس جانب سوچنا چاہئے اور کراچی کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرنے چاہئیں۔

(113 بار دیکھا گیا)

تبصرے