Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 19 جون 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

محمد حفیظ,ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد

کلیم عثمانی پیر 10 دسمبر 2018
محمد حفیظ,ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد

پاکستانی ٹیم کے آل رائونڈر محمد حفیظ کا نیوزی لینڈ کے خلاف آخری ٹیسٹ کے ساتھ ہی کیریئر بھی اختتام پذیر ہو گیا اور آل رائونڈر کیریئر کے آخری ٹیسٹ میچ کو یادگار نہ بنا سکے۔محمد حفیظ نیوزی لینڈ کے خلاف ابوظہبی میں کھیلے گئے سیریز کے تیسرے اور اور آخری ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں صفر پر آؤٹ ہو گئے تھے لیکن ان کے پاس دوسری اننگز کے ذریعے ٹیسٹ کیریئر کا یادگار بنانے کا نادر موقع تھا لیکن وہ صرف 8 رنز بنا کر چلتے بنے۔آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے ذریعے ٹیسٹ ٹیم میں واپس آنے والے 38 سالہ بلے باز نے سنچری اسکور کر کے اپنے انتخاب کو درست ثابت کیا لیکن اس کے بعد مذکورہ سیریز میں ان کا بلا نہ چل سکا اور وہ سیریز کے بقیہ میچز میں خاطرخواہ کارکردگی نہ دکھا سکے۔اس کے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں بھی ان کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی اور آخری ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں صفر پر آئوٹ ہونے کے بعد حفیظ نے متواتر ناکامیوں سے دلبرداشتہ ہو کر ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہنے کا اعلان کیا تھا۔کیویز کے خلاف فیصلہ کن ٹیسٹ میچ کے پانچویں اور آخری روز ساتھی کرکٹرز نے انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا۔امید تھی کہ حفیظ کیریئر کی آخری اننگز کو یادگار بنائیں گے لیکن وہ صرف 8 رنز ہی بنا سکے اور ٹم ساؤدھی کی وکٹ بن گئے۔محمد حفیظ نے 2003 میں بنگلہ دیش کے خلاف کراچی ٹیسٹ سے ڈیبیو کیا تھا اور اسی میچ کی دوسری اننگز میں نصف سنچری اسکور کی تھی۔انہوں نے اپے کیریئر میں 55 ٹیسٹ میچز کھیلتے ہوئے 3ہزار 652 رنز بنائے جس میں 10سنچریاں اور 12 نصف سنچریاں شامل ہیں جس میں 224 رنز بہترین اسکور رہا۔حفیظ کئی مواقعوں پر اپنی باؤلنگ سے بھی پاکستان کے لیے کارا?مد ثابت ہوئے اور ٹیسٹ کیریئر کے دوران 53 وکٹیں بھی حاصل کیں۔
غیرقانونی باؤلنگ ایکشن اور خراب فارم کے باعث محمد حفیظ کا کیریئر خصوصاً ٹیسٹ کرکٹ میں انہیں مسائل کا سامنا رہا اور حالیہ عرصے میں وہ وقتاً فوقتاً ٹیم سے ڈراپ ہوتے رہے۔ان کے باؤلنگ ایکشن پر ماضی میں تین مرتبہ پابندی لگی لیکن وہ ہر مرتبہ اپنا ایکشن کلیئر کرانے میں کامیاب رہے البتہ بیٹنگ میں غیرمستقل مزاجی ان کی ٹیم میں تواتر کے ساتھ سلیکشن کی راہ میں حائل ہوتی رہی اور اسی وجہ سے انہیں متعدد حلقوں خصوصاً سابق کرکٹرز کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی رہا۔پروفیسر کے نام سے مشہور حفیظ کی گزشتہ ماہ آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے ذریعے قومی ٹیم میں دوبارہ واپسی ہوئی اور انہوں نے سنچری اسکور کر کے سلیکٹرز کے انتخاب کو درست ثابت کر دکھایا تھا۔