Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 27 مارچ 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

انڈے مرغی کی معیشت

ویب ڈیسک هفته 08 دسمبر 2018
انڈے مرغی کی معیشت

مرغی پہلے یا انڈا؟ بحث صدیوں سے جاری ہے گتھی آج تک سلجھ نہیں سکی مگر عمران خان نے جوکہا وہ بحث کا موضوع ہے یا محض تنقید برائے تنقید؟ عمران خان نے دیہی علاقوں میں مرغیاں پالنے اور بچھڑوں کو ذبح نہ کرنے کی بات کی‘ ناقدین لے اُڑے اور تضحیک پر اُتر آئے۔ہمارے شہری بابو جو مریل برائلر کا شوارما‘ روسٹ اور چرغہ کھا کر جوان ہوئے‘ جانتے ہی نہیں کہ دیہی معیشت میں مرغی انڈے کی کیا اہمیت ہے اور بستیوں‘ گوٹھوں میں وہ آنگن سونا لگتا ہے جس میں مرغیوں کی کڑ کڑ اور چوزوں کی چوں چوں سنائی نہ دے۔ شہروں میں مرغیوں کا کاروبار کرنے والے ارب پتی ہیں اور کہا یہ جاتا ہے کہ اگر برائلر مرغیوں کی صنعت فروغ نہ پاتی تو جو حال ہم نے بھیڑ بکریوں‘ گائے بھینسوں اور دیسی مرغیوں کا کیا‘ گوشت اور انڈا جتنا مہنگا ہوا‘ عام آدمی عید شب برأت اور شادی بیاہ میں بھی گوشت کھانے کو ترستا۔ چند ہفتے قبل پولٹری ایسوسی ایشن نے ایکسپو سنٹر میں ایک نمائش کا اہتمام کیا تھا جس میں شرکاء کو ماہرین نے بتایا کہ انسانی جسم کو توانائی کی جتنی ضرورت ہے وہ پولٹری کا شعبہ پورا کر سکتا ہے ورنہ سٹنڈگروتھ مزیدبڑھے اور ہم مزید ذہنی و جسمانی پستی کا شکار ہوں۔ پاکستان دنیا کا خوش قسمت زرعی ملک ہے۔ قدرت نے جسے چار موسموں کے علاوہ پہاڑوں‘ صحرائوں‘ میدانوں اور جنگلات کی بیش بہا نعمت سے نوازا مگر اس کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اب تک قدرتی وسائل سے بھر پور فائدہ اٹھا سکے نہ زرعی شعبے کی ترقی کے لئے پائیدار منصوبہ بندی کر سکے‘ سوویت یونین کی شکست و ریخت کے بعد پوری دنیا نے دیکھا کہ سنٹرل ایشیا کی مسلم ریاستیں ان مسائل کا شکار نہ ہوئیں جن کا ترقی یافتہ روسی ریاستوں نے سامنا کیا۔ وجہ صرف ایک تھی کہ کمیونسٹ حکمرانوں نے مسلم ریاستوں کو خام مال کی منڈی بنایا ‘صرف زرعی شعبے کو ترقی دی جبکہ روسی ریاستوں میں صنعتی و تکنیکی شعبوں کو وسائل فراہم کئے‘ سپر پاور ٹوٹی تو وسطی ایشیائی ریاستوں کے پاس کھانے پینے‘ پہننے ‘برآمد کرنے کو سب کچھ تھا جبکہ دوسری ریاستیں ان کی محتاج‘ بالآخر دولت مشترکہ طرز پر کریملن کو اتحاد تشکیل دینا پڑا۔ البانیہ چھوٹی سی ریاست تھی جو اقتصادی پابندیوں کا شکار ہوئی تو حکمران انور حوجہ نے نعرہ دیا’’انگور کھائو‘ انگور پیو‘‘ ریاست میں انگوروں کی بہتات تھی عوام نے ساتھ دیا اور معاشی پابندیاں ہوا ہو گئیں۔ پاکستان آج تک اپنی زراعت ہی کی وجہ سے معاشی و اقتصادی تباہی سے بچتا چلا آ رہا ہے ورنہ ہمارے کم عقل منصوبہ سازوں‘ ناعاقبت اندیش حکمرانوں نے کسر نہیں چھوڑی۔ذرا سوچئے ہماری برآمدات میں زرعی اجناس اور مصنوعات کا حجم کتنا ہے۔ زرعی رقبوں کو ہم نے ہائوسنگ سکیموں میں تبدیل کیا‘ شہروں کو کسی نے پھیلنے سے روکا نہیں اور آج کے دور میں جب مہذب ممالک ایک ایک انچ زمین کو بچانے کی فکر میں ہیں رہائش کے لئے ہائی رائزز بلڈنگز بنا رہے ہیںہمارے ہاں ایکڑوں پر مشتمل محلات کی تعمیر جاری ہے۔ درخت بے رحمی سے کٹ رہے ہیں اور جانور پانی اور چارے کی کمی ‘بیماریوں کا شکار ہیں۔ کپاس کے علاقوں میں گنا کاشت ہو رہا ہے اور گنے کے کاشتکار ہی نہیں شوگر مل مالکان بھی حکومتی بے حسی کا رونا رو رہے ہیں۔ لائیو سٹاک کا شعبہ روائتی بے اعتنائی کا شکار ہے اور ماضی کی بھینس پال‘ گائے پال‘ بھیڑ پال سکیمیں ٹھپ ہیں۔ چھوٹے کاشتکاروں کو قرضے ملتے ہیں نہ ان کی کوئی رہنمائی کرنے والا ہے کہ روایتی فصلیں کاشت کرنے کے بجائے وہ لائیو سٹاک پر توجہ دیں۔ چھ‘ آٹھ ایکڑ زمین پر بھینس‘ گائے ‘ بکریاں پال کر عام کاشتکار گریڈ سترہ اٹھارہ کے افسر کے برابر سالانہ آمدنی حاصل کر سکتا ہے جبکہ خواتین کوبے نظیر انکم سپورٹ سکیم کے ذریعے تین چار ہزارروپے ماہانہ امداد کا عادی کرنے اور ان کے نکھٹو شوہروں کو کام چوری کی ترغیب دینے سے بہتر ہے کہ انہیں گھروں میں مرغیاں پالنے اور آمدنی بڑھانے کی راہ دکھائی جائے۔ پوری دنیا میں بڑی صنعتوں کے ساتھ گھریلو صنعتوں اور روزگار کی چھوٹی اسکیموں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور مرغیوں‘ بکریوں‘ بھیڑوں کی افزائش اسی سلسلے کی کڑی ہے مگر ہمارے سابقہ حکمران اور سیاستدان ان اسکیموں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ یہ شہری بابو جانتے ہی نہیں کہ اخوت فائونڈیشن نے ہزاروں گھروں کو دس بیس ہزار روپے کے قرضے دے کر ایسے ہی چھوٹے کاروبار پر لگایا اور ایک ڈیڑھ برس میں اپنے پائوں پر کھڑا کر دیا۔ عمران خان کو چاہیے کہ وہ عوام کو صرف مرغیاں پالنے کی ترغیب نہ دیں۔ بطخیں ‘ سفید تیتر، کبوتر اور خرگوش پالنے پر بھی لگائیں اور لائیو سٹاک کے شعبے کو ترجیحی بنیادوں پر ترقی دینے کے لئے سوچیں۔ لائیو اسٹاک کا شعبہ روزگار کی سہولتوں میں اضافے کے علاوہ معیار زندگی بلند کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتاہے۔ پڑھے لکھے نوجوان اگر سرکاری نوکریوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے چھوٹے قرضے لے کر ان اسکیموں کا حصہ بنیں اور اپنے خاندان کو سہارا دیں تو بہت سے دلدر دور ہو سکتے ہیں۔ مرغی انڈے کی افزائش سے ترقی و خوشحالی کا خواب بھی عمران نے نہیں دکھایا دنیا کے کئی ممالک میں یہ تجربہ کامیاب رہا۔ برطانیہ میں پچاس کے عشرے میں سالانہ ایک کلو مرغ گوشت فی کس کھانے کا رواج تھا جو اب 25/30کلو گرام کی اوسط تک پہنچ چکا ہے جبکہ پولٹری کی صنعت پاکستان میں ترقی پذیر ہے اس کے باوجود ایک شہری کو سالانہ اوسطاً چھ کلو گوشت دستیاب ہے۔مرغی کے گوشت اور انڈے کی افزائش کی ترغیب اگر حکومت دیہی عوام بالخصوص گھریلو خواتین کو دے تو برائلر سیاستدان اور ان کے پروردہ دانشور مذاق اڑاتے ہیں۔ شائد دیہی عوام کا معیار زندگی بہتر ہونے کے خلاف ہیں یا انہیں دیسی مرغوں انڈوں سے چڑ ہے۔ ایوب خان کو بکریوں سے چڑ تھی وہ اسے گھاس کا دشمن قرار دیتے۔ عمران خان کے مخالفین مرغی اور انڈے کے ذکر سے بے مزہ ہوتے ہیں شائد وہ وزیر اعظم کے منصب کو مرغی انڈے کے ذکر سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ جبکہ غریب عوام بے چارے چاہتے ہیں کہ اب ان کے درد کا کوئی درماں کرے‘ انہیں اگر مرغی پال اور انڈے بیچ کر عزت کی روٹی ملتی ہے تو منتخب نمائندوں اور ان کے فرنٹ مینوں کو رشوت دے کرچپڑاسی‘ کلرک اور حوالدار بننے سے بہتر ہے۔وہ چپڑیاںاور دو دو نہیں مانگتے‘ رزق حلال کے خواہش مند ہیں جو انہیں کسی کی خوشامد‘ چاپلوسی‘ مٹھی گرم کرنے سے نہیں وقار سے مل سکے‘ ملنا شروع ہوتو مرغی انڈے کی بحث شروع کرنے والوں کے منہ یہ خود بند کریں گے۔خود برسوں اور عشروں اقتدار میں رہ کر کچھ کیا نہیں‘ جو کرنا چاہتا ہے اس کا مذاق اْڑا رہے ہیں سنگدل اور احمق کہیں کے۔
عمران خان نے اپنی تقریر میں انڈوں ، مرغیوں اور کٹوں کا ذکر کیا کر دیا، احباب بد مزہ ہو گئے۔طنز اور تضحیک کے دیوان لکھے جا رہے ہیں۔معلوم نہیں یہ روایتی احساس کمتری کا آزار ہے کہ مرغی ، انڈے اور کٹوں جیسی مقامی اصطلاحات سے مزاج یار برہم ہوگیا یا یہ اپنی تہذیب سے جڑی مقامی معیشت سے جہالت کی حد تک ناواقفیت کی علامت ہے لیکن یہ بات شرح صدر کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ عمران خان کا موقف معیشت کے کسی بھی پیمانے پر پرکھ کر دیکھ لیجیے ، وہ نامعتبر نہیں ہے۔
دنیا محض چند بڑے شہروں کی چکا چوند کا نام ہے نہ ہی معیشت کو محض جدید اصطلاحات تک محدود کیا جا سکتا ہے۔ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا میں ’’ رورل اکانومی‘‘ نام کی ایک چیز بھی پائی جاتی ہے۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی آبادی کا غالب حصہ آج بھی دیہاتوں میں رہتا ہے۔
ایسے ملک میں ’’ رورل اکانومی‘‘ کو کس طرح نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟عمران خان نے معیشت کے اسی پہلو کو اپنا مخاطب بنایا ہے تو اس پر تنقید کیسی؟ مرغیوں ، انڈوں اور کٹوں کے ذکر پر تمسخر اڑانے والے احباب کیا جانتے ہیں ہماری ’’ رورل اکانومی‘‘ کا حجم کیا ہے؟ اناج کو ایک طرف رکھ دیجیے اس ’’ رورل اکانومی‘‘ کے صرف اس ایک پہلو کا ذکر کر لیتے ہیں جس کا تعلق مرغیوں ، انڈوں اور کٹوں سے ہے۔ کٹوں کے ذکر پر بد مزہ ہونے والوں کو معلوم ہونا چاہیے پاکستان کی کل جی ڈی پی کا 11 فیصد لائیو سٹاک پر مشتمل ہے۔جی ہاں گیارہ فیصد۔ یعنی آپ کی زرعی زمینوں سے اگنے والے اناج سے بھی زیادہ۔چند سال پہلے کی ایک تحقیق کے مطابق ملک میں 24.2 ملین گائیں ہیں۔26.3 ملین بھینسیں ہیں، 24.9 ملین بھیڑیں ہیںاور56.7 ملین بکریاں ہیں۔
یاد رہے کہ ایک ملین میں دس لاکھ ہوتے ہیں۔ اب کیا اتنے ملین مویشی ان ’ ’پینڈو‘‘ لوگوں نے خواہ مخواہ رکھے ہوئے ہیں کہ چلو نہ فیس بک ہے نہ ٹوئٹر تو کٹے، بھینسیں اور بکریاں ہی پال لی جائیں؟
