Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 27 مارچ 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

موٹر سائیکل والا ’’ٹارگٹ‘‘!!

راﺅ عمران اشفاق جمعرات 13 دسمبر 2018
موٹر سائیکل والا ’’ٹارگٹ‘‘!!

کراچی کی سب سے بڑی اور مصروف شارع یعنی شارع فیصل پر لندن امریکہ کا سسٹم متعارف کرادیا گیا۔ دورویہ سڑک کے دائیں جانب آٹھ فٹ کی ایک یلو کلر کی پٹی ڈال دی گئی ہے جو کہ موٹرسائیکلوں کے لئے مختص کی گئی ہے ۔ یعنی موٹرسائیکل لین ۔۔ اب موٹرسائیکل سوار شارع فیصل پر اس مخصوص حصے کے علاوہ سفر نہیں کرسکیں گے ۔شارع فیصل پر سفر کرنیوالے بہ خوبی واقف ہیں کہ یہ پابندی قابل عمل نہیں ہے ۔ اس لین میں منی بسیں بھی چلیں گی ۔۔ رکشہ بھی آئیں گے اور بعض مقامات پر چنگچی کو روکنا بھی ممکن نظر نہیں آتا ۔۔ کراچی میں پندرہ لاکھ سے زیادہ موٹرسائیکلیں ہیں۔ مصروف اوقات میں ان موٹرسائیکلوں کی بڑی تعداد شارع فیصل پر دوڑتی نظر آتی ہے ۔ صورتحال یہ ہے کہ رات گیارہ بجے سے پہلے ہی شارع فیصل پر پورٹ قاسم کی جانب سے ہیوی ٹریفک رواں دواں ہوجاتا ہے جو ایک لین میں چلنے کی بجائے اوورٹیک کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کے باعث کار اور موٹرسائیکل سواروں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ہیوی ٹریفک والے موٹرسائیکل والوں کو کسی خاطر میں نہیں لاتے ۔ موٹرسائیکل والوں کیلئے ایک لین میں چلنا کسی بھی طرح قابل عمل نظر نہیں آتا ۔۔ٹریفک پولیس کیلئے سب سے آسان شکار موٹرسائیکل والا ہی ہے ۔ حفاظتی نکتہ نگاہ سے انتظامات کرنا یقینا قابل ستائش ہیں لیکن ان کا قابل عمل ہونا بھی انتہائی ضروری ہے ۔ لندن نیویارک کا ٹریفک سسٹم متعارف کرنے سے قبل وہاں جیسی سہولتیں فراہم کرنا بھی ضروری ہیں ۔ شارع فیصل کو ماڈل شارع بنانے کی باتیں کی جاتی ہیں ۔۔ دعوے کئے جاتے ہیں لیکن بدقسمتی سے یہ سب کچھ کاغذوں تک ہی محدود ہوتا ہے ۔ جناح ٹرمینل سے جب کوئی غیر ملکی شہر میں داخل ہوتا ہے تو ائیرپورٹ سے نکلتے ہی اسے بدترین ٹریفک جام کا سامنا ہوتا ہے ۔ اطراف میں بے ہنگم تجاوزات اس کا منہ چڑاتی ہیں ۔ بارش ہوجائے تو شارع فیصل پر کم ازکم چار مقامات پر باقاعدہ جھیلیں بن جاتی ہیں جن میں باقاعدہ کشتیاں چلائی جاتی ہیں ۔ سیوریج کا گندہ پانی مرکزی شاہراہ پر آجاتا ہے ۔ شہریوں کے تحفظ اور ان کی جان کی حفاظت کیلئے یقینا ٹریفک قوانین اور قواعد وضوابط ہونے چاہئیں اور ان پر عمل کرنا بھی لازم ہونا چاہیے لیکن سوال یہ ہے کہ ان کا اطلاق سب پر ہونا چاہئیے ۔ کراچی کی ٹریفک پولیس گزشتہ پچیس سال سے بغیر سائلنسر کے رکشوں کو نکیل ڈالنے میں ناکام رہی ہے ۔ آج تک رکشہ اور ٹیکسیوں میں میٹر نہیں لگائے جاسکے ۔ کراچی میں آج کے دور کا نوجوان تو شائید رکشہ اور ٹیکسیوں کے میٹر سے واقف تک نہیں ہے ۔ دن کے مصروف اوقات میں مرکزی شاہراہوں پر دھڑلے سے ہیوی ٹریفک دوڑتا ہے لیکن اسے روکنے والا کوئی نہیں ہوتا ۔ ٹریفک قوانیں کی کھلے عام دھجیاں اڑائی جاتی ہیں ۔ یہ ہیوی ٹریفک دراصل سڑکوں پر دوڑتی موت ہے ۔ روزانہ یہ بے ہنگم اور دیوہیکل گاڑیاں انسانی جانوں کا خراج وصول کرتی ہیں ۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب ٹریفک کا ایک اہلکار سڑک پر کھڑا ہوتا تھا ۔ اور اس کے ایک اشارے سے سارا ٹریفک کنٹرول ہوتا تھا ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ آٹھ دس اہلکار ایک ساتھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ ٹریفک اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کی وجہ سے یہ خاصے خوفزدہ بھی نظر آتے ہیں ۔ ان میں سے بیشتر ایسے ہوتے ہیں جنھیں اردو بولنا بھی نہیں آتی ۔علاقوں سے واقفیت ہونا تو بہت دور کی بات ہے ۔ انھیں شہری عموما جرمن پولیس کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔
گزشتہ دنو ں حکومت سندھ کی جانب سے ٹریفک پولیس کی ایک نئی فورس تشکیل دی گئی جو کہ شارع فیصل کراچی میں ٹریفک کی روانی کو یقینی بنائے گی ساتھ ہی شارع فیصل پر رکشوں اور ہیوی لوڈ گاڑیوں پر بھی پابندی کی تجویز زیر غور رہی لیکن کچھ وجوہات کی وجہ سے فی الحال اس پر عمل درآمد روک دیا گیا، ماضی میں بھی س شارع پر ٹریفک کی روانی کو بہتر کرنے کے لیئے کئی تجربات کیئے گئے لیکن کوئی خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوئے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ نت نئے تجربات کرنے کے بجائے شارع فیصل کو چوڑا کرنے پر کام کیا جائے کراچی کی یہ شارع نہایت اہمیت کی حامل ہے تمام ملکی اور غیر ملکی شخصیات جو کراچی کا دورہ کرتی ہیں انہیں اسی شارع فیصل کا استعمال کرنا پڑتا ہے قائد اعظم انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے سامنے سے شروع ہونے والی یہ شارع اپنے قیام کے وقت سے اب تک اسی چوڑائی کے ساتھ موجود ہے ائیرپورٹ سے صدر جاتے ہوئے اس اٹھارہ کلو میٹر پر محیط شارع پر غور کیا جائے تو یہ کئی جگہوں سے اپنی چوڑائی بدلتی نظر آتی ہے-
ٹریفک کی تین لین کارساز پہنچ کر پانچ لینوں میں تبدیل ہوجاتی ہ لیکن بلوچ کالونی کے بعد سے صدر تک متواتر کہیں تین اور کہیں چار لین میں تبدیل ہوتی رہتی ہے اور انہی جگہوں پر ٹریفک کا دباؤ بڑھ جاتا ہے جہاں لین کم ہوجاتی ہیں، اس لیئے سب سے ضروری یہ ہے کہ کراچی کے موجودہ ٹریفک کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے فوری طور پر چوڑا کیا جائے ، شارع فیصل کا کئی اداروں کی حدود میں شامل ہونے کی وجہ سے یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن نا ممکن نہیں حکومت سندہ کو چاہیئے کہ اس اہم کام پر تمام اداروں سے باہمی مشاورت کرکے ایک پیج پر لایا جائے اور اس جانب توجہ دی جائے کہ اب اس شارع کی چوڑائی کراچی کے موجودہ ٹریفک کی متحمل نہیں ہوسکتی ، اس شہر کی بدنصیبی ہے کہ یہاں ماضی میں چلنے والی بہترین سرکلر ٹرینیں اب تک بحال نہ ہوسکیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جس شہر میں ریلوے اور دیگر سفری ٹرانسپورٹ کی بہترین سہولیات شہریوں کو حاصل ہوں وہاں شاہراہوں پر ٹریفک کا اڑدہام نظر نہیں آتا۔ اس شارع پر فی الحال ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے لیئے چند مزید فیصلوں کی ضرورت ہے جس میں شارع فیصل پر گاڑیاں پارک کرنے پر پابندی، دھرنے اور ریلیوں پر پابندی، ڈرگ روڈ ریلوے اسٹیشن کے قریب اس شارع کے درمیان سے گزرنے والی ریلوے لائن کی شارع کے سطح تک مرمت، ڈرگ روڈ ریلوے اسٹیشن کے قریب راشد منہاس روڈ کو جانے والے پل کو بیچ شارع سے ہٹا کر اسٹیشن کے جانب سے تعمیر کرنا،شارع جو کہ کئی جگہوں سے ٹوٹی ہے اس کی مرمت کرکے کسی حد تک ٹریفک کی روانی کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب ٹریفک پولیس کی بات کی جائے تو وہ ٹریفک کنٹرول کرنے کے بجائے صرف موٹر سائیکل سواروں کے چالان کررہی ہے۔ دو ہزار سترہ میں 60کروڑ روپے سے زائد کے ٹریفک پولیس نے چالان کر کے ریکارڈ قائم کیاگیا‘اس مرتبہ یہ فیگر کہیں زیادہ رہا۔ ٹریفک پولیس موٹر سائیکل اور کارپارکنگ کے نام پر اور کبھی نو پارکنگ کے نام پر کاروں اور موٹر سائیکلوں کو اٹھا کر لاکھوں روپے روز کے چالان کر رہی ہے‘ بعض اوقات تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹریفک پولیس نے ڈیلی ویجز پر نوجوانوں کو بھرتی کرکے موٹر سائیکل سواروں کے چالان کرنے پر لگا دیا ہے۔ آپ کو دیکھ کر حیرت ہوگی کہ ٹریفک پولیس کو چالان کرنے کے لئے سڑکوں ،چوراہوں اور گلیوں میں ناکہ لگانے کی جگہیں بھی کم پڑ گئی ہیں اور وہ نئی نئی جگہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر کھڑے ہو رہے ہیں تا کہ چالان کے بہانے کراچی کی عوام کو جس قدر لوٹا جا سکے لوٹ لیں۔ ٹریفک پولیس ٹریفک کنٹرول کرنے کے بجائے صرف ایک ہی جگہ کھڑے ہوکرسینکڑوں موٹر سائیکل سواروں کے چالان کرکے لوٹ مار کر رہی ہے اور اسے اس سے مطلب نہیں کہ ٹریفک جام ہے اورلوگ گھنٹوں گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے ہوئے ہیں یا ایمبولینس میں مریض تڑپ تڑپ کر مر گیاان ٹریفک اہل کار وں کوصرف یہ فکر ہے کہ آج اتنے چالان کرنے ہیں ۔چند سالوں میں جتنے ٹریفک حادثات میں لوگ ہلاک ہوئے ہیں اتنے لوگ دہشت گردی میں بھی ہلاک نہیں ہوئے۔ پولیس اہلکار اور افسران کی پوری توجہ صرف مال بنانے پر مرکوز ہے نہ وہ دھواں چھوڑنے والے رکشوں اور گاڑیوں کا چالان کرتے ہیں جو شہر میں آلود گی کا باعث ہیں اورنہ ہی واٹر ٹینکرز اور ہیوی ٹریفک کے خلاف کسی قسم کی کاروائی کرتے ہیں‘ پورے شہر کی سٹرکیں کھدی پڑی ہیں جگہ جگہ ٹریفک جام ہے جناح ہسپتال ،عباسی شہید اور سول ہسپتال جانے والے مریضوں کو انتہائی دشواریوں کا سامنا ہے مگر ٹریفک پولیس کی آنکھیں بند ہیں ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے انٹرنیشنل تنظیم آئی سی آر سی اور ایدھی فاؤنڈیشن کی جانب سے بھی ایمبولینس کو راستہ دو مہم شروع کرنی پڑی تا کہ ہسپتال پہنچے والے مریضوں کو با آسانی ہسپتالوں تک پہنچایا جا سکے۔ ٹریفک پولیس کی صحیح تربیت اور فرض شناسی سے آگاہی کی مہم چلانے کی ضرورت ہے تا کہ وہ مال بنانے ، کرپشن اور بد عنوانی چھوڑ کر عوام کی صحیح خدمت کریں اور سٹرکوں پر ٹریفک کو رواں دواں رکھیں تا کہ حادثات پر قابو پایا جا سکے اور عوام کو ریلیف ملے۔
دوسری طرف عالم یہ ہے کہ کراچی میں ٹریفک پولیس کی مبینہ رشوت خوری رکشہ ڈرائیورکی جان لے گئی، شارع فیصل پرخودسوزی کرنے والے رکشہ ڈرائیورسے ٹریفک اہلکارنے رشوت طلب کی رشوت سے انکارکرنے پراس کاچالان کردیا اوروہ دلبرداشتہ ہوگیا۔ صدرٹریفک پولیس چوکی کے قریب مبینہ ٹریفک پولیس اہلکارنے رکشہ ڈرائیورمحمدخالدسے رشوت کا مطالبہ کیا، رشوت سے انکارپر رکشہ ڈرائیور کاچالان کاٹ دیا جس پرڈرائیورنے خودپرپیٹرول چھڑک کر خودسوزی کرلی تھی۔ محمد خالد دوروزسول ہسپتال کے برن وارڈمیں زیرعلاج رہا اوردم توڑ گیا،خالدکے بھائی کاکہناہے کہ اس کے بھائی نے رشوت خوری کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت کی ، ٹریفک پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا منتظر ہوں۔ دوسری جانب پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اقعے میں ملوث ٹریفک پولیس اہل کارحنیف کیخلاف رشوت طلب کرنے پر مقدمہ درج کرکے گرفتار کرلیا ۔ رکشہ ڈرائیور کی خود سوزی پر انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ ڈاکٹر کلیم امام نے نوٹس لے کر ڈی آئی جی ٹریفک کراچی سے رپورٹ طلب کرلی تھی۔ دوسری جانب واقعے کے بعد ایس ایس پی ٹریفک نے چالان کرنے والے اے ایس آئی حنیف کو معطل کردیا تھا، کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ نے سول ہسپتال میں زیرِ علاج رکشہ ڈرائیور کی عیادت بھی کی تھی۔اس موقع پر انہوں نے ٹریفک اہلکاروں کو ہدایت کی تھی کہ رکشے والوں کا 100 سے 150 روپے سے زائد کا چالان نہ کیا جائے۔ اگر کوئی رکشے والا چالان نہ بھرسکا تو وہ خود بھریں گے، ٹریفک پولیس اہلکار ناانصافی کریں تو ہمیں بتائیں، کسی نے بھی ناانصافی کی تو اس کیخلاف ایکشن لیں گے۔
شہر کراچی میں پولیس کے اعلیٰ افسران کی جانب سے افسران و اہلکاروں کو شہریوں سے اخلاق سے پیش آنے اور تھانوں میں آئے سائلوں سے ہرممکن تعاون کرنے کا حکم دینا کوئی نئی بات نہیں لیکن اعلیٰ افسران کی جانب سے شہریوں کو آسانیاں اور سہولتیں بہم پہنچانے کی کوشش کو پولیس میں شامل کالی بھیڑیں کامیاب نہیں ہونے دیتیں جس کی وجہ سے شہریوں اور ان کے درمیان فاصلے کم ہونے اور ان کے درمیان ایک اچھی ہم آہنگی کی تمام کوششیں ان کالی بھیڑوں کی وجہ سے رائیگاں چلی جاتی ہیںاور تقریباً روزانہ کیبنیادوں پر کالی بھیڑیں ایسے ایسے کارنامے سرانجام دے جاتے ہیں جس کی وجہ سے اس ادارے میں اچھی شہرت کے حامل افسران و اہلکاروں کو خفت اٹھانی پڑتی ہیں۔