لیکن اس کے بعد سے انہیں مسلسل مشکلات کا سامنا تھا اور آخری 7 ٹیسٹ اننگز میں صرف 66رنز بنائے اور نیوزی لینڈ کے خلاف ابوظہبی میں سیریز کے آخری ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں بھی بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے تھے۔نیوزی لینڈ کے خلاف ابوظہبی میں جاری ٹیسٹ میچ حفیظ کے کیریئر کا آخری ٹیسٹ میچ تھا اور میچ کی دوسری اننگز میں اچھا اسکور کر کے ان کے پاس ٹیسٹ کرکٹ کا یادگار انداز میں اختتام کرنے کا نادر موقع تھا۔محمد حفیظ نے 55 ٹیسٹ میچوں کی 104 اننگز میں 10سنچریوں اور 12 نصف سنچریوں کی مدد سے 3ہزار 644 رنز بنائے جبکہ اس کے علاوہ 53وکٹیں بھی حاصل کیں۔یاد رہے کہ ایشیا کپ کے اسکواڈ سے ڈراپ کیے جانے کے بعد بھی محمد حفیظ نے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کر لیا تھا لیکن پھر ارباب اختیار اور سینئر کھلاڑیوں کے مشورے پر انہوں نے فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے کھیل سے کنارہ کش نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔حفیظ نے ابھی صرف ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا ہے اور وہ ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ میں قومی ٹیم کی نمائندگی کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔پانچ ستمبر کولاہورمیں پاکستان کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر محمد حفیظ نے کہا کہ وہ ملک کے لیے عزت سے کھیلنا چاہتے ہیں اور عزت کے ساتھ ریٹائر ہونا چاہتے ہیں۔نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنی سلیکشن کے حوالے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی کارکردگی دکھا کر ٹیم میں جگہ بنانے کی کوشش کریں گے۔اس دن امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ محمد حفیظ ایشیا کپ میں پاکستان کے اسکواڈ کا حصہ نہ بننے کی وجہ سے اپنے کیریئر کے حوالے سے اہم فیصلہ کر سکتے ہیں۔5 ستمبر کو صبح میں آل راؤنڈر نے صحافیوں کو آگاہ کیا کہ وہ سہ پہر میں ایک پریس کانفرنس کریں گے۔دریں اثنا پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے علم میں جب یہ بات آئی تو انہوں نے آل راؤنڈر سے رابطہ کیا اور انہیں منا لیا۔پی سی بی کے رابطہ کرنے کا اثر یہ ہوا کہ محمد حفیظ نے اپنی پریس کانفرنس کو ملتوی کردیا تاہم انہوں نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں بتایا کہ وہ پاکستان ٹیم کے لیے ہمیشہ دستیاب ہیں۔ذرائع ابلاغ میں کوچ مکی آرتھر اور چیف سلیکٹر انضمام الحق سے ناراضی کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کا پاکستان ٹیم کے کوچ اور چیف سلیکٹر سے کوئی جھگڑا نہیں اور ایسی تمام خبریں بے بنیاد ہیں۔خیال رہے کہ 4 ستمبر کو چیف سلیکٹر انضمام الحق نے 14ویں ایشیا کپ کے لیے قومی ٹیم کا اعلان کیا جس میں آل راؤنڈر محمد حفیظ اور عماد وسیم پاکستانی اسکواڈ میں جگہ بنانے میں ناکام رہے تھے۔ 