Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 27 مارچ 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ٹریفک کا بے قابو جن

ویب ڈیسک جمعرات 06 دسمبر 2018
ٹریفک کا بے قابو جن

پاکستان میں ٹریفک کا حال اتنا بگڑ چکا ہے کہ کسی سلجھے ہوئے ڈرائیور کے لیے یہاں کی سڑکوں پر ڈرائیونگ کرنا تقریب ناممکن ہے۔ آپ کسی ڈرائیور سے کچھ دیر ٹریفک کے قواعد و ضوابط پر بات کر کے دیکھ لیں۔ مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آنے والا۔ جہاں سڑکوں کا حال آہستہ آہستہ کافی بہتر ہوتا جا رہا ہے وہیں بے ہنگم ٹریفک کا رش بھی اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ سڑک پر کئی کئی گھنٹے ٹریفک جام ہونے لگا ہے اور کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ حادثات کی منحوس خبریں میڈیا کی بریکینگ نیوز کی شوبھا نہ بڑھاتی ہوں۔ ایک اندازے کے مطابق سالانہ 17 سے 30 ہزار لوگ پاکستان میں ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہو رہے ہیں اور 40 سے 60 ہزار لوگ زخمی ہوتے ہیں۔ سائیکل موٹر سائیکل، رکشہ تانگہ، گدھا گاڑی، ٹریکٹر، کار، بس اور بڑی بڑی ہیوی ٹریفک سبھی اپنی اپنی منزل پانے کے لیے انہی سڑکوں کا استعمال کر تے ہیں۔ خاص کر کراچی، حیدرآباد، لاہور، راولپنڈی اور اس طرح کے دوسرے بڑے شہروں میں یہ مسئلہ انتہائی خطرناک صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ شہروں کی بڑی آبادی ہونے کے باوجود سڑکوں کو شہری ضروریات کے مطابق اب بھی پورا نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک جام میں پھنسے لوگ روز ہی اس مصیبت سے دوچار رہتے ہیں۔ پھر سڑکوں پر آئے دن گاڑیوں کا خراب ہونا، ایکسڈنٹ ہونا، گدھا گاڑیوں کی کم رفتار، سائیکل، موٹر سائیکل کا اچانگ سڑک کے بیچوں بیچ آجانا، پیدل چلنے والے حضرات کا اچانک تیز رفتار گاڑیوں کے سامنے سے سڑک پار کرنا، سڑکوں پر آئے دن جلوس نکالنا وغیرہ وغیرہ کی وجہ سے ٹریفک جام روز کا معمول بن گیا ہے اور ڈرائیورز کا ٹریفک کے قوانین سے لاعلم ہونا معاشرے کا دردِ سر بنتا جا رہا ہے۔ اسی طرح ماحول میں پلوشن pollution بھی اس ٹریفک کی وجہ سے اتنا بڑھ گیا ہے کہ کئی لوگوں کو گلے اور آنکھوں کی سوزش رہنے لگی ہے۔ بچے اس بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے نہ تو سکول سیفٹی safety کے ساتھ آجا سکتے ہیں اور نہ ہی باہر کھیل سکتے ہیں جو بچوں کی نشونما کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ رات کی ٹریفک میں ہیڈ لائٹز کا استعمال جو کہ باقی ساری دنیا میں ایک سنگین جرم ہے، وطنِ عزیز میں بلا خوف و خطر کیا جاتا ہے جس سے سامنے سے آنے والی گاڑی کے ڈرائیور کی آنکھوں میں روشنی کی شدت سے ڈرائیور کے لیے گاڑی چلانا شدید خطرہ بن جاتا ہے۔ سڑکوں کا کہیں بہت بڑا ہونا اور کہیں اچانک بہت چھوٹا ہونا بھی ٹریفک کے حادثات کا باعث بن رہا ہے اکثر ہائی وے پر جمپس jump بنا کر ٹریفک کے لیے مزید خطرات پیدا کیے گئے ہیں۔ ہائی ویز کو شہروں کے بیچو بیچ گزار کر شہروں کی فضا کو بے جا آلودہ کرنے کے ساتھ ساتھ شہروں میں بلاوجہ کا ٹریفک جام کیا گیا ہے اور شہریوں کی جانوں کو خواہ مخواہ خطرے میں ڈالا گیا ہے۔ ہائی وے پر پڑے گڑہوں اور بارشوں یا سیوریج سے جمع ہونے والے پانی سے بے شمار حادثات ہو رہے ہیں۔ سڑکوں پر اچانک جانوروں کا گزر بھی ٹریفک حادثات کی بڑی وجہ بن رہا ہے سڑکوں پر مناسب لائٹ کا انتظام نہ ہونا اور سڑک کے ٹریکز tracks پر لائنز lines کا نہ ہونا بھی حادثات کا باعث ہے۔ اوپر سے آئے دن سیاست دانوں کی امید و رفت پر سڑکوں کو اچانک بند کرنے سے ٹریفک جام ایک عام بات بنتی جا رہی ہے جس میں کئی بچے اسکول دیر میں پہنچتے ہیں یا گھر دیر سے پہنچتے ہیں۔ نوکریوں پر جانے والے حضرات بھی اپنے باس کے آ گے شرمسار ہوتے ہیں۔ کئی لوگ اسی قطار میں لگی ایمبولنس میں زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ تو دوسری طرف ڈاکٹر مریض کے آپریشن کے لیے بروقت ہسپتالوں میں نہیں پہنچ سکتے۔ اسی ٹریفک جام کی وجہ سے سڑکوں پر ڈاکوؤں اور لٹیروں نے بھی اپنا غنڈہ راج خوب چمکایا ہوا ہے۔ آئے دن ٹریفک کے بیچوں بیچ لوگوں کو پستول کی نوک پر لوٹا جا رہا ہے پر حکومت کے سر پر جوں تک نہیں رینگتی۔ گاڑیوں کی مینٹنس، بریک فیل، گاڑیوں کی بریک لائٹس کا خراب ہونا، اگلی لائٹس کا خراب ہونا، سب ٹریفک کے حادثات کا باعث ہیں۔
کسی بھی قوم کے تہذیب و تمدن کا اندازہ اس کے ٹریفک کے نظام کودیکھ کر لگایا جاسکتا ہے۔ مہذب معاشرے میں زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح ٹریفک کا نظام بھی نظم و ضبط کا عملی مظاہرہ ہوتا ہے۔ گزشتہ چند عشروں کے دوران تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ سڑکوں پر رش زیادہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک حادثات کی شرح بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق ہر پچیسویں سیکنڈ میں دنیا کے کسی کونے میں ایک شخص سڑک کے حادثہ میں ہلاک ہوجاتا ہے۔ ٹریفک حادثات دنیا میں اموات کی نویں بڑی وجہ ہیں جن کی وجہ سے ہر سال تیرہ لاکھ لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور تقریباً تین کروڑ لوگ زخمی ہوجاتے ہیں۔مجموعی طور پر ٹریفک حادثات کی وجہ سے ہر سال دنیا کو 518 بلین ڈالرز کا خسارہ برداشت کرنا پڑتا ہے جو معاشی زوال کی بڑی وجہ ہے۔ترقی یافتہ ممالک نے ٹریفک حادثات کے واقعات پر بڑی حد تک قابو پایا ہے لیکن پاکستان میں ٹریفک حادثات کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے جس میں لا تعداد قیمتی جانیں تسلسل کے ساتھ لقمہ اجل بن رہی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال اوسطاً 17 ہزار سے زائد افراد ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہوتے ہیں جبکہ بعض رپورٹوں کے مطابق یہ تعداد 30 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ ہلاک ہونے والے لوگوں کی بڑی تعداد کے علاوہ سالانہ 40 ہزار سے زائد لوگ زخمی ہوکر عارضی یا مستقل معذوری کا شکار ہوجا تے ہیں۔ صرف صوبہ پنجاب میں گزشتہ سال 1 لاکھ 67 ہزار حادثات میں 11 ہزار کے قریب افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 9 ہزار کے قریب لوگ معذور ہوئے۔ حال ہی میں رحیم یار خان کے علاقہ دھریجہ نگرکے قریب 2 بسوں کے ہولناک تصادم میں ستائیس قیمتی جانیں گئیں اور پچاس افراد زخمی ہوگئے۔تحقیقات کے مطابق یہ حادثہ تیز رفتاری اور ڈرائیوروں کی لاپروائی کے باعث پیش آیا جس کا خمیازہ مسافروں کو بھگتنا پڑا۔
