Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 27 مارچ 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

مودی کا عروج یا زوال؟ فیصلے کی گھڑی آگئی!

ویب ڈیسک پیر 10 دسمبر 2018
مودی کا عروج یا زوال؟ فیصلے کی گھڑی آگئی!

نومبر اور دسمبر میں کئی مرحلوں میں انڈیا کی 5ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالنے کا عمل پورا ہو چکا ہے۔ ان میں سے مدھیہ پردیش‘ راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی اقتدار میں ہے۔جنوبی ریاست تلنگانہ میں ایک علاقائی جماعت اقتدار میں ہے جب کہ شمال مشرقی ریاست میزورم میں کانگریس برسراقتدار ہے۔ ان ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی منگل کی صبح ایک ساتھ شروع ہو گی اور شام تک سبھی نتائج آجانے کی توقع ہے۔یہ انتخابات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب اب سے چند مہینے بعد پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی مدت میں اب صرف چند مہینے باقی بچے ہیں۔دوسری جانب ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد و بجرنگ دل جیسی ہندوتوا کی تنظیمیں یہ توقع کر رہی تھیں کہ واضح اکثریت سے اقتدار میں آنے والی بی جے پی ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا آغاز کرے گی۔ یہ تنظیمیں اب بے چین ہو رہی ہیں۔ وہ یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ مودی حکومت مندر کی تعمیر کے لیے ایک خصوصی آرڈیننس جاری کرے۔ماضی میں بی جے پی کو مندر کی تحریک سے سیاسی اور انتخابی فائدہ پہنچا ہے۔ کیا وہ آئندہ پارلیمانی انتخاب جیتنے کے لیے ایک بار پھر مندر کا سہارا لے گی؟ کیا مندر کے سوال سے اسے ایک بار پھر سیاسی فائدہ ہو سکتا ہے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا واضح جواب خود اس وقت بی جے پی کے پاس بھی نہیں ہے لیکن اس کا آئندہ پارلیمانی انتخاب سے گہرا تعلق ہے۔مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی 15 برس سے اقتدار میں ہے۔ راجستھان میں وہ 5 برس پہلے اقتدار میں آئی تھی۔ وہاں گذشتہ 25 برس سے کوئی بھی جماعت مسلسل دو بار جیت نہیں حاصل کر سکی ہے۔ میزورم میں کانگریس اقتدار میں ہے اور جنوبی ریاست تلنگانہ میں وہاں کی ایک علاقائی جماعت بر سراقتدار ہے۔ منگل کے انتخابی نتائج بی جے پی اور کانگریس دونوں کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔اگر بی جے پی ایک بار پھر مدھیہ پردیش اور راجستھان میں جیت جاتی ہے تو پارلیمانی انتخابات کے لیے یہ اس کی بہت بڑی نفسیاتی اور سیاسی کامیابی ہو گی۔ یہ جیت شکستہ کانگریس کو اور زیادہ پست کر دے گی اور پارٹی کے رہنما راہل گاندھی کی قیادت اور انتخابی اہلیت کے بارے میں دوسری سیاسی جماعتوں کے شکوک مزید پختہ ہو جائیں گے۔اس کے ساتھ ہی بی جے پی کے لیے پارلیمانی انتخاب میں اپوزیشن کا چیلنج ایک کمزور اور شکستہ مزاحمت سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا۔ ہندوتوا کا نظریہ نئی حکومت کے سیاسی فلسفے اور اصول کا محور ہو گا۔لیکن اگر کانگریس بی جے پی کے اقتدار والی ان دو ریاستوں میں حکمراں جماعت سے اقتدار چھینے میں کامیاب ہوجا تی ہے تو اسے آئندہ پارلیمانی انتخابات اور قومی سیاست میں اس کی ایک موثر اور فیصلہ کن واپسی سے تعبیر کیا جائے گا۔کانگریس کے حق میں یہ نتیجے ملکی سیاست کا رخ موڑ سکتے ہیں۔ راہل گاندھی کی قیادت کی اہمیت بڑھ جائے گی اور ملک کی شمالی ریاستوں میں بی جے پی کے خلاف ایک متحدہ محاذ تشکیل دینے کے راستے ہموار ہو جائیں گے۔ بی جے پی کی مشکلیں بہت بڑھ جائیں گی۔ اسے پارلیمانی انتخاب کے لیے ایک نئی حکمت عملی تیار کرنا ہوگی۔سیاست امکانات کا کھیل ہے۔ سیاست میں مستقل کچھ بھی نہیں ہے اور اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ منگل کو 5 ریاستوں کے انتخابی نتائج ملک میں سیاسی ہلچل پیدا کر سکتے ہیں۔انڈیا میں نگاہیں تو جنوبی ریاست کرناٹک کے الیکشن پر ٹکی ہوئی ہیں جہاں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان گھمسان کی جنگ چل رہی ہے۔ لیکن اترپردیش کے دو ضمنی انتخابات سے اس بات کا سب سے واضح اشارہ ملے گا کہ نریندر مودی ایک اور مدت کے لیے وزیر اعظم بنیں گے یا نہیں۔ان میں سے ایک الیکشن نورپور ریاستی اسمبلی کا ہے اور دوسرا کیرانہ پارلیمان کا جہاں حزب اختلاف کی جماعتیں متحد ہوکر صرف ایک امیدوار میدان میں اتار رہی ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں دونوں سیٹیں بی جے پی نے جیتی تھیں۔
