Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 15 دسمبر 2018
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

بڑی سوچ …بڑی کامیابی

ویب ڈیسک جمعرات 06 دسمبر 2018
بڑی سوچ …بڑی کامیابی

معروف موٹیویشنل مصنف نپولین ہل کاکہنا ہے کہ ’’ہم ایسے کسی شخص سے کیاامید کرسکتے ہیں کہ جوزندگی میں آگے بڑھنا ہی نہ چاہتا ہوںاور مشکلات کی قیمت چکانے کے لیے تیار نہ ہو‘ کامیابی آسانی سے نہیں ملتی اور آپ کو اس کے حصول کے لیے تحمل اور تسلسل سے کام کرنا ہوتاہے‘ ‘نپولین ہل کے ان الفاظ کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر ہم غور کریں تو ہم اس حقیقت سے آشنا ہوجاتے ہیں کہ انسان کی زندگی کاانتہائی اہم مرحلہ اس کی جوانی کا زمانہ ہوتاہے‘ یہ توانائی اور جوش وجذبے سے بھر زمانہ ہوتاہے ‘ اس بات میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں کہ یہ عرصہ زمانہ ہوتاہے ‘ اس بات میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں کہ یہ عرصہ آپ کی آنے والی زندگی کی راہوں کا تعین کرکے آپ کے کامیابی یا ناکامی کا سبب بنتا ہے‘ اس وقت کو اگر آ پ آوارہ گردی‘ سستی اور عیاشی میں گزار دیں تو زندگی کا آنے والا دور مایوسی اور حسرت کی صورت اختیا کرلیتا ہے ‘ اس کے برعکس جوانی کا ایک ایک لمحہ اگر مثبت سرگرمیوں پر مستقبل کو سنوانے کے لیے استعمال کیاجائے توآپ کی آنے والی زندگی کامیابی اور دوسروں کے لیے تقلید کی عملی مثال بن جاتی ہے‘ زندگی کا یہ مرحلہ سفرجمع تفریق مثبت منفی امیداور مایوسی کا ایسا مرکب ہوتا ہے جومختلف مراحل پر مختلف انداز میں آپ کا امتحان لیتاہے‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ مایوسی کی گرفت میں آکر ہمت ہار جائیںگے تویہ رویہ آپ کی تمام ترتوانائیوں کو گرہن لگا دیتا ہے ‘ آپ مایوسی کیے ان اندھیروں میں کھو جاتے ہیں‘ جو آپ کو کامیابی کی شاہراہ سے اتار دیتے ہیں‘ ان حالات میں اگرآپ نے ہتھیارڈال دیئے ‘ خودکو نااہل اور ناکام تسلیم کرلیاتو آپ کا سفر ختم اور اس کے برعکس اگر آپ اپنی ناکامی سے سبق سیکھ کر ایک نئے جوش ولولے اور عزم کے ساتھ آگے بڑھتے ہیںتو تب یہ ناکامی اور مایوسی کا عارضی دور آپ کے لیے ایک نعمت ثابت ہوتاہے ‘ جس کے باعث آپ پھر کامیابی کی راہ پر گامزن ہوجاتے ہیں‘ جوانی کا عرصہ اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے‘ آپ ا س میں جس تصور اور احساس کے ساتھ زندہ رہتے ہیں‘ وہی عمر بھرآپ کے ساتھ رہتا ہے‘ اس لیے اس سہنری دور کو صرف کھیل کود اور ہنسی مذاق میں گزارنے کی بجائے ایسا راستہ اور حکمت عملی اختیار کریںجو آپ کے روشن مستقبل