Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 11 دسمبر 2018
LZ_SITE_TITLE
 
No one covers Karachi like we do!

اونچی دکان … ’’پھیکے‘‘ پکوان

ویب ڈیسک جمعرات 06 دسمبر 2018
اونچی دکان  … ’’پھیکے‘‘ پکوان

کراچی میں گزشتہ دنوں زہر خورانی سے دو بچوں کی ہلاکت سے نہ صرف متاثرہ خاندان پر قیامت ٹوٹی ‘ بلکہ اس سانحہ پر شہر کی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی ناقص کارکردگی کی بھی پول کھول دی۔ ایک سال قبل قائم ہونے والی سندھ فوڈ اتھارٹی کی فعالیت پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے‘ فوڈ انسپکٹرز کی نااہلی اور مفاد پرستی بے نقاب ہو چکی ہے‘ صارفین کی انجمنوں کی کارکردگی صرف میڈیا میں خبروں کی اشاعت اور متعلقہ حکام سے ملاقاتوں کی تصاویر پر شائع کرانے تک محدود ہے ‘ وہ کافی عرصے سے کنزیومر کورٹس کے قیام کا مطالبہ کررہے ہیں‘ کوالٹی کنٹرول کا ادارہ صرف مارکیٹوں اور کارخانوں پر چھاپے مارنے اور وہاں سے اشیاء خوردونوش کو لیبارٹریز میں تجزیہ کے لیے بھیج کر اپنے فرائض منصبی ادا کرنے تک محدود ہے ‘ منتخب نمائندے اخباری بیانا ت دے کر خاموش ہوچکے ہیں‘ تمام خسارہ صارفین ہی کانصیب بنا ہوا ہے‘ متعلقہ حکام کی غفلت اور مفاد پرستی کا خمیازہ صارفین کو ہی بھگتنا پڑتا ہے ‘ کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس ‘ کلفٹن میں واقع ایک ریستوران میں ڈیڑھ سالہ احمد اور 5 سالہ محمد نے اپنے والدہ کے ساتھ رات کا کھانا کھایاتھا۔ جس کے بعد ان دونوں بچوں اور ان کی والدہ کی حالت غیر ہونے لگی‘ انہیں اسپتال لے جایاگیا‘ جہاں دونوں بچے جاں بحق ہوگئے اور ان کی ماں تین دن اسپتال میں زیر علاج رہی‘ یہ محض دو بچوں کی ہلاکت کا سادہ سا معاملہ نہیںہے ‘ جسے سرسری طورپر دیکھ کر نظر انداز کیا جائے ‘ یہ معاملہ صرف انتظامی نوعیت کا ہے ‘ بلکہ یہ ایک سماجی مسئلہ بھی ہے ‘ جس میں متعلقہ اداروں کی مصلحت آمیز خاموشی اور فرائض سے چشم پوشی کے ساتھ ہوٹل اور ریستوران ‘ مالکان کی مفاد پرستی اور زیادسے زیادہ مال بٹورنے کی عادت بھی شامل ہے ‘ کراچی میں گھر سے باہر جاکر کسی ریستوران میں رات کا کھانا کلچر بن چکا ہے‘ کسی بھی خوشی کے موقع پر اب گھر پر کھانے کا اہتمام معیوب سمجھا جاتاہے ‘ اب گھر سے باہر جاکر کھانا یا باہر سے کھانا گھر منگوانا ٹرینڈ بن چکا ہے اورمتوسط طبقے میں سالگرہ امتحان میں کامیابی ملازمت کے حصول اور پہلی تنخواہ ملنے سمیت کسی بھی خوشی کے موقع پر اہل وعیال سمیت ریستوران میں ڈنر کرنا عام سی بات ہے ‘ یہ چلن عام ہونے سے کراچی میں بزنس روڈ ‘ سندھ مسلم سوسائٹی ‘ بہادر آباد ‘ دھوراجی ‘ کریم آباد ‘ گلشن اقبال‘ ڈیفنس اور کلفٹن سمیت متعدد علاقوںمیں فو ڈ اسٹریٹس قائم کردی گئی ہیں‘ جہاں سینکڑوں ریستوران قائم ہیں‘ جہاں ہر رات ہزاروں گھرانے اہل وعیال رشتے داروں اور دوستوں کے ساتھ رات کا کھانا کھانے جاتے ہیں‘ کراچی میں ریستورانوں کے علاوہ روایتی کھانوں نہاری‘ قورمہ ‘ بریانی ‘ سیخ کبا ب وغیرہ کے بھی ہوٹلز اور فیملی رومز ہیں‘ جہاں آپ اپنے اہل وعیال سمیت کھانوں سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں‘ اس کے علاوہ غیر ملکی کھانوں اور جنک فوڈز کے بھی ریستوران قائم ہیں‘ ان تمام کھانوں کے مراکز پر رات گئے تک لوگوں کا رش رہتاہے‘ جبکہ ویک اینڈ اور تعطیلات کے دنوں میں گاہکوں کا رش دیدنی ہوتاہے ‘ پوش علاقوں کے ساتھ غریب اور نچلے متوسط طبقے کے رہائشی علاقوں کی گلیوں اور کوچوں میں بھی بر گر والوں سمیت بریانی ‘حلیم ‘ کباب بوٹی ‘ چکن تکہ نہاری‘ قورمہ کی چھوٹی چھوٹی دکانیں ‘ٹھیلے اور ہوٹل نظر آتے ہیں ‘ ان پر بھی گاہکوں کا رش نظر آتاہے ‘ بعض اوقات یہ محسوس ہوتا ہے کہ خواتین نے باورچی خانے سے ناطہ توڑ لیاہے۔ کراچی کے پوش اور مصروف علاقوںمیں قائم یہ ریستوران بظاہر تو خوبصورت نظر آتے ہیں‘ آرام دہ نشستیں اور صاف ستھرے لباس میں ملبوس ویٹرز آپ کی خدمت کے لیے حاضر ہوتے ہیں‘ لیکن ان میں سے بیشتر ہوٹلوں اور ریستورانوں کے کچن کی حالت ناگفتہ بہ ہوتی ہے‘ ان کے ڈیپ فریزرزمیں مہینوں پر انا گوشت اور دیگر سامان موجود ہوتاہے‘ ان کے باورچی مصالحہ جات اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے کھانوں کو لذیذ توبنادیتے ہیں‘ لیکن وہ نہ صرف مضر صحت ہوتے ہیں‘ بلکہ بعض اوقات زہر خورانی کا سبب بھی بن جاتے ہیں‘ جس پوش علاقے کے ریستوران میں کھانا کھانے کے بعد دوکمسن بچوں کی ہلاکت کا واقعہ سامنے آیاہے ‘ جب متعلقہ اداروں نے اس ریستوران کے گودام پر چھاپہ ماراتو اخباری اطلاعات کے مطابق کئی سال پرانا اور زائد المیعاد گوشت اور دیگر معیاری اشیاء برآمد کی گئی‘ اس حقیقت سے کسی کو بھی انکار نہیں ہوسکتا ہے‘ باہر کا کھانا خواہ چھوٹے ہوٹل سے خریدا جائے ‘ کسی ٹھیلے یا پھر معروف ریستوران سے خریدا جائے‘ اس کے کچن میں حفظان صحت کے اصولوں کو پیش نظر نہیں رکھا جاتا ہے‘اس کے ساتھ ہماری انتظامیہ یا متعلقہ اداروں کو اس بات کی توفیق ہوتی ہے کہ وہ اس بات کو چیک کریں کہ خریداروں کو جو اشیاء فروخت کی جارہی ہے‘ اس میں زائد المیعاد وغیر معیاری اشیاء تو استعمال نہیں کی جارہی ہیں‘ اس حوالے سے فوڈ انسپکٹر ز کا کردار مجرمانہ ہے ‘ صوبہ سندھ میں اگر چہ فوڈ اتھارٹی قائم ہے ‘ لیکن اب تک اس کا فعال کردار سامنے نہیں آیاہے ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ چند ماہ قبل سندھ اسمبلی میں 2017 ء سندھ فوڈ اتھارٹی ایکٹ منظور کیاگیا‘ گزشتہ دنوں اس سلسلے میں متعدد افسران کا تقرر بھی عمل میں آیاہے‘ اس موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خوراک نثار کھوڑونے ایڈیشنل سیکریٹری خوراک کو سندھ فوڈز اتھارٹی کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا تھا‘ نثار کھوڑو نے اسی پریس کانفرنس میں فوڈ اتھارٹی کا دائرہ اختیار متعین کرتے ہوئے کہا تھا کہ اتھارٹی کے ذمہ دار کراچی سمیت سندھ بھر کے چھوٹے بڑے ہوٹلوں ‘ ریستورانوں اور دکانوںمیں اشیاء خوردونوش کی کوالٹی کو چیک کریں گے‘ اگر اشیاء غیر معیاری اور حفظان صحت کے اصولوںکے منافی پائی گئیں تو ان کے مالکان کو جیل بھجوادیاجائے‘ اس موقع پر ایک بورڈ آف گورنر بھی تشکیل دیا گیاتھا‘ جس کا پلیئر مین سندھ کا وزیر خوراک ہوگا‘ جبکہ سیکریٹری خوراک بورڈ آف گورنر کا کنوینر ہوگا‘ لیکن زہر خورانی سے دوبچوں کی ہلاکت کے واقعہ سے قبل تک سندھ فو ڈ اتھارٹی کی کارکردگی قابل ذکر نہیں رہی ۔ لیکن اس واقعہ سے سندھ فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی قابل ذکر نہیں رہی‘ لیکن اس واقعہ کے بعد اتھارٹی اور اس کے ذمہ دار متحرک ہوکر سامنے آگئے۔
