Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 20 مارچ 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

دوست ذبح

عارف اقبال جمعه 07 دسمبر 2018
دوست ذبح

13 اکتوبر 2018ء کی رات 11 بجے کورنگی پولیس کو اطلاع ملی کہ کورنگی نمبر 4 سیکٹر 35/13 میمن انسٹی ٹیوٹ اور عیدگاہ کے درمیان والی گلی میں ایک نوجوان کی گلا کٹی نعش پڑی ہے۔اطلاع ملنے پر کورنگی تھانے کی پولیس حرکت میں آئی اور برق رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جائے وقوعہ پر پہنچی جہاں پینٹ شرٹ میں ملبوس ایک نوجوان کی نعش منہ کے بل زمین پر پڑی تھی‘ پولیس نے موقع پر پہنچ کر سب سے پہلے جائے وقوعہ پر پڑی نوجوان کی نعش کو دیکھاجس کا گلا کسی تیز دھار آلے سے کاٹا گیا تھا اور آلہ قتل اتنا تیز تھا کہ دائیں کان سے لے کر بائیں کان تک مقتول کا گلا کٹا ہوا تھا تاہم پولیس نے نوجوان کی نعش کو تحویل میں لیا اور قانونی کارروائی کے لئے مقتول نوجوان کی نعش جناح اسپتال منتقل کی اور جائے وقوعہ سے شہادتیں اکٹھی کرنا شروع کیں۔ موقع معائنہ کے دوران پولیس کو نوجوان کی نعش سے کچھ دور زمین پر ایک موٹر سائیکل بھی گری ہوئی نظر آئی‘ موٹر سائیکل اور نعش کے فاصلے پر پولیس کو خون کے قطرے بھی نظر آئے جس سے پولیس نے اندازہ لگایا کہ نوجوان کا قتل موٹر سائیکل والی جگہ پر ہوا اور ملزم یا ملزمان مقتول کے گلے میں تیز دھار آلہ پھیرنے کے بعد فرار ہورہے ہوں اور اس وقت زخمی نوجوان انہیں پکڑنے یا اپنی مدد کو بلانے کے لئے کچھ دور چلا ہو لیکن انسٹی ٹیوٹ اور عیدگاہ کے درمیان والی گلی میں لوگوں کی کم رہائش ہونے کی وجہ سے سنسان گلی میں اس کی مدد کے لئے کوئی نہیں آسکا اور خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے زخمی نوجوان کچھ فاصلے پر جاکر منہ کے قبل زمین پر گرا اور دم توڑ گیا۔ جائے وقوعہ کی تفتیش کے دوران پولیس کو نعش کے کچھ فاصلے پر زمین پر پڑی ایک موٹر سائیکل اور اس کے قریب ایک موبائل فون ملا جس سے پولیس کواندازہ ہوا کہ یہ اسٹریٹ کرائمز یا ڈکیتی کا واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ واقعہ کسی ذاتی یا خاندانی دشمنی کا نتیجہ تھا جس کی وجہ سے ملزم یا ملزمان نے مذکورہ مقام پر مقتول نوجوان کو قتل کیا اور موقع سے بآسانی فرار ہوگئے۔
پولیس نے دوران تفتیش اس بات کا بھی اندازہ لگایا کہ ملزم اور مقتول ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے تھے۔ کیونکہ جائے وقوعہ پر مزاحمت کا کوئی سراغ نہیں ملا جبکہ مقتول کا موبائل فون‘ پرس اور دیگر سامان دوران تفتیش مقتول کے پاس سے ہی ملا اور آلہ قتل تیز دھار چھری بھی نوجوان کی نعش کے کچھ فاصلے سے ہی ملی۔ پولیس جائے وقوعہ پر ابتدائی تفتیش مکمل کرنے کے بعد دیگر کارروائی مکمل کرنے کے لئے جناح اسپتال پہنچی۔