Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 11 دسمبر 2018
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ہزاروں بھارتی کسان سڑکوں پر نکل آئے

ویب ڈیسک جمعرات 06 دسمبر 2018
ہزاروں بھارتی کسان سڑکوں پر نکل آئے

تقریباً 80کروڑ سے زائد دیہی آبادی کے ساتھ بھارت کے دیہات روئے زمین پر مسائل سے بھرے علاقے ہیں۔ میڈیا کوریج اور سرمایہ کاری کے ضمن میں یہ دنیا کے نظرانداز ترین علاقے بھی ہیں۔ سینئر صحافی اور پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا کے بانی جناب پی سائی ناتھ کا کہنا ہے کہ ملکی میڈیا کے نزدیک ہندوستانیوں کی اکثریت کا کوئی وجود ہی نہیں یعنی 75فیصد ہندوستانی آبادی تو ان کے نزدیک وجود ہی نہیں رکھتی۔ دہلی کے سینٹر آف میڈیا اسٹڈیز کے مطابق ، بھارت کے قومی اخبارات میں زراعت پر پانچ سالہ اوسط رپورٹنگ تمام تر خبروں کا محض 0.61 فیصد ہے۔میڈیا کا بیشتر حصہ چاہے پرنٹ میڈیا ہو یا ٹی وی، مشہور شخصیات ، آئی ٹی، سٹاک ایکسچینج کی صورتِ حال اور اشرافیہ اور شہری مڈل کلاس کے روزمرہ کے مسائل ہی میڈیا کے نزدیک زیادہ اہم ہیں۔کارپوریٹ میڈیا کے برعکس، پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا کے ڈیجیٹل صحافتی پلیٹ فارم نے دیہی بھارت کی خوب صورتی اور پیچیدگی ہی کو نہیں بلکہ اس کی مشکلات اور عام زندگیوں کی تکالیف ومسائل کو بھی موضوع بنایا ہے جو حکومتی پالیسیوں کے اثرات کو بیان کرتی ہیں جنہوں نے زندگیوں، روزی اور آبادیوں کو تباہ کردیا ہے۔دیہی ہندوستان میں کسانوں کی خودکشیوں، بچوں میں غذائی کی کمی، بڑھتی بے روزگاری، بڑھتی بے ضابطگی، قرض داری، اور زراعت کی مجموعی تباہی کی وبا پھیلی ہوئی ہے۔ زراعت اور اس سے متعلقہ سرگرمیوں کے لوگ شہروں کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہو کر سائیکل رکشہ ڈرائیور ، گھریلو ملازم اور دیہاڑی دار مزدور بننے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
بھارت کے ہزاروں کسانوں نے 1997ء میں خودکشیاں کیں اور بہت سے دوسرے معاشی مایوسی کا شکار ہیں یا قرضوں کے باعث زراعت چھوڑتے جا رہے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق 2004ء سے 2011ء کے دوران بھارت میں کاشت کاروں کی تعداد 16.6کروڑ سے کم ہو کر 14.6کروڑ ہو گئی ہے۔ یعنی روزانہ 6,700کے لگ بھگ کسان کاشت کاری ترک کررہے ہیں۔ اس شرح کے حساب سے 2022ء تک کسانوں کی مجموعی تعداد 12.7 کروڑ رہ جائے گی۔کئی دہائیوں سے زراعت پر اثرانداز ہوتے اصل مسائل میں شامل ہیں، ڈی ریگولیٹ مارکیٹوں اور منافع خور کارپوریشنوں کا اثر، قرضوں میں اضافہ اور کریڈٹ کی سہولیات میں کمی، حکومت کی جانب سے کسی مدد سے دستبرداری، بڑھتی ہوئی لاگتیں اور سبسڈی شدہ سستی درآمدات جو کسانوں کی آمدنی پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ بھارت کے زراعتی بحران کی بنیادی وجہ پر پالیسی تجزیہ کار دیوندر شرما نے یوں روشنی ڈالی: ’’بھارت زراعت کو کارپوریٹ کنٹرول میں لانے کے راستے پر گامزن ہے۔ زمین خریدنے ، پانی کے ذخائر، بیج، کھاد، کیڑے مار ادویات اور غذا کی پروسیسنگ ،کے موجودہ قوانین میں ترامیم کے ساتھ حکومت معاہدے پر کاشت کاری اور منظم ریٹیل کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔
بھارتی حکومت کے زرعی شعبے کے لئے مختص سرکاری اخراجات کسانوں کے لئے ابھی بھی ناکافی ہیں۔ قرضوں کے جال میں جکڑے کسانوں کو حکومتی سرپرستی کی ضرورت ہے۔ ہزاروں کسان مالی مشکلات کا شکار ہو کر خود کشیاں کر چکے ہیں۔ زرعی شعبے میں بھارتی حکومت نے آب پاشی کے لیے خصوصی اور اضافی رقم مختص کرنے کے ساتھ ساتھ فصلوں کی انشورنس کی پالیسی کو بھی متعارف کروا دی ہے لیکن یہ سب کچھ شدید مسائل کے شکار کسانوں کیلئے کافی نہیں ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کسانوں کو درپیش بے بہا مسائل کا نوٹس لیتے ہوئے اِس مشکل اور پیچیدہ صورت حال کو نئی جہت دیتے ہوئے کسانوں کے لیے راحت کا سامان مہیا کرے۔ بینک قرضوں کے جال میں جکڑے ہزاروں کسان خراب موسم کا سامنا کرتے کرتے اور اچھی پیداوار کے انتظار میں خودکشی کے سہارے موت کے اندھیرے میں جا چکے ہیں۔قحط سالی بھارت کے کئی علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کے منفی اثرات نے چاول اور کپاس سمیت کئی دوسری فصلوں کو شدید متاثر کر رکھا ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر خوراک کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کا رجحان بھی کسانوں کی مشکلات کو دوگنا کر چکی ہیں۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ بھارت کی نصف سے زائد کسان برادری نے زرعی قرضوں کی زنجیر پہن رکھی ہے۔ کسانوں نے یہ قرضے بینکوں اور ساہوکاروں سے لے رکھے ہیں۔ کئی مواقع پر حکومت نے کسانوں کے قرضوں کو ختم کرنے میں مالی معاونت ضرور کی لیکن یہ سب ناکافی ہے۔ بھارت میں ہزاروں کسان مالی مشکلات کا شکار ہو کر خود کشیاں کر چکے ہیں۔ مغربی ریاست مہاراشٹر میں کسانوں کی خود کشیوں کے واقعات رونما ہونے کے بعد ریاستی حکومت نے کسانوں کی بہبود اور بہتری کے لیے ایک ٹاسک فورس قائم کی تا کہ وہ مسائل کی نشاندہی کر سکے۔ اِس ٹاسک فورس کے سربراہ کشور تیواڑی کا کہنا ہے کہ دم توڑتے کسانوں اور کھیت کھلیانوں سے جڑی اِس نڈھال ہوتی برادری کی ریاست کی جانب سے بھرپور مدد وقت کی ضرورت ہے۔ تیواڑی کے مطابق غریب کسانوں کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ قرض کی ادائیگی ہے اور اِس کیلئے طویل مدتی پلان بنایا جانا اہم ہے۔ بھارت میں ایک اور مسئلہ سرطان کی طرح پھیل رہا ہے اور وہ بے زمین کسان کا۔ یہ کسان بھاری قرضوں کی بتدریج ادائیگیوں کے سلسلے میں اپنی اپنی زمینیں ساہوکاروں اور بینکوں کو فروخت کر تے ہوئے بڑھتے جا رہے ہیں۔ زیادہ تر خود کشیاں بھی یہ بے زمین کسان کر رہے ہیں کیونکہ وہ قرض اتارنے کی اب سکت نہیں رکھتے۔ کسانوں کو قرضے کے بوجھ کا سامنا ادھار پر لی گئی کھاد کے ساتھ ساتھ کاشت کیلئے نئے بیج کی خرید کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔کسانوں کے حامی انسانی حقوق کے گروپس نئے بجٹ سے قبل حکومت کے سامنے کسانوں کا معاملہ اٹھانے میں ایڑھی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہیں۔ یہ گروپس حکومتی بجٹ تیار کرنے والے مالی محکمے کے مشیروں کی نظرِ کرم حاصل کرنے کے لیے گزشتہ ایک دہائی میں ہونے والی ہزاروں کسانوں کی خودکشیوں کو سہارا بنائے ہوئے ہیں۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے ہائیڈپارک جنترمنتر پر ڈیڑھ ماہ سے ریلیف پیکیج کیلئے احتجاج کرنیوالے تامل ناڈو کے خشک سالی سے تباہ حال کسانوں نے بے حس مودی سرکار کو متوجہ کرنے نیا طریقہ ڈھونڈ لیا۔ ایک کسان نے منہ میں زندہ چوہا پکڑ کر احتجاج شروع کر دیا۔ 