38 سالہ محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ وہ محدود اوورز کی کرکٹ پر مکمل توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں اس لئے انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کیا آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں سنچری بنانے کے بعد سے ٹیسٹ میچوں میں ان کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے اور وہ سات اننگز میں صرف 66 رنز بنانے میں کامیاب ہوسکے ۔نیوزی لینڈ کے خلاف ابوظہبی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں محمد حفیظ بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہو گئے تھے۔نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں محمد حفیظ صفر پر آؤٹ ہو ئے محمد حفیظ نے اپنے پندرہ سالہ کیریئر میں 55 ٹیسٹ میچز کھیلے جن میں وہ اب تک 37.95 کی اوسط سے 3644 رنز بنانے میں کامیاب رہے۔انھوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں 10 سنچریاں اور 20 نصف سنچریاں بھی اسکور کی ہیں اور اپنی آف اسپن بولنگ سے 53 وکٹیں بھی حاصل کیں۔محمد حفیظ ٹیسٹ کرکٹ کے مقابلے میں محدود اوورز میں نسبتاً زیادہ کامیاب رہے ہیں۔203 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں انہوں نے 11 سنچریوں اور 34 نصف سنچریوں کی مدد سے 6153 رنز سکورکئے اور 137 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں بھی ان کا ریکارڈ متاثر کن رہا ہے اور وہ 89 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنلز میں دس نصف سنچریوں کی مدد سے 1908 رنز بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔محمد حفیظ کی آف اسپن باؤلنگ ایک طویل عرصے سے پاکستانی ٹیم کے لیے بہت مؤثر اور کارآمد رہی لیکن باؤلنگ ایکشن رپورٹ ہونے اور اس پر بار بار کام ہونے کے سبب ان کی باؤلنگ اتنی مؤثر نہیں رہی۔یہی وجہ ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر انہیں اس سال زمبابوے کے دورے کے بعد پاکستانی ٹیم میں شامل کئے جانے کے حق میں نہیں تھے۔متحدہ عرب امارات میں ہونے والے ایشیا کپ میں محمد حفیظ ٹیم میں شامل نہیں تھے لیکن ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار ڈبل سنچری بناکر وہ آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے لیے ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں محمد حفیظ کی کارکردگی اچھی رہی تھی اور دبئی کے پہلے ٹیسٹ میں آسٹریلوی بولنگ کے خلاف تین ہندسوں کی قابل ذکر کارکردگی بھی دکھا گئے لیکن اس کے بعد قسمت ان سے ایسی روٹھی کہ انہیں ابوظہبی ٹیسٹ ختم ہونے کا انتظار کئے بغیر ٹیسٹ کرکٹ کے بارے میں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا پڑگیا۔محمد حفیظ کی جانب سے ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر بھی ان کا نام ٹرینڈ ہونے لگا اور شائقین نے ان کے جانے پر اپنے تبصرے کئے جس میں سے ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی تھیں جو بظاہر حفیظ کے جانے کو مثبت انداز میں دیکھ رہے ہیں۔صارف عمر الیاس لکھتے ہیں کہ ’خدا کا شکر ہے کہ حفیظ کو احساس ہو گیا ہے کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ کے قابل نہیں ہیں‘۔