پولیس کے مطابق ڈاکٹروں نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا کہ مقتول کا گلا کسی تیز دھار آلے سے کاٹا گیاجبکہ جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں تھا‘ اس دوران پولیس نے مقتول کی جامہ تلاشی لی اور تلاشی کے دوران مقتول کے پینٹ کی جیب سے پرس ملا جس میں موجود دستاویزات سے مقتول کی شناخت ہوئی۔ ایس ایچ او کورنگی کے مطابق مقتول کی شناخت 24 سالہ محمد بلاول ولد محمد اکرم کے نام سے ہوئی‘ مقتول کورنگی سیکٹر 36/C کا رہائشی تھا جبکہ مقتول کے گھر والوں کو فون کے ذریعے واقعے کی اطلاع دی جاچکی ہے‘ اس دوران جناح اسپتال کے ایمرجنسی میں کچھ لوگ آئے اور ایک ایسے نوجوان کے بارے میں وہاں موجود اسٹاف سے پوچھنے لگے جس کا کچھ دیر قبل ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور انہیں اس بات کی اطلاع کورنگی تھانے کے کسی اہلکار نے دی تھی جس پر اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کے اسٹاف نے انہیں اسپتال کے مردہ خانے کی جانب جانے کا اشارہ کیا‘ پہلے تو اسپتال میں آئے لوگ اسٹاف کا اشارہ نہیں سمجھ سکے جس کا اندازہ ایمرجنسی کے اسٹاف کو ہوگیا اور پھر معاملے کو سمجھتے ہوئے اسٹاف نے ان لوگوں سے کہا کہ آپ لوگ اسپتال کے مردہ خانے کی طرف چلے جائیں جس پولیس اہلکار نے آپ کو اسپتال آنے کا کہا ہے وہ وہیں موجود ہے جس پر کورنگی سیکٹر 36/C سے آئے لوگ مردہ خانے کی طرف چل پڑے‘ وہاں پہنچ کر ان لوگوں کی ملاقات مردہ خانے میں موجود کورنگی تھانے کے اہلکار سے ہوئی۔پوچھنے پر اسپتال میں آئے لوگوں نے بتایا کہ ہمیں کورنگی تھانے سے فون آیا تھا کہ ہم لوگ جلد از جلد جناح اسپتال پہنچیں‘ جہاں بلاول نامی نوجوان ایکسیڈنٹ ہونے کی وجہ سے شدید زخمی حالت میں اسپتال میں پڑا ہے جس پر مردہ خانے میں موجود اہلکار نے ان لوگوں کو ایک جانب اشارہ کیا جہاں ایک نوجوان کی چادر میں لپٹی نعش موجود تھی‘ ابتدائی طور پر کورنگی سے آئے لوگ اس پولیس اہلکار کا اشارہ نہیں سمجھ سکے لیکن پھر کچھ سمجھتے ہوئے وہ لوگ مردہ خانے میں رکھی نعش کی جانب گئے اور نعش پر پڑی چادر کو ہٹایا تو ان لوگوں کی چیخیں نکل گئیں اور کچھ سکتے جیسی کیفیت میں آگئے لیکن پھر ان لوگوں نے اپنے آپ کو سنبھالا‘ اس دوران ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار نے مقتول بلاول کے لواحقین کو پورا واقعہ بتایا اور ضابطے کی کارروائی مکمل کرکے نعش کو حوالے کردیا جس کے بعد لواحقین مقتول بلاول کی نعش لے گئے اور دوسرے دن بعداز تدفین مقتول کے لواحقین واقعہ کا مقدمہ درج کروانے کورنگی تھانے پہنچے جہاں مقتول کے ماموں محمد شاکر نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے بتایا کہ مورخہ 13 اکتوبر کو بوقت رات ساڑھے 11 بجے میرے بھانجے 24سالہ بلاول محمد اکرم کو بمقام گلی نمبر 5 بالمقابل کورنگی سیکٹر 4 سیکٹر 35/B میں موٹر سائیکل پر جاتے ہوئے نامعلوم ملزمان نے گردن پر چھری پھیر کر قتل کیا جس کی نعش برائے کارروائی جناح اسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے بلاول کے قتل کی تصدیق اور تدفین کے بعد عزیز و اقارب کے مشورے سے رپورٹ کرنے آیا ہوں۔ میرا دعویٰ ہے کہ نامعلوم ملزمان رنجش دشمنی کی بناء پر میرے بھانجے بلاول ولد اکرم کو گردن پر چھری پھیر کر قتل کرنے کا ہے اور میں کارروائی چاہتا ہوں۔
