Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 11 دسمبر 2018
LZ_SITE_TITLE
 
No one covers Karachi like we do!

دلچسپ و عجیب

ویب ڈیسک بدھ 05 دسمبر 2018
دلچسپ و عجیب

9 ہزار کلو میٹر طویل ’’دیوار چین‘‘ کا آخری سرا

دیوار چین دنیا کے سات قدم عجائبات میں شامل ہے، جس کی تعمیر 1368ء سے 1644ء عیسوی تک حکمران منگ خاندان کے ایک جنرل قی جی گوانگ کی نگرانی میں 1381ء میں شروع ہوئی تھی، یہ دنیا میں انسانوں کی بنائی ہوئی واحد شے ہے جس کا خلا سے با آسانی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے، اس دیوار کی تعمیر کا مقصد سمندر اور خشکی دونوں اطراف سے دسمن کے حملوں کو روکنا تھا، تقریبا 9 ہزار کلو میٹر طویل دیوار چین کی فوجی اہمیت قینگ خاندان کی حکومت کے دوران ختم ہوگئی، جن کا دور حکومت 1644ء سے 1911ء تک تھا، بعد ازاں اس طویل ترین دیوار کو سیاحت کے فروغ کیلئے استعمال کیا جانے لگا، جہاں آج بھی دنیا بھر کے سیاح کھینچ کر پہنچتے ہیں، بائیں جانب کی وہ تصویر جس میں دیوار چین سرسبز پہاڑوں کے اوپر سے بل کھاتی گزر رہی ہے یا اس جیسی دیگر تصاویر تو آپ کی نظروں سے گزری ہوں گی لیکن اوپر دیوار چین کی وہ تصویر ہے جو بہت زیادہ عام نہیں ہے، یہ دیوار چین کا آخری سرا ہے، اسے چینی زبان میں لائو لونگ تائو کہتے ہیں جس کا مطلب ہے۔’’بورھے اژدھے کا سر‘‘ یہیں پر دیوار چین مرق میں بحیرہ بوہائی میں اتر جاتی ہے، یہ حصہ بیجنگ سے 300 کلو میٹر مشرق میں ہیبی صوبے کے ضلع تن ہوانگ دائو کے شہر شان ہائی قوان میں واقع ہے۔ یہ دیوار سمندر میں تقریبا 66 فٹ تک اترتی چلی گئی ہے جسے دور سے دیکھنے پر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے روایتی چینی اژدھا پانی پی رہا ہو۔ 1900 ء میں چین پر برطانیہ کی قیادت میں اتحادی افواج کے حملے کے نتیجے میں اصل دیوار کا ایک بڑا حصہ تباہ ہوگیا تھا جسے 1984ء میں شان ہوائی قوان کے شہریوں نے مرمت کرکے بحال کیا تھا۔

(49 بار دیکھا گیا)

تبصرے

مزید خبریں