اتحاد یا انتشار؟
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن کی پارٹیاں اپنا ووٹ دوسری پارٹی کے امیدوار کو منتقل کراسکیں گی؟ مارچ میں بھی اتر پردیش کے دو حلقوں، گورکھپور اور پھولپور، میں ضمنی الیکشن ہوا تھا اور دونوں میں مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی نے اپنی کٹر حریف سماجوادی پارٹی کی حمایت کی تھی جس کی وجہ سے بی جے پی کو کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس سے پہلے یہ دونوں حلقے بی جے پی نے بھاری اکثریت سے جیتے تھے۔یہ ایک تجربہ ہے جو کامیاب ہوا تو آئندہ برس اتر پردیش کے زیادہ تر پارلیمانی حلقوں میں بی جے پی اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے درمیان براہ راست مقابلہ ہوسکتا ہے۔کیرانہ میں جاٹ اور مسلمان ووٹروں کی بڑی تعداد ہے۔ مظفر نگر کے مذہبی فسادات میں جاٹ اور مسلمان ہی آمنے سامنے تھے، اور مسلمانوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ کیرانہ اسی علاقے میں واقع ہے۔ لیکن اس مرتبہ یہاں کسانوں اور جاٹوں کی پارٹی راشٹریہ لوک دل نے ایک مسلمان خاتون کو اپنا ٹکٹ دیا ہے اور دوسری جماعتیں ان کی حمایت کریں گی۔یہاں سب سے بڑی آزمائش یہ ہوگی کہ جاٹ ایک مسلمان امیدوار کے لیے ووٹ ڈالتے ہیں یا نہیں، جیسا ماضی میں ہوتا تھا؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ اس بات کا واضح پیغام ہوگا کہ 2019 ء کے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کے لیے راستہ تنگ ہوسکتا ہے۔نورپور میں چیلنج ذرا مختلف ہے۔ وہاں انصاری برادری سے تعلق رکھنے والے مسلمان اس بات سے ناراض ہیں کہ سماجواودی پارٹی کا امیدوار بھلے ہی مسلمانان ہو لیکن ان کی برادری کے کسی رہنما کو ٹکٹ نہیں دیا گیا ہے۔ لیکن کیا بی جے پی کی مخالفت میں وہ اپنی ناراضگی چھوڑ کر سماجودای پارٹی کے امیدوار کا ساتھ دیں گے؟ انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ بی جے پی کی سیاست سے کس حد تک نالاں ہیں؟اگر یہ دونوں الیکشن ’’ہندو مسلمان‘‘ الیکشن میں بدل جاتے ہیں تو انتخابی نتائج کیا ہوں گے، اندازہ لگانا مشکل نہیں لیکن سن 2014 ء کی لہر میں بھی بی جے پی کو 42 فیصد ووٹ ملے تھے۔ بی جے پی کی حمایت کرنے والوں سے اس کی مخالفت کرنے والوں کی تعداد زیادہ تھی لیکن یہ ووٹ تین جگہ بی ایس پی، سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے درمیان تقسیم ہوگئے تھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ یو پی کی 80 میں سے بی جے نے 71 اور اس کی اتحادی جماعت اپنا دل نے دو سیٹیں جیت کر پورے پارلیمانی الیکشن کو یک طرفہ بنا دیا۔ بی جے پی نے تنہا اپنے دم پر پارلیمان میں اکثریت حاصل کرلی اور نریندر مودی وزیر اعظم بن گئے۔لیکن اگر بی جے پی صرف یو پی ہار جاتی ہے، جو اپوزیشن کے متحد ہونے کی صورت میں بہت ممکن ہے، اور کانگریس کا مدھیہ پردیش اور راجستھان جیسی ریاستوں سے دوبارہ پوری طرح صفایہ نہیں ہوتا، جیسا کہ وہاں ہونے والے ضمنی اتنخابات سے اشارہ ملا ہے، تو پھر دو ممکنہ صورتحال پیدا ہوسکتی ہیں۔یا تو بی جے پی حکومت سازی کی دوڑ سے ہی باہر ہوسکتی ہے، جو کہنا فی الحال قبل ازوقت ہوگا‘ یا لوک سبھا میں اس کی سیٹوں کی تعداد کافی کم ہوسکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو وزیر اعظم نریندر مودی کمزور ہوں گے اور خود پارٹی کے اندر سے ان کی قیادت کے انداز کے خلاف بغاوت ہوسکتی ہے‘یا پھر بی جے پی کی اتحادی جماعتیں اپنی حمایت کے عوض یہ مطالبہ کر سکتی ہیں کہ وزیر اعظم کا عہدا کوئی دوسرا قدآور رہنما سنبھالے۔کرناٹک میں بی جے پی ہارتی ہے تو یہ بڑی خبر ہوگی‘ وہاں وزیراعظم نے اپنی پوری طاقت لگا رکھی ہے‘ لیکن میری زیادہ دلچسپی نورپور اور کیرانہ میں ہی ہے‘وہاں کے نتائج سے یہ معلوم ہوگا کہ اگر الیکشن براہ راست ایک ہندو اور ایک مسلمان امیدوار کے درمیان ہو تو ووٹ مذہب کی بنیاد پر ڈالے جائیں گے یا نظریات کی جیسا کہ ایک ’’میچور‘‘ جمہوری نظام میں ہونا چاہیے۔ کہتے ہیں کہ دلی کا راستہ لکھنؤ سے ہوکر گزرتا ہے‘ اس مرتبہ لکھنؤ کا راستہ روکنے کے لیے مایاوتی‘ اکھیلیش یادو اور راہل گاندھی ایک ساتھ کھڑے نظر آسکتے ہیں۔ ایسا ہوا تو یہ قیامت کا الیکشن ہوگا!۔

(179 بار دیکھا گیا)

تبصرے