پولیس نے مقتول کے ماموں شاکر کے بیان کے بعد واقعہ کا مقدمہ الزام نمبر431/2018 درج کرکے تفتیش کا باقاعدہ آغاز کردیا۔ اس سے قبل اور واقعہ کے فوری بعد پولیس نے شک کی بناء پر مقتول کے انتہائی قریبی دوست کاشان عرف شانی اور مقتول کے دور کے رشتہ دار عادل کو حراست میں لیا تھا‘ پولیس کا خیال تھا کہ زیر حراست افراد مقتول کے قریبی دوست ہیں اور واقعہ کی تفتیش ان سے ہی شروع کی جائے لیکن پھر مقتول بلاول کے گھر والوں کی مداخلت پر پولیس نے مجبوراً ان دونوں زیر حراست افراد کو رہا کردیا۔ اب پولیس پھر اندھیرے میں آگئی تھی کیونکہ جس جگہ واردات ہوئی وہ جگہ بالکل سنسان تھی اور یہاں سے کوئی عینی شاہد یا شاہدین کا ملنا بہت ہی مشکل تھا۔ پولیس اس وقت واقعہ سے متعلق بالکل اندھیرے میں تھی اور انہیں ایسا کوئی سرا نہیں مل رہا تھا کہ وہ اس قتل کی تفتیش کا آغاز کریں تو کہاں سے کریں لیکن پولیس کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی تھی کہ یہ واقعہ ڈکیتی کے دوران مزاحمت کا نہیں کیونکہ تفتیش کے دوران مقتول کے پاس سے پرس اور دیگر چیزوں کے علاوہ قریب ہی اس کی موٹر سائیکل اور موبائل فون بھی ملا تھا جبکہ جائے وقوعہ سے کچھ دور آلہ قتل بھی برآمد ہوا تھا۔ پولیس کا خیال تھا کہ ڈکیتی مزاحمت پر اگر بلاول کو قتل کیا جاتا تو مقتول کے پاس پرس اور جائے وقوعہ سے موبائل فون یا موٹر سائیکل نہیں ملتی اور دوسرے زاوئیے سے دیکھا جائے تو یہ قتل مقتول کے کسی انتہائی قریبی شخص نے مقتول کو قتل کیا جس کی وجہ سے کوئی ذاتی عناد یا رنجش ہوگی اور پھر کورنگی تھانے کے انویسٹی گیشن یونٹ نے تفتیش کا آغاز اس زاوئیے سے کرنا شروع کیا اور اس دوران پولیس نے مقتول کے قریبی عزیز اور دوستوں پر نظر رکھنا شروع کی‘ دن گزرتے رہے اور مقتول بلاول کے قتل کا معاملہ چلتا رہا‘ دیکھنے والوں کو شاید یہ لگ رہا تھا کہ پولیس کی بلاول قتل کیس سے دلچسپی کم ہوگئی یا پولیس نے اس کیس کو داخل دفتر کردیا ہو لیکن پھر اس واقعہ کے تقریباً ایک مہینے کے بعد پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے مقتول بلاول کے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرلیا اور جب مقتول بلاول کے ورثاء کو اس گرفتاری کے بارے میں پتہ چلا تو ان لوگوں کی حیرت کی انتہا نہیں رہی کیونکہ پولیس نے مقتول بلاول کے قتل میں ملوث جس ملزمان کو انتہائی عرق ایز تفتیش کے بعد گرفتار کیا وہ کوئی اور نہیں بلکہ مقتول کا دوست کاشان عرف شانی اور مقتول کا رشتہ دار عادل تھا‘ پہلے تو مقتول کے لواحقین نے اس گرفتاری پر پولیس کو اس مقدمے میں جان چھڑانے کا ایک حربہ قرار دیا لیکن جب پولیس نے مقتول کے لواحقین کو ملزمان کا اعترافی بیان اور شواہد دکھائے تو مقتول بلاول کے لواحقین کویقین تو آیا لیکن حیرت بھی ہوئی کہ قتل میں ملوث وہ لوگ ہیں جس کو مقتول اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتا تھا۔ اس موقع پر اس مقدمے کے تفتیشی افسر ارشاد خان کے معاون اے ایس آئی کاظمی نے نمائندہ قومی اخبار کو بتایا کہ واقعہ کے فوری بعد پولیس نے مقتول کے دوست کاشان اور عادل کو حراست میں لے لیا تھا اور اگر اس وقت مقتول بلاول کے لواحقین درمیان میں نہیں آتے تو ملزمان اسی وقت گرفتار کرلئے جاتے کیونکہ واقعہ کے بعد پولیس کو کرائم سین دیکھ کر اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ کوئی ڈکیتی یا اسٹریٹ کرائمز کا معاملہ نہیں ہے کیونکہ واقعہ کے بعد مقتول کی تمام چیزیں جائے وقوعہ سے ہی ملیں جبکہ تفتیش کے دوران کچھ اور چیزیں بھی پولیس کی نظر میں آئیں جس سے پولیس کا شک یقین میں بدل گیا کہ مقتول کے قتل میں ایسا شخص ملوث ہے جسے مقتول بہت اچھی طرح جانتا تھا جس کے بعد تفتیشی ٹیم نے ابتدائی تفتیش کے بعد ہی مقتول کے دوستوں کاشان اور عادل کو حراست میں لے لیا لیکن پھرتدفین والے روز مقتول کے ورثاء تھانے آئے‘ شک کے دائرے میں آئے افراد کو لے گئے۔ ملزمان کے جانے کے بعد پولیس ایک بار پھر اندھیرے میں چلی گئی کیونکہ جس علاقے میں مقتول کا قتل ہوا وہ علاقہ بالکل سنسان ہے جہاں گواہ یا عینی شاہد کا ملنا مشکل تھا‘ یہ ایک بلائنڈ مرڈر تھا جس کی تفتیش انتہائی مشکل تھی لیکن پولیس نے اپنا کام نہیں چھوڑا‘ ایک وقت تو دیکھنے والوں کو لگا کہ شاید پولیس نے اس مقدمے کو سرد خانے میں ڈال دیا لیکن اندرون خانہ تفتیشی ٹیم اپنا کام کرتی رہی اور ایک ماہ کی جدوجہد کے بعد پولیس نے مقتول بلاول کے قتل میں ملوث ملزمان کو جائے وقوعہ سے دور ایک گھر میں لگے سی سی کیمرے کی دھندلی فوٹیج کی مدد سے گرفتار کرلیا اور تفتیش کے دوران ملزمان نے بلاول کے قتل کا اعتراف کرلیا۔ انویسٹی گیشن افسر کے مطابق مقتول اور ملزم بچپن کے دوست اور ایک ہی محلے کے رہائشی تھے‘ دونوں میں گہری دوستی تھی اور دونوں ایک ساتھ گھومتے‘ شاپنگ کرنے کے علاوہ کپڑے بھی ایک جیسے ہی پہنتے تھے۔
13 اکتوبر کو بلاول گھر سے موٹر سائیکل لے کر نکلا اور کچھ ہی دیر بعد اس کی گلا کٹی نعش ملی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ بلاول کا دوست کاشان عرف شانی جنازے میں بھی شریک ہوا تھا اور اپنے دوست کے قتل میں دکھی دکھائی دیا لیکن پولیس نے موبائل ڈیٹا اور سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی تو کاشان ہی قتل میں ملوث نکلا جس نے دوران تفتیش بھی قتل کا اعتراف کرلیا۔ ملزم کاشان نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ میرے والد کی پان کی دکان تھی اور ہم گھر میں کھانے والے زیادہ تھے جس کی وجہ سے میں نے مڈل تک تعلیم حاصل کی جس کے بعد پڑھائی چھوڑ کر محنت مزدوری کرتا رہا‘ اس دوران میری دوستی بلاول کے ساتھ بہت گہری تھی اور ہم لوگ بھائیوں کی طرح رہتے تھے‘ وہ کبھی موٹر سائیکل یا موبائل خریدتا تو ان چیزوں کی قیمت قسطوں کی صورت میں ادا کرتا تھا‘ جس کی وجہ سے میں مقروض ہوگیا تھا اور اپنے گھر پر کم سے کم خرچہ دیا کرتا تھا جس کی وجہ سے میں مالی پریشانی کا شکار ہوگیا اور اس مالی پریشانی کی وجہ سے میری بیوی سونیا اور میرے درمیان لڑائی جھگڑا ہوتا تھا‘ جس کی وجہ سے میری بیوی ناراض ہوکر اپنے میکے چلی جایا کرتی تھی‘ بلاول اکثر میرے گھر آیا کرتا تھا اور میری بیوی سے ہنسی مذاق کیا کرتا تھا‘ میں نے محسوس کیا کہ بلاول کی نظر میری بیوی پر ٹھیک نہیں تھی۔ ایک دن بلاول نے مجھ سے کہا کہ میرا گھر خالی ہے‘ بھابھی کو سونے کے لئے میرے گھر بھیج دو‘ بلاول کی نیت پر مجھے پہلے ہی شک تھا اور بلاول کی اس بات پر میں اور اس سے بدظن ہوگیا۔ میں ذہنی طور پر بہت پریشان تھا‘ میں نے ایک دن بلاول کو کہا کہ تیری روز روز کی فضول خرچی سے میں تنگ آگیا ہوں جس پر بلاول کو غصہ آگیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ میں تمہیں قتل کردوں گا‘ جس پر میں نے فیصلہ کیا کہ یا تو میں خودکشی کرلوں گا یا بلاول کو مار دوں گا‘ پھر اس بات کا تذکرہ میں نے ہم دونوں کے مشترکہ دوست عادل سے بات کی اور پھر ہم نے بلاول کو مارنے کا منصوبہ بنایا جس پر عادل میرے ساتھ بلاول کو قتل کرانے کے لئے راضی ہوگیا۔ ہم لوگوں نے قتل سے دو‘ تین دن پہلے بلاول کو قتل کرنے کا پروگرام بنایا اور مورخہ 13 اکتوبر 2018ء کو تقریباً 11 بجے رات میں اپنی گلی میں بیٹھا تھا کہ اتنے میں بلاول آگیا‘ اس وقت میرے ساتھ عادل بھی بیٹھا تھا‘ میں نے بلاول کو کہا کہ موٹر سائیکل پر کہیں گھوم پھر کر آتے ہیں‘ بلاول کی موٹر سائیکل جو کہ میں نے بلاول کو چلانے کے لئے دے رکھی تھی جس میں عادل موٹر سائیکل چلا رہا تھا جبکہ بلاول درمیان میں اورمیں سب سے پیچھے بیٹھا تھا‘ ہم لوگ موٹر سائیکل پر سوار ہوکر علاقے سے نکلے ‘ عادل موٹر سائیکل چلا رہاتھااور میں اس کو آنے کی ہدایت دے رہا تھا‘ میں نے بلاول کے قتل کی سے نیت پہلے چھری اپنے پاس رکھی ہوئی تھی‘ وہ چھری میں نے دوتین دن پہلے ہی خریدی تھی اور جگہ کا تعین بھی ہم پہلے ہی کرچکے تھے جوکہ مجھے اور عادل کو معلوم تھی‘ ہم لوگ اپنے علاقے سے نکل کر میمن انسٹی ٹیوٹ والے روڈ سے گزرتے ہوئے جائے وقوعہ سیکٹر 35/B عید گاہ پہنچے تو میں نے پینٹ کے بیلٹ سے لگائی تیز دھار چھری نکال کر بلاول کے گلے پر رکھی تو بلاول نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی تومیں نے نہایت سرعت کے ساتھ اس کے گلے پر بائیں کان سے دائیں کان تک چھری پھیر دی‘ جس کی وجہ سے بلاول شدید زخمی ہوگیااور اس دوران ہم تینو ں موٹر سائیکل سے گر گئے میںاور عادل وہاں سے بھاگے اور کورنگی نمبر 5 تک پید ل آئے ‘ پھر عادل اپنے گھر اور میں اپنے گھر چلا گیا میں نے گھر پر بلاول کے خون لگے کپڑے بدلے وار سفید شاپر میں ڈال کر کورنگی نمبر 4 کے نالے میں پھینک دیئے ۔ میں واپس گھر آیا اسی اثناء میں بلاول کا بہنوئی شہباز شیخ میرے گھرپر آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ تھانہ کورنگی سے فون آیا کہ بلاول کا ایکسیڈنٹ ہوگیاہے ‘جس پر میں اور شہباز تھانہ پہنچے اور تھانہ کورنگی کی پولیس کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچے توہماری موجودگی میں پولیس نے آلہ قتل چھری اور فون قبضے میں لی مزید تصویر اوررپورٹ بنائی ‘ جس پر میں اور شہباز نے دستخط کئے ‘ آج تفتیشی افسر محمد ارشاد خان نے مجھے اور میرے شریک عادل کو پکڑا ‘ جس پر میںاور عادل نے اپنے جرائم کا اعتراف کیا۔تفتیشی افسرنے جائے وقوعہ کی درست نشاندہی مکمل کرائی‘ اس قتل کا اعتراف کرتا ہوں‘ یہ قتل ذاتی دشمنی ‘ فلش اور عناد پر کیا‘جبکہ قتل میں ملوث دوسرے ملزم عادل ولد اسلام الدین نے دوران تفتیش اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ میں کورنگی میں رہائش پذیر اور کراچی میں پیدا ہوا ‘ میرے والد جنریٹر کاکام کرتے ہیں ‘ میں نے میٹرک کا امتحان دیا‘ اس کے بعد3سال سے کارپینٹر کا کام شروع کردیا‘ بلاول میرے رشتے کے چچا کا بیٹا تھااور ہم آمنے سامنے گلی میں رہتے ہیں‘ کاشان اور بلاول کی دوستی بھائیوں کی طرح تھی اور کاشان کا بلاول کے گھر میں آنا جانا تھا‘ جبکہ کاشان شادی شدہ ہے اور اس کی بیوی 6 ماہ قبل اس کو چھوڑ کر اپنے میکے چلی گئی تھی اور کاشان اپنے والدین کے ساتھ رہتا ہے‘ ایک ہی علاقے میں رہنے کی وجہ سے کاشان اور بلاول کے ساتھ میری دوستی بھی ہوگئی ۔ملزم عادل نے اعترافی بیان میں کہا کہ واقعہ والے روز میں کاشان اور بلاول کے ساتھ موٹر سائیکل چلا رہاتھا‘ جبکہ مقتول کی والدہ شہناز نے نمائندہ قومی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بلاول کے والد کا کچھ سال قبل انتقال ہوگیا تھا‘ جس کے بعد میں نے اسے پال پوس کر بڑا کیاا ور اب ڈھائی ماہ قبل بلاول کا نکاح کروایا ‘ جس کے بعد گھر میں کچھ تعمیراتی کام جاری ہے اور اس وجہ سے مقتول کی رخصتی نکاح کے 4 مہینے بعد رکھی تھی‘ لیکن ظالموں نے موقع ہی نہیں دیا کہ میں اپنے بیٹے کے سرپر سہرا سجاسکوں او ر قتل بھی اس نے کیا‘ جس کو میں اپنے بلاول جیسا سمجھتی تھی‘ مقتول کی والدہ نے نمائندہ قومی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے مزید بتایا کہ مقتول بلاول کے والد جن کا بہت سال قبل انتقال ہوگیاتھا‘ ان کا دودھ کا کاروبار تھا ا ور اس دوران مقتول کے والدین نے بچوں کے لیے اتنا کچھ بنا لیا تھا کہ انہیں کسی چیز کی ضرورت نہیں تھی۔