ایک اور صارف حسنین شاہ نے حفیظ کی آخری سات ٹیسٹ اننگز کے اعداد و شمار سامنے رکھے جن کے حساب سے ان کی اوسط صرف 9 رنز فی اننگز بن رہی تھی۔محمد حفیظ کی جنوبی افریقی فاسٹ بولر ڈیل ا سٹین کے خلاف انتہائی ناقص کارکردگی کی وجہ سے ان کا کافی مذاق بنایا جاتا ہے اور کیونکہ پاکستان کا اگلا ٹور جنوبی افریقہ کے خلاف ہے جہاں کی پچ فاسٹ باؤلنگ کیلئے نہایت سازگار ہوتی ہے تو اس مناسبت سے کئی شائقین نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسٹین کو حفیظ کے نہ ہونے سے بہت مایوسی ہوگی۔محمد حفیظ کی ٹیسٹ کرکٹ کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے صارف شہزاد ترمزی نے کہا کہ ’پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ میچوں میں اوپننگ کرنے والے بلے بازوں میں سب سے زیادہ صفر پر آؤٹ ہونے والے حفیظ ہیں جن کو آٹھ مرتبہ اس ہزیمت کا سامنے کرنا پڑا ہے‘۔ایک اور صارف نے اسی بارے میں مزید کہا کہ مختلف فارمیٹ کی کرکٹ میں اب تک حفیظ نے اسٹین کا 14 اننگز میں سامنا کیا ہے جن میں سے آٹھ مرتبہ وہ انھی کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے ہیں اور صرف 10 کی اوسط سے رنز بنائے ہیں۔محمد حفیظ کو ٹیسٹ ٹیم سے باہر ہونے سے روکنے کے لئے یہ تجویز بھی سامنے آچکی تھی کہ انہیں مڈل آرڈر بیٹسمین کے طور پر کھلایا جائے۔کرکٹ کا کھیل اب تین فارمیٹس میں بٹ چکا ہے اور کسی ایک فارمیٹ میں ناکامی کی سزا کھلاڑی کو دیگر فارمیٹس سے باہر کرکے نہیں جاسکتی۔ گذشتہ سال محمد حفیظ کی ٹیسٹ کرکٹ میں کارکردگی مایوس کن رہی اور پروفیسر کو پانچ روزہ فارمیٹ سے باہر کرکے سلیکشن کمیٹی نے بالکل درست فیصلہ کیا تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ٹیسٹ کارکردگی کو جواز بنا کر ایک روزہ مقابلوں کی کارکردگی پر بھی بلاوجہ تنقید کی جائے جہاں وہ سال 2013ء میں تین سنچریوں کے ساتھ پاکستان کا دوسرا بہترین بیٹسمین ہے جبکہ ٹی 20 طرز کرکٹ میں بحیثیت کپتان محمد حفیظ نے پاکستان کا بہترین ٹیموں کی صف میں لاکھڑا کیا ہے مگر آل راؤنڈر کی کپتانی پر سوالیہ نشان لگا کر اسے غیر ضروری طور پر ذہنی دباؤ میں مبتلا کرنے کی کوشش کی گئی۔33 سالہ محمد حفیظ نے سری لنکا کیخلاف سیریز میں سنچریاں اسکور کرکے اپنے ناقدین کو غلط تو ثابت کردیا لیکن اب محمد حفیظ کو تسلسل کے ساتھ پرفارم کرنا ہوگا تاکہ پاکستانی ٹیم کو ٹاپ آرڈر سے عمدہ آغاز ملتا ہے۔ خود محمد حفیظ بھی چند اچھی اننگز کھیل کر اپنا اعتماد دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں جو ڈیل اسٹین کے ہاتھوں مسلسل آؤٹ ہونے کے بعد کم ہونے لگا تھا۔محمد حفیظ کی قومی ٹیم میں موجودگی کا ایک اور اہم پہلو ان کی گیند بازی ہے کہ جہاں وہ عمدہ اکانومی ریٹ کے ساتھ دس اوورز بھی کرا نے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ایسے کھلاڑی کسی بھی ٹیم کیلئے سرمایہ ہوتے ہیں ٹیسٹ میچز میں ناکامیوں سے دوچار ہونے والے محمد حفیظ ناقدین پر برہم ہیں، انہوں نے مسلسل تنقید پر اپنا غصہ میڈیا پر اتار دیا انہوں نے کہا میرا شمار دنیا کے صف اول کے آل رائونڈرز میں ہوتا ہے۔ لیکن ایک فارمیٹ میں ناکام ہونے کے بعد کہا گیا کہ میں ختم ہوچکا ہوں۔ تنقید برائے تنقید کے بجائے نکتہ چینی ٹھوس وجوہ کیساتھ تنقید کی جائے تو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ کوئی بھی کھلاڑی خراب فارم کا شکار ہوسکتا ہے۔ ٹیسٹ میچز میں ناکامی پر کوئی دبائو نہیں،میری تکنیک پر تنقید بلا جواز ہے۔ مڈل آرڈر میں کھیلنے کا فیصلہ ٹیم انتظامیہ کو کرنا ہے۔حفیظ نے کہا کہ میرا کسی کھلاڑی سے ذاتی طور پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ کھلاڑی کو منتخب کرنا سلیکٹرز کاکام ہے۔ انہوں نے کہا کہ تینوں فارمیٹس میں کھیلتا ہوں لیکن ٹیسٹ میں میری بیٹنگ فارم تشویش کا باعث ہے۔ محمد حفیظ،سعید اجمل اور جنید خان کے ساتھ پاکستان کے ان کرکٹرز میں شامل تھے جو قومی ٹیم کیلئے تینوں فارمیٹ میں انٹرنیشنل کرکٹ کھیلتے ہیں لیکن محمد حفیظ کی ٹیسٹ کرکٹ میں کارکردگی توقعات سے بہت کم ہے۔قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان محمد حفیظ کا بیٹنگ اوسط مختصر فارمیٹ میں بہتر ہواہے جب سے انہوں نے نمبر تین پر بیٹنگ شروع کی ہے۔رواں سال چار میچوں میں 52.00کی اوسط سے کھیلنے والے کھلاڑی سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیاٹیسٹ کرکٹ میں بھی اپنا کھویا ہوا ردھم پانے کیلئے وہ نچلے نمبروں پر کھیل سکتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ نہیں کہ بیٹنگ آرڈر میں نیچے کھیلنا ہے یا اوپربلکہ اس کا فیصلہ ٹیم انتظامیہ کو کرنا ہے۔ میں ہر اس نمبر پر کھیلنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہوں جہاں وہ مجھے کھلانا چاہیں گے ۔ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں اچھی کارکردگی ناقدین کا منہ بند کرنے کیلئے کافی ہے، بیٹسمین محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ میں اپنے خلاف تنقید کرنے والے تمام دوستوں کا احترام کرتا ہوں۔لیکن ہر بات پر تنقید کرنے والے اچھی چیزوں پر بات نہیں کرتے۔کوشش کروں گا کہ اپنے ناقدین کی باتوں کا جواب باتوں کے بجائے اپنی کارکردگی سے دوں۔ محمد حفیظ نے کہا کہ میں اپنے خلاف تنقید کرنے والوں کا شکر گزار ہوں۔جن کی تنقید سے مجھ میں کارکردگی دکھانے کا نیا جذبہ پیدا ہوا۔میں نے کسی مخصوص ناقد کا نام نہیں لینا چاہتا۔ نہ کسی بھی کی طرف اشارہ کیا ہے۔میرا ناقدین کو مشورہ ہے کہ وہ اپنا کام جاری رکھیں لیکن اچھی چیزوں کو بھی ہائی لائٹ کریں۔اللہ تعالی سب کو پاکستان کی بہتر انداز میں خدمت کرنے اور اچھی باتیں کرنے کی ہدایت دے۔محمد حفیظ نے کہا کہ تنقید کرنے والے اپنا کام کررہے ہیں۔لیکن میرا کام پاکستان کے لیے کارکردگی دکھانا ہے۔وہ دکھاتا رہوں گا۔میرا صرف یہی مشورہ ہے کہ مثبت باتیں کریں اور ٹیم کے حوصلہ افزائی کریں،حوصلہ شکنی سے گریز کریں۔انہوں نے کہا کہ میں پاکستانی ٹیم کے سپورٹ اسٹاف اور اپنے کوچز کا شکر گزار ہوں جو مجھے سپورٹ کرتے رہے۔میرے اہل خانہ کا شکریہ جو مشکل وقت میں میرے ساتھ کھڑے رہے۔میں خوش قسمت تھا کہ جس وقت دونوں سنچریاں بنائیں میری اہلیہ اور بچے میرے ساتھ تھے۔