کی ضامن ہو‘ اسی راہیں آپ کو تب ہی مل سکتی ہیں‘ جب آپ کے پاس خواب ہوں‘ بڑے خواب خود کو بدلنے کے خواب مایوسی ‘ ناکامی اور محرومیوں سے نکل کر کامیاب کی بلندیوں کو چھونے کے خواب‘ شہرہ آفاق ناول ’’الکیمسٹ ‘‘کے مصنف پائوکو ہیلیو کا کہنا ہے کہ ’’خواب پروردگار کی زبان ہوتے ہیں‘‘ وہی لوگ کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں‘ جو بلند خواب دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں‘ خوابوں کے بغیر ذہن اور بنجر ہوکر رہ جاتے ہیں‘ جب کامیابی کے حصول کے لیے خواب دیکھنے کی بات کی جاتی ہے تو اس سے مرد وہ خواب نہیں ہوتے جو نیند کے دوران آتے ہیں‘ بلکہ وہ ہوتے جو نیند نہیں آنے دیتے ‘ وہ خواب کو ہر وقت عمل پر کمر بستہ رکھتے ہیں‘ خواب کی اہمیت وضروریات اور ا فادیت کے بارے میں ڈائیو وکمپنی کے بانی اور مایہ ناز بزنس مین کم ووینگ اپنی شہرہ آفاق کتاب “Every Street is Paved With Gold” میں لکھتے ہیںکہ ’’تاریخ خواب دیکھنے والو ںکی ہے ‘ وہ قومیں جو خواب دیکھتی ‘ انہیں سچ ثابت کرتی اور تقسیم کرتی ہیں‘ وہی اقوام عالم کی رہنما کہلاتی ہیں‘ ‘ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم خواب دیکھنے والوں کو طعنے دیتے اور شیخ چلی کے لقب سے تو نواز دیتے ہیں‘ مگر ان کے خواب کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ‘ ہم شروع سے اپنے بچوں کو یہ سبق تو دیتے ہیں‘ کہ چادر دیکھ کر اپنے پائوں پھیلا ئو‘ کیا کبھی ہم نے انہیں یہ بھی کہا کہ جتنے پائوں پھیلانے ہیں‘ اس کے مطابق چادر کا بندوبست کرلو‘ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہوتا‘ ہم اپنے بچوں کی سوچ ہمیشہ سے محدود کرتے آئے ہیں‘ ہم میانہ روی اور کفایت شعاری کے عظیم فلسفے کو اپنے بچوں کے سامنے اس انداز سے پیش کرتے ہیں کہ وہ خواب دیکھنے آگے بڑھنے اور روایات کو توڑ کر بغاوت سمجھنا شروع کردیتے ہیں‘ یوں وہ کربلوکے بیل اور کنویں کے مینڈک کی مانند زندگی گزارنے ہی کو زندگی کا مقصد سمجھ لیتے ہیں‘ خدارا انہیں خواب دیکھنے دیں ‘ کیونکہ خواب ہی انسان کو معمولی زندگی سے نکل کر عظیم انسان بننے کے قابل بناتے ہیں‘ خواب کے بارے میں کم ووینگ ہی کے مزید خیالات جانیے ‘‘ آپ کے خواب چشمے کے پانی کی طرح شفاف اور پاکیزہ ہونے چاہیے‘ ہمیشہ بڑے خواب دیکھیں ‘ اپن دلوں میں کائنات بسائیں اور آنکھوںمیں خواب سجائیں‘ کسی فلاسفر کا کہنا ہے کہ جوانی میں خواب نہ دیکھنا نفسیاتی خودکشی کے مترادف ہے ‘ لہٰذا بڑے شفاف اور پاکیزہ خواب دیکھیں ‘‘ ۔ بڑے کی حقیقت سے وہ لوگ انکار کرتے ہیں‘ جوخواب تو دیکھتے ہیں مگر ان کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے محنت کرتے ہیںاور اہداف ومقاصد کا تعین اور جب محنت اور اہداف کے عناصر زندگی سے غائب ہوںتو پھرخوابوں کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا جاسکتا‘ ایسے خوابوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ‘ یہی شیخ چلی کے منصو بے کہلاتے ہیں‘ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہر معاشرے میں تین طرح لوگ ہوتے ہیں‘ ایک وہ جو صرف کچھ کرنے کی خواب دیکھتے ہیں‘ ان کو حاصل کرنے کے لیے منصوبہ بندی کرتے اور اپنے اہداف کا تعین کرتے ہیں‘ ایسے لوگ ضرورکامیاب ہوجاتے ہیں‘ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو خواب تو دیکھتے ہیں‘ مگر عملی طورپر کچھ نہیں کرتے‘ یہ لوگ ناکام رہتے ہیں‘ دوسروں کے مذاق کانشانہ بننے اور خوابوں کے تقدس کو بدنام کرتے ہیں‘ تیسری قسم کے وہ لوگ ہوتے ہیں‘ جو بالکل خواب دیکھتے ہی نہیں ہیں‘ یہ ہر وقت مایوسی میں گھرے ہوتے ہیںاور دوسروں کو مایوس کرنے میں مصروف رہتے ہیں‘ یہ ہر وقت حالات کا رونا روتے اور قسمت کو کوستے رہتے ہیں‘ یوں ان کی زندگی کا فلسفہ ہی یہ بن جاتا ہے کہ کامیابی یا تو پیدائشی چیز ہے ‘ یا پھر قسمت کا کھیل ‘ ایسے لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں‘ کہ پروردگار عالم نے انسان کو اشر ف المخلوقات بنایا ہے اور وہ آپ کو کامیاب دیکھنا چاہتاہے ‘اگر آپ ناکام رہتے ہیںتو یہ آپ کے اعمال ‘ سستی ‘ مناسب حکمت عملی اور منصوبہ بندی کے فقدان کا نتیجہ ہوتاہے‘ اس لیے کہاجاتاہے کہ خواب دیکھنا اچھی بات ہے ‘ مگرا نہیں حاصل کرنے کے لیے خواہوں کو اہداف ومقاصد میں تبدیل کرنا ضروری ہے ‘ کیونکہ ہدف کے تعین کے بغیر کام کرنا اوسط درجے کی کامیابی دیتاہے اور انسان بس زندگی کے دن پورے کرلیتا ہے‘ وہ کوئی ایسا کام نہیں کرپاتا‘ جو اس کی ذات سے بڑھ کر معاشرے اور انسانیت کے مفید اور قابل تقلید مثال ہو۔ اہداف سے بھر وسے پر استفادہ کرنے کے لیے ضروری ہوتاہے کہ ان کا تعین کرنے کے بعدانہیں لکھ لیا جائے‘ یہ تحریر ایک ڈرائیونگ فورس بن کر آپ کے رویہ پر یوں اثر انداز ہوتی ہے کہ کامیاب ہونا آپ کی عادت بن جاتی ہے‘ ہمت ‘ توانائی اور جوش وجذبے سے کام لیں خوابوں کی سرزمین سے وہی لوگ اہداف ومقاصد کی فصل کاٹتے ہیںجن کی سوچ تخلیقی ہو‘کیونکہ تخلیقی سوچ ہی ذہن کر زرخیز بناتی ہے ‘ کام تو سب لوگ ایک جیسا کرتے ہیں‘ لیکن زیادہ کامیاب وہ لوگ ہوتے ہیں‘ جو معمول کے کام کو اپنی تخلیقی سوچ کے ذریعے مختلف‘ منفرد اور دلچسپ انداز میں سرانجام دیتے ہیں‘ یہی لوگ ہیں جو تاریخ کا دھارا موڑ نے کی ہمت رکھتے ہیں‘ تخلیقی سوچ کے حامل افراد او ر تخلیقی سوچ کے بارے میں کم ووینگ کا نظریہ دیکھیں ان کا کہنا ہے کہ تخلیقی لوگ ہی تاریخ کا رخ موڑتے ہیں‘ تخلیقی ذہنوں کی حوصلہ افزائی کرنے والا‘ معاشرہ کبھی زوال سے آشنا نہیں ہوتا‘ اگر آپ مثبت اور تعمیری سوچ کی دولت سے مالا مال ہیں‘ ہر طرح کے حالات میں مثبت پہلو تلاش کرلیتے ہیں‘ تو آپ ہی حقیقی معنوں میں دنیاکے لیڈر ہیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو بے پناہ تخلیقی قوت سے نواز ہوا ہے‘ یہ قوت ہماری شخصیت کی گہرائیوں سے پوشیدہ ہے‘ جس طرح ایک مجسمہ ساز کو اپنے اوزاروں کی مدد سے پتھر کو تراش کراس کے اندر سے ایک مجسمہ برآمد کرنے پڑتا ہے ‘ بالکل اسی طرح ہمیں اپنی تخلیقی صلاحیت کو دریافت کرنے کے لیے اپنی شخصیت کی تراش خراش کرکے روایتی طرز فکر سے نجات حاصل کرنا پڑتی ہے ۔ یہ اصول یاد رکھیے کہ ’’اگرآپ وہی کچھ کرتے رہیں گے‘ جو آپ اب کررہے ہیں‘ توآپ وہی کچھ ہی حاصل کرپائیں گے‘ جو اس وقت حاصل کررہے ہیں۔‘‘ لہٰذا اپنی سوچ کو تخلیقی اور ذہن کو زرخیز بنانے کے لیے مطالعہ کو اپنے اوپر لازم کرلیں‘ جس طرح آپ کھاناکھائے بغیر نہیں رہ سکتے ‘ آپ کا یہی وتیرہ کتب بینی کے بارے میں ہونا چاہیے ‘ سیکھنے کا عمل جاری رکھیں‘ کیونکہ بڑھوتری اور ترقی سیکھنے سے آپ کے اندر یہ احساس اٹھے گا کہ آپ اہم ہیں یا بہت کچھ جانتے ہیں‘ بہتری خو د کو عاجز بنانے اور ہر وقت سیکھنے کی جستجو کانام ہے ‘ سب سے بڑھ کر یہ کہ جوکچھ آپ کتابوں سے سیکھیں ‘ اس پر خود عمل کریںاور دوسروں کو ترغیب دیں ‘ کیونکہ کوئی بھی علم یا کالج کی کوئی بھی ڈگری اس وقت تک کارآمد یا کامیابی کے لیے فائدہ مند نہیں ہوسکتی ‘ جب تک آپ اس کا اطلاق اپنی زندگی کومنظم کرنے کے لیے نہیں کرتے ‘ تعلیم کا حصول صرف علم کے لیے نہیں ‘ بلکہ اس کی افادیت اور تسلسل سے اطلاق کے لیے بھی کیا جاتا ہے‘ کیونکہ عملی زندگی پر علم کا اطلاق ہی فائدہ مند ہوتا ہے‘ ورنہ کتب بینی بھی ایک ذہنی عیاشیی بن کر رہ جاتی ہے ‘ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ آپ جتنا مرضی علم حاصل کرلیں ‘ جب تک آپ اس پر خلوص ‘ ایمانداری اور سب سے بڑھ کر عاجزی کے ساتھ عمل نہیں کرتے ‘ کامیابی آپ کا مقدر نہیں بن سکتی‘ اپنی صلاحیتوں ‘ کامیابی ‘ علم اور دولت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں‘ کیونکہ اسی کی توفیق اور دی ہوئی نعمتوں سے مستفید ہوکر آپ منزل پر پہنچتے ہیں‘ اس لیے ہر دم عاجزی کے ساتھ اس کے شکر گزارر ہیں اور اس کی شکر گزاری کا بہترین طریقہ سجدہ اور صدقہ ہے ‘ ان سے غافل مت رہیں۔

(63 بار دیکھا گیا)

تبصرے

مزید خبریں