یہ ’’ رورل اکانومی ‘‘ ہے اور اسی کی بدولت پاکستان ہر سال 30 ملین ٹن دودھ پیدا کرتا ہے اور اس کا شمار دودھ پیدا کرنے والے چار بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔آج ہم سعودی عرب سے تیل یا قرض مانگنے تو چلے جاتے ہیں لیکن کسی حکومت کو یہ خیال نہیں آیا کہ سعودی عرب سے کہے وہ حج کے موقع پر ذبح کرنے کے لیے پاکستان سے بھی معقول تعداد میں لائیو سٹاک منگوائے۔
امکانات کا ایک جہاں موجود ہے لیکن کوئی اس طرف توجہ نہیں کرتا۔ ذرا انڈوں اور مرغیوں کی بھی سنتے جائیے۔ کیا آپ جانتے ہیں اس کام میں معیشت کے کتنے غیر معمولی امکانات ہیں؟
پاکستان میں اس وقت 530 ملین مرغیاں ہیں۔ کیا ہمیں علم ہے ہر سال ان مرغیوں کا کتنا گوشت ہم کھا جاتے ہیں؟ ہمارے معدوں میں ہر سال جانے والے گوشت کا وزن 2250 ملین کلوگرام ہے۔کیا آپ اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ پاکستان میں ہر سال کتنے انڈے مارکیٹ میں پہنچائے جاتے ہیں؟ 18 ہزار ملین۔جی ہاں اٹھارہ ہزار ملین۔ایک دفعہ پھر یاد کراتا چلوں کہ ایک ملین میں دس لاکھ ہوتے ہیں۔کیا انڈے اور مرغی کے ذکر پر ہنسنے اور تمسخر اڑانے والوں کو معلوم ہے‘ اس کاروبار کی وجہ سے ملک میں کتنے لوگوں کو روزگار میسر ہے؟ پندرہ لاکھ لوگوں کو۔اس کاروبار کا گروتھ ریٹ حیران کن طور پر 12 فیصد سالانہ ہے۔
یہ اگر اتنا ہی معمولی شعبہ ہوتا تو مسلم لیگ ن کے حمزہ شہباز اور جماعت اسلامی کے نائب امیر میاں اسلم اس سے وابستہ نہ ہوتے۔سرمایہ دار اس شعبے میں مال بنائے تو درست ہے لیکن وزیر اعظم اسی شعبے میں عام آدمی کے لیے سہولیات لانے کی بات کرے تو اس کا تمسخر اڑایا جاتا ہے۔
پلڈاٹ نے کچھ سال قبل اسے کتابی صورت میں شا ئع کیا تھا۔ یہ اسمبلی روایتی زمینداروں اور جاگیرداروں سے بھری پڑی تھی جن کا بنیادی ذریعہ آمدن بھی یہی زراعت ہی کا شعبہ تھا لیکن پوری اسمبلی میں صرف چار اراکین ایسے تھے جنہوں نے دلچسپی کے میدان میں زراعت اور کھیتی باڑی لکھا تھا۔ایک صاحب کی تعلیمی قابلیت درس نظامی تھی اور انہوں نے دلچسپی کے میدان میں سپیس سائنس لکھا ہوا تھا۔
پاکستان چونکہ ایک زرعی ملک ہے اس لیے زراعت کے شعبے میں تعلیم و تحقیق کے لیے فیصل آباد ، لسبیلہ ، پشاور ، ٹنڈو جام میں زرعی یونیورسٹیاں قائم کی گئیں۔زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے آگے مزید شہروں میں سب کیمپس قائم کیے گئے۔ پوٹھوہار کے علاقے میں زراعت کے امور میں علم و تحقیق کے لیے زرعی بارانی یونیورسٹی قائم کی گئی۔ لیکن پھر کیا ہوا؟
وہی احساس کمتری آڑے آ گیا کہ اب ہم بھلا آلو ، مٹر ، گاجر ، گنے اور کینو وغیرہ پر تحقیق کرتے اچھے لگتے ہیں۔چنانچہ حالت یہ ہے کہ اس وقت زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ، سافٹ ویئر انجینئرنگ ، کمپیوٹر سائنس وغیرہ کی تعلیم دی جا رہی ہے۔یہی حال بارانی یونیورسٹی کا ہے جہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کلاسز جاری ہیں۔