یہ تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں جس دروازے کو بھی کھٹکھٹائیں ٹریفک حادثات میں گھائل ہونے والوں کی کہانیوں کی راکھ ضرور ملے گی۔ ملکی جی ڈی پی میں تین فیصد خسارے کے علاوہ یہ حادثات کئی والدین سے ان کے جگر کے ٹکڑے چھین لیتے ہیں اور کئی بچے بے سہارا ہوجاتے ہیں۔ ٹریفک حادثات اچانک وقوع پذیر نہیں ہوتے بلکہ ان کے پسِ منظر میں لاپروائی، غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ اورلاقانونیت جیسے کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔
پاکستان میں حادثات کی جو بڑی وجوہات نوٹ کی گئیں ان میں تیزی رفتاری، سڑکوں کی خستہ حالی، ڈرائیوروں کی غفلت، اوورلوڈنگ، ون وے کی خلاف وزری، اورٹیکنگ، اشارہ توڑنا، غیر تربیت یافتہ ڈرائیور، موبائل فون کا استعمال، بریک کا فیل ہوجانا اور زائد مدت ٹائر وں کا استعمال شامل ہیں۔پاکستان میں ڈرائیوروں کی بڑی تعداد بغیر لائسنس کے گاڑیاں چلا رہے ہیں۔ لائسنس کا اجراء بھی باقاعدہ تربیت اور ٹیسٹ کے بعد عمل میں نہیں لایا جاتا بلکہ اناڑی لوگوں کو صرف تعلقات اور پیسے کی بنیاد پر لائسنس جاری کر دیئے جاتے ہیں۔ یہ لوگ چونکہ تربیت یافتہ نہیں ہوتے اس لیے ٹریفک حادثات کا باعث بنتے ہیں۔ تعلیم اور شعور کے فقدان کی وجہ سے ڈرائیورز حضرات افیون، چرس اور شراب کے نشہ میں دھت ہوکر گاڑی چلاتے ہیں جو کئی مسائل کو جنم دیتا ہے۔
عالمی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں فروخت کی جانے والی 80 فیصد گاڑیاں بنیادی حفاظتی معیار پر پورا نہیں اترتیں۔پاکستان میں ذاتی استعمال اور پبلک ٹرانسپورٹ میں چلنے والی گاڑیاں فٹنس کے مسائل کا شکار ہوتی ہے جو حادثات کا سبب بنتی ہیں۔ گاڑیوں میں نصب غیر معیاری سلنڈر پھٹنے اور ناقص انجن لیک ہونے کی وجہ سے خوفناک حادثات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ستم یہ کہ متعلقہ محکمہ ناکارہ گاڑیوں کو رشوت کے عوض فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کردیتا ہے۔موجودہ حکومت ملک بھر میں سڑکوں کے جال بچھا رہی ہے تاکہ عوام کو سفر کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ آسانیاں فراہم کی جا سکیں لیکن پاکستان میں موجودہ سٹرکوں کے باقاعدہ معائنہ کا کوئی طریقہ کارموجود نہیں۔ کئی اہم شاہراہیں اور سڑکیں مرمت نہ ہونے کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہیں اور حادثات کا باعث بن رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہونے والے ایک تہائی ٹریفک حادثات کا سبب موٹر سائیکل ہے۔ موٹر سائیکل اور موٹر رکشہ کے نابالغ اور نوآموز ڈرائیوروں کے پاس کسی طرح کا لائسنس یا گاڑی کے کاغذات نہیں ہوتے اس لیے وہ ٹریفک کے قوانین سے لاعلمی کے باعث اپنی اور دوسروں کی زندگی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں اوورلوڈنگ، اوورٹیکنگ اور تیز رفتاری کا جنون بھی بے شمارٹریفک حادثات کا باعث بن رہا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کوئی بڑا جرم نہیں سمجھا جاتا کیونکہ رشوت دے کر سزا اور چالان سے نجات حاصل کرنے کا رواج اب جڑپکڑ چکا ہے۔ اس معاملہ میں قانون کے محافظ ہی قانون توڑنے کے مرتکب ہوتے ہیں اور ٹریفک پولیس سے وابستہ اہلکار چند روپوں کے عوض ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی چشم پوشی کرتے ہیں۔کستان میں ٹریفک حادثات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دہشت گردی کی کاروائیوں میں مارے جانے والے لوگوں سے کہیں زیادہ ہے۔

(191 بار دیکھا گیا)

تبصرے