65 سالہ چناگوڈانگی پالانیسامی نے بتایا کہ ‘میں اور میرے کسان ساتھی یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر حالات میں تبدیلی نہ ہوئی تو ہم چوہے کھانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ پالانیسامی اور ان کے 100 ساتھی اس عارضی کیمپوں میں گزشتہ 40 روز سے احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا تعلق تامل ناڈو کے ان علاقوں سے ہے جو حالیہ برسوں میں شدید خشک سالی کی لپیٹ میں ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے بھارتی حکومت نے اس خشک سالی کو بھلا دیا ہے۔ اس لئے پالانیسامی اور ان کے ساتھی نے حکومت پر دباؤ ڈالنے کا یہ انوکھا طریقہ سوچا۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں حکومت کی جانب سے قحط زدہ علاقوں کے لیے مختص رقوم دی جائیں جب کہ معمر کسانوں کو پنشنیں دی جائیں۔ اس کے علاوہ وہ قرضوں کی معافی، فصلوں کی بہتر قیمت اور اپنی زمینوں کی آبپاشی کے لئے مزید نہروں کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان لوگوں نے روایتی لباس پہن رکھے ہیں اور وہ انسانی کھوپڑیاں لہرا رہے ہیں جو ان کے بقول مردہ کسانوں کی ہیں۔

انہوں نے آدھے سر منڈوا رکھے ہیں اور منہ میں زندہ چوہے پکڑ رکھے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے ہاتھ کاٹ کر احتجاجی خون’ بہا رہے ہیں، جبکہ کچھ گرم بجری پر لوٹ رہے ہیں۔ کچھ لوگ فرضی جنازوں کی رسمیں بھی ادا کر رہے ہیں۔ جب ان لوگوں کو وزیر اعظم نریندر مودی سے ملنے کی اجازت نہیں ملی تو انہوں نے ایوانِ وزیرِ اعظم کے قریب اپنے کپڑے اتار لئے۔ جب ان میں سے ایک احتجاجی نے چوہا منہ میں پکڑ کر خود کو ایک درخت سے لٹک کر پھانسی دینے کی کوشش کی تو آگ بجھانے والے عملے کو بلانا پڑا۔ ان میں سے کئی افراد کو علاج کے لئے ہسپتال بھی لے جایا گیا۔ انہیں میڈیا کی جانب سے توجہ تو ملی ہے لیکن بعض مظاہرین کا کہنا ہے کہ دہلی کا میڈیا انھیں کرتب باز سمجھتا ہے اور ان کے احتجاج کے پیچھے درد و کرب کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔ تامل ناڈو کے 40 فیصد سے زیادہ لوگ زراعت سے وابستہ ہیں۔ وہاں خشک سالی، فصلوں کی کم قیمتوں اور زرعی قرضے حاصل کرنے میں مشکلات نے اس ریاست میں کئی عشروں کا بدترین بحران پیدا کر دیا ہے جبکہ بھارت میں زراعت کی شرحِ نمو سکڑ کر 1.2 فیصد رہ گئی ہے۔جہاں لاکھوں کسان قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ پالانیسامی کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ قبل تک ان کے پاس ساڑھے چار ایکڑ زمین تھی جہاں چاول، گنا، دالیں اور کپاس بکثرت اگتی تھیں۔ لیکن برسوں کی خشک سالی نے ان کی زمین کو بنجر بنا دیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تامل ناڈو کے زیادہ متاثرہ اضلاع میں گذشتہ سال اکتوبر سے اب تک 58 کسان خودکشیاں کر چکے۔ تاہم ایک مقامی تنظیم کے مطابق اصل تعداد ڈھائی سو سے بھی تجاوز کر گئی۔
10% کی آسان شرح سود پر دیئے گئے آسان قرضے بھی ناکافی ثابت ہوئے فصل میں بھاری نقصان اٹھا چکے کسانوں کے پاس قرض ادا نہ کر سکنے پر اپنی زمین سے ہاتھ دھونے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔حکومت کی ناقص حکمت عملی سے آبی نظام کو بہتر بنانے اور نئے پراجیکٹس بنا کر آبی ترسیل کی بہتری کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہ ہو سکے۔ یوں بھارت کا سب سے بڑا طبقہ جو نئی حکومت سے بہت پر امید تھا مایوسیوں کے اندھیرے میں ڈوب گیا۔ سوال یہ ہے کہ ہندوستان میں سب سے خوشحال ریاست کہے جانے والے مغربی اتر پردیش کا کسان واقعی اتنا پریشان ہے کہ وہ اپنی جان کی پروا کیے بغیر لاٹھی لے کر ہتھیار بند پولیس والوں سے نبرد آزما ہوجائے، پیدل 200 کلو میٹر کا سفر کریں اور قرض نہ ادا کر پانے پر پھانسی لگا لے!