انہوں نے کہا کہ میں ذاتی محنت کرتا ہوں۔کوشش کرتا ہوں کہ محنت میں کوئی کثر نہ اٹھا رکھوں۔جنوبی افریقا کے خلاف سیریز میں ناکام ضرور رہا لیکن ٹی ٹوئینٹی میں اچھی کارکردگی بھی رہی۔جنوبی افریقا کے خلاف ناکام رہنے کے باوجود میں اپنی کارکردگی پر فوکس تھا۔محنت میں کوئی کمی نہیں آنے دی۔انہوں نے کہا کہ میری تکنیک میں کوئی خامی نہیں تھی۔ہر کھلاڑی کی طرح فارم میں نہیں تھا۔اللہ کا شکر ہے کہ فارم بحال ہوگئی ہے اور اسی فارم کو برقرار رکھنا چاہتا ہوں۔ محمد حفیظ نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ وہ جنوبی افریقی فاسٹ بولر ڈیل اسٹین کے خلاف کسی نفسیاتی مسائل سے دوچار ہونے کی وجہ سے وکٹ گنوادیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ محض اتفاق ہے کہ اوپر تلے میری وکٹ ڈیل اسٹین کو ملی۔2013 میں ڈیل اسٹین نے دس بار اپنی بولنگ کے ذریعے حفیظ کو پویلین کی راہ دکھائی۔ مجموعی طور پر28 اننگز میں ڈیل اسٹین کی آئوٹ سوئنگ بولنگ پر محمد حفیظ پندرہ بار آئوٹ ہوئے۔ محمد حفیظ نے کیریئرمیں ڈیل اسٹین کی 226 گیندوں کا سامنا کیا ہے۔ اس دوران انہوں نے 158 رنز دس کی بیٹنگ اوسط سے بنائے ہیں۔ محمد حفیظ کہتے ہیں کہ مجھے ڈیل اسٹین کا سامنا کرتے ہوئے کوئی نفسیاتی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔ یہ محض اتفاق ہے کہ انہوں نے میرے خلاف اچھی گیند پھینکی اور مجھے آئوٹ کردیا۔ دنیا میں کئی ایسے بیٹسمین ہیں جو اکثر مختلف بولروں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ وہ اپنی ٹیم کا نمبر ایک باؤلر ہے میں اپنی ٹیم کا ٹاپ پر کھیلنے والا بیٹسمین ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیل اسٹین کا سامنا کرتے وقت نہ مجھے کوئی خوف ہے اور نہ ہی کو دبائو ہے۔ ڈیل اسٹین میرے لئے عام باؤلروں کی طرح ہے۔ میری تکنیک میں کمی کوتاہی ہوسکتی ہے لیکن نہ میں اس کے خلاف کھیلنے سے گھبراتا ہوں اور نہ وکٹ ضائع کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ محمد حفیظ نے کہا کہ سری لنکا کی سیریز ہمار ے لئے اہم تھی۔گو کہ حفیظ کی عدم شمولیت کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ ان کے لیے پچھلا سال ناکامیوں سے عبارت رہا۔ آخری 13اننگز میں حفیظ نے صرف 135رنز بنائے۔حفیظ نے اپنے آخری ٹیسٹ میں بھی محض 21اورایک رن بنائے جبکہ سری لنکا کے خلاف شارجہ کے اگلے ٹیسٹ میں اظہر علی کی فتح گر سنچری نے نہ صرف پاکستان کو کامیابی دلوائی بلکہ قومی ٹیم میں اپنی جگہ بھی واپس حاصل کرلی۔ یوں اظہر علی کی اس کارکردگی نے محمد حفیظ کو ٹیسٹ ٹیم سے آؤٹ کردیا کیونکہ اوپننگ پوزیشن پر خرم منظور، احمد شہزاد اور شان مسعود کی موجودگی میں محمد حفیظ ٹاپ آرڈر میں جگہ نہیں بنا پارہے اور ون ڈاؤن پوزیشن پر اظہر علی کی واپسی نے محمد حفیظ سے سفید یونیفارم چھین لیا ہے۔