Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 11 دسمبر 2018
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

چارجڈ پارکنگ کے نام پرلوٹ مار جاری،متعلقہ ادارے خاموش

ویب ڈیسک جمعرات 06 دسمبر 2018
چارجڈ پارکنگ کے نام پرلوٹ مار جاری،متعلقہ ادارے خاموش

کراچی۔۔۔۔۔شہر بھر میں چارجڈ پارکنگ کا مسئلہ مزیدگھمبیر سے گھمبیر ہوتاجارہا ہے اور اداروں کے نام کے بغیر رسیدیں فراہم کر کے فیس وصولی کا سلسلہ عروج پر ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ فیس وصول کرنے کے ضمن میں نہ ادارے کا پتہ ہے کہ فیس کس ادارے کے اکاؤنٹ میں جائے گی اور نہ ہی فیس وصول کرنے والے کامعلوم مربوط کرپشن نے چارجڈ پارکنگ کو مشکوک سے مشکوک ترین بنا دیا ہے‘اس سلسلے میں مبہم رسیدیں بلدیہ عظمی کی چارجڈ پارکنگ سائٹس پر بالخصوص اور ضلعی بلدیات میں بالعموم دیکھی جاسکتی ہیں ۔ ایسی رسیدوں میں کم سے کم رسید 30 روپے کی ہے جو موٹرسائیکلز کو دی جاتی ہے‘جبکہ کار اورچھوٹی گاڑیوں سے 50 روپے وصول کئے جا رہے ہیں ۔ان رسیدوں اور فیس کی ادائیگی کو یقینی بنانے کا کہا گیا ہے،فیس کی ادائیگی نہ ہونے پر گاڑی ضبط کرنے کا کہا گیا ہے۔ جبکہ بلدیاتی اداروں کی جانب سے موٹر سائیکل کیلئے 10 اور گاڑیوں کیلئے 20 روپے فیس مختص ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کھلے عام زائد فیس کاوصول کیا جانا شہریوں کے ساتھ کھلی نا انصافی ہے۔ دریں اثناء کے ڈی اے کی جانب سے نافذ کردہ چارجڈ پارکنگ میں بھی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کے ڈی اے چارجڈ پارکنگ فیس 100 روپے تک جا پہنچی، رسید بھی فراہم نہیں کی جاتی ‘ ڈی جی کے ڈی اے کو ،مئیر کراچی اورضلعی بلدیات چیئرمینز کواچانک چھاپے مارنے کی ضرورت ہے ۔ رات کے اوقات میں باآسانی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ چارجڈ پارکنگ کی مد میں کون کتنی فیس وصول کر رہا ہے۔ مہنگائی میں پسی عوام کو چارجڈ پارکنگ کی مختلف فیسوں نے عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔

(52 بار دیکھا گیا)

تبصرے

مزید خبریں