ایک زمانے میں کراچی کے ڈی آئی جی ٹریفک ڈاکٹر امیر شیخ سے خیر سے اب کراچی پولیس چیف ہیں لیکن اب بھی ان کی ساری توجہ صرف موٹرسائیکل سواروں کے معاملات تک ہی ہے ۔ کراچی میں گٹکے پر سخت ترین پابندی کے باوجود شہرمیں ہردوسرے شخص کے منہ میں گٹکا موجود ہوتا ہے ۔ شہر کے مضافاتی علاقوں میں گٹکے کی باقاعدہ فیکٹریاں دھڑلے سے کام کررہی ہیں لیکن ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ۔۔اسٹریٹ کرائمز آوٹ آف کنٹرول ہوچکے ہیں ۔۔ لیکن ہوتے رہیں ۔۔ پولیس چیف صرف موٹرسائیکل سواروں کوصحیح ٹریک پر لانے کے جتن کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ کراچی میں بسیں بھاپ کے ریلوے انجن کی طرح دھواں چھورتی ہیں ۔ ریل والے ہارن بجاتی ہیں ۔۔ ٹریفک پولیس خاموش تماشائی نظر آتی ہے ۔ دن کے مصروف اوقات میںہیوی ٹریلر مرکزی شاہراہوں پر دوڑتے ہیں ۔۔ دوڑتے رہیں ۔۔ پولیس چیف موٹرسائیکل والوں پر ہی نظر رکھتے ہیں ۔ پہلے ہیلمٹ کی پابندی لاگو کرائی گئی ۔۔ یہ یقینا موٹرسائیکل سواروں کی سیفٹی کیلئے ایک مستحسن قدم ہے لیکن اگر ٹریفک پولیس اس کو بھی کمائی کا دھندہ
بنالے اور باقی ٹریفک کو چھوڑ کر صرف اسے ہی ٹارگٹ بنالے تو اسے بھی درست نہیں کہا جاسکتا اب کراچی کے موٹرسائیکل سواروں کیلئے ٹریکر سسٹم متعارف کرایا جارہا ہے ۔ پہلے ساڑھے چھ ہزار کی ڈیوائس خریدنا ہوگی پھر سالانہ خرچہ الگ سے موٹرسائیکل سوار کو دینا ہوگا یہ اختراع بھی کراچی پولیس چیف کی ہی ہے ۔ بدقسمتی سے یہ سب کچھ کراچی کے موٹرسائیکل سواروں کیلئے ہی ہے ۔ گمبٹ ۔۔ لاڑکانہ ۔۔ جیکب آباد ۔۔ روہڑی اور سندھ کے دیگر شہروں میں سب کو آزادی ہے ۔ وہاں بھی ہیلمٹ پہننا ضروری ہونا چاہئے، ٹریکر کولازمی قرار دینا چاہیے ۔۔ قانون کی پاسداری کو صرف کراچی تک محدود کرنا مناسب نہیں ۔

شارع فیصل پر کوئی تبدیلی آئی ہو یا نہ آئی نہ ہو ایک تبدیلی ضرور آئی ہے کہ اس مرکزی شارع پر گشت کرنے والی ٹریفک پولیس کی ٹوپی کا رنگ لال کردیا گیا ہے ۔ لال پ والے اہلکار پانچ پانچ کے گروپ میں گشت کرتے نظر آتے ہیں ۔ ان کی اولین کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ شارع فیصل پر کسی ایسے پوائنٹ پر نہ کھڑے ہوں جہاں سے وہ سی سی ٹی وی کیمروں کی پہنچ میں آجائیں ۔۔ انھیں ہروقت یہ خدشہ بھی لاحق رہتا ہے کہ کہیں نئی دہلی اور ممبئی کی طرح کراچی میں بھی رشوت کے خاتمے کیلئے وردیوں میں جیبوں پر چھوٹے چھوٹے اسپائی کیمرے نہ لگادئیے جائیں ۔۔۔کیونکہ اگر ایسا ہوگیا تو پھر سارا معاملہ ہی چوپٹ ہوسکتا ہے ۔ شارع فیصل پر اس وقت جو سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں وہ دو میگا پکسل کے ہیں اور ان کی مدد سے جو ویڈیو بنتی ہے وہ اتنی دھندلی اور مبہم ہوتی ہے کہ کسی کو شناخت ناممکن ہوتا ہے

(214 بار دیکھا گیا)

تبصرے