Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 22 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ٹرانسفر لیٹر پرگاڑیوں کے استعمال کیخلاف کریک ڈائون

قومی نیوز بدھ 05 دسمبر 2018
ٹرانسفر لیٹر پرگاڑیوں کے استعمال کیخلاف کریک ڈائون

کراچی۔۔۔۔۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاہے کہ ٹرانسفر لیٹر پر گاڑی کا استعمال غیر قانونی ہے، لہٰذا انہوں نے محکمہ ایکسائز کو ہدایت کی کہ ایسی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈائون کیاجائے۔ انہوں نے یہ فیصلہ آج وزیراعلیٰ ہائوس میں آئندہ ہونے والی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے حوالے سے امن و امان کے ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر سید ناصر شاہ، وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب، آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ ڈاکٹر ولی اللہ دَل، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، کمشنر کراچی افتخار شہلوانی اور دیگر نے شرکت کی۔ایک سوال پر ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ ڈاکٹرولی اللہ دَل نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ گاڑی جو کہ دہشت گردوں نے چائینیز قونصلیٹ میں حملے کے لیے استعمال کی تھی وہ جس شخص کے نام پر تھی وہ یہ گاڑی 6 سال قبل فروخت کرچکاتھا اور اب اس کی وفات کو 5 سال گزر چکے ہیں۔گاڑی ٹرانسفر لیٹر پر استعمال ہورہی تھی۔اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ ایکسائز کو ہدایت کی کہ وہ شہر میں ٹرانسفر لیٹر پر چلنے والی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈائون شروع کریں۔ آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام نے وزیر اعلیٰ سندھ کو جرائم کے اعداد و شما ر پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 2013ء میں 61 دہشت گردی کے واقعات رونما ہوئے تھے جوکہ اب کم ہو کر 2018ء میں صرف2 واقعات ہوئے ہیں۔ اسی طرح2013ء میں ٹارگٹ کلنگ کے 509 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جبکہ اب 2018 میں ان کی تعداد کم ہوکر صرف 5 ہے۔2013ء میں بھتہ خوری کے 575 کیسز ریکارڈ کیے گئے اور اب 2018ء میں کم ہوکر ان کی تعداد 131 ہے۔ اغواء برائے تاوان کے کیسز کے بارے میں بتاتے ہوئے آئی جی سندھ نے کہا کہ 2013ء میں 173 کیسز رپورٹ ہوئے تھے اور2018ء میں صرف 12 کیسزرجسٹرڈ ہوئے ہیں اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انہوں نے پولیس کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی ہیں اور انہیں جدید اسلحے اور تربیت سے آراستہ کیاہے لہٰذا جرائم کی شرح کم ہوئی ہے۔ اب میں چاہتاہوں کہ تھانہ کلچر تبدیل ہو۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایاگیاکہ2013ء میں 12187 موبائل چھیننے کے واقعات ہوئے تھے اور 2018ء میں اس میں اضافہ ہوا ہے اور یہ 14051 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سبب کوئی بھی ہو جرائم پر لازمی طورپر کنٹرول ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر کلیم امام نے موٹرسائیکلوں اور گاڑیاں چھننے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ 2013ء میں 5118 موٹر سائیکلیں چھینی گئیں اور 2018 ء میں اب ان کی تعداد کم ہوکے 1892 رپورٹ ہوئی ہے۔ اسی طرح2013 میں 980 گاڑیاں چھینی گئیں جبکہ 2018 میں ان کی تعداد 165 ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی پولیس کو ہدایت کی کہ وہ اہم مقامات مثلاً قونصلیٹس،سی ایم ہائوس ، گورنر ہائوس، آئی جی آفس کے باہر تعینات پولیس اہلکاروں کو بلٹ پروف جیکٹس فراہم کی جائیں اور وہ لازمی طورپر بلٹ پروف جیکٹوں کو پہنیں۔مراد علی شاہ نے سیکریٹری داخلہ قاضی کبیر کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ چائنیز قونصلیٹ پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے دو شہریوں (بلوچستان سے) کیلئے معاوضے کے حوالے سے انہیں سفارشات بھیجیں۔

(388 بار دیکھا گیا)

تبصرے