کنزیومر ایسویسی ایشن کے چیئرمین کو کب اقبال نے مبینہ طورپر زہر خورانی سے دو بچوں کی ہلاکت کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ غیر معیاری اور ناقص اشیاء شہریوں کو فروخت کرنے و الے موت کے سوداگر بن چکے ہیں‘ کراچی میں 80 فیصد سے زائدہوٹلوں اور ریستورانوں کے کچن انتہائی ناقص غیر معیاری حفظان صحت کے اصولوں منافی ہیںاور کھانوں میں غیرمعیاری زائد المیعاد اشیاء استعمال کی جاتی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ کنزیومر ایسوسی ایشن کی جدوجہد اور مطالبے پر حکومت نے سندھ فوڈ اتھارٹی قائم تو کردی ہے ‘ لیکن اس کے پاس فوڈ لیبارٹری نہیں ہے ‘ کوکب اقبال نے مزید بتایا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے پاس گزشتہ کئی برسوں سے فوڈ لیبارٹری ہے ‘ لیکن سندھ حکومت کی جانب سے اسے استعمال میں نہیں لایا جاتاہے ‘ انہوںنے بتایا کہ شہر کے بیشتر مقامات پر اشیاء خورد ونوش غیر صحتمند ماحول میں کھلے عام فروخت کی جارہی ہیں‘ کراچی کے بیشتر مقامات پر کچرے کے ڈھیر کے قریب ٹھیلے پر اشیاء خوردونوش فروخت کی جارہی ہیں‘ لیکن انہیں کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے‘ انہوںنے کہا کہ سندھ فوڈ اتھارٹی میں صارفین کی نمائندگی کر نے والی تنظیم کنزیوایسوسی ایشن کو بھی نمائندگی دی جائے۔ کوکب اقبال نے سندھ فوڈ اتھارٹی کو فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ سندھ میں جلد از جلد فو ڈلیبارٹری قائم کی جائے ۔ شہر قائد میں ناقص اورمضر صحت فوڈز کے حوالے سے کمشنر کراچی افتخار شالوانی کی زیر صدارت ایک اجلاس بھی منعقد ہوا ۔ جس میں مضر صحت کھانے پینے کی اشیاء کی فروخت کی روک تھام کے لیے کئے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیاگیا‘ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل سندھ فوڈ اتھارٹی امجد لغاری اتھارٹی کے دیگر افسران تمام ڈپٹی کمشنرز اور تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے کوالٹی کنٹرول شعبہ کے افسران اور دیگر نے شرکت کی‘ کمشنر نے کہا کہ دوبچوں کی اموات کے افسوسناک واقعہ کے بعد کراچی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہر میں مضر صحت کھانے پینے کی اشیاء کی روک تھام کے لیے اقدامات کرے اور یقینی بنائے کہ شہر میںلوگوں کو صحت مند اشیاء دستیاب ہوںاور انہیں کھانے کی وجہ سے صحت کے خطرات لاحق نہ ہوں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کراچی میں فوڈ سے متعلق اداروں اور ہوٹلوں ‘ریسٹورنٹس کا ڈیٹا بیس بنایا جائے گااور ضلعی انتظامیہ اورفوڈ اتھارٹی کے افسران مل کرا لیکشن اور کارروائی کے لیے کوششیں کریں گے‘ انہوںنے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ شہر میں مضر صحت کھانے پینے کی اشیاء کے خلاف شکایات کا ازالہ کرنے کے لیے مربوط کوششیں کریں اور یقینی بنائیں کہ لوگوںکو کھانے پینے کی اشیاء میں صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی کی شکایت نہ ہو۔ اجلاس میں فیصلہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ اور فوڈ اتھارٹی کے درمیان رابطہ وتعاون کو مضبوط بنایاجائے گا‘ انسداد مضر صحت فوڈ کمیٹیاں قائم کی جائیں گی‘ ضلعی کمیٹیوں کی سربراہی ڈپٹی کمشنرز کریںگے‘ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ شہر کے ہر قسم فوڈ آئوٹ لیٹس اورریسٹورنٹس کی انسپکشن کی جائے گی۔ اجلاس میں فو کی انسپکشن اور لوگوں کو صحت مند فوڈ فراہم کرنے کے سلسلے میں دیگر اقدامات پر بھی غور کیا‘ اس اجلاس کے حوالے سے متعدد شہریوں کا کہنا ہے کہ سند ھ فو ڈاتھارٹی کے ذمہ داران کی کارکردگی او ر دعوے صرف اجلاسوں تک محدود نہ رہیں‘ بلکہ اتھارٹی کے اہلکار اور افسران اپنی ذمہ داریوں کو پو را کریں اور صارفین کے حقوق کا تحفظ کریںاور شہریوں کی صحت اور جان ومال سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت سے سخت کارروائی کریں۔

(40 بار دیکھا گیا)

تبصرے

مزید خبریں