Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 22 جولائی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

حنا دلپزیر کا ہر کردار ہوتا ہے نیا ہربار

اصم رحمانی اتوار 09 دسمبر 2018
حنا دلپزیر کا ہر کردار ہوتا ہے نیا ہربار

سینئر اداکارہ حنا دلپزیر نے کہا ہے کہ میرا شوبز میں کسی کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں اور نہ ہی میں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلے بازی کے رحجان پر یقین رکھتی ہوں ، میں ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہوں جن کو خدا کی ذات بہت جلد عزت اور شہرت سے نواز دیتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے ڈرامہ سیریز ’’عینی کی آئے گی بارات ‘‘ میں بھی اداکاری کی مگر حقیقی شہرت مجھے سٹ کام ’’ بلبلے ‘‘ سے ملی اور آج بھی میری وجہ شہرت بلبلے کا کردار ’’ مومو ‘‘ہے ، میں جہاں بھی جاؤں تو بالخصوص بچے مجھے دیکھ کر مومو کا شور مچا دیتے ہیں ، میرا یہ کردار بچوں سمیت بڑوں میں بھی مقبول ہوا۔ بعض اوقات مجھے شاپنگ کے لئے بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔حنا دلپزیر نے کہا ہے کہ میںنے کبھی سوچا بھی نہیں تھاکہ اللہ تعالیٰ مجھے اس قدر جلدی شہرت سے نواز دیں گے،’’مومو‘‘ کاکردار میری پہچان بن چکا ہے لیکن میں چاہتی ہوں کہ اس بھی اچھا کردار ملے جسے لوگ مدتوں یاد رکھیں۔ اداکارہ نے کہا کہ بعض لوگوں کو مقام حاصل کرنے میں سالوں بیت جاتے ہیں لیکن مجھے اللہ تعالیٰ نے جس قدر جلدی شہرت سے نوازا ہے میں نے کبھی اس بارے سوچا بھی نہیں تھا۔ اداکارہ نے مزید کہا کہ خواہش ہے کہ کوئی انوکھا کردار نبھاؤں جسے لوگ مدتو ں یاد رکھیں۔ اداکارہ نے کہا کہ ہر پیشے کے مختلف رنگ اور تقاضے ہوتے ہیں‘ ٹی وی کی اداکاری ہو‘ فلم یا تھیٹر کی‘ سب ہی جگہ فنکار کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اسے ہر قسم کے کردار ملیں اور وہ خوش اسلوبی سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائے۔ حنا نے کہا کہ مومو کا کردار ادا کرنا میرے لئے اداکاری کا امتحان تھا آج اس کی مقبولیت دیکھ کر کہہ سکتی ہوں کہ میں نے یہ امتحان خوش اسلوبی سے پاس کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ جب بھی ملتے ہیں عزت اور پیار سے ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مزاحیہ کرداروں کیساتھ سنجیدہ کردار بھی ادا کررہی ہوں۔ یاد رہے کہ حنا دلپزیر لاہور میں پیدا ہوئیں‘ انہیں بچپن سے اداکاری کا شوق تھا لیکن ریڈیو اور ٹیلی ویژن اسٹیشنوں میں کوئی جاننے والا نہ تھا لہٰذا انھیں اپنے جوہر دکھانے کا کوئی موقع نہیں مل سکا‘پھر شادی ہوئی اور وہ متحدہ عرب امارات چلی گئیں۔ دلپزیر چاہتی تو برطانیہ یا امریکا کی شہریت بآسانی لے سکتی تھیں لیکن انھوں نے پاکستان واپس آنے کو ترجیح دی۔ وہ پکی پاکستانی اور وطن سے محبت کرنے والی خاتون ہیں۔ پھر من میں یہ خواہش بھی بسی تھی کہ شاید اردو ڈراموں میں اداکاری کا موقع مل جائے۔ کراچی پہنچ کر دلپزیر نجی و سرکاری ٹی وی اسٹیشنوں کے چکر لگانے لگیں۔ چونکہ وہ کسی سے واقف نہیں تھیں لہٰذا انھیں اپنا آپ منوانے میں خاصا وقت لگا۔ دراصل وہ ظاہری خوبصورتی نہیں رکھتی اور بیش ترٹی وی اسٹیشنوں میں ایسا جوہری موجود نہ تھا جو ان میں پوشیدہ اداکارانہ صلاحیتیں پہچان لیتا۔ آخر ایک انوکھے طریقے سے دلپزیر کو اپنے پہلے ڈرامے، برنس روڈ کی نیلوفر میں کام مل ہی گیا۔ دلپزیر نے خود کو پیش کرتے ہوئے مظہر معین کو چیلنج دیا کہ وہ ان سے بہتر اداکارہ تلاش نہیں کر سکتے۔ مظہر نے کئی اداکارائوں کا آڈیشن لیا لیکن واقعی کردار پر دلپزیر ہی موزوں بیٹھیں‘ چنانچہ نیلوفر کا کردار انھیں ہی ملا۔

(326 بار دیکھا گیا)

تبصرے