ایک دور میں بارانی یونیورسٹی نے ایل ایل بی کی کلاسز بھی شروع کر دی تھیں۔چاہیے تو یہ تھا کہ یہ زرعی یونیورسٹیاں اپنی ساری توانائیاں زراعت اور اس سے متصل شعبوں پر صرف کرتیں لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ مرغی ، انڈے اور کٹے ہماری ’’ رورل اکانومی‘‘ کے اہم ترین اجزاء ہیں۔ تاہم کسی کے ہاں یہ تفنن طبع کا عنوان ہیں تو یہ اس کا اپنا نقص فہم ہے۔
وزیراعظم عمران خان سے پیپلزپارٹی اور ن لیگ اور دوسرے مخالفوں کو کچھ ملتا نہیں ہے تو وہ عمران خان کی تقریر سے کچھ نہ کچھ نکال ہی لیتے ہیں۔ پہلے وزیراعظم نے گاڑیوں اور بھینسوں کی نیلامی کی تو اس پر تنقید شروع ہوئی کہ کیا اس سے معیشت ٹھیک ہوجائے گی؟ اس پر مذاق اڑایا جاتا رہا۔ یہ سچ ہے کہ گاڑیاں اور بھینسیں چند کروڑ میں بیچی گئی ہیں اور اس سے معیشت ٹھیک نہیں ہوسکتی تھی لیکن دیکھا جائے تو اس سے بھی بہت کچھ ہوگیا جن گاڑیوں کی مینٹینس پر ہر سال کروڑوں روپیہ خرچ ہوتا تھا وہ بچ گیا جو بھینسیں وزیراعظم ہاؤس میں رکھی کئی تھیں ان پر ہرسال کروڑوں روپیہ خرچ ہوتا تھا۔ پانچ کے قریب ملازم رکھے گئے تھے جو انکی دیکھ بھال کرتے تھے۔ بھینسوں کے چارہ ، خوراک اور دیگر اخراجات اسکے علاوہ۔۔ اگر یہ بیچی گئی ہیں تو یہ ان سے کروڑوں روپیہ بچ گیا۔
اب عمران خان نے اپنی تقریر میں لائیوسٹاک اور فش فارمنگ کی بات کی تو اسکا مذاق اڑایا گیا کہ دیکھو، یہ مرغی، انڈوں، مچھلی ، جھینگوں اور کٹوں سے معیشت ٹھیک کریں گے۔ مذاق اڑانے والوں کو عوام کے مسائل کا پتہ ہوتا تو آج ملک اس حال میں نہ ہوتا۔ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں لائیو اسٹاک پر کیوں زور دیا؟ اس کی بنیادی وجہ عمران خان کا دورہ چین اور دورہ ملائیشیا ہے۔ چین پاکستان کی زرعی اور لائیو اسٹاک مصنوعات کا سب سے بڑا خریدار بن سکتا ہے اور یہ بات چینی عہدیداروں نے وزیراعظم عمران خان کو کہی۔ عمران خان سے کہا کہ ہمیں ہر سال 2 ارب ڈالر کا دیسی گھی درکار ہے لیکن آپ ہماری ضروریات ہی پوری نہیں کرسکتے۔ ہم ہر سال آسٹریلیا سے اربوں ڈالر کی گندم منگواتے ہیں۔ چین نے پاکستان میں زراعت اور لائیو سٹاک میں تعاون کی حامی بھی بھری تھی۔ وزیراعظم نے جب چین اور ملائیشیا کا دورہ کیا تھا تو اس ملک کی ضروریات بھی دیکھی ہوں گی۔ کئی غیرمسلم ممالک خلیجی ممالک میں اربوں ڈالر کا حلال گوشت بیچتے ہیں لیکن پاکستان کا اس میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستان حلال گوشت باہر آٹے میں نمک کے برابر بھیجتا ہے جس کا فائدہ غیر مسلم ممالک نے اٹھایا۔
اسی طرح مچھلی کی صنعت پاکستان میں بہت ہی کم ہے۔ اگر فش فارمنگ پر توجہ دی جائے تو ہم ہر سال کئی بڑی تعداد میں مچھلی ایکسپورٹ کرسکتے ہیں جس سے اربوں روپے کا زرمبادلہ ڈالرز کی صورت میں پاکستان آسکتا ہے ، پاکستان میں بھی مچھلی کی ڈیمانڈ بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ کچھ سالوں میں لوگوں کا رجحان مچھلی کی طرف ہوتا جارہا ہے۔ وزیراعظم نے کٹے کی بات کی ہمارے دیہاتوں میں بھینس بچھڑی دے تو مالک کی خوشی کی انتہا نہیں رہتی کہ کیونکہ بچھڑی کچھ سالوں بعد دودھ دینے کے قابل ہوجاتی ہے اور اگر اسے بیچا جائے تو قیمت بھی اچھی مل جاتی ہے لیکن اگر بھینس کٹا دے تو اس پر بھینس کا مالک دکھی ہوجاتا ہے اور عام طور پر کٹے کو جلدی ہی ذبح کیا جاتا ہے کیونکہ کٹے کے خریدار بہت کم ہیں۔ وزیراعظم نے اسی تناظر میں بات کی کہ کٹے کو پالا جائے اور حکومت کو بیچا جائے تاکہ جب وہ بڑا ہوتو اسکا گوشت بڑی مقدار میں ملتا ہے اور یہ بیرون ملک بیچا جاسکتا ہے۔ اسی لئے وزیراعظم نے کہا کہ ہم ایسے لوگوں کو پیسے دیں گے تاکہ وہ فورا ذبح کرنے کی انہیں پالیں۔ آج بھی اکثر دیہاتوں میں شادی بیاہوں، فوتگی میں کٹے کا گوشت ہی استعمال ہورہا ہے۔
اب آتے ہیں کہ لائیواسٹاک اور زاعت پاکستان کے لئے کیوں ضروری ہے؟ پاکستان کی انڈسٹری ہی لائیو اسٹاک اور زراعت پر کھڑی ہے۔ جانوروں کی کھالوں کی وجہ سے آپکی کیمیکل، لیدر اور سپورٹس انڈسٹری چلتی ہے، کپاس کی وجہ سے ٹیکسٹائل انڈسٹری چلتی ہے، گنے کی وجہ سے صرف شوگر انڈسٹری چل رہی ہے لیکن انرجی سیکٹر بھی چل سکتا ہے، گنے کی پھوک سے سستی بجلی بن سکتی ہے۔پھلوں سے جوس ، کسٹرڈ، آئس کریم، کیچپ جیسی مصنوعات بنانیوالے انڈسٹری چلتی ہے۔ اسی طرح لائیو سٹاک سے گوشت، انڈے، دودھ، دہی، دیسی گھی سے نہ صرف ہماری خوراک کی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ باہر بھجواکر زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔ نیسلے، یونی لیور جیسی بڑی کمپنیاں جو پاکستانی عوام سے ہر سال اربوں روپے بٹورلیتی ہیں وہ کھڑی ہی زراعت اور لائیو سٹاک پر ہیں۔ زیادہ تر حلال گوشت میں پاکستان کا بہت کم حصہ ہے ہم حلال گوشت خلیجی ممالک اور ملائیشیا وغیرہ میں بھجواکر اربوں ڈالر کماسکتے ہیں۔میں اس سے ایک قدم آگے جاؤں گا اور یہ کہوں گا کہ پاکستان کو چائے بھی خود کاشت کرنی چاہئے ہم ہر سال اربوں روپے کی چائے باہر سے منگوارہے ہیں اور ہمارے ہاں کاشت نہ ہونے کے برابر ہے۔ جیٹروفا نامی ایک فصل پر بھی حکومت کو توجہ دینی چاہئے۔ جیٹروفا پودے سے بہت سے ممالک نے ڈیزل بنانا شروع کردیا ہے۔
جب بلین ٹری مہم شروع ہوئی تھی تو اس کا بھی مذاق اڑایا گیا تھا کہ اس کا ملک کو کیا فائدہ ہوگا؟ ورنہ سمجھدار لوگوں کو پتہ ہے درخت لگانے سے نہ صرف زمینی کٹاؤ رکتا ہے، پانی بچتا ہے بلکہ ماحول بھی اچھا رہتا ہے اور ہمیں پھل فروٹس وغیرہ بھی مل جاتے ہیں۔ یہ سب ویڑن کی باتیں ہیں۔ وزیراعظم نے کل یہ بات کی ہے تو ان کا ویژن نہیں بلکہ دور اندیشی ہے۔ سوچیں اگر ہم لائیو اسٹاک، فش فارمنگ، زراعت میں خود کفیل ہوجائیں ، اربوں روپے کا گوشت ، اجناس بیرون ملک بھیجیں۔ ہماری انڈسٹری لائیو سٹاک اور ایگریکلچر مصنوعات سے ٹیکسٹائل، سپورٹس، بیوریجز اور فوڈپراڈکٹس بناکر باہر بھیجنا شروع کردیں تو ہمیں کتنا فائدہ ہوگا۔ یہ سب ویژن کی بات ہے یہ مفادپرستوں اور ویژن سے عاری لوگوں کو سمجھ نہیں آئے گی۔

(206 بار دیکھا گیا)

تبصرے