Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 11 دسمبر 2018
LZ_SITE_TITLE
 
No one covers Karachi like we do!

مہنگے ڈالرنےغربت بڑھادی

ویب ڈیسک بدھ 05 دسمبر 2018
مہنگے ڈالرنےغربت بڑھادی

کراچی ۔۔۔۔۔ 3 ماہ کے دوران ڈالر کی شرح میں 20 روپے اضافے سے خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں لاکھوں افراد کا ضافہ ہوگیا‘ وزارت منصوبہ بندی کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ساڑھے 5 کروڑ یعنی 29.5 فیصد آبادی خط غربت کےنیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے‘ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کے نتیجے میں پاکستان کا 10 فیصد بالائی طبقہ مجموعی آمدنی کے 27.6 فیصد حصے پر قابض ہے جبکہ نیچے والے 10 فیصد لوگوں کے حصے میں مجموعی آمدنی کا صرف 41 فیصد آتا ہے۔ ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں 4 ڈالر یومیہ سے کم کمانے والے افراد خط غربت کے نیچے تصور کئے جاتے ہیں‘ اس وقت پاکستان میں کم از کم ماہانہ اجرت 16 ہزار 400 ہے جس کے مطابق ایک مزدور روزانہ 539 روپے کماتا ہے جو کہ ڈالر کی موجودہ شرح تبادلہ کے تحت 3.9 ڈالر بنتے ہیں‘ جس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں کم از کم یومیہ اجرت لینے والے لاکھوں افراد خط غربت کے نیچے دھکیل دیئے گئے ہیں۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق روزانہ 539 روپے کمانے والے افراد لوئر کلاس‘ ایک ہزار روپے تک کمانے والے لوئر مڈل‘ ایک ہزار سے 10 ہزار روپے روزانہ یعنی 3 لاکھ روپے مہینہ تک کمانے والے افراد مڈل کلاس میں آتے ہیں جبکہ اس سے اوپر پاکستان کا وہ حکمران طبقہ ہے جومجموعی آبادی کا 5 فیصد ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق مجموعی آبادی کے 40 فیصد افراد معمولی اُتار چڑھائو کے نتیجے میں لوئر اور مڈل کلاس کے درمیان لٹکے رہتے ہیں۔ علاوہ ازیں عالمی تعریف کے مطابق پاکستان میں خط غربت کی تعریف پر پورا نہ اُترنے والے کروروں افراد کثیر الجہتی غربت کا شکار ہیں جس کے تحت لوگوں کے پاس صحت‘ تعلیم‘ روزگار اور انصاف کی بنیادی سہولتیں میسر نہیں۔ 2016ء کے ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس کے مطابق پاکستان 0.550 کے ساتھ جنوبی ایشیا میں کم ترین سطح پر یعنی بنگلہ دیش سے بھی نیچے ہے۔ اس حوالے سے ماہر معیشت ڈاکٹر قیس اسلم کا کہنا ہے کہ ڈالر اور پیٹرول مہنگا ہونے سے زندگی گزارنے کی قیمت بڑھ جاتی ہے جسے اقتصادی زبان میں ’’کاسٹ پشڈ انفیکشن‘‘ کہتے ہیں‘ اس کے نتیجے میں عام استعمال کی اشیا کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے۔ دریں اثناء گزشتہ ماہ روز مرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا‘ مہنگائی کی شرح میں ساڑھے 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ادارہ شماریات کے مطابق نومبر میں مہنگائی کی شرح میں 6 اعشاریہ 5 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اکتوبر میں مہنگائی کی شرح 6 اعشاریہ 8 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ دوسری جانب جولائی سے نومبر کے دوران مہنگائی کی شرح 6 اعشاریہ 2 فیصد رہی۔ نومبر میں مرغی 19 فیصد مہنگی‘ انڈوں کی قیمت میں 9 فیصد اضافہ‘ پیٹرول 5 فیصد اور ڈیزل 7 فیصد مہنگا ہوا۔ اس کے علاوہ مونگ کی دال 2 فیصد‘ ماش ساڑھے 3 فیصد مہنگی‘ ڈیری مصنوعات ڈھائی فیصد مہنگی ہوئی جبکہ سیمنٹ کی قیمت میں 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت ملک میں مہنگائی 4 سال کی بلند ترین سطح کو چھوچکی ہے۔

(69 بار دیکھا گیا)

تبصرے

مزید خبریں