ملزم نے پولیس کو یہ بیان دیا کہ بلاول موبائل یا موٹر سائیکل خریدتا تو اس کے پیسے ملزم کو بھرنے پڑتے تھے‘ یہ بالکل غلط ہے بلکہ حقیقت یہ تھی کہ بلاول ملزم کا خرچہ اٹھایا کرتاتھا اور مقتول جو کچھ اپنے لئے خریدتا تھا‘ وہ ویسی ہی چیز کاشان کے لیے خریدتا تھااور ملزم نے مقتول اوراپنی بیوی کے تعلقات کے متعلق بیان دیا جو انتہائی جھوٹ اور شرمناک ہے۔ ملزم کے اس بیان پر اس کی بیوی سونیا نے بھی احتجاج کیا اور سونیا نے میرے سامنے اپنے بیان میں کہا تھا کہ مقتول بلاول اس کے بھائیوں جیسا تھااور اس نے کچھ مجھ سے کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے مجھے کوئی شکایت ہو ۔ملزم نے بلاول کا قتل کیوں کیااور وہ اس کو چھپانے کے لیے پولیس کو غلط بیان کیوں دے رہا ہے میں اصل وجہ بتاتی ہوں کہ مقتول کی والدہ نے نمائندہ قومی اخبار کو بتایا کہ ملزم کا شان میرے بیٹوں کی طرح تھا‘ کاشان کی ڈیڑھ سال قبل شادی ہوئی تھی اورشادی کے لیے اس نے میرے بیٹے بلاول سے ادھار رقم مانگی ‘ جس پر میں نے بھی اپنے پاس سے پیسے دیئے۔ اس طرح بلاول نے کاشان کو ڈھائی لاکھ روپے دیئے اور شادی میں پیش پیش رہا‘ میرے بیٹے بلاول کی 2 ماہ بعد شادی تھی اور اس وجہ سے بلاول نے کاشان سے رقم مانگی تو دونوں میں معمولی تلخ کلامی بھی ہوئی ‘ کاشان نے رقم دینے سے انکار کیا اور مسلسل ٹال مٹول سے کام لیتا رہا‘ 13 اکتوبر کو بلاول کسی کا فون آنے پر پیسے لانے کا کہہ کر گھر سے نکلو۔ جس کے بعد اس کی گلا کٹی نعش ملی ‘ مقتول کی والدہ نے مزید کہا کہ واقعہ کے فوری بعد پولیس نے ملز م کاشان اور عادل کو تفتیش کے لیے حراست میں لے رکھاتھا۔ جبکہ اس دن جوان بیٹے کی موت کی خبر سن کر میں ہوش وحواس کھو بیٹھی تھی اور مجھے نہیں معلوم کہ میرا وہ دن کیسے گزرا ‘ لیکن دوسرے دن جب مقتول کی تدفین کا وقت آیا تو میں نے کاشان کے بارے میں پوچھا تو میرے داماد نے بتایا کہ پولیس نے کاشان کو بلاول کے قتل کے شبے میں حراست میں لے رکھا ہے‘ یہ سن کر میں خود اپنے بھائیوں کے ساتھ کورنگی تھانے گئی اور کاشان کو پولیس کی حراست سے چھڑا کر لے آئی ‘ تاکہ کاشان اپنے دوست کی تدفین میں شریک ہوسکے ‘لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ جس کو میں اپنے بچوں کی طرح سمجھتی تھی‘ وہی میرے بچے کا قاتل ہوگا‘ مقتول کی والدہ نے مزید کہا کہ ایک ماہ کی انتھک محنت کے بعد جب پولیس نے ہمیں اطلاع دی کہ آپ کے بیٹے کا قاتل گرفتار ہوچکا ہے تو ہم نے پولیس سے اس کا نام پوچھا ‘ جس پر پولیس نے میرے بیٹے بلاول کے قتل میں ملوث ملزمان کا نام کاشان اور عادل بتایا پولیس کی زبان پر نام سن کر پہلے تو میں ایک لمحے کے لیے ذہنی طورپر مائوف ہوگئی ‘ لیکن پھر اپنے آپ پر قابوپاتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ لوگ کیوں میرے بیٹے کے دوستوں کے پیچھے پڑ گئے ہیں‘ جس پر پولیس نے ہمیں کہا کہ ملزمان نے دوران تفتیش قتل کا بھی اعتراف کرلیا۔ جس کے بعد ہم لوگ کورنگی تھانے گئے اور جہاں ملزمان نے بلاول کے قتل کا اعتراف کیا۔ مقتول بلاول کی والدہ شہناز اور دیگر لواحقین نے اعلیٰ عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح میرے بیٹے بلاول کو قتل کیا گیا اس طرح ملزمان کو بھی عبرتناک سزاد ی جائے۔

(206 بار دیکھا گیا)

تبصرے