اس کے باوجود حفیظ کو ڈراپ کرنے کا فیصلہ محض کارکردگی سے مشروط نہیں دکھائی دے رہا کیونکہ ماضی قریب میں جب سب کچھ محمد حفیظ کے حق میں تھا، تو اْس وقت تمام تر ناکامیوں کے باوجود وہ نہ صرف ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ بنتے رہے بلکہ کسی حد تک دوسروں کے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے ’’پروفیسر‘‘کو فائنل الیون میں بھی شامل کیا جاتا رہا مگر اب محمد حفیظ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ’’بڑوں ‘‘کی ’’گڈ بک‘‘ سے نکل چکے ہیں۔ محمد حفیظ کا اپنا ماضی صاف ستھرا ہے جنہوں نے قومی ٹیم سے تین سال دور رہنے کے باوجود آئی سی ایل جیسی باغی لیگ میں شمولیت اختیار نہیں کی بلکہ پاکستان کی نمائندگی کے لئے انتظار کیا۔محمد حفیظ کی تکنیک یا کپتانی پر اعتراض کیا جاسکتا ہے مگر ’’پروفیسر‘‘ کی حب الوطنی پر انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی اور اگر محمد حفیظ دبے لفظوں میں میچ فکسنگ کی بات کررہے ہیں تو پی سی بی کو اس کے خلاف کاروائی کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کی بجائے ایسے عناصر کو بے نقاب کرنا چاہیے تو پاکستان کرکٹ کو نقصان پہنچا رہے ہیںچند دن پہلے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک سابق چیئرمین کا کہنا تھا کہ پی سی بی انتظامیہ نے جواریوں کو بورڈ میں رکھ لیا ہے اور غالباً اسی لیے ’’پروفیسر‘‘ کو آہستہ آہستہ قومی ٹیم سے دور کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں جو ممکنہ طور پر کچھ اہم عہدیداروں اور کھلاڑیوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
پاکستانی آل رائونڈر محمد حفیظ نے مشکوک بالنگ ایکشن سے متعلق آئی سی سی کے قانون کو ہی ’’مشکوک‘‘ قرار دیاتھا۔آل راؤنڈر محمد حفیظ نے یہ سوال اٹھایاکہ انسانی آنکھ کیسے محض ایک ڈگری کے فرق کو دیکھ سکتی ہے؟ میں جب اپنے بائیو مکینک ٹیسٹ کیلئے گیا تو پتہ چلا کہ میری بالنگ 16، 17 اور 18 ڈگری پر ہے، میں حیران تھا کہ ایک انسانی آنکھ کیسے یہ دیکھ سکتی ہے کہ میری بالنگ 15 کی مقررہ حد سے صرف ایک ڈگری زیادہ پر ہوئی ہے۔محمد حفیظ نے کہاکہ امپائرز اور میچ ریفریز کو میرا 16 ڈگری پر بالنگ کرنا تو نظر آگیا لیکن دوسری جانب بہت سے ایسے بالرز بھی ہیں جو 25،30 اور اس سے بھی زیادہ ڈگری پر بالنگ کر رہے ہیں لیکن وہ رپورٹ نہیں ہوئے، مشکوک بالنگ ایکشن سے متعلق قانون پر کئی چیزیں اثر انداز ہو رہی ہیں، بہت سے کرکٹ بورڈز کی طاقت ہے جس کے سامنے کوئی بولنا نہیں چاہتا، بہت سی جگہوں پر تعلقات ہیں جنھیں کوئی خراب کرنا نہیں چاہتا، کئی جگہوں پر نرم گوشہ اختیار کیا جاتا ہے۔محمد حفیظ مشکوک بالنگ ایکشن سے متعلق ابہام کو دور کرنے کے لیے تمام بالرز کے بائیو مکینک ٹیسٹ کو لازمی سمجھتے ہیں، انھوں نے کہا کہ جو بھی بالرز اس وقت انٹرنیشنل کرکٹ میں بالنگ کر رہے ہیں ان کے لیے لازمی قرار دیا جائے کہ وہ پہلے بائیو مکینک ٹیسٹ کلیئر کریں اس کے بعد ہی انھیں بالنگ کی اجازت دی جائے،محمد حفیظ کو ٹیسٹ ٹیم سے باہر ہونے سے روکنے کے لیے یہ تجویز بھی سامنے آچکی ہے کہ انہیں مڈل آرڈر بیٹسمین کے طور پر کھلایا جائے۔کرکٹ کا کھیل اب تین فارمیٹس میں بٹ چکا ہے اور کسی ایک فارمیٹ میں ناکامی کی سزا کھلاڑی کو دیگر فارمیٹس سے باہر کرکے نہیں جاسکتی۔

(332 بار دیکھا گیا)

تبصرے