مختلف علاقوں میں سوکھے کی صورت حال، فصلوں کی گرتی قیمتیں اور کھیتی کرنے میں زیادہ لاگت آنے کے سبب کسان کافی پریشان رہے ہیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ میں شائع خبروں کے مطابق ریاست مہاراشٹر میں اس برس چھ سو اسّی کسانوں نے خود کشی کی ہے۔ جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں اٹھانوے کاشتکاروں نے اپنی جان لی جبکہ کئی ایک نے ریاست کیرالہ میں بھی خود کشی کی ہے۔ عام طور غریب کسان کاشتکاری کے لیے مقامی صاحبِ ثروت افراد سے قرض لیتے ہیں جس میں سود کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے۔ بعدازاں پیداوار کی کمی یا فصلوں سے لاگت پوری نہ ہونے کے سبب یہ کسان قرض ادا نہیں کر پاتے ہیں اور مزید قرض کی دلدل میں ڈوبتے چلے جاتے ہیں۔حکومت نے سنہ دو ہزار آٹھ میں کسانوں کا تقریباً ساٹھ ہزار کروڑ روپے کا قرض معاف کیا تھا۔
کسانوں کا کہنا ہے کہ آج بھی ہمیں ایک من (20 کلو) کاٹن کی قیمت 900-800روپے ہی ملتی ہے جبکہ مودی جی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس قیمت کو 1500روپے کر دیں گے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اس بار کسانوں کے ووٹ نہ ملنے کے خدشات کا شکار ہے۔ اس کی وجہ اجناس کی قیمتوں میں کمی بجلی اور ایندھن کی قیمت میں اضافہ ہے جس کی وجہ سے کسان مشکلات کا شکار ہیں اور وہ وزیراعظم مودی سے خاصے نالاں ہیں۔ بڑے شہروں میں غیر معمولی رفتار سے ترقی ہو رہی ہے تاہم اب بھی بھارت کی دو تہائی آبادی دیہی علاقوں میں سکونت پذیر ہے۔ ایک عشرے کے دوران دیہی علاقوں میں ترقیاتی کام کم ہوئے ہیں۔ کسانوں کے حالات بہتر بنانے اور انہیں قرضوں کے جال سے نکالنے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ ایک عشرے کے دوران ڈیڑھ لاکھ سے زائد کسانوں نے خودکشی کی ہے۔
بھارت میں ہزاروں کی تعداد میں انتہائی غریب قبائلیوں، مزدوروں اور بے زمین کسانوں نے زمینی اصلاحات کا مطالبہ منوانے کے لیے احتجاج شروع کردیئے ہیں۔ یہ لوگ غیر سرکاری ادارے ایکتا پریشد کے پرچم تلے مارچ کر رہے ہیں۔ یہ تنظیم تقریباً دو دہائیوں سے ملک کے غریب ترین طبقات کو زمین کیمالکانہ حقوق دلوانے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ اس کا دعوی ہے کہ ان لوگوں کو غریبی کے نرغے سے نکالنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جس زمین پر وہ رہتے ہیں یا کاشت کرتے ہیں اس کے مالکانہ حقوق انہیں کو دے دیے جائیں۔ پی وی راجہ گوپال اس ایکتا پریشد یا اتحاد کونسل کے سربراہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ’ ندی نالوں اور ریل کے پٹریوں کے کنارے رہنے والے لوگ ہیں۔ ان کے پاس سر چھپانے کے لیے بھی جگہ نہیں ہے۔ہم حکومت سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ زمینی اصلاحات کے پہلے قدم کے طور پر انہیں اس زمین کیمالکانہ حقوق دے دیے جائیں جہاں یہ رہتے ہیں۔۔۔لیکن حکومت اس کے لیے بھی تیار نہیں ہوئی جس کی وجہ سے ہم نے اپنا مارچ شروع کر دیا ہے۔‘ لیکن زمینی اصلاحات ایک پیچیدہ اور حساس معاملہ ہے اور پی وی راجہ گوپال کے مطابق حکومت کی اس بارے میں کوئی واضح پالیسی نہیں ہے۔ مظاہرین کو دلی آنے سے روکنے کے لیے منگل کو دو وفاقی وزرا نے گوالیار میں ہی راجہ گوپال اور ان کے ساتھیوں سے مذاکرات کیے لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ حکومت چاہتی ہے مظاہرین اپنا مارچ ترک کردیں لیکن مارچ کے قائدین نے یہ مطالبہ مسترد کردیا ہے۔ ایکتا پریشد کے مطابق یہ سماجی انصاف کا تقاضہ ہے کہ غریبوں کو بھی زمین پر مساوی حقوق حاصل ہوں۔ ’ اگر آپ بڑے لوگوں کو زمین دینے کے لیے کسان سے زمین لے سکتے ہیں، کسانوں پر گولی چلا سکتے ہیں تو کیا غریبوں کو زمین دینے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے؟حکومت کی کوشش ہے کہ ان لوگوں کو دلی پہنچنے سے روکا جائے اورخود راجہ گوپال بھی کہتے ہیں مارچ کے دوران بھی مذاکرات کے راستے کھلے رہیں گے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ صرف یقین دہانیوں کی بنیاد پر اپنی مارچ ختم نہیں کریں گے۔

(43 بار دیکھا گیا)

تبصرے

مزید خبریں