Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 17 جون 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ڈاکو بچ گئے ....طالبعلم جان سے گیا

سید حسن رضاشاہ جعفری جمعه 07 دسمبر 2018
ڈاکو بچ گئے ....طالبعلم جان سے گیا

کراچی کے علاقے تھانہ شاہ فیصل کالونی کی حدود میں موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم مسلح ملزمان نے ڈکیتی مزاحمت پر گرین ٹائون کے رہائشی 22 سالہ زید رضا کو گولی مار کر قتل کردیااور جائے وقوعہ سے بآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے‘ مقتول 6 بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھا‘ مقتول علاقے میں موجود نجی کالج میں پڑھتا بھی تھا اور خود بھی طالبعلم تھا‘ تھانہ شاہ فیصل کالونی پولیس نے واقع کا مقدمہ مقتول زید رضا کے والد محمد عقیل رضا کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 375/18 بجرم دفعہ 392/302/34 درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی‘ واقعے کے مطابق 3 نومبر ہفتے کاد ن تھا‘ شام کے تقریباً 8 بج کر 20 منٹ ہوئے تھے کہ مقتول زید رضا اپنے 2 دوستوں دانش اور توصیف کے ہمراہ اپنے گھر واقع مکان نمبر MC-502 گلی نمبر2 گرین ٹائون میں داخل ہوا مقتول نے اپنے دونوں دوستوں کو گھر کے نیچے انتظار کرنے کا کہا اور خود گھر کا سودا سلف دینے گھر میں داخل ہوگیا‘مقتول زید رضا کے والد عقیل رضا جوکہ PIAمیں ملازمت کرتے ہیں‘ انہوںنے مذکورہ مکان کچھ سال قبل کرائے پر لیاتھا‘ جس میں مقتول اپنی فیملی کے ہمراہ رہائش پذیر تھا‘ مقتول زید رضا جیسے ہی دوستوں کو گھر کے باہر کھڑا کرکے گھر میں داخل ہواہے‘ ویسے ہی اچانک ایک موٹر سائیکل پر سوار 3 مسلح ملزمان گلی میں داخل ہوئے اور گلی میں کھڑے مقتول کے دوستوں سے آتشی اسلحے کے زور پر موبائل فون ‘نقدی کیش وغیرہ چھین لیا‘ ملزمان ابھی ڈکیتی کی یہ واردات مکمل نہیں کرپائے تھے کہ اچانک گھر کی چھت پر سے زید رضا نے یہ سارا منظر دیکھ لیا‘ مقتول نے فوری طورپر شور مچانا شروع کردیا اور بھاگتا ہوا چھت سے نیچے آگیا‘ ملزمان نے جب یہ صورتحال دیکھی تو فورا موٹر سائیکل پر سوار ہوکر فرار ہونے لگے ‘ اتنے میں مقتول اپنے دروازے سے باہر آچکاتھا‘ اس سے پہلے کہ ملزمان جائے وقوعہ سے فرار ہوتے تینوں دوستوں نے مل کر ملزمان کو دبوچنے کی کوشش کی ‘ جس پر ملزمان بوکھلا گئے اور انہوںنے اچانک آتشی اسلحے سے مقتول زید رضا اور اس کے دوستوں پر فائرنگ کردی اور وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے‘ فائرنگ کے نتیجے میں ایک گولی زید رضا کے بائیں جانب دل میں لگی ‘ جوکہ جسم کو پھاڑتی ہوئی دوسری جانب آر پار ہوگئی‘ فائرنگ کی آواز سن کر علاقے کے لوگ گھروں سے باہر نکل آئے اور مقتول کے گھر کے باہرلوگوں کا ہجوم لگ گیا‘ جبکہ مقتول زمین پر گرگیااور تڑپنے لگا ‘ مقتول کے بھائیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مقتول کو فوری طور پر رکشے میںڈال کر کچھ فاصلے پر گئے ‘ جہاں اسے ایمبولینس میں منتقل کرکے جناح اسپتال منتقل کردیا۔ مقتول زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گیا‘ مقتول کے والد عقیل رضا کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ مقتول کے والد عقیل اپنے کسی ذاتی کا م کے سلسلے میں گھر سے باہر تھا کہ میرے بیٹے تو صیف رضا نے مجھے بذریعہ فون اطلاع دی کہ زید رضا کو گولی لگی ہے آپ فوری جناح اسپتال آجائیں نعش جناح اسپتال کے مردہ خانے میںپڑی ہوئی ہے‘ جہاں میرے بیٹے توصیف رضا نے بتایا کہ میرابیٹا اپنے دوستوں کے ہمراہ گھر کے باہر کھڑا ہوا تھاکہ نامعلوم ملزمان نے آکر ان سے لوٹ مار کی فرار ہوتے وقت میرے بیٹے اور ان کے دوستوں نے انہیں پگڑنے کی کوشش کی تو ملزمان نے گولیاں برسا دیں‘ جس کے نتیجے میں ایک گولی میرے بیٹے زید رضا کے سینے میں بائی جانب سے لگ کر کمر سے خارج ہوئی ‘ جس سے میرا بیٹاشدید زخمی ہوگیا تھا جسے بذریعہ ایمبولینس جناح اسپتال لایا گیا ‘ جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا‘ بعد ازاں پولیس کارروائی مکمل ہونے کے بعد نعش ہمارے حوالے کردی‘جسے واقعے کے دوسرے روز عظیم پورہ قبرستان میں آہو ں اور سسکیوں میں سپرد خاک کردیاگیا‘مقتول زید رضا کے چھوٹے بھائی احمد رضا نے قومی اخبار کو آبدیدہ ہوتے ہوئے بتایا کہ میرا بھائی ہم سب سے بہت محبت کرتاتھا‘ آنے والی 11 تاریخ کو میرے بھائی کی برتھ ڈے تھی‘ جس کے لیے میں نے تحفے تحائف لے رکھے تھے‘ ہمیں کیا معلوم تھا کہ سفاک قاتل ہماری خوشیاں چھین لیں گے اور ہمارے ہنستے بستے گھر میں صف ماتم بچھ جائے گا‘میری بوڑھی ماں واقعے کے بعد سے غم کی تصویر بنی ہوئی ہے‘ یوں لگتا ہے کہ ہر آہٹ یہ کہتی ہے کہ جیسے ابھی بھائی گھر میں داخل ہورہا ہے‘ میرے بھائی کے درندہ صفت قاتلوں کو جلد گرفتار کرکے ہمیں انصاف دلایا جائے‘ تھانہ شاہ فیصل کے تفتیشی آفیسر سب انسپکٹر جاوید اقبال نے قومی اخبار کو بتایا کہ واقعہ ڈکیتی مزاحمت پر پیش آیا ‘ پولیس نے جائے وقوعہ سے ملنے والے خول کو فارنزک کے لیے بھجوادیا ہے‘ جبکہ مقتول کے دوستوں سے جو موبائل فون چھینے گئے تھے‘ ان کا CDR بھی نکلوایاہے‘ پولیس تمام پہلوئوں سے تفتیش کررہی ہے‘ امید ہے کہ ملزمان کو جلد گرفتار کرلیاجائے گا‘ شاہ فیصل کالونی پولیس نے واقعہ کے بعد ملزمان کے گرد گھیرا تنگ کیا‘ 23روز بعد پولیس نے 2 ملزمان منیب اقبال اورجمال شاہ کو گرفتار کرلیا‘ ملزما ن نے لوٹ مار کی واردات کے دوران نوجوان زید اقبال کے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ ملزمان کا 3 رکنی ڈکیت گروپ ہے ‘ شاہ فیصل ‘ گرین ٹائون ‘ الفلاح ‘ ملیر ‘ ماڈل کالونی میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں کرتے ہیں‘ ملزمان کو پولیس نے تکنیکی مہارت سے گرفتار کیاہے‘ پولیس ملزمان کے تیسرے ساتھی کی تلاش میں چھاپے مار رہی ہے۔

(320 بار دیکھا گیا)

تبصرے