Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 26 مئی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

آپریشن …کامیاب …ناکام؟

ویب ڈیسک هفته 08 دسمبر 2018
آپریشن …کامیاب …ناکام؟

سپریم کورٹ کے حکم پر کراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن بڑی شدومد کے ساتھ شروع کیا گیا… دیکھتے ہی دیکھتے تجاوزات کو ڈھیر کردیا گیا… کرینوں اور بلڈوزروں کے ذریعے مارکیٹوں میں غیرقانونی طور پرقائم دکانیں… پتھارے مسمار کردئیے گئے … مئیرکراچی نے ہرصورت آپریشن کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے… اس آپریشن کے خلاف سیاسی جماعتیں بھی میدان میں آئیں … دکانداروں کی ہمدریاں حاصل کرنے کی کوششیں کی گئیں… سوال یہ ہے کہ یہ آپریشن کامیاب رہا ہے یا ناکامی سے دوچار ہوگیا ہے… اس وقت صورتحال یہ ہے کہ آپریشن کے دوران جن پتھاروں اور دکانوں کو ملبے کا ڈھیر بنایا گیا ان کا ملبہ جوں کا توں وہیں کا وہیں پڑا ہے ۔ ان کے اٹھانے کا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا ۔ صرف ایمپریس مارکیٹ کے اطراف دکانوں کا ملبہ اٹھایا گیا ہے یہ کام بھی بحریہ ٹاون کی مدد سے کیا گیا۔ اس وقت دیگر علاقوں میں جو ملبہ پڑا ہے وہ نہ صرف ٹریفک کی روانی کو متاثر کررہا ہے بلکہ راہگیروں کیلئے بھی شدید مشکلات اور کوفت کا باعث ہے … اس ملبے کی وجہ سے نہ صرف حادثات ہورہے ہیں بلکہ لوگوں کو ذہنی کوفت کا بھی سامنا ہے … صدر میں پرانے لنڈا بازار … لائٹ ہاوس میں مسمار کی گئی دکانوں پر ہی پتھارے داروں نے اپنا کاروبار جمالیا ہے … اس مرتبہ ہوا یہ ہے کہ ان پتھاروں کے نیچے پہئیے لگالئے گئے ہیں جوں ہی انسداد تجاوزات کی ٹیم پہنچتی ہے وہ ان ٹھیلوں کو دھکیلتے ہوئے ادھر ادھر ہوجاتے ہیں اور جیسے ہی وہ ٹیم روانہ ہوتی ہے پھر آدھمکتے ہیں … بنارس کا پل ہویا قائدآباد کا … بلوچ کالونی کا پل ہو یا شہر میں کوئی دوسر… ہرپل کے نیچے سے دھڑلے سے غیرقانونی دکانیں قائم ہیں ۔ پورے پورے بازار لگے ہیں … لیاقت آباد میں حالات جوں کے توں ہیں… عائشہ منزل … ہو یا فائیو اسٹار چورنگی … گلستان جوہر … ہو یا گلشن اقبال ہرجگہ سڑکوں پر اسی طرح سے سرشام فاسٹ فوڈ کی دکانیں سجتی ہیں … کرسیاں لگتی ہیں… راستے بند کئے جاتے ہیں … شہر کے مختلف علاقوں میں تین فٹ کی چائے کی دکان کے باہر دور دورتک تجاوزات اب بھی قائم ہیں … ایک دکان کے ساتھ درجنوںکرسیاں اور ٹیبلیں اب بھی لگائی جاتی ہیں… آدھی سے زیادہ سڑک گھیر لی جاتی ہے … دکان کے باہر کاونٹربھی اسی طرح لگتے ہیں … البتہ اب ہوا یہ ہے کہ ان کاونٹرز کے نیچے پہیئے لگادئیے گئے ہیں … تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر منظر سے غائب ہوا جاسکے … کے ایم سی کے انسداد تجاوزات محکمے کے ذرائع کہتے ہیں کہ دوبارہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ خود پولیس ہے ۔ آپریشن شروع کرنے سے پہلے پولیس کو بتانا پڑتا ہے اور پولیس کا بتانے کا مطلب یہ ہے کہ ان تمام لوگوں کو پہلے ہی خبر ہوجاتی ہے جن کے خلاف آپریشن کیا جانا ہوتا ہے … تمام پتھارے اور ٹھیلے والے آپریشن سے قبل محفوظ مقامات پر منتقل ہوجاتے ہیں… شہری حلقے اس مسلے کا ایک آسان حل یہ بتاتے ہیں کہ چیف جسٹس تمام تھانے داروں کو یہ حکم دیں کہ جس تھانے کی حدود میں دوبارہ تجاوزات قائم ہونگی اس کا ذمہ دار اس علاقے کا تھانیدار ہوگا … ذرائع کے مطابق شہر میں تجاوزات کی سب سے بڑی ذمہ دار خود پولیس ہے … تجاوزا ت کے حوالے سے میٹھادر … کھارادر … پریڈی … صدر … آرٹلری… اور دیگر تھانے گولڈن تھانے ہیں … ان کی مبینہ پشت پناہی میں یہ تمام امور بہ خوبی سرانجام دئیے جاتے ہیں … کراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے بعد جب ہزاروں دکانیں اور پتھارے گرادئے گئے تب اچانک سندھ سرکار جاگ گئی … سندھ حکومت کے مشیر اطلاعات مرتضی وہاب نے کہا کہ سندھ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتی ہے لیکن اگر آپریشن کا رخ آبادیوں کی طرف موڑا گیا تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا… گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بھی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور اس حوالے سے تفصیلی گفتگو کی جس کے بعد وزیراعظم نے اس معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا … مئیر کراچی وسیم اختر کا کہنا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کرارہے ہیں اور ان کا مقصد شہر کو تجاوزات سے پاک کرنا ہے آپریشن صرف تجاوزات کے خلاف ہے کسی برادری یا کسی قوم کے خلاف نہیں اور اس میں کسی کو ٹارگٹ نہیں کیا جارہا اس لئے اس پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کیا جائے … شہر کے ایک سروے کے مطابق صدر میں ایمپریس مارکیٹ، پارکنگ پلازہ اور دیگر مقامات پر پتھارے دوبارہ لگ گئے ہیں۔ کے ایم سی نے چند روز قبل ہی تجاوزات کے خلاف آپریشن کیا تھا جس کے دوران کراچی کے علاقے صدر میں قائم غیر قانونی دکانوں کو گرایا اور پتھاروں کو ہٹایا گیا تھا۔ صدر میں فٹ پاتھ پر بنی ٹریفک پولیس کی چوکی کے اطراف بھی ٹھیلے لگا دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے صبح کے ا وقات میں ہی گاڑیوں کو آمد و رفت میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔ تجاوزات کی بھرمار کے باعث شہر میں ٹریفک جام معمول بن گیا۔ ایمپریس مارکیٹ‘ ریگل چوک‘ ایم اے جناح روڈ‘ بولٹن مارکیٹ‘ کھارادر میں خاتمے کے چند روز بعد ہی تجاوزات دوبارہ قائم کرلی جاتی ہیں۔ تجاوزات کی بھرمار سے شہر کے اہم کاروباری مراکز میں ٹریفک جام معمول بن گیا ہے‘ دوسری جانب ناقص منصوبہ بندی کے تحت ترقیاتی کاموں کیلئے سڑکوں کو کھودنے کے باعث شہری شدید اذیت سے دوچار ہوگئے‘ ایمپریس مارکیٹ کے مختلف مقامات پر ٹھیلے اور پتھاروں کی وجہ سے ایک جانب ٹریفک کی روانی متاثر ہورہی ہے تو دوسری جانب پیدل چلنے اور سڑک عبور کرنے والے شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے‘ خصوصاً شام کے اوقات میں خریداری کے بعد واپس جانے والے شہری بدترین ٹریفک جام میں پھنسے رہتے ہیں۔ انتظامیہ آپریشن کرکے مذکورہ علاقوں سے تجاوزات کا خاتمہ کردیتی ہے مگر چند روز کے بعد دوبارہ تجاوزات قائم کرلی جاتی ہیں اور ٹھیلے‘ پتھارے اور کیبنز لگ جاتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اینٹی انکروچمنٹ عملے نے شہر میں جگہ جگہ آپریشن کا آغاز کر رکھا ہے تاہم بھتے میں اضافے کے بعد ضلع وسطی،کورنگی،ملیر اور جنوبی میں تجاوزات دوبارہ سے قائم کردی گئی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ضلع وسطی کے علاقوں میں لیاقت آباد،فیڈرل بی ایریا،نیو کراچی،نارتھ ناظم آباد سمیت دیگر علاقوں میں آپریشن کے بعد دوبارہ تجاوزات کا آغاز ہوگیا ہے۔ کورنگی کراسنگ،کورنگی نمبر1 سے 6نمبر تک جب کہ لانڈھی ،بابر مارکیٹ، کلو چوک اور اطراف کے علاقوں میں بھی آپریشن کے بعد تجاوزات قائم کردی گئی ہیں جہاں سے یومیہ ہزاروں روپے بٹورے جا رہے ہیں جب کہ مرکزی شاہراہوں پر قائم تجاوزات اور گاڑیوں کے غیر قانونی اسٹینڈ کے باعث شہریوں کو گھنٹوں ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جنوبی کے علاقوں صدر، ایمپریس مارکیٹ،ریمبوسینٹر،لائٹ ہائوس،رنچھوڑ لائن، صرافہ بازار، جناح اسٹریٹ ، جمیلہ اسٹریٹ سمیت دیگر مقامات پر تجاوزات کی بھرمار ہے۔صدر اور اس کے گرد نواح میں اینٹی انکروچمنٹ من پسند کارروائیاں کرنے میں مصروف ہے مذکورہ علاقوں میں انسداد تجاوزات عملے کی جانب سے متعدد بار کارروائی کی گئیں تاہم وہ نمائشی ثابت ہوئیں۔
پولیس اور کے ایم سی کی جانب سے دوبارہ تجاوزات قائم کرائی جانے لگیں۔ صدر اور اولڈ سٹی ایریا میں آپریشن کے بعد دوبارہ عارضی دکانیں، ٹھیلے اور پتھارے لگوا کر سپریم کورٹ کے احکامات کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں۔ سپریم کورٹ کے واضح احکامات تھے کہ آپریشن کے بعد مسلسل مانیٹرنگ کی جائے تاکہ تجاوزات دوبارہ قائم نہ ہوں۔ ذرائع کے مطابق دو گنے بھتے وصول کرکے ایمپریس مارکیٹ کے اندرونی حصے میں عارضی دکانیں کھلوا دی گئی ہیں۔ جبکہ صدر، لائنز ایریا، لائٹ ہائوس اور اولڈ سٹی ایریا کے دیگر علاقوں میں ٹھیلے اور پتھارے دوبارہ لگنا شروع ہوگئے ہیں، جس سے کشادہ سڑکیں اور گلیاں پھر تنگ ہوگئی ہیں اور ٹریفک جام ہونے لگا ہے۔ دوسری جانب میئر کراچی نے صدر، ایمپریس مارکیٹ اور اولڈ سٹی ایریا میں 7 ہزار سے زائد دکانیں مسمار کروا کے صرف ساڑھے تین ہزار ان دکانداروں کو متبادل جگہ دینے کا وعدہ کیا ہے، جو کے ایم سی کو کرایہ ادا کرتے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متبادل جگہ کے حصول کیلئے وہ لوگ بھی جوڑ توڑ میں مصروف ہیں، جن کا متاثرہ تاجروں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ متاثرہ تاجروں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میئر کراچی اور کے ایم سی عملے کے خلاف کارروائی کرے، جنہوں نے بلدیہ کو کرایہ ادا کرنے والے تاجروں کی دکانیں بھی توڑ ڈالی ہیں۔ تاجروں کے بقول ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کے ایم سی والوں کو بھتہ نہیں دیتے تھے۔ اب بھتہ دینے والے ٹھیلے اور پتھارے والوں سے دگنی وصولی کرکے انہیں سڑکوں کے کنارے اور فٹ پاتھوں پر کاروبار کرنے کی اجازت دیدی گئی ہے، جس سے دوبارہ ٹریفک جام ہونے لگا ہے۔تاجروں نے چیف جسٹس پاکستان سے اپیل کی ہے کہ تجاوزات کے نام پر کے ایم سی کی پیدا گیری مہم بند کرائی جائے، ورنہ ہزاروں تاجر سڑکوں پر آجائیں گے۔ کے ایم سی نے تجاوزات کے خلاف آپریشن کا آغاز ایمپریس مارکیٹ سے کیا تھا۔ اس دوران مارکیٹ کی قدیم عمارت سے متصل دکانوں کا صفایا کیا گیا اور صدر سے ٹھیلے پتھارے ہٹا دیئے گئے۔ سڑکیں کھلنے اور فٹ پاتھوں پر کاروباری سرگرمیاں ختم ہونے سے ٹریفک کی روانی بہتر ہوگئی تھی، جس پر شہریوں نے بھی سکھ کا سانس لیا تھا۔ لیکن کے ایم سی کے عملے اور پولیس نے دوبارہ تجاوزات قائم کرانی شروع کردی ہیں۔ ایمپریس مارکیٹ کے اندر عارضی دکانیں بنالی گئی ہیں اور بعض دکانیں جو گرائی نہیں گئی تھیں، وہ دوبارہ کھول لی گئی ہیں۔ سروے میں دیکھا گیا کہ کے ایم سی کے انسداد تجاوزات عملے کی ملی بھگت سے رینبو سینٹر کے سامنے ایمپریس مارکیٹ کی بائونڈری وال کے ساتھ لنڈا کے کپڑوں، پتنگوں، خشک میوہ جات اور دیگر اشیا کے اسٹالز لگائے گئے ہیں۔ جبکہ گوشت مارکیٹ کے اندر گرائی گئی بعض دکانوں کو ٹھیک کرکے ان پر گوشت فروخت کیا جا رہا ہے۔ ایمپریس مارکیٹ کے درمیانی احاطے میں بھی پتھارے لگ گئے ہیں، جن کی تعداد سو سے زائد ہے۔ جبکہ گھڑی والی بلڈنگ کے نیچے اور سابقہ سبزی مارکیٹ کے اندرونی حصے میں درجن سے زائد دکانیں دوبارہ کھول لی گئی ہیں، جن میں مصالحہ جات، کھانے پینے کی اشیا، ڈرائی فروٹ، مربہ جات، انڈوں اور دیگر اشیا کی دکانیں شامل ہیں۔ دکاندار محمد انور کا کہنا تھا کہ جب تک متبادل دکانیں نہیں ملتیں، اس طرح کام چلا رہے ہیں۔ ایک پتھارے والے رمضان کا کہنا تھا کہ کے ایم سی اور پولیس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوتا، دگنا بھتہ دے کر ادھر کام کر رہے ہیں۔ پتھارے والے شکیل نے بتایا کہ گھر میں فاقوں کی نوبت آگئی تھی، لہٰذا مک مکا کرکے دوبارہ کام شروع کیا ہے۔ مہربان اور جان محمد کے بقول کے ایم سی والوں نے کہا ہے کہ افسران دورہ کرنے آئیں تو پتھارے خالی کر دینا۔ منور نے بتایا کہ وہ یہاں اچار اور مربہ جات کا اسٹال لگاتا تھا۔ اب منہ مانگا بھتہ دیکر دوبارہ کام شروع کیا ہے۔ ہاشم، توفیق اور وحید نے بتایا کہ پولیس اور کے ایم سی والے یومیہ بنیاد پر ’’خرچہ‘‘ لے کر جاتے ہیں۔ پہلے تین سو روپے دیتے تھے، اب چھ سو روپے دینے پڑ رہے ہیں۔ سرور نے بھی سبزی کا پتھارا لگایا ہوا تھا، اس کا کہنا تھا کہ ایمپریس مارکیٹ کے مرکزی دروازے پر تالا لگا دیا گیا ہے لیکن اندر ملی بھگت سے کاروبار چل رہا ہے۔ صدر کے دیگر علاقوں میں بھی سڑکوں پر دوبارہ ٹھیلے، پتھارے لگنا شروع ہو گئے ہیں۔ ہفتے کے روز سے نیو پریڈی اسٹریٹ پر ٹریفک کا دبائو بڑھ گیا ہے کیونکہ ایم اے جناح روڈ پر گرین بس منصوبے کے تعمیراتی کام کی وجہ سے نمائش چورنگی سے کیپری سینما تک دوسرا ٹریک بھی بند کر دیا گیا ہے۔ اب نیو پریڈی اسٹریٹ اور صدر دواخانہ سے ریگل چوک تک ٹریفک کا رش بڑھ گیا ہے۔ دوسری جانب کے ایم سی، ڈی ایم سی، ٹریفک پولیس اور تھانوں کی پولیس نے بھتہ دگنا کرکے ٹھیلے پتھارے دوبارہ لگوانا شروع کردیئے ہیں۔ نیو پریڈی اسٹریٹ پر دھوبی گھاٹ کے قریب ہفتہ بازار گرائونڈ سے لے کر اسلامیہ ڈگری کالج، منی بس 16 نمبر کے آخری اسٹاپ تک، صدر دواخانہ سے شہاب الدین مارکیٹ تک، ٹیلی فون ایکسچینج والی گلی اور دیگر گلیوں میں نئے پرانے جوتے، لنڈے کے کپڑے، برتن، فروٹ اور دیگر اشیا کے ٹھیلے لگ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں نیو پریڈی اسٹریٹ پر شدید ٹریفک جام ہورہا ہے۔ اس طرح لائٹ ہائوس میں گرائی گئی دکانوں پر لنڈا کے کپڑوں کے اسٹالز لگ چکے ہیں۔ جامع کلاتھ سے ٹاور تک اولڈ سٹی ایریا میں دوبارہ پتھارے اور ٹھیلے لگنا شروع ہو گئے ہیں۔
واضح رہے کہ کے ایم سی نے ایمپریس مارکیٹ میں 2500 سے زائد دکانیں مسمار کیں، جامع کلاتھ پر 500 سے زائد، آرام باغ اور لائٹ ہائوس پر 800 سے زائد، میڈیسن مارکیٹ، بولٹن مارکیٹ، پلاسٹک گلی، کھوڑی گارڈن اور جوڑیا بازار میں 3 ہزار 46 دکانیں منہدم کی گئی ہیں۔ جبکہ میئر کراچی کا کہنا ہے کہ 3575 دکانداروں کو متبادل جگہ دیں گے۔ قرعہ اندازی کرکے سابقہ کے ایم سی مارکیٹ کے کرایہ ادا کرنے والے دکانداروں کو متبادل جگہ دیں گے۔ اس حوالے سے سمری سندھ حکومت کو بھجوا چکے ہیں۔ جبکہ تاجروں کا کہنا ہے کہ تمام متاثرین کو متبادل جگہ نہیں دی جائے گی۔ کیونکہ کے ایم سی کے بعض رشوت خور اہلکار میدان میں آچکے ہیں اور کہہ رہے کہ خرچہ کرو تو تمہارا نام فہرست میں ڈال دیں گے۔ کھوڑی گارڈن میں 4 ہزار دکانیں گرانے کے بعد صرف 130 دکانوں کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ متاثرہ دکانداروں کو 8 مختلف مقامات پر دکانیں دی جائینگے۔ ایمپریس مارکیٹ کے 744 دکانداروں کو کہا جا رہا ہے کہ انہیں پارکنگ پلازہ میں 240 دکانیں دیں گے۔ واضح رہے کہ صدر پارکنگ میں کل 160 دکانیں ہیں اور یہ کے ڈی اے کی ملکیت ہیں۔ متاثرہ دکانداروں کو لیاقت ا?باد سپر مارکیٹ، صدر کے ایم سی مارکیٹ، ایم ٹی خان روڈ، لائنز ایریا، رنچھوڑ لائن، کھڈا مارکیٹ، فریئر مارکیٹ اور شہاب الدین مارکیٹ میں دکانیں دینے کا کہا گیا ہے۔ تاجروں نے چیف جسٹس پاکستان سے اپیل کی ہے کہ خدارا کراچی کے تاجروں کو فاقوں سے بچائیں اور کے ایم سی کے کرپٹ افسران کے خلاف فوری کارروائی کریں۔

(741 بار دیکھا گیا)

تبصرے